Whispers from the House of Power

ایوانِ اقتدار کی سرگوشیاں

تاریخ کے صفحات خاموش گواہ بن کربیٹھے رہتے ہیں،مگربعض اوقات وہ ہم سے سرگوشیاں کرتے ہیں،چپ چاپ سچائی کی دہائی دیتے ہیں۔جب وہ دبے لہجے میں قوموں کوآئینہ دکھاتے ہیں تووہ لمحےاقتدارکے ایوانوں میں کہے گئے جملے،نہ کہے گئے الفاظ اوراختیارکی یہ اہم سرگوشیاں قومی تقدیر کے دھارے کارخ متعین کردیتے ہیں۔بھارت کی سیاسی اورفوجی کشمکش کے تازہ واقعات بھی ایسے لمحے ہیں ،جہاں الفاظ،فیصلے اورخاموشیوں کے درمیان قوم کی تقدیرکی دھارجلی ہوئی نظرآتی ہے۔سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرواکی غیر مطبوعہ یادداشت “فور اسٹارزآف ڈیسٹینی”ایک ایساآئینہ ہے،جونہ صرف فوجی قیادت کے حساس فیصلوں کی عکاسی کرتاہے بلکہ سیاسی قیادت کی ذمہ داریوں اور قومی مفادکے درمیان نازک توازن کوبھی بے پردہ پیش کرتاہے۔

بھارت کی حالیہ سیاسی وعسکری کشمکش بھی ایساہی ایک باب ہے،جس میں ایک غیرمطبوعہ یادداشت نے پارلیمنٹ کے فرش پر سوالات کی ایسی گرداُڑائی کہ قومی سلامتی،سیاسی ذمہ داری اورجمہوری روایت سب ایک ہی کٹہرے میں کھڑے نظرآنے لگے۔انڈیاکی پارلیمانی تاریخ میں بعض اوقات ایسے لمحات بھی آئے ہیں جوبظاہرمعمولی دکھائی دیتے ہیں،مگرحقیقت میں وہ ملکی سیاست اور عسکری اداروں کے مابین تعلقات کے حساس گوشوں کی کھوج کرتے ہیں۔2024میں پیش آنے والاواقعہ بھی کچھ ایساہی ہے،جب سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نروانے کی غیر مطبوعہ یادداشت فوراسٹارزآف ڈیسٹینی نے نہ صرف سرکاری محاذ پر ہنگامہ برپاکردیابلکہ پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں بھی سیاسی تضادکی آگ بھڑکادی۔

یہ یادداشت اوراس کے اردگردپیداہونے والاپارلیمانی ہنگامہ ہمیں یاددلاتاہے کہ تاریخ صرف گزرے ہوئے واقعات کامجموعہ نہیں،بلکہ ایک فکری کشمکش ہے،جہاں ہرفیصلہ،ہرفرمان اورہرخاموشی ایک قوم کے مستقبل کانقشہ کھینچتی ہے۔یہ وہ لمحے ہیں جوقاری کے شعورمیں گھس کرسوچ کی کرنیں جگاتے ہیں، اوراسے مجبورکرتے ہیں کہ وہ صرف پڑھے نہیں بلکہ محسوس بھی کرے۔

جنرل ایم ایم نروانے کی یادداشت فوراسٹارزآف ڈیسٹینی2024ءسے شائع ہونے کی منظوری کی منتظرہے۔یہ یادداشت نہ صرف نروانے کی ذاتی زندگی اور کیریئرکی کہانی بیان کرتی ہے بلکہ حساس فوجی اورآپریشنل تفصیلات پربھی روشنی ڈالتی ہے۔نروانے نے2019 سے2022تک ہندوستان کے آرمی چیف کے طورپرخدمات انجام دیں۔یادداشت میں ان کی فوجی حکمت عملی،سیاسی معاملات سے تعلق، اوراہم فیصلوں کی عکاسی موجودہے۔

نرل نروانے کی یادداشت محض ایک ذاتی سرگزشت نہیں بلکہ ایک ایسے دورکی گواہی ہے جب لداخ کی سنگلاخ وادیوں میں بارودکی بو اورسفارتی خاموشی ساتھ ساتھ چل رہی تھیں۔یہ کتاب ابھی شائع نہیں ہوئی، مگراس کے اقتباسات نے ایوانِ زیریں میں ایساارتعاش پیداکیا کہ الفاظ بھی متنازع اورخاموشی بھی معنی خیزبن گئی۔یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ واقعات سے آگے بڑھ کرفکری امتحان بن جاتی ہے۔

