Where does Pakistan stand?

پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

بین الاقوامی سیاست میں کچھ لمحات محض واقعات نہیں ہوتے،وہ قوموں کیلئے آئینہ بن جاتے ہیں۔ایسے آئینے جن میں ریاستیں اپنے فیصلوں،ترجیحات اورغلطیوں کاعکس دیکھتی ہیں—خواہ وہ عکس کتناہی تلخ کیوں نہ ہو۔عالمی سیاست میں بعض خبریں محض اطلاع نہیں ہوتیں،وہ ریاستوں کیلئے لمحۂ فکریہ بن جاتی ہیں آج مشرقِ وسطیٰ،جنوبی ایشیااورعالمی طاقتوں کےمابین بدلتاہوا توازن بھی پاکستان کیلئے ایساہی ایک آئینہ ہے،جس میں ہمیں باربار وہ سوال دکھائی دیتاہے جس سے ہم برسوں سے نظریں چر رہے ہیں،کیا ہم درست سمت میں کھڑے ہیں؟

متحدہ عرب امارات کابھارت کی طرف تیزی سے بڑھتاجھکاؤ،سعودی عرب اوریواے ای کے درمیان بڑھتاہواخاموش تناؤ،اس کے نتیجے میں سعودی عرب اوریواے ای کے درمیان خاموش مگرگہرے اختلافات، اور افغانستان میں پاکستان کےاثرورسوخ کامسلسل زوال،افغانستان کاوہ منظرنامہ جہاں پاکستان دہائیوں کی جانی ومالی قربانیوں،ابھرتی معیشت اورسفارتی سرمایہ کاری کے باوجود نہ صرف اثر رسوخ کھوبیٹھابلکہ آج وہی افغانستان بھارت کے ساتھ قربت اختیارکرکے پاکستان کوعلاقائی طورپرکمزورکرنے کاذریعہ بنتادکھائی دیتاہے—

افغانستان وہ ملک ہے جس پرپاکستان نے دہائیوں تک اپنی معیشت،سلامتی اورسفارت کابوجھ اٹھائے رکھا۔جانی قربانیاں دیں،مالی نقصان برداشت کیا،عالمی دباؤسہا—مگرنتیجہ یہ نکلاکہ آج وہی افغانستان بھارت کے قریب ہے،اوربھارت وہاں سے پاکستان کو کمزورکرنے کی کوششوں میں سرگرم ہے۔یہی طرزِفکر ہم خلیجی ممالک کے حوالے سے بھی اپناتے رہے—جذباتی وابستگی،وقتی ضرورتوں پرمبنی فیصلے،اورمعیشت سے کٹی ہوئی خارجہ پالیسی۔نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔یہ سب واقعات الگ الگ نہیں بلکہ ایک ہی اسٹریٹجک ناکامی کی مختلف شکلیں ہیں۔ بلکہ یہ سب ایک ہی کہانی کے مختلف ابواب ہیں۔

یہ مضمون اسی کہانی کوسمجھنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔خلیج کی بدلتی سیاست،سعودی یواے ای اختلافات اوریو اے ای بھارت قربت کے ذریعے ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتاہے۔یہ محض خلیجی سیاست،یو اے ای–بھارت قربت یاسعودی قیادت کے سوال تک محدود نہیں،بلکہ اس بنیادی بحران کی نشاندہی کرتاہے جوپاکستان کی خارجہ پالیسی،معاشی سمت اورریاستی فیصلہ سازی کے اندرگہرائی تک سرایت کرچکاہے۔سوال یہ نہیں کہ دنیاکیوں بدل رہی ہے،اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کیوں پیچھے رہ گیاہے؟کیا ہم نے خود کو بدلنے کیلئے سنجیدگی اختیار کی ہے یا نہیں؟ کیا ہم نے اپنی ان تمام ناکامیوں کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہوئے ذمہ داروں کوکٹہرے میں کھڑاکرکے انہیں سزا دی ہے؟اگرنہیں تواس کی کیاوجہ ہے؟کیا پاکستان اپنی خارجہ پالیسی حقیقت پسندانہ بنیادوں پر استوارکرنے کیلئے تیارہے،یاوہ اب بھی ماضی کے سہاروں پرحال کوبچانے کی کوشش میں مستقبل گنواتارہے گا؟

