کبھی کبھی قوموں کے افق پرایک ایسالمحہ ظہورپذیرہوتاہے جوصدیاں اپنے دامن میں سمیٹے ہوتاہے۔بیسویں صدی کانصفِ دوم ایک ایسادورتھاجب سرد جنگ کی بساط پرمشرقِ وسطیٰ کی بساط بچھائی جاچکی تھی۔تہران،جوکبھی صفویوں کے عہدمیں فقہی اورفکری اجتہادکامرکزتھا،اب سرمایہ دارانہ سیاست کاسفارتی اڈہ بن چکاتھا۔اس خطے میں امریکانے اپنے مفادات کے تحفظ کیلئےایران کو، بالخصوص شاہ محمدرضاپہلوی کو،ایک”علاقائی تھانیدار”کے طورپر چُناگیاکیونکہ خطے میں شاہِ ایران سے بہترکوئی بھی امریکی سامراج کیلئے بہترسایہ دارشجرموجودنہیں تھا ۔امریکا،جو اپنے تیل کے ذخائرکیلئےمشرقِ وسطیٰ کوناگزیرسمجھتاتھا،ایران کی جغرافیائی اورعسکری اہمیت کونظراندازنہ کرسکا۔
یہ وہ زمانہ تھاجب ایران،دجلہ وفرات کے کنارے نہیں بلکہ واشنگٹن کی چوکھٹ پرسجدہ ریزتھا۔شاہِ ایران،نہ صرف خطے کاسیاسی چوکیداربلکہ امریکاکے اسٹرٹیجک منصوبوں کا”پروٹوکول افسر” بن چکاتھا۔شاہ ایران،جدیدیت کے لبادے میں مغرب کی تہذیبی غلامی کاپیکرتھا۔اس کے دورمیں ایران میں مغربی اقدارکاسیلاب امڈآیا۔ایران واسرائیل کے مابین تعلقات محض رسمی نہیں،بلکہ گہرے دفاعی، انٹیلیجنس اوراقتصادی مفادات کے حامل تھے۔ موساداورساواک کے گٹھ جوڑنے خطے کے مزاحمتی عناصرکوکچلنے میں کوئی کسرنہ چھوڑی۔ایران،اسرائیل کوتیل فراہم کرتاتھا،اوراسرائیل،ایران کو ٹیکنالوجی وتربیت دیتاتھا۔اس وقت ایران اوراسرائیل کے تعلقات،محض سفارتی تکلفات نہیں تھے بلکہ معاشی،دفاعی اورانٹیلیجنس سطح پرگہرے مراسم کادوسرانام تھے۔ موساداورساواک(ایران کی خفیہ ایجنسی)ایک ہی میزپربیٹھ کرمشرقِ وسطیٰ کے خفیہ نقشے کھینچاکرتے تھے ۔تل ابیب اورتہران کے درمیان محض فضائی مسافت نہ تھی بلکہ فکری ہم آہنگی اورسامراجی قربت کاپل بھی استوارتھا۔
1979ءکاسال ایران کی تاریخ میں ایک ایساموڑثابت ہواجس نے صرف ایک حکومت کاتختہ الٹانہیں بلکہ ایک عالمی فکرکوچیلنج کیا۔ امام خمینیؒ کی قیادت میں برپاہونے والے اسلامی انقلاب نے مغربی استعمارکے ایوانوں میں زلزلہ برپاکردیا۔شاہ کوملک چھوڑناپڑا۔امام خمینیؒ کی قیادت میں ایران میں اسلامی انقلاب کاسورج طلوع ہوا،توصرف ایک حکومت کاتختہ نہیں الٹا،بلکہ ایک عالمی نظام کوفکری چیلنج دے دیاگیا۔
وہ ایران جوکبھی امریکی عزائم کامحورتھا،اب ایران کی فضامیں ایک انقلابی نعرہ گونجا،”نہ مشرقی،نہ مغربی،صرف اسلامی”کے نعرے کاعلمبرداربن گیا۔ اس ایک جملے نے امریکی مفادات کے ایوانوں میں زلزلہ برپاکردیا۔ایران،جوکل تک سی آئی اے کاخفیہ اڈہ تھا،اب سامراج دشمنوں کاقبلہ بن چکاتھا۔امام خمینیؒ نے واضح طورپراسرائیل کو”سرطانی غدہ”قراردیا،اورامریکاکو”شیطانِ اکبر”۔یہ صرف سیاسی نعرے نہ تھے،بلکہ تہذیبی اورفکری بیانات تھے جو مغربی استعمارکے مقابل ایک نئی اسلامی شناخت کااعلان تھے۔ شاہ کوملک چھوڑناپڑا۔
