Sample Apologies

21گرام آکسیجن‏ !…….. ہماری اوقات

:Share

اس وقت قوم بالخصوص نوجوان نسل اورحساس افرادبڑے مایوس اوردل شکستہ نظرآتے ہیں لیکن میں سمجھتاہوں کہ دل کا ٹوٹنا بھلا کوئی آسان بات تھوڑی ہے؟ کیا یونہی اس کی قیمت چکائی جا سکتی ہے ؟ دل دنیا کی واحد شے ہے جس کی قیمت ٹوٹنے کے بعد کئی گنا بڑھ جاتی ہے، قیمت بڑھ جائے اور ایسی بڑھے کہ آواز آئے “اَنَا عِنْدَ الْمُنْکَسِرَۃِ قُلُوْبُھُمْ”کہ ہم ٹوٹے ہوئے دلوں میں رہتے ہیں ۔۔ کیا اس مقام کو حاصل کرنے والا کوئی للو پنجو ہو سکتا ہے ؟

دل ٹوٹے، کئی حصوں میں تقسیم ہو اور تقسیم شدہ یہ پارچے تخت الہی بن جائیں، کیا یہ یونہی ہو جائے گا؟؟ درد نہ دکھ؟ تکلیف نہ کوفت؟ پیڑ نہ پنچائت؟غم نہ گھٹن؟ آلام نہ مصائب؟واہ واہ واہ۔ مقام اور عہدے بھلا یونہی مل جاتے ہیں؟ اور پھر یوں ملے عہدوں کی وقعت ہی کیا؟خواہ مخواہ ملے مرتبے کی حیثیت ہی کیا ؟مل بھی جائے توایسے مقام کی اہمیت ہی کیا ؟ مقام کی وقعت، حیثیت، اہمیت حتی کہ افادیت کا اندازہ ہوتا ہی نہیں، ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ درد کی نیلی نیلی آگ میں تپ کر محبت کا مجسمہ عشق کے راستے سے ہوتے ہوئے دل کے ٹوٹنے تک کی منزل پر نہ پہنچ جائے ۔ دل ٹوٹنا ضروری ہے، لازمی ہے، ناگزیر ہے، کہ ٹوٹے دل ہی میں تو اَنَا عِنْدَ الْمُنْکَسِرَۃِ قُلُوْبُھُمْ کی صدائیں بلند ہوتی ہیں، تخت لگتا ہے، بادشاہ بیٹھتا ہے، فیصلے ہوتے ہیں ، کتنوں کی قسمتوں کے فیصلے، مقدر کے فیصلے۔ لہذا دل ٹوٹتا ہے تو ٹوٹنے دیجیے، ہنستے مسکراتے ٹوٹنے دیجیے۔ ٹوٹا ہوا دل جوڑنا سکھا دے گا اور جس دن آپ کو جوڑنا آگیا نہ تو کچھ ایسا نہیں رہے گا جو آپ نہ کر سکیں ، ٹوٹنے دیجیے دل، ٹوٹنے دیجیے۔

تاہم اس قیامت کاذکرکرنابھی ازحدضروری ہے کہ ہماری موجودہ حکومت نے پہلے 100دنوں میں آئی ایم ایف کے منہ پر200/ارب ڈالرمنہ پرمارنے کادعویٰ کیاتھالیکن اب تو9مارچ کواپنی کابینہ سے نیاترمیمی ایکٹ 2021 برائے سٹیٹ بینک پاس کرکے ساراسٹیٹ بینک ہے آئی ایم ایف کے منہ پرمار دیا ہے۔ اس حکومت نے ملک میں سائنسی ،علمی،زرعی اوردیگرعلوم کی ترویج کیلئے کام کرنے کاوعدہ کیاتھالیکن کیا 23 مارچ کو تقسیم ہونے والے ایوارڈ میں ان ترجیحات کومدنظر رکھا گیا ۔کیاکوئی ایک ایوارڈبھی علمی، سائنسی ،زرعی یادیگرکسی ادارے کیلئے کام کرنے والے کسی ریسرچ اسکالرکوملاہے؟

صدرِ پاکستان نےریشم کو اچھا ناچنے گانے پر صدارتی ایوارڈ سے نوازا ہے۔ اسی طرح درجن سے زائدڈوم میراثی افرادمیں ایوارڈ تقسیم کرکے قومی ایوارڈوں کی بے توقیری کردی گئی ہے۔یاد رہے میرے کپتان نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ریاست مدینہ بناؤں گا۔ انہوں نے مولاناطارق جمیل کویہ ایوارڈ دیکرمدینہ کادامن نہیں چھوڑا ۔مولاناطارق جمیل کاکم ازکم یہ فائدہ توضرورہے کہ ایوان اقتدارمیں لاہوری قادیانی شوکت عزیزہو،فاسق کمانڈوپرویزمشرف یا عمران خان ،یہ سب کوتبلیغ کے نام پرسلام کرنے ضرورتشریف لیجاتے ہیں اورجب ملاقات کے بعد ایوان اقتدرا سے باہرتشریف لاتے ہیں تو انہیں اسلام اورپاکستان کےسچےخادم کاسرٹیفکیٹ دینااپنافرض منصبی سمجھتے ہیں ۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

تاریخ کے پروفیسر محترم محمدحسین عالم صاحب نے ایک پیغام ارسال کیاہے جس نے میرے دل کوچھولیاہے۔لاس اینجلس کے ڈاکٹر ابراہام نے انسانی روح کا وزن معلوم کرنے کیلئے نزع کے شکار لوگوں پر پانچ سال میں بارہ سو تجربے کیے۔اس سلسلے میں اس نے شیشے کے باکس کا ایک انتہائی حساس ترازو بنایا، وہ مریض کو اس ترازو پر لٹاتا، مریض کی پھیپھڑوں کی آکسیجن کا وزن کرتا، ان کے جسم کا وزن کرتا ہے اور اس کے مرنے کا انتظار کرتا ہے مرنے کے فوراً بعد اس کا وزن نوٹ کرتا ۔ ڈاکٹر ابراہام نے سینکڑوں تجربات کے بعد اعلان کیاکہ انسانی روح کا وزن گرام ہے۔ انسانی روح اس 21 گرام آکسیجن کانام ہے جو پھیپھڑوں کے کونوں، کھدروں، درزوں اور لکیروں میں چھپی رہتی ہے، موت ہچکی کی صورت میں انسانی جسم پر وار کرتی ہے اور پھیپھڑوں کی تہوں میں چھپی اس 21 گرام آکسیجن کو باہر دھکیل دیتی ہے اس کے بعد انسانی جسم کے سارے سیل مرجاتے ہیں اور انسان فوت ہو جاتا ہے ۔ ہم نے کبھی سوچا ہے کہ یہ 21 گرام کتنے ہوتے ہیں؟؟21گرام مکئی کے 14چھوٹے سے دانے ہوتے ہیں ، ایک ٹماٹر ،پیاز کی ایک پرت، ریت کی 6 چٹکیاں اور پانچ ٹشو پیپر ہوتے ہیں لیکن ہم بھی کیا لوگ ہیں کہ21 گرام کا انسان خود کو کھربوں ٹن وزنی کائنات کا خدا سمجھتاہے۔یہ ہے مجھ سمیت سب انسانوں کی اوقات ۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر روح کا وزن 21 گرام ہے تو ان 21 گراموں میں ہماری خواہشوں کا وزن کتنا ہے؟؟؟ اس میں ہماری نفرتیں، لالچ،ہیراپھیری، چالاکی، سازشیں، ہماری گردن کی اکڑ، ہمارے لہجے کے غرور کا وزن کتنا ہے؟یہ21گرام کاانسان جوخود کو 21 گرام کے کروڑوں انسانوں کا حاکم سمجھتاہے وقت کو اپنا غلام اور زمانے کو اپنا ملازم سمجھتاہے اور یہ بھول جاتاہے بس ذرا سی تپش، بس ذرا سی ایک ہچکی ہمارے اختیار ہمارے اقتدار ہماری اکڑ، غرور اور چالاکی کی موم کو پگھلا دے گی اور جب یہ 21 گرام ہوا ہمارے جسم سے باہر نکل جائے گی تو ہم تاریخ کی سلوں تلےدفن ہوجائیں گے اور 21 گرام کا کوئی دوسرا انسان ہماری جگہ لے لے گا۔

ہائے یہ انسان مڑکراپنی ہی کمرکاتل تودیکھ نہیں سکتااوردعویٰ کرتاہے کہ میں زمین پرچلنے والے ہرکیڑے کودیکھنے کی صلاحیت رکھتاہوں۔یہ ہے ہماری اوقات…….. یااللہ ہمیں معاف فرمانا،آمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

3 − one =