بین الاقوامی سیاست میں کچھ خبریں محض سرخی نہیں ہوتیں بلکہ وہ آئینہ بن جاتی ہیں—ایساآئینہ جس میں قومیں اپنااصل چہرہ دیکھتی ہیں،خواہ وہ خوبصورت ہویاتکلیف دہ۔ متحدہ عرب امارات کے صدرشیخ محمدبن زایدکا بھارت کااچانک،مختصرمگرغیر معمولی دورہ بھی ایسی ہی خبرثابت ہوا۔محض ایک گھنٹہ پینتالیس منٹ پرمحیط یہ دورہ دراصل برسوں پرمحیط اسٹریٹجک فیصلوں کا اعلان تھا،جس کے اثرات نئی دہلی سے لے کرریاض، اسلام آباداورواشنگٹن تک محسوس کیے جارہے ہیں۔

یواے ای اوربھارت کے درمیان دفاعی تعاون 100ارب ڈالرسے بڑھاک 200ارب ڈالرتک تجارتی شراکت،توانائی،خلائی تحقیق، مصنوعی ذہانت،ایٹمی ری ایکٹرزاورانفراسٹرکچرمیں سرمایہ کاری کےاعلانات کسی فوری ردعمل کانتیجہ نہیں تھے۔یہ سب ایک گہری،سوچی سمجھی حکمتِ عملی کاحصہ تھے۔اصل سوال یہ نہیں کہ یواے ای بھارت کے قریب کیوں گیا،بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس بدلتی تصویرمیں پاکستان کہاں کھڑاہے،اورخلیج کےاندرخودکیاکچھ بدل رہاہے؟

خلیجی سیاست کواگرایک جملے میں بیان کیاجائے توشایداس سے زیادہ جامع اورحقیقت کےقریب کوئی جملہ نہیں ہوسکتاکہ یہاں دوستی مستقل نہیں، مفاد مستقل ہے۔۔سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات بظاہرایک ہی خلیجی خیمے کےستون اورایک ہی خلیجی صف میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔مشترکہ مذہبی شناخت،تیل پرمبنی معیشت،امریکی اتحاد،علاقائی سلامتی کے مشترکہ بیانیےاورخطے میں استحکام کادعویٰ—یہ سب عناصر انہیں ایک مضبوط اتحادکی تصویر میں پیش کرتے ہیں۔مگرحقیقت اس تصویرسے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

اس ظاہری ہم آہنگی کے نیچے اختلافات کی ایک ایسی تہہ موجودہے جووقت کے ساتھ مزیدگہری ہورہی ہے۔پردے کے پیچھے،ان دونوں ریاستوں کے درمیان اختلافات کی ایک ایسی خلیج پیداہوچکی ہے جومحض وقتی نہیں بلکہ ساختی نوعیت کی ہے،یعنی طاقت، قیادت،معیشت اورعالمی صف بندی کے بنیادی سوالات سےجڑے ہوئےیہ اختلافات اب سفارتی سرگوشیوں یابندکمروں کی گفتگو تک محدودنہیں رہے۔یہ معیشت، سکری حکمتِ عملی،علاقائی قیادت، عالمی اتحادوں اورحتیٰ کہ جنوب ایشیامیں طاقت کے توازن تک پھیل چکے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کے اثرات محض ریاض اورابو ظہبی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ،جنوبی ایشیا اور المی سیاست پراثراندازہوں گے۔

اگرخلیجی سیاست کوایک جملے میں سمیٹاجائے تووہ یہی ہوگاکہ یہاں دوستی مستقل نہیں،مفادمستقل ہے۔سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات بظاہرایک ہی خلیجی خیمے کے مضبوط ستون دکھائی دیتے ہیں،مگرحقیقت میں ان کے درمیان اختلافات کی خلیج دن بدن گہری ہوتی جارہی ہے۔یہ اختلافات اب صرف بند کمروں کی گفتگوتک محدود نہیں رہے بلکہ معاشی،عسکری اورجغرافیائی سیاست میں واضح طورپرجھلکنے لگے ہیں۔یہ تناؤ وقتی یاجذباتی نہیں بلکہ ساختی نوعیت کاہے،جس کےاثرات آنے والے برسوں میں پورے مشرقِ وسطیٰ اورجنوبی ایشیاکی سیاست پرمرتب ہوں گے۔

سعودی عرب خودکو خلیجی دنیاکا فطری قائدسمجھتاآیاہے۔اس کی بنیادمحض معاشی طاقت یاجغرافیہ نہیں بلکہ ایک گہری تاریخی اور مذہبی حیثیت اورآبادی میں ہے۔حرمین شریفین کی تولیت،مسلم دنیامیں مرکزی مذہبی مقام،اوردہائیوں پرمحیط عرب قیادت اورامریکا کے ساتھ پرانااسٹریٹجک تعلق—یہ سب سعودی بیانیے کاحصہ سعودی قیادت کے دعوے کی بنیادہیں۔اس کے مقابلے میں متحدہ عرب امارات ایک بالکل مختلف ماڈل پیش کرتاہے۔یہ ماڈل مذہبی قیادت کی بجائے جدیدمعیشت عالمی سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی،لاجسٹکس، فنانس سروسزاوراسمارٹ گورننس پرکھڑاہے۔

محمدبن سلمان اورمحمد بن زایددونوں طاقتور،فیصلہ کن اورعلاقائی اثرورسوخ کے خواہاں رہنماہیں۔دونوں کاوژن علاقائی نہیں بلکہ عالمی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ ایک ہی خطے میں دومضبوط اورخودمختارقیادتیں طویل عرصے تک بغیرکشمکش اورتصادم کے نہیں رہ سکتیں—چاہے یہ کشمکش کھلی جنگ کی صورت میں ہویا خاموش سفارتی مقابلےکی شکل میں،یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جہاں سے سعودی–یو اے ای اختلافات کی جڑپھوٹتی ہے۔یہی مقابلہ آج خلیجی سیاست کی سمت متعین کررہاہے۔

یہ اختلاف سب سے زیادہ واضح اورنمایاں طورپرمعاشی میدان میں سامنے آیاہے۔سعودی عرب کاوژن2030دراصل ایک انقلابی منصوبہ ہے جس کا مقصد تیل پرانحصارکم کرکے ریاض کوعلاقائی کاروباری مرکزبنانا، غیر ملکی کمپنیوں کوریاض میں ہیڈکوارٹرقائم کرنے پرمجبورکرناہے۔نیوم،ریڈسی، قدیہ جیسے میگامنصوبوں پراربوں ڈالرجھونک رہاہے،اورخودکوخطے کانیا معاشی مرکزبنانے کی کوشش میں ہے۔پراجیکٹس کے ذریعے سرمایہ کھینچنا،یہ سب کچھ بالواسطہ طورپریواے ای کے قائم کردہ دبئی ماڈل کیلئے براہِ راست چیلنج ہےاورسعودی پالیسی کواپنے لیے براہِ راست معاشی خطرہ سمجھتاہے۔

یواے ای پہلے ہی دبئی اورابو ظہبی کوعالمی مالیاتی مراکزبناچکاہے،لاجسٹکس،ایوی ایشن اورٹریڈ میں برتری رکھتاہے۔خطے کاسب سے کھلااورلچکداربزنس ماحول فراہم کرتاہے،اسی وجہ سے اوپیک پلس میں تیل کی پیداوار، تجارتی مراعات اورسرمایہ کاری کے بہاؤپردونوں ممالک کے درمیان اختلافات کھل کرسامنے آئے۔یہ صرف معاشی مسابقت نہیں بلکہ بلکہ اثرورسوخ کی بالادستی کی جنگ ہے۔

یمن جنگ وہ پہلاعملی میدان تھاجہاں سعودی عرب اوریواے ای ایک ساتھ اترے مگروقت کے ساتھ دونوں کے اہداف مختلف ہوتے چلے گئے۔ اختلافات نمایاں ہونے کی بناءپرایک ساتھ نکل نہ سکے۔سعودی عرب یمن میں ایک متحدریاست اورحوثیوں کی مکمل شکست چاہتاتھاجبکہ یواے ای کی توجہ جنوبی یمن،بندرگاہوں اورتجارتی راستوں پرمرکوزرہی اورجنوبی یمن میں اپنے اتحادی مضبوط کرکے بندرگاہوں،تجارتی راستوں اور ساحلی پٹی پراثرو رسوخ چاہتا تھا۔نتیجہ یہ نکلاکہ یواے ای نے بتدریج اپناعسکری کردارکم کردیا،نتیجہ یہ نکلاکہ یواے ای نے بتدریج اپناعسکری کردارکم کردیاجبکہ سعودی عرب خودکومیدان میں نسبتاًتنہامحسوس کرنے لگا۔یہی وہ لمحہ تھاجہاں اعتمادکابحران شروع ہوا۔اوربرسوں سے قائم دوستی کے رشتوں میں دراڑپڑگئی۔

اسی طرح اخوان المسلمون اورسیاسی اسلام کے معاملے پربھی دونوں ممالک کے رویے مختلف ہیں۔یہ اختلاف محض جغرافیائی یا معاشی نہیں بلکہ نظریاتی بھی ہے۔یواے ای اخوان المسلمون کواپنی ریاستی سلامتی اور ساخت کیلئے وجودی خطرہ سمجھتا ہے۔اسی وجہ سے مصر،لیبیا،تیونس میں اس کامؤقف انتہائی سخت رہاہے۔سعودی عرب کامؤقف حالات کے مطابق بدلتارہاہےاورسعودی رویہ اس معاملے میں زیادہ محتاط، لچکدار اور وقتی رہتاہے۔کبھی سختی،کبھی مفاہمت — یہ ابہام دونوں ممالک کے درمیان فکری فاصلے کو بڑھاتاگیا۔یہی نظریاتی ابہام دونوں ممالک کے درمیان فکری فاصلے کومزیدبڑھاتاگیا۔

ایران کے معاملے پربھی دونوں ممالک کی سوچ مختلف ہے۔ایران کے حوالے سے سعودی عرب طویل عرصے تک سخت مؤقف رکھتارہاجبکہ یواے ای نے حالیہ برسوں میں خاموش مفاہمت کاراستہ اختیارکیا—تجارت،سفارت اورسیکیورٹی چینلزکھولے گئے۔اس کے برعکس یواے ای نے اسرائیل کے ساتھ ابراہیم معاہدہ کرکے نہ صرف ایک نیاعلاقائی راستہ کھولابلکہ خودکوامریکاکاسب سے قابلِ اعتماد خلیجی اتحادی بھی ثابت کیاجبکہ سعودی عرب اب تک محتاط ہے اورداخلی ومذہبی دباؤکاسامنا کررہاہے اورداخلی مذہبی دباؤاورخطے میں اپنی تاریخی حیثیت اسے فوری قدم اٹھانے سے روکتی ہے۔یواے ای کاایک قدم آگے نکل جاناریاض کیلئے ایک خاموش مگرگہراپیغام تھا۔یہ فرق بھی دونوں دارالحکومتوں کے درمیان خاموش تناؤکاسبب ہے۔یہ فرق خلیجی سلامتی کے تصورمیں بنیادی اختلاف کوظاہرکرتاہے۔یہی فرق وہ پس منظرفراہم کرتاہے جس میں یواے ای کابھارت کی طرف جھکاؤسمجھ میں آتاہے۔

سطحی طورپریواے ای–بھارت تعلق کودفاعی تعاون کے طورپردیکھاگیا،مگرحقیقت میں یہ ایک ہمہ جہت معاشی شراکت ہے۔گیس کی طویل مدتی فراہمی، اربوں ڈالرکی توانائی سرمایہ کاری،انفراسٹرکچر،زرعی تجارت، مصنوعی ذہانت،خلائی صنعت اورایٹمی ٹیکنالوجی،یہ سب اس بات کااعلان ہے کہ یواے ای بھارت کومستقبل کاستون سمجھ رہاہے۔یہ انتخاب محض بھارت کےحق میں نہیں بلکہ ایک ریاض اوراسلام آباد دونوں کیلئے بالواسطہ پیغام بھی ہے۔شیخ محمد بن زایدکابھارت کامختصرمگرغیرمعمولی دورہ محض رسمی ملاقات نہیں تھا۔دفاعی معاہدہ ہویا100سے200ارب ڈالرکی تجارتی شراکت—اصل نکتہ دفاع نہیں بلکہ معیشت ہے۔یو اے ای نے بھارت کو ستقبل کا راکت دار نتخب کیا ے، بکہ پاکستان اس دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے۔

شیخ محمد ن زاید کابھارت کامختصرمگرغیرمعمولی دورہ دراصل برسوں پرمحیط اسٹریٹجک فیصلوں کااعلان تھا۔دفاعی معاہدہ ہویا 100سے200ارب ڈالرکی تجارتی شراکت—اصل نکتہ دفاع نہیں بلکہ معیشت ہے۔یواے ای نےبھارت کومستقبل کی منڈی،سرمایہ کاری کامحفوظ مرکز،ٹیکنالوجی پارٹنرکے طور پر منتخب کیا۔اسی تصویرمیں پاکستان کامقام خاصامعنی خیزہے۔یواے ای کےصدر پاکستان آئے،مگردارالحکومت کی بجائے فوجی کینٹ گئے،کوئی بڑاتجارتی معاہدہ نہ ہوا،سرمایہ کاری کاکوئی واضح اعلان سامنے نہ آیا۔یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک خاموش سفارتی اشارہ تھاکہ پاکستان کے ساتھ تعلق اب زیادہ تر سیکیورٹی تک محدودہے،معیشت تک نہیں۔پاکستان خلیجی ممالک کودفاعی خدمات،فوجی تربیت اور سیکیورٹی فراہم کرتاہے،مگراس کے بدلے نہ برآمدات بڑھتی ہیں،نہ سرمایہ کاری،صنعت، ٹیکنالوجی اورطویل مدتی تجارت اس تعلق کاحصہ نہیں بن سکیں۔یہ توازن خطرناک حدتک یک طرفہ ہوچکاہے۔

یہاں پاکستان ایک خاموش مگراہم عنصرکے طو پرسامنے آتاہے۔سعودی عرب پاکستان کو دفاعی ستون اور اسٹریٹجک ضمانت سمجھتا ہےجبکہ یواے ای کا جھکاؤ تیزی سے بھارت کی طرف بڑھ رہاہے۔یہ فرق مستقبل میں خلیجی سیاست کوجنوبی ایشیاکی طاقتوں سے براہِ راست جوڑدے گا۔یہ سوال یہاں ناگزیر ہوجاتاہے کہ کیایواے ای نے بھارت کاانتخاب سعودی اثرسے توازن پیداکرنے کیلئے کیا؟ سعودی عرب اورپاکستان کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں،مگرحالیہ معاہدوں نے اسے مزیدمضبوط کیاہے۔پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے،اوریہی حقیقت اسے خلیجی سیاست میں ایک حساس عنصربناتی ہے ۔یواے ای اورسعودی عرب کے اختلافات—یمن،سیاسی اسلام اورقیادت کے سوال پر—یواے ای کومتبادل راستے تلاش کرنے پرمجبورکررہے ہیں۔ بھارت کے ساتھ قربت اسی توازن کی ایک کڑی ہے۔

اس پورے منظرنامے میں امریکا کونظراندازکرنا خودفریبی ہوگی۔واشنگٹن بھارت کوچین کے مقابلے میں مرکزی مہرہ سمجھتا ہے، جبکہ یواے ای اس کا قریبی اتحادی ہے۔اسرائیل کے ساتھ تعلقات اورغزہ امن بورڈ میں شمولیت اسی حکمتِ عملی کاحصہ ہیں۔یوں یو اے ای کابھارت کی طرف جھکاؤبڑی حد تک امریکی ترجیحات سے ہم آہنگ ہے۔امریکا،اسرائیل اوربھارت پرمشتمل غیراعلانیہ ٹرائکا چین–روس بلاک کے مقابلے میں صف بندہے۔ پاکستان چونکہ چین کاقریبی اتحادی،سی پیک کامرکز،روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات رکھتاہے، اس لیے اس پردباؤ فطری ہے۔مگریہاں ایک تلخ حقیقت ہے کہ بیرونی دباؤ تب ہی مؤثرہوتاہے جب اندرونی کمزوریاں موجود ہوں۔

گزشتہ برس مئی کی پاک–بھارت کشیدگی میں پاکستان کی عسکری صلاحیت کوعالمی سطح پرسراہاگیا،مگریہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ عسکری برتری معاشی کشش کانعم البدل نہیں۔دنیااب یہ نہیں دیکھتی کہ کون بہترلڑ سکتا ہے،بلکہ یہ دیکھتی ہے کہ کون سرمایہ محفوظ رکھ سکتاہے،کون طویل مدتی منافع دے سکتاہے،اورکون عالمی سپلائی چین کاحصہ ہے۔اس میدان میں پاکستان پیچھے ہے۔

یہ کہناجذباتی لگ سکتاہے،مگرحقیقت یہ ہے کہ امریکا،اسرائیل اوربھارت پرمشتمل غیراعلانیہ صف بندی پاکستان کومعاشی طورپر کمزوردیکھناچاہتی ہے تاکہ وہ آزادخارجہ پالیسی نہ اپناسکےمگربیرونی دباؤتب ہی کارگرہوتاہے جب اندرونی کمزوریاں موجودہوں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کابنیادی بحران یہی ہے کہ وہ آج کوبچانے میں کل کوکھودیتی ہے۔قرض،بیل آؤٹ اوروقتی سہارااس کا محور بن چکے ہیں،جبکہ معاشی طاقت کی تعمیرنظر انداز ہو رہی ہے۔یہی فرق ہے بھارت اورپاکستان میں۔اگر اکستان واقعی خطے میں مؤثر کردارچاہتاہے تواسے خارجہ پالیسی کومعیشت سے جوڑناہوگا۔روس،چین اورممکنہ طورپرترکی و ایران کے ساتھ دفاعی وسیاسی کے ساتھ اسٹریٹجک ہم آہنگی بڑھانی ہوگی۔کسی ایک خلیجی کیمپ کااندھا حصہ بننے کے بجائے توازن کی پالیسی اپنائی جائے۔

سعودی عرب اوریواے ای کے درمیان بڑھتاہواتناؤ،یواے ای–بھارت معاہدہ،اورپاکستان کی سفارتی پوزیشن—یہ سب ایک ہی کہانی کے مختلف ابواب ہیں۔سعودی عرب اوریو اے ای کے درمیان موجودہ تناؤکوئی حادثہ نہیں بلکہ طاقت کی نئی تقسیم کانتیجہ ہے۔یہ کہانی بتاتی ہے کہ دنیابدل چکی ہے اورطاقت کامعیاربھی۔دنیا جذبات سے نہیں،معیشت،حکمتِ عملی اورمستقل فیصلوں سے چلتی ہے۔ اگرہم نے اب بھی سبق نہ سیکھاتو آنے والے برسوں میں ایسے معاہدے معمول بن جائیں گے—اورہم ہرباریہی سوال دہراتے رہیں گے کہ آخرہمارے ساتھ ایساکیوں ہوا؟

اس پورے منظرنامے کاسب سے تکلیف دہ پہلویہ ہے کہ پاکستان آج خودکوایک ایسے مقام پرکھڑاپاتاہے جہاں اس کے پاس شکایات تو بہت ہیں،مگرمؤثر جوابات کم ہوتے جارہے ہیں۔افغانستان کاہاتھ سے نکل جانا ، بھارت کاوہاں اثرورسوخ بڑھانا،خلیجی ممالک کاپاکستان کومحض سیکیورٹی پارٹنر سمجھنا،اورسرمایہ ، تجارت وٹیکنالوجی کے دروازے بندہونا—یہ سب کسی ایک بیرونی سازش کانتیجہ نہیں بلکہ اندرونی کمزوریوں،غلط ترجیحات اورپالیسی کی غیرمستقل مزاجی کاحاصل ہے۔

یہاں یہ سوال مقتدراشرافیہ،ریاستی فیصلہ سازوں اورپالیسی سازی کے مراکزسے براہِ راست پوچھناناگزیرہوچکاہے کیاہم واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ ریاستیں جذبات،قربانیوں اورماضی کی خدمات کے اعتراف پرچلتی ہیں؟یاپھریہ حقیقت ماننے کوتیارہیں کہ آج کی دنیا صرف معیشت،ادارہ جاتی استحکام اورمستقل حکمتِ عملی کومانتی ہے؟اب وقت آگیاہے کہ پاکستان خودسے سچ بولے۔افغانستان کاہاتھ سے نکل جاناکسی ایک واقعے یاایک حکومت کی ناکامی نہیں،بلکہ برسوں پرمحیط غلط پالیسیوں،ادارہ جاتی کمزوریوں اورغیر شفاف فیصلہ سازی کانتیجہ ہے۔یہی ماڈل اگرخلیجی ممالک کے ساتھ بھی دہرایاگیاتونقصان صرف سفارتی نہیں بلکہ معاشی اوراسٹریٹجک ہو گا۔