لیکن امریکا کویہ ایرانی انقلاب ہضم نہیں ہورہاتھا۔اس نے توایساسوچابھی نہیں تھاکہ خطے کی برتری اس طرح خاک میں مل جائے گی ۔ ایرانی انقلاب کا سیلاب امریکی چار دہائیوں سے ایران پراس کی مضبوط گرفت اوراس کے مستقبل کے ارادوں کوبہالے جائے گی، اورتیل سے مالا مال مشرقِ وسطیٰ جیسےخطے میں اس کی اجارہ داری ختم ہوجائے گی۔امریکانے اس انقلاب کوناکام بنانے کیلئے ایران میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے سازشیں شروع کردیں جس کے جواب میں ایرانی طلباءنے تہران میں امریکی سفارتکاروں کو اغواء کرکے امریکا کے سامنے اپنے کئی ایسے مطالبات رکھ دیئے جس سے وہ ایران میں امریکی ریشہ دوانیوں کوختم کرے۔
امریکی سفارت خانے پرقبضہ اورسفارت کاروں کااغواایک ایساواقعہ تھاجس نے عالمی سفارتی روایات کوجھنجھوڑکررکھ دیا۔ایرانی طلباءکے ہاتھوں امریکی سفارت خانے پرقبضہ اورسفارت کاروں کااغوا،گویاواشنگٹن کے چہرے پرطمانچہ تھا۔ایرانی طلباءنے اس اقدام کوامریکاکی سازشوں کے ردِعمل کے طور پر پیش کیا۔واشنگٹن میں کہرام مچ گیا،عالمی برادری میں ایران کے خلاف نفرت ابھرنے لگی۔
دنیا حیران،سامراج پریشان،صدرجمی کارٹرنے”آپریشن ایگل کلا”نامی ایک خفیہ فوجی کارروائی کی گئی،جس کامقصدمغویوں کورہا کراناتھامگریہ کارروائی نہ صرف ناکام ہوئی بلکہ امریکی عسکری وقارکاکفن بھی بن گئی۔ریت کے طوفان میں پھنسے امریکی طیارے ،ٹوٹے پرزے اورجلتی ہوئی لاشیں—سب انقلاب کے طغیانی بیانیے کے گواہ بن گئے۔صحرائے طبس کی ریت نے امریکی عسکری غرورکونگل لیا۔اس واقعے نے امریکی وقارپرکاری ضرب لگائی اورایران کی انقلابی قیادت کیلئےایک فکری فتح کاپیغام لایا۔ جس رات امریکی آپریشن ناکام ہوا،اس سے اگلی شام امام خمینی نے اپنی قوم کے ہرفردکویہ پیغام دیاکہ وہ اپنے گھرکی چھت پرکھڑاہو کرتین دفعہ”اللہ اکبر”اللہ کی کبریائی کااعلان کرے کہ اس نے اپنی دوطاقتوں “اندھیرے اورآندھی”سے امریکاکے تکبرکوپاش پاش کر دیا۔
امریکانے بالآخر اپنے اتحادیوں کواپنے ساتھ شامل کرکے ایران پراقتصادی پابندیاں لگاکراستعماری انتقام کےہتھیارکے طورپر استعمال کرناشروع کردیا۔ امریکااوراس کے اتحادیوں نے ایران پرمعاشی پابندیوں کاجال بچھادیا۔اقتصادی قینچی کے استعمال سے ایران کا مالیاتی نظام عالمی منڈیوں سے کاٹ دیاگیا، تیل کی برآمدات محدودکردی گئیں،اورروزمرہ ضروریات کی اشیاءتک کی درآمد پرقدغن لگادی گئی۔ سمندری راستوں پرپہرے بٹھادیئے گئے کہ ایران پرزندگی تنگ کردی جائے۔
یہ سب کچھ اس امیدپرکیاگیاکہ ایرانی عوام انقلابی حکومت سے مایوس ہوکربغاوت کریں گے،مگرایران نے استقامت کامظاہرہ کیا۔ اگرچہ معیشت کو شدیدنقصان پہنچالیکن ایرانی عوام نے انقلاب کے نظریاتی دامن کونہ چھوڑا۔امریکانے اپنی ناکامیوں کاانتقام ایران کی معیشت سے لیا۔معاشی پابندیوں کاایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوا۔ایران کوعالمی مالیاتی اداروں سے الگ کردیاگیا،تیل کی برآمدات محدود کی گئیں،اورہراس دروازے پر قفل ڈال دیاگیا جہاں سے ایران کوسانس آتی تھی۔امریکانے صرف پابندیاں ہی نہیں لگائیں،بلکہ اپنے کرائے کے سپاہی اسرائیل کوخطے میں اپناآلۂ کاربناکرایران پردباؤ میں اضافہ بھی کیا۔
ایران کے ایٹمی پروگرام کومغربی دنیا،بالخصوص اسرائیل اورامریکانے ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھا۔”ایران ایٹمی ہتھیاربنارہاہے جودنیاکیلئے ایک شدیدخطرہ ہے”اس بیانیے کوہتھیاربناکرعالمی رائے عامہ کوایران کے خلاف ہموارکیاگیاحالانکہ ایران بارہادعویٰ کرتارہا کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کیلئے ہے، تاہم اسرائیل نے اسے اپنی بقاکیلئےخطرہ قراردیا۔ایران کاایٹمی پروگرام،جسے وہ قومی خودمختاری کاپرچم کہتاہے،اسرائیل نے اسے اپنے لئے اورمشرقِ وسطیٰ کے عرب ممالک کیلئے ایک خطرہ قراردے دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل،جو خودایٹمی طاقت ہے مگرعالمی قوانین سے مبرا،ایران کے کسی بھی ممکنہ ایٹمی صلاحیت کوبرداشت نہیں کرسکتا۔چنانچہ امریکااوراس کے اتحادیوں نے خاموشی سے اسرائیلی حملوں کی پشت پناہی شروع کردی۔
ایران کاایٹمی پروگرام ایک عرصے سے عالمی سطح پربحث ومباحثے کاموضوع بناہواہے۔مغربی طاقتیں،بالخصوص امریکا،اس خدشے کااظہارکرتاآ رہاہے کہ ایران ایٹمی ہتھیاربنانے کی کوشش کررہاہے،جوکہ دنیاکے امن وسلامتی کیلئے ایک بڑاخطرہ ہوسکتا ہے۔تاہم،اس بیانیے کے پیچھے کارفرماسیاسی عزائم اور تاریخی حقائق کاجائزہ لیاجائے توواضح ہوتاہے کہ یہ محض ایک یکطرفہ مؤقف نہیں بلکہ ایک گہری بین الاقوامی سیاسی چال کاحصہ ہے۔
امریکانے”ایران ایٹمی ہتھیاربنارہاہے”جیسے بیانیے کوبطورہتھیاراستعمال کرتے ہوئے عالمی رائے عامہ کوایران کے خلاف ہموار کرنے کی منظم کوشش کی ہے۔یہ بیانیہ مختلف بین الاقوامی پلیٹ فارمزپربارباردہرایاجاتاہے،جس کامقصدایران پردباؤبڑھانا،پابندیاں عائدکرنااوراس کے علاقائی اثرورسوخ کو محدودکرناہے۔
یہ صورتحال ماضی میں عراق کے خلاف اپنائی گئی امریکی پالیسی سے خاصی مماثلت رکھتی ہے۔2003ءمیں امریکااوراس کے اتحادیوں نے دعویٰ کیاکہ صدام حسین کے پاس وسیع پیمانے پرتباہی پھیلانے والے ہتھیارموجودہیں۔ان الزامات کوجوازبناکرعراق پر حملہ کیاگیا،جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد جاں بحق اورپوراملک تباہ ہوگیا۔بعدازاں،خودامریکانے اقوامِ متحدہ میں اعتراف کیاکہ ایسے ہتھیاروں کاکوئی ثبوت نہیں ملا۔برطانیہ کے اس وقت کے وزیرِاعظم ٹونی بلیئرنے بھی اپنی غلطی کااعتراف کیااور اسے ایک “قومی سانحہ”قراردیا۔
عالمی برادری اورمغربی طاقتیں اگرواقعی ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤکی مخالف ہیں توپھراسرائیل کومسلسل نظراندازکرناایک کھلی منافقت ہے۔اسرائیل ایک ایساملک ہے جوخودکئی دہائیوں سے ایٹمی ہتھیاررکھتاہے،لیکن نہ تووہ کسی عالمی معاہدے کاپابندہے اورنہ ہی اس پرکوئی بین الاقوامی دباؤڈالاجاتاہے۔یہ دوہرامعیارعالمی نظام انصاف اوراقوامِ متحدہ کی غیرجانبداری پرکئی سوالات اٹھاتا ہے۔
ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے اٹھنے والے خدشات کومحض سیکیورٹی یاامن کے زاویے سے نہیں،بلکہ ایک بڑے جیو پولیٹیکل کھیل کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔امریکاکی پالیسیوں،سابقہ تجربات اوراسرائیل جیسے ممالک کودی گئی چھوٹ سے یہ واضح ہوتاہے کہ ایران کے خلاف بیانیہ محض سچائی پرمبنی نہیں بلکہ مخصوص مفادات کی ترجمانی بھی کرتا ہے۔عالمی برادری کوچاہیے کہ وہ کسی بھی فیصلے سے قبل مکمل شواہد اورغیرجانبدارانہ رویہ اپنائے، تاکہ ماضی کی غلطیاں دوبارہ نہ دہرائی جائیں لیکن یوں محسوس ہوتاہے کہ امریکی جن وہ طوطا ہے جس کی گردن اسرائیل کی گرفت میں ہے اوراسرائیل اپنی من مانی شرائط پرامریکا کی طرح ساری دنیاکویرغمال بنانے کا تہیہ کرچکاہے۔
لیکن دوسری طرف انہی وجوہات کامقابلہ کرنے کیلئے خطے میں امریکی کرائے کے سپاہی اسرائیلی جارحیت کامقابلہ کرنے کیلئے ایران نے اپنی نظریاتی بقاءاور دفاعی حکمتِ عملی کوعملی جامہ پہنانے کیلئےایک وسیع البنیادپراکسی نیٹ ورک تشکیل دیا۔شام میں بشارالاسدکی حکومت کواپنی پشتیبانی میں لیا،لبنان میں حزب اللہ کوایک منظم مزاحمتی قوت بنایا،اوریمن میں حوثیوں کوعسکری امداد ونظریاتی تربیت فراہم کی۔یہ تمام قوتیں ایران کے دفاعی فلسفے میں”آگے کی خندقیں”تھیں،جن کے ذریعے ایران نے اسرائیلی خطرے کواپنے جغرافیائی حدودسے دوررکھا۔
حزب اللہ نے2006ءمیں جب اسرائیل کے خلاف جرات مندانہ مزاحمت کی،تواسرائیلی فوج کوتاریخی شرمندگی کاسامناکرناپڑا۔اسرائیل جوچنددنوں میں بیروت پہنچنے کے خواب دیکھ رہاتھا ، جنوبی لبنان سے بھی پسپائی پرمجبورہوگیا۔اس ذلت آمیزشکست کے بعداسرائیل نے میدانِ جنگ سے ہٹ کرخفیہ محاذپرچالیں چلیں۔موسادکوفعال کیاگیا،جس نے مختلف سازشوں اورسائبر حملوں کے ذریعے ان تمام پراکسیزکوکمزورکرنے کی منظم کوششیں کیں۔حزب اللہ کے مواصلاتی نظام(واکی ٹاکی نیٹ ورک) میں مداخلت کی گئی،قیادت کے اندردراڑیں ڈالنے کی کوشش کی گئی،اوریمن میں حوثیوں پرمسلسل فضائی حملے جاری رکھے گئے۔
شام میں بشارالاسدکی حکومت،اگرچہ رسمی طورپرقائم رہی،لیکن کئی علاقوں میں اس کی رٹ ختم ہوگئی۔روس کی مددسے وہ جزوی طورپراقتدارسنبھال سکا لیکن اسرائیلی حملے وقتاًفوقتاًجاری رہے۔بالآخروہ وقت بھی آن پہنچااورشامی فوج کے ہاتھوں ان لاکھوں شہداء کی قربانیاں کامیاب ہوئیں اوربشارالاسد کو فرار ہوکرروس کی گودمیں پناہ لینی پڑگئی اورنئی شامی حکومت کے خوف سے ایرانی پراکسیزکووہاں سے فرارہوناپڑالیکن اس کابراہ راست فائدہ بھی اسرائیل کوپہنچااورسعودی ولی عہدنے ٹرمپ کے سعودی عرب کے دورے کے دوران نئے شامی سربراہ کی ملاقات کااہتمام کیاجس کے بعدشام سے امریکی پابندیاں ہٹانے کااعلان ہوگیاہے۔گویااسرائیل کو شام کی طرف سے بھی مکمل تحفظ حاصل ہوگیاہے۔
اسی دوران اسرائیل نے غزہ پرجوقیامت ڈھائی،جوآج بھی جاری ہے،وہ تاریخِ انسانی کے المیہ بابوں میں رقم ہوچکی ہے۔غزہ کوکھنڈر میں تبدیل کردیاگیا۔ 60ہزارسے زائد فلسطینی شہیدکیے گئے،جن میں اکثریت عورتوں، بچوں اوربزرگوں کی تھی۔لاکھوں زخمی اوربے گھرہوگئے۔امریکا،اسرائیل کاعسکری اورسفارتی محافظ بن کراس ظلم پرخاموشی سے نہیں بلکہ کھلے عام پشت پناہی کرتارہا۔ظلم کی انتہاتویہ ہے کہ امریکا نے غزہ میں جنگ بندی کی قراردادکو 18 مرتبہ مستردکرتے ہوئے اسرائیل کو کھلے عام بے گناہ فلسطینیوں کے قتل عام کالائسنس دے رکھا جبکہ یہی ٹرمپ اپنی انتخابی مہم میں جنگوں کو بندکرانے کانعرہ لگارہاتھا۔
ابھی غزہ میں امریکی پشت پناہی سے اسرائیلی ظلم وستم کاطوفان تھمانہیں تھا کہ اسرائیل نے13جون2025کواسرائیل نے”آپریشن رائزنگ لائن”کے تحت ایران کے متعددایٹمی و عسکری تنصیبات کونشانہ بنایا،جن میں فورڈو،نطنزاوراصفہان کے مقامات شامل تھے ۔بعدازاں اسرائیل نے ایران کے سائنسدانوں کونشانہ بنایا،سائبرحملے کیے،اورپھرکھلم کھلا حملوں کی طرف آ گیا۔ ایران نے 14 جون 2025 کے صحرائی وقت میں مسلسل 12 دنوں تک اسرائیلی علاقوں پر میزائل و ڈرون حملے کیے ۔ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کو نسل نے انہیں قابلِ عبرت طاقت کا مظاہرہ قرار دیا۔
یہاں یہ بتانابھی انتہائی ضروری ہے کہ اس خطے میں یہودوہنودکاخفیہ اشتراک بھی اپنے منظرعام پرآچکاہے۔اسرائیل اورایران کےدرمیان کشیدگی کئی دہائیوں پرمحیط ہے،تاہم حالیہ برسوں میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موسادکی ایران کے اندربڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے اس تنازعے کوایک نئے،خفیہ محاذ پر منتقل کردیاہے۔ایران اوراسرائیل کے مابین طویل عرصے سے جاری کشیدگی حالیہ برسوں میں خفیہ جنگ کی شکل اختیارکرچکی ہے۔اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موسادنے ایران کے اندرمتعدد کارروائیاں کیں،جن میں اہم ایرانی شخصیات کونشانہ بنایاگیا۔
ایران کے سیکیورٹی اداروں کے مطابق،اسرائیل نے ایران پرممکنہ حملے سے قبل ایک فعال خفیہ نیٹ ورک قائم کیا،جس کی منصوبہ بندی اورنگرانی موساد نے کی،جومقامی وغیر ملکی افراد پرمشتمل تھا۔اس نیٹ ورک نے حساس سیکیورٹی مقامات،ایرانی فوج،ایٹمی سائنسدانوں اورسیاسی شخصیات کونشانہ بنایا۔ موسادکے اسی نیٹ ورک کے ذریعے غزہ کی مزاحمتی تنظیم حماس کے اعلیٰ رہنما اسمعیل ہنیہ کوایک حملے میں شہیدکیاگیا۔اس حملے کی اہم بات یہ تھی کہ اسمعیل ہنیہ ایرانی صدرکی حلف برداری کی تقریب میں خصوصی مہمان کے طورپرمدعوتھے،جوواضح کرتا ہے کہ یہ ایک پیغام اوراشتعال انگیزی پرمبنی کارروائی تھی۔یہ حملہ اسرائیل کا ایک واضح پیغام تھاکہ وہ ایران کے علاقائی اتحادیوں کوبھی بخشنے والانہیں۔اس نیٹ ورک نے ماضی میں ایران کے کئی ممتاز جوہری سائنسدانوں اورفوجی قیادت کوبھی نشانہ بنایا۔خاص طورپرڈاکٹرمحسن فخری زادہ اورپاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ افسران شامل ہیں کی ہلاکت ایک بڑادھچکہ تصور کی گئی،جوایران کے ایٹمی پروگرام کی علامت مانے جاتے تھے۔
ایرانی انٹیلی جنس اداروں نے بعد ازاں ایک بڑی کارروائی میں موساد سے وابستہ اس نیٹ ورک کوبے نقاب کیا۔گرفتارافراد میں نہ صرف ایرانی بلکہ افغانی اوربھارتی شہری بھی شامل تھے،جوایران میں موساد کیلئے کام کررہے تھے۔تحقیقات کے بعد کئی افغانیوں کوسزائے موت سنائی گئی جبکہ دیگرافرادکے خلاف کاروائی جاری ہے۔یہ عدالتی کارروائی ایران کے اس مؤقف کوتقویت دیتی ہے کہ اس کی سرزمین پرغیر ملکی خفیہ نیٹ ورکس فعال رہے ہیں۔اس سے قبل قطرمیں بھی بھارتی بحریہ کے افسران اسرائیل کے لیے جاسوسی کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے۔قطری عدالت نے ان افراد کوسزائے موت سنائی،تاہم بعد میں نریندرمودی کی ذاتی منت سماجت اورسفارتی مداخلت کے بعدیہ سزا معاف کردی گئی۔یہ واقعہ بین الاقوامی سطح پربھارت کی ساکھ پرسوالیہ نشان بن گیااوریہ ثابت ہواکہ یہودوہنودکے مشترکہ ایجنڈے کے تحت مودی باقاعدہ طورپر اسرائیل کے خفیہ مقاصد کیلئے مکمل معاونت فراہم کررہا ہے ۔یہ تمام واقعات نہ صرف ایران اوراسرائیل کے تعلقات کومزیدکشیدہ کررہے ہیں،بلکہ خطے میں افغانستان اوربھارت کے تعلقات پربھی سوالات اٹھارہے ہیں، کیونکہ ان ممالک کے شہری موسادکیلئے کام کرتے ہوئے پائے گئے۔
ان واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت،بالخصوص مودی حکومت،اسرائیل کے قریبی اتحادی کے طورپر خطے میں ایک فعال کردار اداکررہی ہے۔خفیہ تعاون،معلومات کی ترسیل اور دشمن ممالک میں جاسوسی جیسے اقدامات اسرائیلی ایجنڈے کاحصہ بن چکے ہیں جن میں بھارتی ریاستی ادارے براہ راست شامل ہوچکے ہیں۔
اسرائیل،موساداوربھارت کی یہ مشترکہ سرگرمیاں نہ صرف ایران کی خودمختاری بلکہ خطے کی مجموعی سلامتی کیلئے ایک بڑا خطرہ بنتی جارہی ہیں بلکہ یہ عمل خطے میں پراکسی وار،عدم استحکام اوربین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ایران میں اسرائیلی نیٹ ورک،موسادکی کارروائیاں اوربھارت کاکردار اس بات کاواضح ثبوت ہے کہ یہودوہنودمشترکہ طورپرمسلم دشمنی میں ایک دوسرے کاساتھ دے رہے ہیں اورپاکستان کابیانیہ سچ ثابت ہوگیاہے کہ دنیا کے امن کوسب سے بڑاخطرہ یہود وہنودکاالائنس ہے۔
موجودہ منظرنامے میں اسرائیل نے امریکاکی مکمل حمایت سے ایران کے ایٹمی مراکزکونشانہ بنایالیکن ایران نے جوابی حملے کے ذریعے پہلی باراسرائیل کے اندرحقیقی نقصان پہنچایا۔ایران کے میزائل اسرائیلی حدودمیں داخل ہوئے،مضبوط آئرن ڈوم سسٹم نے اکثر حملوں کوروکامگرکئی میزائل اتنے طاقتورتھے کہ فوری اثرات کے باعث کئی اسرائیلی مضبوط چوکیاں متاثرہوئیں۔بعض میزائل تل ابیب کے فوجی ہیڈ کوارٹرزکے نزدیک گرے،جس سے انفراسٹرکچر کو شدیدنقصان پہنچا۔ایران نے مجموعی طورپر550سے زائد بیلسٹک میزائل،ڈرون اورکروز میزائل داغے جن میں سے متعددتل ابیب،حیفہ،بیئرشبع، اورعسقلان کونشانہ بنانے میں کامیاب رہے۔ اسرائیل کادفاعی نظام آئرن ڈوم بعض مقامات پرمؤثر ثابت ہوامگرکئی میزائل اس سے بچ نکلے اورانہی میزائل نے تل ابیب کے شمالی سیکٹرمیں فوجی ہدف پربراہِ راست حملے نے جہاں شدید نقصان پہنچایاوہاں حیفہ کی ایک گیس پائپ لائن میں شدید آتشزدگی نے اسرائیل کو خاصہ نقصان پہنچایا۔
یہ واقعہ نہ صرف اسرائیل کے دفاعی غرورکی شکست تھی بلکہ ایران کی جوابی طاقت کاواضح اعلان بھی۔لیکن وہی ہواجس کی توقع تھی۔اسرائیل کابڑھتاہوا نقصان اوراس کی بے بسی کوختم کرنے کیلئے امریکابھی اس جنگ میں کودپڑا۔21جون کوامریکی بی-2 بمبار طیاروں اورٹام ہاک میزائلوں سے ایران کے تین بنیادی ایٹمی مراکز پرحملہ کردیا۔
حالیہ برسوں میں پہلی مرتبہ ایران کے ایٹمی تنصیبات پرامریکی حملوں کے بعدایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کونشانہ بنایا۔ ایران کی طرف سے نہ صرف مزاحمت بلکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پرحملے گویاایک نیامرحلہ تھا۔جب ایران کی جوابی کارروائیوں نے امریکی اڈوں کوہدف بنایااورخطے میں جنگ کے بادل گہرے ہونے لگے،توبراہِ راست تصادم کی صورت میں جیسے ہی امریکاکواپنے مفادات کے چکناچورہونے کاخدشہ ہوا،فوراًسیزفائرکااعلان کر دیاگیا۔یقیناًاس سیزفائرمیں خطے کے ممالک کی کوششیں بھی شامل ہیں۔24جون2025کوٹرمپ کی ثالثی میں،ایران اوراسرائیل نے12روزہ تباہ کن جھڑپوں کے بعدجنگ بندی منظور کی۔دونوں ممالک نےعہدکیاکہ پہلے ایران میزائل حملے روکیں گے اور12گھنٹوں کے بعداسرائیل بھی کارروائیاں بندکرے گا۔
سیزفائرکااعلان دراصل ایک سیاسی تدبیرتھی تاکہ خطے میں امریکی مفادات مزیدخطرے میں نہ پڑیں۔یہ سیزفائراس حقیقت کابھی مظہرہے کہ طاقت کااستعمال ہمیشہ حل نہیں ہوتا۔جیسے ہی امریکاکواپنے مفادات کے چکناچورہونے کاخدشہ ہوا،فوراًسیزفائرکااعلان کردیاگیا—جیسے کوئی آگ لگانے کے بعدپانی کے بہانے سے خودکومعصوم ثابت کرناچاہے۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق،امریکانے ایران کے ایٹمی مراکزپرحملے کیلئے اپنے اسٹریٹیجک بی ٹوسٹیلتھ بمبارکومشن پربھیجاتومبینہ طورپریہ طیارے بھارت کے راستے یابھارتی فضائی حدودوسہولیات استعمال کرکے ایران تک پہنچے۔اس خبرپرتاحال بھارت کی طرف سے کوئی باضابطہ تردیدسامنے نہیں آئی،جوسفارتی اصطلاح میں اکثر”خاموش تائید”سمجھی جاتی ہے۔اگریہ اطلاع درست ہے، توبھارت نے امریکااوراسرائیل کے ساتھ مل کرایران کے خلاف ایک عملی جنگی کارروائی میں سہولت فراہم کی ہے۔
اگربھارت واقعی امریکی حملے میں شریک رہایاسہولت کاربنا،تویہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ساتھ ہی،اس بھارتی کردارکے علاقائی سلامتی پرخطرناک اثرات مرتب ہوئے ہیں،یہ جنوبی ایشیاءاورمشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے سردجنگی ماحول اور اعتمادکے ٹوٹنے کی نشاندہی کرتاہے۔ اسرائیل،امریکااوربھارت کے مابین یہ خفیہ تعلقات اورکارروائیاں صرف سیکیورٹی یاعسکری مسئلہ نہیں،بلکہ عالمی سفارت کاری،مسلم دنیاکے اتحاد،اورخطے کے توازن کیلئے ایک شدیدخطرہ بن چکے ہیں۔
یادرکھیں جب نظریہ مضبوط ہو،جب قوم فکری بلوغت رکھتی ہو،تواس کاسامناصرف بموں سے نہیں،فہم وفراست سے بھی نہیں کیاجا سکتا۔سیزفائرکے بعداب اسرائیل کے جانی ومالی نقصانات کی تفصیلات بھی سامنے آرہی ہیں۔تقریبا172مقامات پرایرانی میزائلوں نے نقصان پہنچایاجس میں28سے زائدہلاکتیں ہوئیں اورہزاروں افرادکے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔نصف درجن سے زائدعمارات شدیدمتاثرہوئیں،اسپتال زخمیوں سے بھرگئے، اورمتعددمسافروشہری محفوظ ٹھکانوں میں منتقل ہوئے۔ایرانی میزائل نے19جون کو بیئرشبہ کے ہسپتال اور”سوروکامیڈیکل سینٹر”کونشانہ بنایا،جس میں50سے زائدزخمی ہوئے ہیں۔ اسپتال کے ایک حصے میں کیمیائی موادکااخراج بھی ہوامگرمریضوں کی بروقت منتقلی نے بڑے انسانی جانی نقصان کوروکا ۔
ایران اسرائیل جنگ کے دوران ایک مرتبہ پھرعالمی ردعمل میں واضح دوغلے پیمانے اور ڈھٹائی کو ایک مرتبہ پھردیکھاگیا۔امریکا نے اسرائیل کی پشت پناہی جاری رکھی،اپنے بحری بیڑے مشرقِ وسطیٰ روانہ کیے اورایران پرمزیدپابندیوں کی دھمکی دی۔یورپ نے امن کی اپیل کی مگراسرائیل کے ایران کے ایٹمی پلانٹ پرحملے پر خاموشی اختیارکی لیکن اس کے برعکس چین و روس نے ایران کی مزاحمت کوجائز قراردیااوراسرائیل پرتنقیدکی جبکہ اقوام متحدہ نے صرف “تحمل”اور”مذاکرات” کی اپیل پر اکتفا کیا،کوئی عملی قدم نہیں اٹھایااورہمیشہ کی طرح امریکااورمغرب کی لونڈی کے کردارکوبرقراررکھا۔
دوسری طرف امریکی ویورپی میڈیااسرائیل کے مظالم کویاتوچھپاتاہے یاان کاجوازگھڑتاہے۔اسرائیل کاظلم،فلسطینیوں کی شہادت،اور انسانی حقوق کی پامالی،عالمی میڈیامیں محض عددبن کررہ جاتے ہیں۔ایران کامؤقف،مزاحمت کی آواز،عالمی میڈیامیں دبائی جاتی ہے یا مسخ کرکے پیش کی جاتی ہے۔
انقلاب صرف جغرافیہ نہیں، نظریہ بھی ہوتاہے۔آج ایران تنہانہیں،بلکہ وہ ایک بیانیہ ہے؛ایک انکارہے؛ایک مزاحمت ہے۔اگرچہ وہ معاشی وعسکری لحاظ سے امریکایااسرائیل کاہم پلہ نہیں،لیکن عزمِ صمیم، فکری خودداری اوردینی بالادستی کاعلم بلندکیے ہوئے ہے۔ جس انقلاب نے ایک سفارت خانے سے امریکاکونکالا،وہ آج بھی عالمی طاقتوں کواپنی زبان پرقابو رکھنے پرمجبورکررہاہے۔تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کاپلڑاہمیشہ اس کے پاس نہیں رہتاجوتلوار رکھتا ہے ، بلکہ اس کے پاس ہوتاہے جونظریہ رکھتاہے۔یہ جنگ باروداورمیزائلوں کی نہیں، افکار ،تہذیب اورنظریات کی جنگ ہے۔ایک طرف سامراجی سرمایہ دارانہ نظام ہے جوطاقت کوحق کی بنیادسمجھتا ہے، دوسری طرف مزاحمت کی وہ شعوری طاقت جوامام خمینیؒ،مودودیؒ، اور حسن نصراللہ جیسے مفکرین کی رہنمائی میں آزادی کانعرہ بن چکی ہے۔
ایران وامریکاو اسرائیل کی یہ کشمکش صرف تیل،اسلحے یاایٹمی پلانٹس کی جنگ نہیں—یہ فکروتہذیب کی جنگ ہے۔یہ جنگ استقلال اوراستعمارکے درمیان ہے۔ایران واسرائیل وامریکا کی یہ کشمکش محض فوجی یامعاشی نہیں،بلکہ تہذیبی اورفکری جنگ ہے۔ایک طرف مغرب کی سیکولر،لبرل اورسرمایہ دارانہ سوچ ہے،اوردوسری طرف ایران کاانقلابی،اسلامی،اورمزاحمتی بیانیہ۔ایران آج بھی معاشی مشکلات،عالمی تنہائی،اورعسکری دباؤکے باوجوداپنے نظریاتی مؤقف پرڈٹاہواہے۔
ایران اپنی معاشی،عسکری اورسیاسی تنہائی کے باوجودجس فکری صلابت اورنظریاتی عزم کامظاہرہ کررہاہے،وہ محض حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک تہذیبی نظریہ ہے—ایک ایسانظریہ جو صداقت،استقامت اورآزادی کے نام پروقت کی سپرپاورزکوللکاررہاہے۔اگر حق وباطل کی کشمکش نہ ہو،توتاریخ کاوجودبے معنی ہوجائے۔یادرہے کہ قومیں زندہ رہتی ہیں عقیدے سے، اسلحے سے نہیں۔یہ دنیاایک دارالامتحان ہے،یہاں ظاہری کامیابی اصل کامیابی نہیں—اصل کامیابی نظریہ کی بقاہے۔