اس یادداشت کے اقتباسات کے مطابق،2020میں لداخ کے ہمالیائی خطے میں چین کے ساتھ فوجی تعطل کے دوران ملک کے اعلیٰ سیاسی رہنماؤں کی ہدایات میں غیریقینی اورتاخیرپائی گئی،جس کے نتیجے میں 20 ہندوستانی اورکم ازکم چارچینی فوجی مارے گئے۔ راہول گاندھی نے پارلیمنٹ میں اس دستاویزکی فوٹوکاپی پیش کرنے کی کوشش کی،جس سے ایوان میں ہنگامہ کھڑاہوگیا۔گاندھی کے مطابق،جیسے ہی چینی ٹینک ہندوستانی پوزیشنوں پرآگے بڑھے،سابق آرمی چیف نروانے کوکہاگیاکہ وہ”جومناسب سمجھیں وہ کریں”، جس پروزیردفاع اوردیگروزراءنے سخت اعتراض کیا۔

جنرل ایم ایم نروانے2019سے2022تک بھارت کے آرمی چیف رہے۔ان کی یادداشت”فوراسٹارزآف ڈیسٹینی”2024میں اشاعت کیلئےپیش کی گئی ، تاہم حکومتی منظوری اورحساس عسکری موادکے باعث اب تک شائع نہیں ہوسکی۔اطلاعات کے مطابق اس میں نہ صرف ان کی ذاتی زندگی اورعسکری کیریئر کااحاطہ ہے بلکہ2020کے چین-بھارت تعطل سے متعلق اہم آپریشنل اورانتظامی پہلوبھی درج ہیں۔ناشراور وزارتِ دفاع کے درمیان منظوری کے مراحل جاری رہے،اورخودنروانے نے ایک انٹرویومیں واضح کیاکہ ان کاکام کتاب لکھ کرپبلشر کے سپردکرناتھا،آگے بڑھاناناشراورمتعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے ۔اس تاخیرنے کتاب کوایک غیرمرئی سیاسی دستاویزبنادیا—جوچھپی نہ سہی،مگرزیرِ بحث ضرورآگئی۔

یہ تنازع اس وقت شدت اختیارکرگیا جب کانگریس رہنماراہول گاندھی نے پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں میں اس غیرمطبوعہ یادداشت کے اقتباسات پیش کرنے کی کوشش کی،انہوں نے مبینہ طورپرفوٹوکاپی کے ذریعے ان نکات کاحوالہ دیناچاہاجن میں2020کے فوجی بحران کے دوران سیاسی قیادت کی ہدایات پرسوال اٹھایاگیاتھا۔جیسے ہی انہوں نے پڑھناشروع کیا،ایوان میں شوربرپاہوگیااورشدیدہنگامہ کھڑا ہوگیا۔گاندھی کوباربار روکا گیاجب انہوں نے پیرکو بحث میں کتاب کے اقتباسات پڑھنے کی کوشش کی۔بی جے پی نے الزام لگایاکہ انہوں نے ہندوستانی فوجیوں کی توہین کی اورغیرمطبوعہ کتاب کے حوالے سے پارلیمانی قوانین کی خلاف ورزی کی۔وزیردفاع راج ناتھ سنگھ اوروزیرداخلہ امیت شاہ نے گاندھی پرایوان کوگمراہ کرنے کاالزام لگایا۔اس سے ظاہرہوتاہے کہ سیاسی اختلافات کس طرح قومی دفاع اور فوجی وقارکے موضوع پربھی شدت اختیارکرسکتے ہیں۔

کانگریس نے مؤقف اختیارکیاکہ سابق آرمی چیف کی یادداشت مستندماخذہے اورگاندھی کواس سے حوالہ دینے کاحق حاصل ہے۔یہ پہلا موقع نہیں تھاجب کانگریس نے چین کے معاملے پرحکومت پرتنقیدکی،اوراس واقعے نے سیاسی قیادت کے اقدامات پرسوال اٹھانے کا دروازہ کھولا۔اقتباسات میں دعویٰ کیاگیا کہ2020میں چین کے ساتھ فوجی تعطل کے دوران ملک کے اعلیٰ سیاسی رہنماؤں نے واضح ہدایات دینے میں ناکامی برتی۔یہ اقدام ایوان میں سیاسی اورفوجی معاملات کے درمیان موجودحساس تعلقات کوبے نقاب کرتاہے۔حکومتی اراکین نے اعتراض کیاکہ ایک غیر شائع شدہ کتاب کاحوالہ دین پارلیمانی قواعدکی خلاف ورزی ہے۔نتیجتاًکارروائی دن بھر کیلئےملتوی کردی گئی۔

یہ ساراتنازع2020کے موسمِ گرمامیں لداخ کے دریائے گالوان کے کنارے پیش آنے والے تصادم سے جڑاہواہے۔لداخ کےدریائے گالوان کے کنارے بھارت اور چین کے درمیان مہلک تصادم ہوا،جو1975 کے بعدسب سے مہلک فوجی جھڑپ تھی۔اس جھڑپ میں20ہندوستانی اورکم ازکم4چینی فوجی ہلاک ہوئے۔یہ تصادم محض سرحدی جھڑپ نہیں تھی بلکہ دوایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کانازک ترین مرحلہ تھا۔برسوں کی فوجی اورسفارتی بات چیت کے بعد2024میں دونوں فریقوں نے متاثرہ سرحدی علاقوں سے مرحلہ واردستبرداری پراتفاق کیا،تاہم سیاسی سطح پراس بحران کی ذمہ داری اورحکمت عملی پربحث ختم نہ ہوسکی اورسیاسی وعسکری حلقوں میں تشویش اورالزامات کاسلسلہ جاری رہا۔

نروانے کے مطابق،جب چینی ٹینک ہندوستانی پوزیشنزپرآگے بڑھے،انہیں کہاگیا کہ وہ”جومناسب سمجھیں وہ کریں”۔نروانے نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کومتعددبارفون کیا،جس کے ذریعے وزیراعظم مودی کی طرف سے پیغام پہنچایاگیا،لیکن فیصلہ نروانے پرچھوڑدیاگیا۔گاندھی نے کہا”میں واقعی میں تنہا محسوس کررہاتھا۔مجھے پوری اسٹیبلشمنٹ نے چھوڑدیاتھا۔”یہ بیان فوجی قیادت کی خودمختاری اور سیاسی قیادت کی تاخیر کے درمیان تضاد کی واضح تصویر پیش کرتا ہے۔

راہول گاندھی کے مطابق یادداشت میں درج ہے کہ جب چینی ٹینک بھارتی پوزیشنوں کی جانب بڑھے تو جنرل نروانے کو کہا گیا کہ وہ “جو مناسب سمجھیں وہ کریں”۔ اس بیان کی سیاسی معنویت یہ تھی کہ اعلیٰ سیاسی قیادت نے واضح ہدایات کی بجائے فیصلہ عسکری قیادت پرچھوڑدیا۔مزیدیہ کہ گاندھی نے دعویٰ کیاکہ نروانے نے وزیردفاع کومتعددبارفون کیا،جن کے ذریعے مودی کوپیغام پہنچایاگیا،مگرحتمی فیصلہ ان ہی کے سپرد رہا۔گاندھی نے اس کیفیت کویوں بیان کیا کہ وہ خودکو”تنہامحسوس کر رہے تھے،گویاپوری اسٹیبلشمنٹ نے چھوڑ دیا ہو”۔ اگرچہ یہ الفاظ نروانے کے مبینہ احساس کی ترجمانی کے طورپرپیش کیے گئے، مگر انہوں نے سیاسی ایوان میں ارتعاش پیداکردیا۔

حکومت کامؤقف واضح تھا:ایک غیرمطبوعہ مصدقہ کتاب کاحوالہ دیناپارلیمانی آداب کے منافی ہے۔وزیردفاع نے کہا کہ جس کتاب کا حوالہ دیاجارہاہے اسے ایوان کے سامنے پیش کیاجائے،کیونکہ وہ ابھی شائع ہی نہیں ہوئی۔ پارلیمانی امورکے وزیرکرن رجیجو نے بھی تنبیہ کی کہ جوبات سچ ثابت نہ ہواورقواعدکے تحت جائزنہ ہو،اسے زبردستی ایوان میں نہیں لایا جانا چاہیے۔تاہم گاندھی کوتقریرجاری رکھنے کی اجازت بھی دی گئی۔یہ مؤقف پارلیمانی قوانین اورآئینی حدود کے تناظرمیں سیاسی مباحثے کی حفاظتی جہت کی عکاسی کرتاہے۔یہ مؤقف دراصل پارلیمانی خودمختاری اورقومی سلامتی کے درمیان ایک حدفاصل کھینچنے کی کوشش تھی۔حکومتی اراکین کاکہناتھاکہ فوجی معاملات کوسیاسی پوائنٹ اسکورنگ کاذریعہ نہیں بناناچاہیے۔