یہ سوال اب ٹالنے کے قابل نہیں رہاکہ کیاپاکستان کی بیوروکریسی آزادانہ طورپرقومی مفادمیں پالیسی سازی کے قابل نہیں رہی؟یاپھر کچھ نادیدہ قوتیں ہیں جوریاستی ڈھانچے کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں اورریاستی ڈھانچے کواس اندا میں کنٹرول کررہے ہیں کہ جہاں ایماندار،باصلاحیت، پیشہ وراوراصول پسند افسران کوان کی دیانت کی سزااوایس ڈی بناکردی جارہی ہے—جیساکہ اس سے قبل میرے ایک مضمون میں تفصیل سے بیان کیا جا چکاہے؟اگرپالیسی وہ لوگ بنائیں گے جن کی اولین ترجیح قومی مفاد کی بجائے کسی مخصوص مافیا،گروہ یاوقتی فائدے کاتحفظ ہو،پالیسیاں مخصوص مفادات کے تابع رہیں،یہی مافیا اپنے فائدے کیلئے ایسی پالیسیاں جاری کریں تونتیجہ یہی نکلے گاکہ ملک ایک بارپھرمعاشی دیوالیہ پن کے دہانے پرجاکھڑاہوگا۔

آج وقت ہے کہ پاکستان جذباتی خارجہ پالیسی سے نکل کرمعاشی خارجہ پالیسی کی طرف بڑھے۔خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو محض دفاع اورسیکیورٹی تک محدودرکھنے کی بجائے تجارت،صنعت،سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی سے جوڑاجائے۔کسی ایک کیمپ کا اندھاحصہ بننے کی بجائے توازن،خودمختاری اورادارہ جاتی مضبوطی کوبنیادبنایاجائے۔بیوروکریسی کوسیاسی اورغیرمرئی دباؤسے آزادکرکے فیصلہ سازی کاحقیقی اختیاردیاجائے،ورنہ یہی نادیدہ قوتیں کل ایک بارپھر ملک کوایسے معاہدوں اورپالیسیوں میں الجھا دیں گی جن کاخمیازہ پوری قوم کوبھگتناپڑے گا۔

دنیااب قربانیوں کی کہانیاں نہیں سنتی،دنیاسرمایہ،استحکام اوراعتماددیکھتی ہے۔عسکری صلاحیت اہم ہے،مگرمعاشی طاقت کے بغیر وہ سفارتی اثرنہیں بن سکتی ۔پاکستان اگرواقعی خطے میں باوقارکردارچاہتاہے تواسے خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعلقات کوصرف سیکیورٹی تک محدودرکھنے کی بجائے تجارت،صنعت ، ٹیکنالوجی اورسرمایہ کاری سے جوڑناہوگا۔اسی طرح روس،چین،ترکی اور ایران کے ساتھ توازن پرمبنی اسٹریٹجک ہم آہنگی ناگزیر ہوچکی ہے۔

یہ مضمون ایک داخلی احتساب کی دعوت ہے۔یہ کسی فرد، دارے یاریاست پرالزام نہیں،بلکہ ایک تنبیہ ہے۔دنیابدل چکی ہے،طاقت کامعیاربدل چکاہے اگر پاکستان نے اب بھی اپنی ترجیحات درست نہ کیں تو ایسے معاہدے معمول بنتے جائیں گے جن میں ہماراذکر صرف ایک ثانوی کردارکے طورپرہوگا ۔اگر پاکستان نے اب بھی سبق نہ سیکھاتوآئندہ برسوں میں یواے ای–بھارت جیسے معاہدے معمول بنتے جائیں گے،اورہم ہرباریہی سوال دہراتے رہیں گے کہ آخرہمارے ساتھ ایساکیوں ہوا؟

ضروری ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کومعیشت،تجارت اورشراکت پراستوارکرے،یاپھروہ بدلتی دنیامیں محض سوال پوچھتارہ جائے۔دنیابددعاؤں پرنہیں،معاہدوں،معیشت اورمستقل حکمتِ عملی پرچلتی ہے۔ریاستیں دعوؤں سے نہیں،فیصلوں سے بنتی ہیں اور فیصلوں میں تاخیراب پاکستان کیلئے سب سے بڑاخطرہ بن چکی ہے۔ قومیں سوال پوچھنے سے نہیں،جواب تیارکرنے سے آگے بڑھتی ہیں۔اوریہی وہ امتحان ہے جس میں پاکستان آج کھڑاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں