رسوائیاں ہمارامقدرکیوں؟

:Share

ہما ری قومی بے حسی اورچشم پوشی انتہاکوپہنچی ہوئی ہے۔وقت کی پکار صدابصحراثابت ہورہی ہے۔کاش یہ صدا کسی گنبد میں دی گئی ہوتی،کم ازکم واپس تولوٹتی۔جہاں میں پوری قوت سے قوم کی مظلوم بیٹی عافیہ کانام لیکر پکارتاکہ تم کہاں ہو؟توسوال کا جواب نہ ملتا،سوال توواپس آتا۔آئیے حساب لگاکر دیکھیں کہ جس روزقوم کی اس مظلوم بیٹی کوجواپنے دومعصوم العمراور ایک گود میں لپٹے بچوں کے ساتھ تھی،ہماری خفیہ ایجنسیوں کے مستعداورسائے کی طرح پیچھا کر تے بے رحم ہاکس نے پوری درندگی اورسفاکی سے اغواکیاتوان دنوں کون کون مسند اقتدارپرمتکمن تھا۔23جون 2003ءکے بدنصیب دن پرویزمشرف صدر، ظفراللہ جمالی وزیراعظم،فیصل صالح حیات وزیرداخلہ،خورشیدمحمودقصوری وزیرخارجہ تھے اورسیدضمیرجعفری کے فرزند ارجمندجنرل احتشام ضمیرایک اہم ترین قومی ایجنسی کے سربراہ تھے۔ان تمام اعلیٰ عہدیداروں کے علم کے بغیرایک پتہ بھی جنبش نہیں کرسکتاتھا۔ ظفراللہ جمالی صاحب اس تا ریخ سے مزید ایک برس26 جون2004ء تک اپنے عہدہ جلیلہ پرفائزرہے۔

فاسق کمانڈوکی رخصتی کے بعدجمہوری اورعوامی حکومت کادعویٰ کرنے والے صدرآصف علی زرداری،وزیراعظم یوسف رضا گیلانی،حناربانی کھر وزیر خارجہ اوروزیر داخلہ رحمان ملک یہ سب افرادبھی اس حقائق سے انکارنہیں کرسکتے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اوراس کے بچوں7سالہ احمد،5 سالہ مریم اور چندماہ کا سلمان کے اغوأحبس بیجا،اورامریکیوں سے قیمت کی سودے بازی اور حوالگی میں ملوث خفیہ ایجنسیوں کے کارپردازوں اورایوان اقتدارکے حاکموں میں ہونے وا لی ان کاروائیوں سے مکمل طورلاعلم ہیں۔شرم کامقام تویہ ہے کہ اس مظلوم اوربے گناہ خاتون کی وہ دردناک چیخیں جس نے بگرام ایئربیس کے درودیوار تک ہلاکررکھ دئیے، ان کی اذیت ناک ابتدأتواسلام آباد سے ہوئی ہوگی،وہ یہاں کسی کوسنائی کیوں نہیں دیں؟وہ تمام خفیہ ایجنسیاں جنہوں نے عزت وطن کایہ معرکہ سرکیا،براہ راست وزیراعظم کوجوابدہ تھیں اوراگروزیر اعظم،وزیرداخلہ اوروزیرخارجہ کے اختیارات کی حدودآگ کے اس دریا کے پارنہیں جاسکتی تھی توبھی ان کوکسی حدتک اعتمادمیں ضرورلیاہوگا۔

میں پوچھتاہوں کہ بگرام ائیربیس سے650نمبرقیدی خاتون کی چیخیں ہمارے عالی مرتبت حکمرانوں اورمنبرومحراب کے وارثوں تک توکیوں نہیں پہنچیں لیکن اس قیدی اورمومنہ بیٹی عافیہ کی ماں عصمت صدیقی جوقوم کی عصمت کااستعارہ تھیں،یقیناًاپنی ساری مناجات کے ساتھ خودپرگزری قیامت کی گھڑیاں اپنے دامن میں سمیٹ کررب اورمولا کے حضورحاضرہوگئیں۔ میرا ضمیر اکثرمجھے کچوکے لگاکرسوال کرتاہے کہ آخرمفتیان کرام کہاں ہیں؟الرشیدٹرسٹ کے محافظین کہاں ہیں؟جامعہ بنوریہ بنوری ٹاؤن کے علمائے کرام کوکیاہوا؟جناب مفتی تقی عثمانی صاحب،عصمت صدیقی کانمازجنازہ پڑھاتے ہوئے عافیہ صدیقی کاسوچ کراشکبارتوہوئے ہوں گے،مظلوموں کی آہ وبکاپرپہنچنے والے جما عتہ الدعوہ کے مخلصین کی توسمجھ آتی ہے کہ وہ بھی آج وفاکی قیمت اداکررہے ہیں لیکن حکومت کے پرانے وظیفہ خورکہاں ہیں؟آخرانبیاءکے وارث کہلانے والےکسی بھی علمائے کرام کے کانوں میں یہ چیخیں کیوں نہیں پہنچی؟ان کو چھوڑئیے ذرامذہبی سیاسی جماعتوں کوآوازد یجئے،کہاں ہیں سارے مذہبی رہنما …؟؟

کیاآج تک اسلام آبادمیں بیٹھے کسی بھی حکمران کی آنکھوں میں کبھی نمی اتری ہے؟مریم نواز،بختاوراورآصفہ کے باپ کوکسی اوربیٹی کی یہ چیخیں کیوں سنائی نہیں دیِں؟کیاحکمران قوت سماعت سے محروم ہیں یاکسی دائمی اورغفلت کی نیندمیں مبتلاہیں؟ ایوان اقتدارتک پہنچنے کیلئےمرحومہ عصمت صدیقی اورڈاکٹرفوزیہ صدیقی سے ان سیاست دانوں نے کیاکیاوعدے کئے تھے لیکن اقتدارکی ان غلام گردشوں اورنمک کی کان میں پہنچتے ہی نمک بن کربے خبرہوجاتے ہیں لیکن قصرسفید کے فرعون کی حاضری کے دوران تمام پاکستانی صحافیوں کوعافیہ کے بارے میں سوال کرنے کی ممانعت کاحکم جاری کردیا جاتاہے؟سوچتاہوں کیادانشوری بھی سورج مکھی کاپھول ہوگئی؟

کیااس قوم کے سارے بیٹے کھیت ہوئے کہ جب ان کالیڈراقتدارسے محرومی کے بعدایک کاغذ لہراکرللکارتا ہےکہ”کیاہم کسی کے غلام ہیں؟”لیکن اس پرجان فریفتہ کرنے والوں کواس بات کی اجازت نہیں کہ وہ اپنے رہنماءسے یہ پوچھتے کہ ہماری بے گناہ بہن کوامریکاسے واپس لانے کاوعدہ ایفاکیونکرنہ ہوا؟جبکہ تم نے برطانوی نومسلم بہن ایوان رڈلے کے ساتھ پاکستان میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیاوعدے کئے تھے؟کیاہم واقعی ہی وہ قوم ہیں جس کے حکمرانوں نے ڈالروں کے عوض پاکستانی سپوت ایمل کانسی کوخودگرفتارکرکے قصرسفیدکے فرعون کے حوالے کردیا،جس کے جواب میں بھری عدالت میں امریکی اٹارنی جنرل نے کہاتھاکہ پا کستانی چندٹکوں کی خاطراپنی ماؤں کوفروخت کردیتے ہیں!

بگرام ائیربیس کی قیدی نمبر650صرف اپنے تین بیٹوں کی ماں نہیں بلکہ اس قوم کی ماں بہن اوربیٹی بھی ہے۔نام اس کاڈاکٹر عافیہ صدیقی ہےجس کی عافیت کی ذمہ داری ریاست پرتھی۔وہ کراچی سے اچانک اچک لی گئی۔کوئی نہیں جانتاتھا کہ اسے زمین نگل گئی یاآسمان کھاگیا۔پہلے یہ اطلاع آئی کہ وہ اپنے بچوں سے محروم کردی گئی ہے۔اس کی گودمیں پلنے والاچندماہ کابچہ ماردیاگیاہےاوراسے نامعلوم عقوبت خانوں،قیدخانوں،تہہ خانوں اوربوچڑ خانوں سے گزارکراس حال میں بگرام جیل پہنچادیا گیاتھاکہ وہ اپنی پہچان تک بھول گئی،اس کے حواس خمسہ اس کاساتھ چھوڑگئے۔اسے زمانے کی نظروں میں ایک پاگل وجود قراردے دیاگیا۔وہ روتی نہیں،صرف چیختی تھی۔اس کی چیخیں سننے والے قیامت کی آہٹ سنتے تھےاورسونہیں پاتے تھےلیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب وہ اپنے آپ کوفراموش کرگئی،اپنے آپ سے منہاہوگئی،اپنے حواس کھوبیٹھی،اپنے وجودمیں آپ تحلیل ہو گئی توپھروہ چیختی کیوں ہے؟اس کی آوازمیں بلاکا کرب کیوں ہے؟بگرام جیل سے امریکی عقوبت خانوں کے درودیوارپریہ لکھی ہوئی ندامت کیسی؟ آخر عصمت صدیقی اورقوم کی بے گناہ بیٹی ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی دردناک چیخیں تمام عافیت خانوں کودہلاکیوں دیتی ہیں؟ اس لئے کہ پاگل عورت بھی اپنے بچوں کوبھلانہیں پاتی جس طرح آخری سانس تک عصمت صدیقی کی اپنی بیٹی کے انتظارمیں آنکھیں پتھراگئیں۔شاعرنے کس کرب سے کہاہے کہ:
خدانے یہ صفت دنیاکی ہرعورت کوبخشی ہے
کہ وہ پاگل بھی ہوجائے توبیٹے یادرہتے ہیں

کوئی عصمت صدیقی،ڈاکٹرفوزیہ اورڈاکٹرعافیہ صدیقی کے کرب کااندازہ نہیں کرسکتا۔اقوام متحدہ خاموش ہے اورخواتین پرتشدد کے خلاف قائم تمام بین الاقوامی تنظیمیں گویاموت کی آغوش میں چلی گئیں ہیں کہ ان کوبھیجی جا نے والی ایک بھی یادداشت پر ان تنظیموں نے کوئی بیداری کی انگڑائی لی اور نہ دکھ سے کوئی جھرجھری لی جبکہ درجنوں پلیٹ فارمزپرمیں خوددہائیاں دے چکاہوں۔رپورٹ کہتی ہے کہ بے پناہ تشددسے ڈاکٹرعافیہ صدیقی اپناذہنی توازن کھوچکی ہے۔ستم بالائے ستم یہ کہ برسوں تک انہیں نہانے اوردیگرضروریات کیلئے مردانہ غسل خانہ استعمال کرناپڑاجہاں پردے کاکوئی انتظام نہیں تھا۔ وہ بگرام جیل کی واحد خاتون قیدی تھی جس کودیکھنے والی ایک باضمیربرطانوی صحافی ایوان رڈلے نے کہاتھاکہ”وہ ایک بھوت کی مانند لگتی ہے جس کی شناخت دھندلاچکی ہے۔”لیکن اب برسوں سے امریکی عقوبت خانوں میں اس پرکیابیت رہی ہے،کوئی نہیں جانتا؟ ڈاکٹرفوزیہ کے آنسوؤں کے سامنے بے بس ہوگیا ہوں ۔

لیکن میں سمجھتاہوں کہ اب بھی اس کی چیخیں تمام ان بے ضمیرمقتدرلوگوں کاتعاقب کررہی ہیں بلکہ اب تومعاملہ اوربھی سنگین ہوگیاہے کہ عصمت صدیقی ان تمام افرادکے خلاف ایک مضبوط ایف آئی آرکے ساتھ رب کے حضور پہنچ چکی ہیں جہاں وہ اپنی معصوم اوربے گناہ حافظہ عافیہ صدیقی کا مقدمہ پیش کریں گی اوروہ معصوم بچہ جس کاآج تک سراغ تک نہ مل سکا،وہ بھی اپنی نانی کے ہمراہ اس سارے ظلم کی گواہی دینے کیلئے پہلے سے موجود ہوگا۔ رپورٹ کاسب سے دردناک پہلوجس نے ہر صاحب ضمیرباپ کوانگاروں پر لٹا دیاہے،وہ یہ ہے کہ جیل عملے کی طرف سے اسے مسلسل جنسی زیادتی کانشانہ بنایا گیاجس کے باعث اس کاکرب انگاروں سے زیادہ تیزاورشدیدہوگیااوراب امریکی زنداں میں اس کی آبروتھکی ہوئی اذانوں سےبوجھل اور گردوپیش کی تماشائی تنہائیوں سے چورزخمی حالت میں آسمان کی طرف منہ کرکے رب کوتوضرورپکاررہی ہے۔

میں اس وقت بڑے کرب میں ہوں جب یہ سوچتاہوں کہ ڈاکٹرعافیہ صدیقی کے شب وروز ایک ایسے ظلم کاروزنشانہ بنتے ہیں جیسے دیہاتی گنے کی پوروں سے رس چوستے ہیں یابے درد، بے حس اورشقی القلب حکمران اپنی رعیت کی بیٹیوں کالہو چاٹتے ہیں۔اب ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی آنکھوں کابہتاہوا دردناک پانی ہمارے مقتدرحلقوں کے قلب کی سیاہی اورعافیہ کی دردناک چیخیں حکمرانوں کی بے ضمیری کی پیداواربن چکی ہیں۔اس کی پیٹھ پرلگے گھاؤ ہمارے ان حکم رانوں کےگناہوں کی دستاویز بن چکے ہیں جنہوں نے محض چندڈالروں کے عوض اسے فرعونی طاقتوں کے حوالے کردیا اور صد آفریں ، عصمت صدیقی مرحومہ کی عظمت ملاحظہ فرمائیں کہ اپنی رحلت سے چنددن قبل خودمجھ سے فون پراوراپنی بیٹی ڈاکٹرفوزیہ کوحکم دے رہی تھیں کہ کوئی مشرف کویہ خبرکردے کہ میں نے اسے معاف کردیا،یہ اس کمانڈوپرایساگراں مایہ احسان تھاکہ ممکن ہے کہ اس کی زندگی کی آخری سانسیں کچھ ہموارہو گئیں ہوں اورجان کنی کاعمل آسان ہو اہو،واللہ عالم۔۔۔۔ جبکہ اس سےقبل لال مسجدکے مولاناعبدالعزیزجن کے بھائی اورجواں سال اکلوتے بیٹے کوبرسٹ مارکراڑادیاگیاتھا،وہ بھی مشرف کومعاف کرچکےلیکن جامعہ حفصہ کی درجنوں یتیم بچیاں اوربچے جواس روح فرساحادثے میں گولیوں کاشکارہوکراپنے خون آغشتہ جسموں کے ساتھ اس طرح اللہ کے حضورپہنچ گئے کہ ان کے ساتھ درجنوں قرآن وحدیث بھی خاکستر کردیئے گئے،کیااس کاحساب نہیں ہوگا؟یقیناًظالم اورمظلوم ایک صف میں نہیں بلکہ آمنے سامنے کھڑے کئے جائیں گے!

ان کاخون جن افرادکےہاتھوں پرہے،ان کوتوبہرحال حساب دیناہوگااوراپنے شب وروزمیں اگران کے ضمیرزندہ ہیں توضرور سوال کرتے ہوں گے کہ روزجزاکے دن جب اللہ کی عدالت میں شہداء پیش کئے جائیں گے تویہ معصوم یتیم شہداءکن کے ساتھ کھڑے ہوں گے اورقاتلین کوکس ندامت کی قطارمیں کھڑاکیاجائے گا….ڈاکٹرعافیہ کے ساتھ ایساسلوک کرنے میں معاونت کرنے اس وقت زندہ بچ جانے والے یہ ضرورسوچیں کہ روزآخرت کیلئے اپنے اعمال نامہ میں عافیہ کی دلدوز چیخیں کیارنگ لائیں گی۔اس مکروہ عمل کاوجودتاقیامت انسانیت کیلئے ایک سوال بنارہے گا،اس کے گردگونجنے والی تکبیریں،بکھرنے والے سجدے اوربلندہونے والی اذانیں جواپنی حقیقت کھوبیٹھی ہیں،اس کی پوری ذمہ داری ان تمام معاونین پربھی عائدہو گی جنہوں نے اس فاسق کمانڈوکے احکام کی تعمیل کی اوران سیاستدانوں پربھی یہ فردجرم عائدہوگی جنہوں نے اس عمل کاساتھ دیا۔

کبھی سوچاہے آپ نے کہ ڈاکٹرعافیہ صدیقی کاتحلیل ہوتاہواوجودہم سے سوال کرتاہے کہ وہ پاکستانی اخبارات اورجرائدکاموضوع کیوں نہیں،وہ ٹیلیویژن کی جگمگاتی ہوئی اسکرینوں پرمسکراتے چہروں کے ساتھ نمودارہونے والے میزبانوں کیلئے سوال اٹھانے کاسبب کیوں نہیں؟کیوں اخبارات وجرائد خاموش اورٹیلیویژن کی اسکرینیں گونگی اوربہری ہوگئیں ہیں؟کیاپاکستان میں ایک بھی ایسافردنہیں جس کےکانوں میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی دردناک چیخیں اوردلدوزنالے پہنچیں؟وہ حواکی بیٹی ہے،اگرآپ اس مقدمے پر اپنی روشن خیال اعتدال پسندی کوقربان نہیں کرنا چاہتے تویشودھاکی ہم جنس اوررادھاکی بیٹی خیال کیجئے۔اس کیلئے آوازبلند کیجئے۔اہل قلم نہیں جانتے کہ اگرفکرکی صالحیت سوجائے تواظہارکی جامعیت کجلاجاتی ہے۔ پھر حرف مستحق ہوتے ہیں کہ بے حرمت ہوں،دھتکارے جائیں اورپامال ہوں۔فقرے آوارہ قہقہے بن جاتے ہیں اوریوں ہرروزپیلے صفحات پرکالی سیاہی سے چھپنے والے سفیدجھوٹ سے دل اوبھنےلگتاہے۔

مملکت خدادادپاکستان جوکلمہ کی بنیادپرہمیں27رمضان الکریم کی مبارک شب کواس اوفوبالعہدپرعطاکیاگیاکہ ہم یہاں مکمل قرآن نافذکریں گے لیکن نہ صرف اپنے پالن ہارسے وعدہ شکنی کے مرتکب ہورہے ہیں بلکہ سودکی حمائت میں عدالتوں سے رجوع کرکے اللہ اوررسول کے خلاف کھلی جنگ کا اعلان کرچکے ہیں۔ایک نیوکلئیرریاست ہونے کے باوجوداقوام عالم میں ہماری کیا حیثیت ہے کہ ہرروزنکلنے والے سورج کی روشنی میں ہمارے تاریک اعمال اورنمایاں ہوجاتے ہیں مگرمیرارب جودنیاکے تمام خزائن کامالک ہے،ہم نے اس سے منہ موڑکر دنیا کے استعماری آقاؤں کی غلامی قبول کرلی ہے جو ہزاروں میل دوربیٹھ کرہماری قسمت کافیصلہ کرتے ہیں۔یادرکھیں کہ جسم میں سب سے چھوٹالوتھڑا”دل”جس سے ہماری زندگی کی ڈورجڑی ہوئی ہے،اس میں صرف ایک ہی خوف سماسکتاہے۔اگررب ذوالجلال کاخوف اوڑھنابچھونابن جائے توساری دنیاآپ سے خوفزدہ رہتی ہے لیکن اگر دنیاکا خوف پال لیاجائے تودوسرا خوف چپکے سے رخصت ہوجاتاہے اورپھردنیاکی تمام رسوائیاں ہمارامقدربن جاتی ہیں اوراس وقت یقیناًہم ایسی ہی کیفیت سے گزررہے ہیں۔

مگرمیں ڈاکٹرعافیہ صدیقی کیلئے اس قوم سے کیاشکوہ کروں جس نے اپنے محسنوں کے کفن کے تاربیچے ہیں۔جس نے ام کلثوم کے منہ پرطمانچے مارے ہیں،جس نے حیدرکرارکے خیموں کی طنابیں کاٹ ڈالیں،حضرت مجدد الف ثانی کوگوالیارکے قلعے میں قیدکیا،شاہ ولی اللہ کے ساتھ ہماراسلوک تاریخ کے صفحات پرآج تک شرمندگی کی فصل اگاتاہے۔شاہ عبدالعزیزکے ساتھ کیا کچھ نہیں ہوا،حضرت سیداحمدشہیداورشاہ اسمٰعیل شہیدبالاکوٹ میں مسلمانوں کی غداری سے شہیدہوئے۔تاریخ پاکستان کاتذکرہ مولانامحمدعلی جوہر کے بغیرمکمل نہیں ہوتامگرجب وہ بیمارہوئے توکوئی مسلمان نواب یا رئیس نہیں پہنچا بلکہ ان کی مددکو ریاست الورکاہندومہاراجہ آیاتھا۔ہندوستان میں برطانوی غلامی کے خلاف قربانی وایثارکی روح پھونکنے والے مولاناظفر علی خان بیماریوں میں اس طرح جئے کہ ادویات کیلئے پیسے نہیں تھے اورجب ان کاانتقال ہواتوچھٹاآدمی نہیں تھا۔

دورمت جائیے،ابھی کل کی بات ہے کہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیرجس کامحض قصوریہ تھاکہ اس نےپاکستان کوپہلی مسلم نیوکلئیرریاست بنانے میں اپنی جان کھپادی لیکن اس کے ساتھ ہم نے کیاسلوک کیاکہ جیتے جی اس کی زندگی میں کن صدمات سے دوچارکیاکہ اسے مجبور کیاگیاکہ وہ ٹی وی پرآکر اپنے ناکردہ گناہوں کی معافی مانگے اورجب وہ اس دنیاسے رخصت ہواتوملک کاسربراہ جوشب وروز پاکستان کوریاست مدینہ بنانے کادعویٰ کرتاتھا،اور اپنے اقتدارسے محرومی پریہ نعرہ لگاکر قوم کے جذبات سے کھیلتاہے کہ”کیاہم امریکاکے غلام ہیں”،محسنِ پاکستان کے جنازے میں نہ آیاکہ کہیں مبادا آقاکی نظروں میں مردودنہ ٹھہرایاجاؤں لیکن مکافات عمل کاپھربھی شکارہوناپڑااوراب اسی اقتدارسے محرومی کازخم اڈیالہ جیل میں درجنوں مقدمات کابوجھ ناقابل برداشت ہوگیاہے۔

بگرام جیل میں چیخنے والی ڈاکٹرعافیہ صدیقی اگرامریکی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہماری تاریخ کی فریاد سن سکے تواسے کچھ قرارآجائے۔ہم مسلمان تاریخی طورپرکچھ ایسے ہی واقع ہوئے ہیں۔خدافراموش،خود فراموش اوراب ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو فروخت کرنے والے تازہ بے ضمیربلکہ ہم نے توقومی خزانے سے اس کی رہائی کیلئے مقدمہ لڑنے کے نام پردوملین ڈالرتک اڑا لئے۔مسلمان ڈاکٹرعافیہ صدیقی کے ساتھ جومرضی سلوک کریں مگرڈاکٹرعافیہ صدیقی کاوجود شہنشاہ عالم قصرسفیدمیں مقیم فرعون کے آستانہ جبروت پرایک مقدمہ بن کرہمیشہ موجودرہے گا۔کیایہ مقدمہ شہنشاہ عالم قصرسفید میں مقیم فرعون کی فرمانروائی کو جھکادے گا؟کیایہ مغربی طاقتوں اورامریکاکی لونڈی اقوام متحدہ کے ماتھے پرکلنک کا سوالیہ نشان ثبت کرے گا؟کیایہ عالم انسانیت میں کوئی بیداری پیداکرے گا؟؟؟اس کاجواب یقیناًتاریخ کے ذمہ ہے۔ کئی کرداراس دنیامیں باعثِ عبرت بن چکے اورباقی بھی مقام عبرت بنائے جائیں گے،اللہ کے کوڑے سے بچ نہ پائیں گے اورآخرت میں جہنم کی دہکتی آگ تویقیناًان کی منتظرہے!
اے اللہ مجھے آگ سے بچاکیونکہ توبخشنے والااوربردبارہے۔اے اللہ تومعاف کرنے والاہےاورمعافی کوپسندکرتاہے اس لیے مجھے معاف کردے۔ اللھم آمین
منصفوں کی نظردیکھتی رہ گئی
زندگی!تیرے قاتل بری ہوگئے

اپنا تبصرہ بھیجیں