دوسری جانب کانگریس کاکہناتھاکہ سابق آرمی چیف کی یادداشت ایک مستندماخذہے،اوراگراس میں درج نکات قومی سلامتی سے متعلق اہم سوالات اٹھاتے ہیں توانہیں زیرِبحث لاناجمہوری حق ہے۔یہ بھی واضح کیا گیاکہ چین کے معاملے پرحکومت کوپہلے بھی تنقیدکاسامنا رہاہے اوریہ کوئی نیاموضوع نہیں۔

گاندھی نے پارلیمنٹ کے باہرصحافیوں کے سامنے غیرمطبوعہ کتاب کی ایک کاپی دکھاتے ہوئے کہاکہ قائمہ حکم یہ تھاکہ اگرچینی فوجی اعلیٰ قیادت سے پوچھے بغیر بھارتی حدودمیں داخل ہوں توان پرگولی نہ چلائی جائے۔یہ بیان سیاسی سطح پرنہایت حساس سمجھا گیاکیونکہ اس میں عسکری حکمت عملی اورسیاسی احتیاط کے درمیان ایک ممکنہ تضادکی جھلک تھی اورسیاسی فیصلوں کے درمیان تضادکی نشاندہی کرتاہے اورعوامی شفافیت کی اہمیت کواجاگرکرتاہے۔

ہنگامہ صرف ایک دن تک محدودنہ رہا۔اگلے روزبھی کارروائی متاثرہوئی اوراحتجاج کے باعث ماحول کشیدہ رہا۔پیرکوکارروائی دن بھر کیلئےملتوی ہوئی،مگرمنگل کوخلل دوبارہ جاری رہا۔حزب اختلاف کے احتجاج نے ایوان کوغیرمتوقع صورت حال سے دوچارکیااور کانگریس کے8ممبران کوبدتمیزی کے الزام میں معطل کردیاگیا۔یوں ایک غیرمطبوعہ کتاب نے نہ صرف بحث چھیڑی بلکہ عملی سیاسی نتائج بھی پیداکیے۔یہ واقعہ ظاہر کرتاہے کہ فوجی اورسیاسی تنازعات کے موضوعات نہ صرف قانونی بلکہ سماجی اورادبی نقطہ نظر سے بھی حساس ہوتے ہیں۔یہ صورت حال اس امرکی علامت تھی کہ بھارت کی سیاست میں فوجی معاملات محض دفاعی حکمت عملی کا مسئلہ نہیں بلکہ سیاسی بیانیے کاحصہ بھی بن چکے ہیں۔

اس پورے واقعے نے ایک بنیادی سوال کواجاگرکیا:عسکری اورسیاسی قیادت کے درمیان ذمہ داری کی حدکہاں شروع ہوتی ہے اورکہاں ختم؟جمہوری نظام میں فوج سیاسی قیادت کے ماتحت ہوتی ہے،مگرعملی میدان میں فیصلوں کی رفتاراوردباؤبعض اوقات قیادت کوغیر معمولی صورتحال سے دوچارکردیتے ہیں۔اگرواقعی فیصلہ عسکری قیادت پرچھوڑاگیاتویہ اعتمادکی علامت بھی ہوسکتاہے اورغیریقینی کامظہربھی—یہ تعبیرسیاسی زاویے پر منحصرہے۔اسی لیے یہ یادداشت محض ایک کتاب نہیں بلکہ اقتداراوراختیارکے تعلق کی عکاس بن گئی ہے۔یادداشت2024میں شائع ہونے کیلئےتیارتھی،مگرپبلشراوروزارت دفاع کے درمیان مطلوبہ منظوری کی تاخیرنے اسے غیرمطبوعہ رکھا۔ نروانے نے کہا:”میراکام کتاب لکھنااورپبلشرکودیناتھا،اب اسے آگے بڑھاناان کاکام ہے۔”یہ مؤقف دراصل اسی پیچیدگی کی طرف اشارہ ہے جوادبی اورتاریخی مواد کی حساسیت،اورمنظوری کے مراحل کی پیچیدگی واضح کرتاہے۔کتاب کی اشاعت میں تاخیرنے اس بحث کومزیدپیچیدہ بنادیا۔ایک طرف عسکری حساسیت اورآپریشنل رازداری کاتقاضا،دوسری طرف تاریخ کے ریکارڈکاحق—ان دونوں کے درمیان توازن قائم کرناآسان نہیں۔غیرمطبوعہ مخطوطہ جب سیاسی مباحثے کاحصہ بن جائے تووہ محض ادبی متن نہیں رہتابلکہ طاقت کے توازن کا استعارہ بن جاتاہے۔

یہ واقعہ فوجی قیادت اورسیاسی قیادت کے تعلقات کے نازک توازن،قومی سلامتی،اورتاریخی ریکارڈ کے درمیان تعلق کی گہرائی کو ظاہرکرتاہے۔نروانے کی یادداشت ایک آئینہ ہے جس میں اہم فیصلے،بحران اورذمہ داری کی تہیں جھلکتی ہیں۔یہ نہ صرف ایک دستاویزی کتاب ہے بلکہ فکری اورتہذیبی کشمکش کاآئینہ بھی ہے،جہاں ہرلفظ،ہراستعارہ اورہرمحاورہ قوم کی بقااورقیادت کی ذمہ داری کے درمیان پل کاکرداراداکرتاہے۔
یہ واقعہ کئی سطحوں پر اہم ہے۔
اوّل،اس نے2020کے بحران کی یادتازہ کردی اوراس کی ذمہ داری کے سوال کودوبارہ زندہ کیا۔
دوم،اس نے پارلیمانی قواعداوراظہارِرائے کی حدودکوموضوعِ بحث بنایا۔
سوم،اس نے عسکری وسیاسی قیادت کے تعلق کوعوامی مکالمے کاحصہ بنادیا۔

تاریخ میں ایسے واقعات قوموں کے اجتماعی حافظے میں دیرپااثرچھوڑتے ہیں۔یہ محض ایک پارلیمانی جھڑپ نہیں بلکہ قومی بیانیے کی تشکیل کامرحلہ بھی ہے۔اقتدار کی راہداریوں میں لیے گئے فیصلے اکثردیرسے سمجھ میں آتے ہیں۔کبھی ایک جملہ برسوں بعدسوال بن کرابھرتاہے،کبھی ایک خاموشی پوری تاریخ کا بوجھ اٹھالیتی ہے۔یہ واقعہ ہمیں یاددلاتاہے کہ طاقت،اختیاراورقومی ذمہ داری کی دنیامیں ہرلمحہ اہم ہے،ہرفیصلہ اثررکھتا ہے ،اورہرخاموشی بھی فکری جہت رکھتی ہے۔جنرل نروانے کی غیرمطبوعہ یادداشت اوراس پراٹھنے والاپارلیمانی طوفان ہمیں یہی یاددلاتاہے کہ قومی سلامتی صرف سرحدوں کاتحفظ نہیں بلکہ اعتماد،شفافیت اورذمہ داری کانام بھی ہے۔نروانے کی یادداشت اور پارلیمانی ہنگامہ نہ صرف فوجی وسیاسی تعلقات کی پیچیدگی کوعیاں کرتے ہیں بلکہ یہ بھی دکھاتے ہیں کہ تاریخ کے صفحات محض حقائق کی فہرست نہیں،بلکہ انسانی فیصلے، اخلاقی سوالات،اورقومی تقدیرکی کشمکش کاآئینہ بھی ہیں۔

یہ واقعہ اس حقیقت کاآئینہ ہے کہ جمہوریت میں فوجی اورسیاسی قیادت کے درمیان توازن نہایت نازک ہوتاہے۔اگریہ توازن برقراررہے توریاست مضبوط رہتی ہے،اوراگراس میں دراڑپڑجائے توسوالات نسلوں تک پیچھاکرتے ہیں۔یوں یہ داستان ہمیں محض ایک کتاب یاایک بحث کی خبرنہیں دیتی،بلکہ یہ باور کراتی ہے کہ تاریخ کی عدالت میں نہ الفاظ گم ہوتے ہیں اورنہ فیصلے۔ہرعہدکواپنے فیصلوں کاحساب دیناہوتاہے—اور یہی تاریخ کاسب سے بڑاسبق ہے۔

یہ رپورٹ ہمیں مجبورکرتی ہے کہ ہم صرف واقعات کامشاہدہ نہ کریں بلکہ ان کے پیچھے چھپی ذمہ داری،قربانی،اور فکری جہت کو بھی سمجھیں۔یہی وجہ ہے کہ یہ یادداشت اوراس کے گردہونے والاہنگامہ، تاریخی،سیاسی اورادبی لحاظ سے،قاری کے دل ودماغ پردیرپا اثرچھوڑتاہے،اوراسے ایک قوم کی تقدیر،قیادت کی ذمہ داری اورانسانی شعورکے درمیان تعلق کااحساس دلاتاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں