When prayers start to be answered

جب دعائیں قبول ہونے لگیں

یہ مضمون بنگلہ دیش کی داخلی سیاست،انتخابی منظرنامے،بھارت کے بدلتے خدشات،اورپاک–بنگلہ تعلقات کے نئے ابھرتے رجحانات کاتجزیاتی مطالعہ ہے۔اس میں نہ صرف موجودہ حالات کاجائزہ لیاگیاہے بلکہ مستقبل کے ممکنہ علاقائی منظرنامے اورپالیسی آپشنزپر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

جنوبی ایشیاکی تاریخ کسی جامدسنگِ مرمرپرلکھی ہوئی عبارت نہیں،یہ دھڑکتے دلوں،نم آنکھوں اورلہوسے رچی مٹی میں بکھری ہوئی یادوں کانام ہے۔ بالخصوص جنوبی ایشیااوربالعموم پاک و ہنداوربنگلہ دیش کی تاریخ صرف سرحدوں،معاہدوں اوراقتدارکی کشمکش کانام نہیں،یہ دلوں کے رشتوں،لہجوں کے رنگ اورآنکھوں کے آنسوؤں کی داستان بھی ہے۔جنوبی ایشیاکی سیاست ایک بارپھرتیزرفتار تبدیلیوں کے دوراہے پرکھڑی ہے۔خطے کے اہم ملک بنگلہ دیش میں ابھرتے ہوئے سیاسی منظرنامے نے نہ صرف ملکی اقتدارکی حرکیات کومتاثرکیاہے بلکہ علاقائی توازن،سفارتی ترجیحات اورمستقبل کے معاشی وتزویراتی روابط پربھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ان حالات میں پاکستان اوربنگلہ دیش کے دوطرفہ تعلقات نئی حرارت کے ساتھ سامنے آرہے ہیں،جہاں دونوں ممالک کے عوام کی دیرینہ خواہشات اورباہمی قربت ایک نئے باب کی صورت اختیارکرتی دکھائی دیتی ہیں۔ماضی کی تلخیوں اورتاریخی واقعات کے باوجود عوامی سطح پردونوں ملکوں کے درمیان دوستی اوراخوت کے جذبات کم نہیں ہوئے۔جدائی کے دنوں میں دونوں طرف کے عوام نے شدیدجذباتی صدمات برداشت کیے اورآج بھی ایک دوسرے کیلئےخیرخواہ ہیں۔

برصغیرکی دومسلم ریاستیں،پاکستان اوربنگلہ دیش—یہ صرف دوملک نہیں،ایک ہی روح کے دوبدن،ایک ہی شجرکی دوشاخیں،جن کی جڑیں مشترک ایمان، تہذیب،زبانوں کی ہم آہنگی اور باہمی محبت کی مٹی میں پیوست ہیں۔یہ ایک ہی آہنگ کے دونغمے،ایک ہی دعاکے دوہاتھ ہیں۔ تقسیم نے سرحدیں کھینچ دیں، مگرمحبت کے راستوں پرکوئی دیوارنہ اٹھ سکی۔1971ءکی جدائی نے ریاستی نقشہ توتقسیم کر دیالیکن دلوں کی دھڑکنیں کبھی جدانہ ہوسکیں۔اس جدائی کے لمحوں میں صرف زمینیں نہیں بٹیں،خواب بھی بکھرے،دونوں طرف کے گھروں میں چراغ مدھم پڑگئے؛مائیں روئیں،بیٹیاں سہم گئیں،اوربھائیوں کے دلوں میں ایساخلاپیداہواجسے لفظ نہیں بھرسکتے اوردونوں طرف کے گھروں میں ایسی خاموشیاں اترآئیں جنہیں تاریخ نے بھی احترام سے لکھاہے اورآج ایک مرتبہ پھریہی عوامی جذبات اب ریاستی پالیسیوں اورسفارتی رویّوں میں بھی جھلکتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ اس جدائی کے باوصف دعاؤں کاسفرکبھی رکانہیں۔بنگال کی لہراتی دھان کی بالیوں سے لے کرپنجاب کے کھیتوں تک ایک ہی پکارتھی—اے رب!دوبارہ دلوں کو قریب کردے۔عام لوگوں کے دلوں میں نہ کبھی نفرت بسی،نہ دشمنی نے گھرکیا۔بنگلہ دیش کے گاؤں ہوں یاپاکستان کے شہروں کی گلیاں—جدائی کے دنوں میں بے شمارآنکھیں نم تھیں،دعائیں کانپتی ہوئی ہتھیلیوں میں سمٹی ہوئی تھیں،اورایک ہی التجاتھی کہ اللہ مقدرکے اس رستے کودوبارہ قربت میں بدل دے۔عوام کے دلوں میں آج بھی یہی تڑپ زندہ ہے کہ ہم دوبارہ ایک دوسرے کے قریب آئیں،ایک دوسرے کے دکھ دردکے شریک بنیں اورایک دوسرے کیلئےسہارااورقوت بنیں۔

آج منظربدل رہاہے۔سیاست کے صحرا میں نئی ہواچل رہی ہے،ماضی کے بوجھ ہلکے پڑرہے ہیں،غلط فہمیوں کی دیواریں دراڑیں ڈال رہی ہیں اورمحبت کے پرانے چراغ دوبارہ جل اٹھنے کوہیں۔آج جب خطے کی سیاست نئے موڑلے رہی ہے،پرانے بیانیے پگھل رہے ہیں اوررشتوں کے بکھرے ہوئے موتی دوبارہ ہاتھوں میں آنے لگے ہیں تویوں محسوس ہوتاہے جیسے وقت کاگردش کرتاپہیہ ایک نئی کروٹ لے چکاہے۔محبت کے دیے پھرسے روشن ہونے کوہیں،اور دونوں قومیں پھروہی پرانی دعامانگ رہی ہیں—ہم ایک دوسرے کے ساتھ رہیں،خواہ نقشے الگ سہی،لیکن دل ایک رہیں۔

پاکستان اوربنگلہ دیش کے عوام نے ہمیشہ ایک دوسرے کیلئےخیرمانگی،خیرچاہی،اورایک دوسرے کیلئےدل کے دروازےکھلے رکھے۔اب وہ دیرینہ دعائیں قبولیت کے قریب محسوس ہونے لگی ہیں۔دونوں ملکوں کے نوجوان ایک نئی دنیاکے متلاشی ہیں—جہاں ماضی نفرت کاعنوان نہیں بلکہ سبق ہو،اورمستقبل تعاون،بھائی چارے اورمشترکہ ترقی کی شاہراہ بنے۔

یہ مضمون اسی بدلتے موسم اورموجِ احساس کی داستان ہے — تاریخ کے زخموں پرمرہم رکھنے کی کوشش،سیاست کے شورمیں دوستی کی مگرمضبوط صدا،اور اس یقین کااظہارکہ االلہ کی بارگاہ میں مانگی گئی محبت کی دعائیں رائیگاں نہیں جاتیں۔ایک ایسی تاریخ کابیان جس میں سیاست بھی ہے مگراس سے زیادہ محبت ہے؛تجزیہ بھی ہے مگراس سے بڑھ کرامیدہے؛اورایسی تمناہے کہ دونوں قومیں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی دکھائی دیں،جیسے کبھی ایک جان اورایک قالب تھیں اورآج پھراسی وحدت کیلئےدل دھڑکتے ہیں۔

جنوبی ایشیاکی سیاست کبھی بھی جمودکاشکارنہیں رہی۔یہ دریاہے جہاں موجیں کبھی خاموش نہیں ہوتیں۔بنگلہ دیش آج ایک ایسے موڑپر کھڑاہے جہاں اقتدارکے ایوان متزلزل ہیں،عوامی اضطراب بیدارہے،علاقائی قوتوں کاساراحساب کتاب دوبارہ لکھاجارہاہے،طارق رحمٰن کی واپسی نے اس بساط پرنئی چال،نیاکھیل،نیاسوال رکھ دیاہے۔

آخرڈھاکاکے آسمان تلے وہ لمحۂ حشرآن پہنچا،جس کاقلم ونظرنے برسوں سے انتظا‌رکیاتھا،17برس کی جلاوطنی کے بعدجب طارق رحمٰن نے ڈھاکاکی دھرتی پرقدم رکھاتوگویاتاریخ نے اپنی کتاب کانیاباب کھول دیا۔یہ واپسی محض ایک شخص کی مراجعت نہ تھی بلکہ سیاسی اسٹیٹس کوکے خلاف اعلانِ سوال تھی،بنگلہ دیشی سیاست میں مرکزِثقل کی تبدیلی کااشارہ تھی،اورخطے کی سفارت کاری کیلئے نئے حساب وکتاب کانقطۂ آغاز۔

بی این پی کے ایگزیکٹوچیئرمین طارق رحمٰن نے17سالہ خودساختہ دورِجلاوطنی کی قیدچھوڑکر25دسمبر۲۰۲۵ءکووطنِ عزیزمیں قدم رکھا۔اُس مٹی کی خوشبومیں گنوادی گئی شبِ غربت،ہزاروں کارکنوں کی پُرتپاک آوازوں میں بدل گئی،جیسے کسی سوگوارشام نے صبحِ نویدکوجنم دیاہو۔ان کی آمدسے یہ تاثرابھراکہ ہجرت کاصحراختم ہوا،اب آزمائش کاشہرسامنے ہے۔اسی واپسی نے دہلی کے ایوانِ اقتدار میں تشویش کی لہردوڑا دی—کیونکہ شیخ حسینہ کے بعدبنگلہ دیش میں انڈیاکے روایتی تکیوں کاچہرہ نہ صرف بدل چکاہے بلکہ بری طرح نفرت کی آگ میں بھسم ہوچکاہے۔

وہاں، دارالحکومت کے دل نیاپَلٹن کے دفاترکی چھتوں سے،اُن کی آوازیوں گونجی کہ اگرخدانے چاہاتوہم سب مل کراپنی اُمیدوں کابنگلہ دیش تعمیرکریں گے ۔یہ نہ صرف ایک سیاسی نعرہ تھابلکہ ایک نویدِعمل بھی ہے،چاہے اس کاتعلق ابھی تک جلاوطنوں کی یادوں سے ہو یاعوامی تشنگی سے۔یوں طارق رحمٰن کی وطن واپسی جہاں ایک نئے سیاسی عہدکاطلوعِ امیدہے وہاں تاریخ کے دروازے پرایک ایسی دستک بھی ہے جوانڈیاکی بے چینی اورجنوبی ایشیاکی سیاست میں نیاموڑ بھی ثابت ہوسکتی ہے۔

سترہ برس کی خودساختہ جلاوطنی،سیاسی مقدمات،بیماری،ملک سے دوری،اوروطن کی یادوں کے بیابان،یہ سب طے کرنے کے بعد جب طارق رحمٰن نے ڈھاکا میں قدم رکھاتوعوامی ہجوم نے اس واپسی کوعہدِ نوکااستعارہ بنادیا۔پارٹی کارکنان کے نعروں میں امیدکی دھڑکن سنائی دی،مخالفین کے دلوں میں تشویش کی لہریں دوڑگئیں کیونکہ یہ واپسی محض ایک شخص کی مراجعت نہیں،یہ تاریخ کی واپسی ہے۔17سال بعدواپسی—جلاوطنی کے صحراسے مادرِوطن کی گودتک کایہ سفرجہاں ان کااعلانِ عزم ہے وہاں امتحان کاپیش خیمہ بھی ثابت ہوسکتاہے۔
ڈھاکاکے جلسۂ عام میں طارق رحمٰن نے جوکہاوہ الفاظ نہیں بلکہ ایک عہدنامہ تھا، مستقبل کاایک فکری بیانیہ تھاجن کاوزن ان کے الفاظ سے ظاہرہورہاتھاکہ ہم محنت کریں گے،اپنابنگلہ دیشتعمیرکریں گے،آنے والے رہنماکی قیادت قبول کریں گے۔صدربی این پی کی اس صریح امیدنے12فروری2026ءکوہونے والے عام انتخابات کوایک تاریخی سنگِ میل میں بدل دیاہے،جہاں ہرفکری لہجہ،ہرسیاسی مؤقف، اورہررہنماکاقدم جمہوریت واستحکام کی راہوں کی طرف دیکھاجارہاہے۔

طارق رحمٰن نے کہاکہ میرے پاس عوام اورملک کیلئے ایک منصوبہ ہے،ملک کی ترقی کیلئے اورعوام کی تقدیربدلنے کیلئے،اس منصوبے کی تفصیل تاحال عوام کے سامنے نہیں آئی؛گویاایک رازہے،جس کے پردے کوابھی وقت ہی کھول سکتاہے۔یہ عبارت،جیسے کسی معنوی سفرکی پہلی منزل ہو،جس نے اپنے اندرامیدو فکرکی دوصدائیں سموئی ہیں۔یہ لہجہ شخصی مرکزیت سے نکل کراجتماعی قیادت کی طرف اشارہ کرتاہے اوریہی جمہوری فکرکامغزہے۔طارق رحمٰن نے اپنے قومی ترقی کامنصوبہ ہونے کااعلان کیاکہ میرا منصوبہ تیارہے مگرتفصیل بیان نہیں کی اوررازابھی باقی ہے۔اس ابہام کے کئی معنی ہیں،سیاسی حکمتِ عملی مخالف قوتوں کوغیر واضح رکھنا،انتخابی مہم کیلئے محفوظ کارڈمگریقیناًیہ سوال موجودہے،کیایہ منصوبہ اقتصادی احیاءکاہے؟کیایہ خارجہ پالیسی کی ازسرِ نوترتیب ہے؟یا طاقت کے ڈھانچوں میں توازن؟12فروری انتخابات کے تناظرمیں یہ خاموشی دراصل سیاسی حکمت بھی ہے اورپالیسی کا پردہ بھی۔

طارق رحمٰن نے اپنے خطاب میں کہااگرخدانے چاہاتوہم سب مل کراُمیدوں کابنگلہ دیش تعمیرکریں گے۔یہ جملہ محض نعروں کاہجوم نہیں بلکہ اجتماعی قیادت کے اقرارکااعلان تھا۔پرتشدد کارروائیوں سے اجتناب کی اپیل کی،یہ لہجہ بتاتاہے کہ سیاست صرف طاقت کانام نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری کانام بھی ہے۔بنگلہ دیش ایک سیاسی سازشی موسم کی گردش میں ہے جس سے نکلنے کیلئے بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔

مسئلہ کارخ صرف داخلی سیاست تک محدودنہیں رہا۔انڈیااورشیخ حسینہ کے بغیربنگلہ دیش کے سیاسی منظرنامے میں ایک نئی کشمکش اُبھری ہے۔مبصرین کہتے ہیں کہ انڈیاایک تاریخی گراوٹ سے گزررہاہے،کیونکہ شیخ حسینہ کے13برس کے اقتدارکے بعد،نئے منظر ناموں میں مناسب دوست نظرنہیں آرہا۔مزید برآں ، انڈیاکے سیاسی تجزیہ کاروں نے بارباراسی حلقۂ فکرکودہراتے ہوئے کہاہے کہ بنگلہ دیش میں اب ایک انڈیامخالف لہرہے،خاص طورپرنئی نسل کی سیاسی ذہنیت جس نے نہ صرف تاثربدلاہے بلکہ سوشل میڈیاکی تیزلہروں میں ایک خودمختارشناخت تلاش کرناشروع کردی ہے۔یہ حقیقت سیاسی علمِ سیاست کی اس کتاب جیسی ہے،جہاں ہرنئے باب نے دوستی، دشمنی،مفاد،اورخودمختاری کونئے معنوں میں پرکھاہے۔

ہرآنے والے دن انڈیاکی بے چینی بڑھتی جارہی ہے اورتاریخی بیانیہ بھی ہے کہ دوست کے بغیرسرحدلمبی لگنے لگتی ہے۔شیخ حسینہ کےبعددہلی کوڈھاکامیں اپناکوئی واضح دوست دکھائی نہیں دیتا۔روابط کے پرانے دروازے بند ہوتے محسوس ہوتے ہیں،انڈین پالیسی کا اصل مخمصہ یہ ہے کہ بنگلہ دیش میں نئی قیادت کون؟،اس کے ساتھ اعتمادکیسے؟اورماضی کی مداخلت کابوجھ کیسے اتاراجائے؟یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست اوراخلاقیات دونوں کے سوال کھڑے ہیں۔

بنگلہ دیش کی نئی نسل نے ایک طویل تاریخی پس منظرکے بغیراپنے سياسي احساسات کوپروان چڑھایا۔اُن کے سامنے1971ءکی آزادی کی تاریخ ایک خالی سطرسی ہے—نہ پُرانی،نہ پڑھی،نہ وہ اس کے گہرے معنیٰ تک رسائی چاہتے ہیں۔اس نئی نسل کاسیاسی ردعمل اگر کچھ ہے،تووہ انڈین حکمتِ عملی کی شفافیت پرسوالات اوردشمنی کی کشش ہے،جیساکہ مقامی مبصرین بتاتے ہیں کہ یہ نسل سیاست کو صرف قائداورقائدانہ تقریرکی حدسے آگے لے کرایک سوشل مؤثرتحریک کی شکل دے رہی ہے،جہاں تصورات اورتاثرایک دوسرے میں گھلتے ہیں اورنئے خیالات جنم لیتے ہیں اورانہیں انڈین کے اس پروپیگنڈہ کی کوئی پرواہ نہیں کہ بنگلہ دیش کے قیام میں انڈیانے ان کی مددکی تھی یاانہیں اپناغلام بنانے کی سازش کی تھی۔

سوال یہ ہے کہ12فروری انتخابات کی آمد کادن کیوں فیصلہ کن ہے؟دراصل12فروری کے عام انتخابات صرف اقتدارکی تبدیلی نہیں، قومی فکرکی سمت کے تعین کادن ہے۔اس دن ان سوالات کافیصلہ ہوگاکہ کون قیادت کرے گا؟کس کے ہاتھ میں خارجہ پالیسی ہوگی؟ جنوبی ایشیامیں نئی صف بندی یاہوگی؟طاقت کے ترازومیں ووٹ بھی رکھاجائے گااورشعوربھی۔اس دن خطے کے اندرونی معاملات میں انڈیاکی مداخلت،آئندہ مفاہمت یادشمنی کے امکانات اورجمودکا فیصلہ ہوگا۔ہم سب محمدیونس کی عبوری حکومت سے انڈیاکی ناگواری کی وجوہات سے واقف ہیں کہ بنگلہ دیش سے حسینہ کاانڈیا کی طرف ذلت آمیزفرار، اور حسینہ کوپناہ دینااوربنگلہ دیش کی طرف سے حسینہ کی واپسی کا مطالبہ اب بنگلہ دیش کی عوام کااولین مطالبہ ہے۔

ادھر دوسری طرف انڈیاعبوری حکومت سے شاکی،مذہبی جماعتوں سے خوفزدہ،بی این پی اورطلبہ گروہوں سے محتاط ہے۔انڈین تجزیہ کاروں نے تویہاں تک کہاکہ جماعتِ اسلامی انڈین اسٹیبلشمنٹ کیلئے ڈراؤناخواب ہے۔یہ اصطلاح خوداس بات کااقرارہے کہ انڈیامذہبی شناخت سے خوف کھاتاہے اورخطے میں سیکولرازم کے نام پرصرف اپنے مفادکی سیاست کرتاہے۔

آج جب دومسلم ریاستیں—بنگلہ دیش اورپاکستان—نئی سیاسی حقیقتیں طے کررہی ہیں،وہاں انڈیاکے پاس چندہی آپشنزرہ گئے ہیں۔ایک آزادانہ،شفاف انتخابات کواپنی بدنام زمانہ انٹیلی جنس”را”کے توسط سے سبوتاژکیاجاسکے،جس میں جماعت اسلامی اوربی این پی کے مضبوط کردارجن کے باہمی تعلقات انتخابات میں یقینی فتحِ کاسبب بن سکتے ہیں اوردونوں ممالک پاک بنگلہ دیش امن کی راہ پرگامزن ہو سکتے ہیں۔علاوہ ازیں انڈیاکی پوری کوشش ہوگی کہ علیحدہ راستوں پرجاکرکشیدگی کوبڑھاوادے،جس کاخمیازہ دونوں ممالک کومستقبل میں بھگتناپڑسکتاہو۔

اگرہندوتواکے تعصب کی انا،ضدنظری سے دیکھاجائے توایسامعلوم ہوتاہے کہ شایدانڈیانے بین الاقوامی سیاست کے سنگِ لاپراپنے آپشنزکومحدودکرلیاہے،اوراب ہرفیصلہ اس کے سیاسی مفاد،اخلاقی استدلال، اورعلاقائی امن کے بیچ کی باریک لکیروں پرمنحصرہے جومسلسل خطے کے امن کیلئے خطرہ کے طورپردیکھاجارہاہے۔

شیخ حسینہ عدالت سے سزایافتہ،ملک سے باہرعوامی لیگ پرانتخابی پابندی عائد،انڈیاسے ان کی قربت نے انہیں دہلی کی پالیسی کا مرکزی ستون بنارکھاتھا۔اب وہ ستون گرچکاہے۔اس کے بعدانڈیاکی پالیسی گویایتیم سی دکھائی دیتی ہے،دوست ڈھونڈتی ہے مگردوست دستیاب نہیں ۔ اس لئے شیخ حسینہ کاباب ابھی تک مکمل طورپربندنہیں ہوا۔ادھردوسری طرف ان انتخابات میں نئی نسل اورانڈین مخالف فضانے جاری تاریخ کامزاج بھی بدل کررکھ دیاہے۔پاکستان،بنگلہ دیش اورانڈیاایک مفادات کی مثلث کے طورپران انتخابات پراثراندازہوں گے۔ بنگلہ دیش کی نئی نسل،1971کی تاریخ سے جذباتی طورپرجڑی نہیں۔سماجی میڈیاکے اسیراورانڈین رویّوں سے نالاں یہ نوجوان نسل ہی توبنگلہ دیش کے اس انقلاب کاسبب بنی ہے۔

جب انڈیاکی طرف سے باربارکہاجائے تمہاراوجودہماری دین ہے تونفسِ انسانی بغاوت کرتاہے۔یہی بغاوت آج سڑکوں پر،دانش گاہوں میں، اورسیاسی مباحث میں آوازبن چکی ہے کہ ہندو متعصب بنیاکبھی بھی اپنے مفادکے بغیرکسی کی مددنہیں کرسکتااوراس متعصب ہندوبنئیے کو ہم نے بڑی بھاری قیمت یہ چکائی ہے کہ اس نے نہ صرف ہماری معیشت پرغلبہ پالیاہے بلکہ ہمیں غلام بناکررکھ دیاہے۔علاوہ ازیں انڈیانے طلبہ تنظیموں کواہمیت نہیں دی،نوجوان قیادت سے رابطہ نہیں رکھا،جبکہ بنگلہ دیش میں طلبہ ونگ ہی سیاسی لیبارٹری ہے، مستقبل کی قیادت وہیں سے نکلتی ہے۔اعتمادنہ دیاگیاتوبداعتمادی عروج تک پہنچ گئی اورانڈیاکی سب سے بڑی یہی غلطی رہی کہ اس نے طلبہ سیاست کوحسینہ واجدکے مقابلے میں بری طرح نظراندازکیااوربالآخراس کے ذلت آمیزنتیجہ کاشکاربھی ہوا۔

اب انڈیاکامخمصہ یہ ہے کہ کس کودوست سمجھے اورکس کاسہارالے؟انڈیاکے سامنے اب سوال یہ بھی ہےکہ شیخ حسینہ نہیں—توکون ؟ بی این پی سے مفاہمت یامقابلہ؟عبوری حکومت سے ناپسندیدگی کے باوجودتعلق کیسے؟نئی دہلی کی سیاست آج اسی تذبذب میں گھری ہے اورخدشیہ یہی ہے کہ مکارہندواس اضطراب میں کسی بھی جارحانہ کاروائی یاسازش کاحصہ بن سکتاہے۔نئی نسل کے بدلتے مزاج نے انڈین لہرکے خلاف انتخابات کے ذریعے اقوام عالم کواضح پیغام دینے کافیصلہ کررکھاہے۔بنگلہ دیش کی نئی نسل1971کے جذبات سے آزاد،خود آگاہ،سوشل میڈیاکے وسیع کینوس پرپلی ہوئی۔جب ان سے کہاجاتاہے،تم ہمارے مرہونِ منت ہوتو وہ جواب دیتی ہے،ہم آزادہیں —کسی کے مرہونِ منت نہیں۔یہی وہ لہرہے جس نےانڈیا کیلئے مشکلات بڑھائیں اوربنگلہ دیش کی سیاست کارخ بدلا۔انڈیانے یہ سمجھنے میں دیرکی کہ بنگلہ دیش میں طلبہ ونگ ہی اصل سیاسی لیبارٹری ہے،نوجوان ہی کل کی قیادت ہوتی ہے۔ جب طلبہ کونظاندازکیاگیاتوبے اعتمادی کے بیج بودیے گئے۔وہی بیج آج تناور درخت بن چکے ہیں۔

کیاعجب منظرہے کہ جونہی وقت نے رخ بدلا،دہلی کواب بی این پی قابلِ قبول لگ رہی ہے،خالدہ ضیاکے ساتھ خیرسگالی پیغام اسی حکمت کا حصہ تھا مگر تاریخ کی جبر دیکھیے، خالدہ ضیا رخصت ہو چکیں، اب قیادت طارق کے ہاتھ میں ہے۔ انڈیا اب تعلقات کی نئی بنیاد تلاش کر رہا ہے مگر دیر ہو چکی ہے اور فضا پہلے جیسی سازگار نہیں رہی۔حسینہ واجد انڈیا میں پناہ گزیں، سزائے موت کی سزا یافتہ، جماعتوں کے دباؤ میں ان کے بیانات، قوم کے زخموں کو تازہ بھی کر سکتے ہیں اور مستقبل کے تعلقات کو مشکل بھی، انڈیا کیلئے سبق یہی ہے، بیانات کا بازار بھی سفارت کا میدان ہے، یہاں نادان لفظ بھی حادثہ بن جاتا ہے۔شیخ حسینہ کے جاری بیان بازی کی تلوار اور خطرناک دھار بھی انڈین مخالفت میں اضافہ کر رہی ہے۔

پچاس برس بعد پاک بنگلہ دیش کے تجارتی روابط، عسکری تعاون، تہذیبی و مذہبی رشتوں کا احیاء دوبارہ منظر پر آ رہا ہے ۔یہ قربت اگر تدبر سے آگے بڑھی تو خطے کا توازن بدل سکتا ہے۔ انڈیا کی اجارہ داری چیلنج ہو سکتی ہے۔انڈین تجزیہ کاروں کے مطابق بنگلہ دیش کے پاکستان کے ساتھ قربت روز بروز بڑھ رہی ہے۔ بڑی تعداد میں وہ عناصر بھی ابھر رہے ہیں جو پاک بنگلہ مضبوط عسکری، معاشی تعلقات کے حامی ہیں۔ یہ عمل قدرتی ہے کیونکہ زبانوں کا رشتہ، تہذیب کا رشتہ ، عقیدہ و تاریخ کا رشتہ،ان رشتوں کی خوشبو دیر تک باقی رہتی ہے۔ حالات نے بی این پی کو سیاسی مرکز، سفارتی محور، انتخابی قوت بنا کر کھڑا کر دیا ہے۔ انڈیا اب اس کے ساتھ مفاہمت کے دروازے کھٹکھٹا رہا ہے مگر دیر ہو چکی ہے، لہجے بدل چکے ہیں، فضا تبدیل ہو چکی ہے۔خالدہ ضیا کی رحلت نے سیاست میں جذباتی باب بھی شامل کر دیا ہے اور اب قیادت طارق کے ہاتھ میں ہے۔

انتخابات سے پہلے پرتشدد واقعات، انڈیا مخالف مظاہرے، ایک دوسرے پر مداخلت کے الزامات، ایسے ماحول میں انڈیا خود ایک انتخابی نعرہ بن چکاہے اور شایددہلی کی پالیسیوں نے یہ نعرہ خودجنم دیاہے اورانڈین پالیسی کایہ خمیازہ بھی انڈیاکامہنگاپڑرہاہے۔اب اصل سوال، پاکستان کیاکرے؟اگرتاریخ سے سبق لیاجائے توجواب یہ ہے کہ شعلوں پرتیل نہیں،زخموں پرمرہم رکھے،اتحادِامت کاچراغ روشن کرے۔ پاکستان کیلئے مناسب اقدامات تیزترین اورمضبوط سفارتی تعاون،تجارتی راہداریوں کی بحالی،تعلیمی وثقافتی تبادلے،دفاعی رابطوں کا وقارمگراحتیاط کے ساتھ باہمی احترام پرمبنی خارجہ پالیسی،غیرضروری بیان بازی سے اجتناب اورسب سے بڑھ کرباہم خیرخواہی کی فضاقائم کی جائے نہ کہ محاذآرائی کی سیاست۔پاکستان کیلئے درست راستہ یہ ہے کہ وہ محاذ آرائی کی بجائے دانشمندانہ مفاہمت کاراستہ اپنائے۔دہلی مخالف اشتعال سے گریزکرتے ہوئے انڈین پروپیگنڈہ کافوری مدلل جواب،سوشل میڈیاپرانتہائی تجربہ کارافرادکے توسط سے کئی عالمی زبانوں میں مؤثرجوابات،جس کی اشاعت اقوام عالم تک ہو۔ڈھاکہ کے ساتھ وقارپرمبنی تعلقات،اقتصادی تعاون اولین ترجیح، تعلیمی وثقافتی تبادلے،دفاعی تعاون مگر شائستگی کے ساتھ،سیاست کے ساتھ ساتھ تہذیب کوبھی بولناچاہیے کیونکہ تہذیب کے مکالمے کی عمرسیاست سے زیادہ ہوتی ہے۔

موجودہ مقتدراداروں کیلئے عملی سفارشات اورتجاویزتحریرکرنے کامقصدیہ ہے کہ جس طرح انڈیااپنے سوشل میڈیاکے ذریعے ہرروز پاکستان کے خلاف آگ اگل رہاہے،اس کے تدارک کیلئے ہمیں ان اقدامت کی اشدضرورت ہے۔غیراعلانیہ مداخلت سے اجتناب،علاقائی تعاون کی تنظیموں کوفعال کرنا، میڈیامیں ذمہ دارانہ بیانیہ فروغ دینا،طلبہ ونوجوان قیادت سے روابط،اقتصادی اشتراک کواولین ترجیح، انڈیامخالف جذبات کوبھڑکانے نہیں،سنبھالنے کی حکمت،اسلامی اخوت کوسیاسی ہتھیارنہیں،تہذیبی رشتہ سمجھاجائے۔دانشمندانہ سفارت کاری،غیراعلانیہ مداخلت سے احتراز،مشترکہ اقتصادی کمیشن کی تشکیل،نوجوان قیادت سے روابط،میڈیابیانیہ میں ذمہ داری،اوآئی سی اورسارک پلیٹ فارم کافعال استعمال اوراسٹیبلشمنٹ–سول ہم آہنگی میں اضافہ کامکمل پلان تیارکرکے میدانِ عمل میں اترے کہ اب وقت بہت کم ہے۔

مستقبل کےانتخابی منظرنامہ پرممکنہ صورت حال پرنظردوڑاتے ہوئے یہ کہناازحدضروری ہے کہ اگربی این پی واضح اکثریت لےآئے ،طارق رحمٰن کے مضبوط ہونے پردہلی محتاط اورخطے میں نئی صف بندی پر مجبورہوگا،بی این پی جیتتی ہے توطارق رحمٰن مرکزی کردارہوں گے توبظاہرانڈیامحتاط مفاہمت اپنائے گالیکن خطے میں نئی صف بندی کیلئے یقیناًبنگلہ دیش میں سیاسی ابتری اورانارکی پھیلانے کیلئے اپنی خفیہ کاروائیاں جاری رکھے گا،اگرمخلوط حکومت حکومت بنتی ہے توپالیسیوں میں توازن لانے کیلئے اپنے حامی گروپوں سے پاک بنگلہ تعلقات میں رخنہ ڈالنے کیلئے دباؤبڑھانے کی کوششیں کرے گااوراگر کشمکش بڑھی تومعیشت وامن دونوں متاثرہوں گے اورانڈیایقیناًاس کافائدہ اٹھانے کی بھرپورکوشش کرے گااوریہی اس کامطمع نظرہے کہ بنگلہ دیش میں سیاسی افراتفری، تشدداور انارکی قائم رہے۔سب سے روشن امکان یہ ہے کہ بنگلہ دیش ایک نئے سماجی معاہدے کی طرف بڑھ رہاہے جہاں نئی نسل فیصلہ کرے گی کہ اسے کس کے ساتھ کھڑاہوناہےاورسب سے زیادہ امکان یہی ہے کہ نئی نسل اپنی سمت خودمتعین کرے گی اورتاریخ کاپہیہ نئے راستے پرچل پڑے گا۔

آج بنگلہ دیش باہمی تعلقات میں پاکستان کے ساتھ اپنی محبت،عسکری وتجارتی رشتوں کوایک نئے باب میں ڈالنے جارہاہے۔اس سیاسی منظرنامے میں،پاکستان کوچاہیے کہ وہ دونوں مسلم ریاستوں کے درمیان تاریخی وتہذیبی سنگِ میل کوتقویت دے،انڈیاکی سیاسی سازشوں ومداخلتوں سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمتِ عملی طے کرے،اورایک مضبوط سول وعسکری ہم آہنگی قائم کرے جوعلاقائی سلامتی و ترقی کوفروغ دے۔یہ وہ وقت ہے جب سیاسی استقلال،خارجہ حکمت عملی،اورکثیرقطبی تعاون کے اصولوں کوایک عہدِنوکے طورپر اپنانے کی ضرورت ہے—ورنہ وہ قوتیں جوخودغرضی وطمع کی راہوں پرگامزن ہیں،اس خطے کے امن کوپیچ وخم میں جھونک سکتی ہیں۔

یہ رپورٹ فقط خبروں اورسیاست پرمبنی نہیں،بلکہ یہ تاریخ کے دریا میں پڑی ہوئی ایک نئی لہرہے جوتاریخ وسیاست کے دھاروں کو ایک فکری توازن میں ڈالنے کی اہم کوشش ہے۔طارق رحمٰن کی واپسی،بنگلہ دیش کے سیاسی موسم کی گردش،انڈیاکی مخمصہ زدہ پالیسی،اورپاک-بنگلہ تعلقات—سب ایک ایسی فکرانگیزلڑی میں بندھے ہوئے ہیں جونہ صرف ماضی کی بازگشت ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے بصیرت کامنبع بھی بن سکتی ہیں۔اسی تناظرمیں یہ رپورٹ ایک ادبی،تاریخی،تہذیبی اورسیاسی تنزیل ہے—جس کے اندر حقائق اورتشریحات ایک فلسفیانہ،تحقیقی،اورمعنوی ہم آہنگی میں پروئے گئے ہیں تاکہ ترجمانی محض لفظی نہ رہے بلکہ ایک نیاادبی تاثروسیاسی ادراک پیداہو۔

یہ کہانی محض اقتدارکی کشمکش نہیں،یہ شعورِسیاست کی بیداری ہے۔اس میں طاقت کاکھیل بھی ہے،تہذیب کادردبھی اورملت کی امید بھی۔ یادرکھیں قومیں جب اپنی تقدیرکے چراغ خودجلاناسیکھ لیں توپھرتاریخ ان کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنتی،رہنمابنتی ہے۔قومیں جب ماضی سے سبق،حال سے آگہی،اور مستقبل سے امیدجوڑلیں توپھرزمانہ ان کاہوجاتاہے۔

موجودہ صورتِ حال اس حقیقت کی حامل ہے کہ بنگلہ دیش کے انتخابات اورسیاسی تبدیلیاں صرف ایک ملک کاداخلی معاملہ نہیں رہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے سیاسی توازن پراثرانداز ہوں گی۔پاکستان اوربنگلہ دیش کے تعلقات میں قربت،اقتصادی تعاون اورعوامی سطح پردوستی کے جذبات نے ایک نئے سفارتی مرحلے کی بنیادرکھ دی ہے۔دونوں ممالک کے درمیان تاریخی،مذہبی اورتہذیبی رشتوں نے اس تعلق کومزیدمضبوط بنانے کیلئےسازگارماحول فراہم کیاہے۔ ریاستی سطح پردانشمندانہ فیصلے،سفارتی سطح پرمتوازن حکمتِ عملی،اورعوامی سطح پرخیرسگالی کے جذبات—یہ تین عناصرآئندہ برسوں میں پاک–بنگلہ تعلقات کی سمت متعین کریں گے۔ اگردونوں ممالک نے ذمہ داری اوردوراندیشی کامظاہرہ کیاتوخطے میں تعاون،تجارت،سلامتی اورترقی کیلئےوسیع امکانات پیداہو سکتے ہیں۔

آخرمیں بات پھروہیں آکررکتی ہے جہاں سے سفرشروع ہواتھا۔یہ داستان اپنے اس موڑپرآٹھہرتی ہے جہاں عقل کے حساب کتاب سے زیادہ دلوں کےرشتے اوردلوں کی دھڑکنیں بولتی ہیں۔پاکستان اوربنگلہ دیش کی تہذیبی اورروحانی قربت کوئی وقتی کیفیت نہیں،یہ تاریخ کی گہرائیوں میں اتراہواسچ ہے۔ جدائی کے باوجودنہ ہماراایمان بدلا،نہ ہماری دعائیں ایک دوسرے کیلئےکم ہوئیں۔دونوں ملکوں کے عوام نے دکھ بھی دیکھے،محرومیاں بھی جھیلیں،مگردل کے ایک گوشے میں ہمیشہ یہ احساس زندہ رکھاکہ ہم ایک دوسرے کے اپنے ہیں۔پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان جورشتہ ہے وہ نہ ماضی کی خطاؤں سے ٹوٹا،نہ سیاست کی کشاکش سے بکھرا—وہ رشتہ ایمان،تہذیب،مشترکہ آنسوؤں اورسانجھی دعاؤں کاہے۔ہم جداضرورہوئے، مگر اجنبی کبھی نہیں بن سکے۔وقت نے گواہی دی کہ دل اپنوں کوپہچان لیتے ہیں،چاہے ان کے درمیان کتنی ہی سرحدیں حائل کیوں نہ کردی جائیں۔

آج جب بنگلہ دیش کے سیاسی اُفق پرنئی تبدیلی کے نمایاں آثاراور روشنیاں پھوٹ رہی ہیں۔پاکستان کے قلوب میں محبت اورخیرسگالی کے چراغ پھرسے جل رہے ہیں توایسالگتاہے کہ تاریخ کی کڑی دھوپ کے بعدکسی نے آہستہ سے چھاؤں ڈال دی ہو۔ماضی کی تلخیاں اب سبق بنتی جارہی ہیں،دشمنی کے سائے سمٹتے محسوس ہوتے ہیں اوربھائی چارے کی نرم سی ہوادلوں کوچھوکرگزررہی ہے۔خطہ نئے انتخابی و سفارتی منظرنامے کی طرف بڑھ رہاہے،تواس کے ساتھ ساتھ ایک اورخوش آئندحقیقت بھی ابھررہی ہے—پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں گرمجوشی کانیا باب رقم ہونے جارہاہے۔

دونوں طرف کے عوام کے اندریہ خواہش پھرسے جاگ اٹھی ہے کہ ہم فاصلے کم کریں،گلے شکوے پیچھے رکھیں،اورمحبت وتعاون کے سفرکو آگے بڑھائیں۔ یہ وہ جذبہ ہے جوریاستی پالیسیوں سے زیادہ مضبوط ہوتاہے،کیونکہ یہ قوموں کے دلوں میں جنم لیتاہے اور وہیں پروان چڑھتاہے۔اگردونوں قومیں تدبر، اخلاص اورباہمی احترام کے ساتھ آگے بڑھیں تونہ صرف غلط فہمیاں دورہوں گی بلکہ جنوبی ایشیامیں امن،تجارت،سیاست اورتہذیبی ہم آہنگی کاایک نیا دور شروع ہوسکتاہے۔آنے والازمانہ ان کیلئےنئی محبتوں،نئے معاہدوں اورنئی کامیابیوں کی بشارت دے سکتاہے۔شایدوہ وقت دورنہیں جب بنگلہ دیش اور پاکستان کے عوام پھرپورے یقین سے یہ کہہ سکیں گے:ہم جدانہیں—صرف آزمائے گئے تھے۔

یہ وقت تلخ یادوں کوبھلاکرمشترکہ مستقبل کی بنیادرکھنے کاہے—ایسامستقبل جس میں دشمنی کی دیواریں نہیں،اعتمادکے پُل ہوں؛جس میں نفرت کے نعرے نہیں،اخوت کی صداہو؛اورجس میں عوام کی دعائیں صرف یہ کہتی سنائی دیں:ہم ایک تھے،ایک ہیں،اوربھائیوں کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے ۔اس تناظرمیں یہ کہنابے جانہ ہوگاکہ پاکستان اوربنگلہ دیش کے عوام کے دلوں میں موجودقربت،اخوت اورباہمی احترام مستقبل کی سفارتی پالیسیوں کی اصل بنیادبن سکتے ہیں۔یہی وہ جذبہ ہے جوجدائی کے باوجودزندہ رہااورجوآج ایک بارپھر دونوں ملکوں کوقریب لانے کاذریعہ بن رہاہے۔

یہ اختتام نہیں،بلکہ دوستی کے ایک نئے عہد نامے کی تمہیدہے۔تاریخ پلٹ رہی ہے،دعائیں قبول ہورہی ہیں،اور دل ایک دوسرے کی طرف پھرسے رواں دواں ہیں۔یہ مضمون اسی آرزو،اسی خواب اوراسی دعاکاتحریری اظہارہے۔تاریخ کے دریانے ایک بارہمیں جداکر دیاتھا،مگراب لگاہے کہ موجیں پلٹ رہی ہیں۔شایدوہ وقت زیادہ دورنہیں جب دونوں قومیں پھرسے قریب آکریہ کہہ سکیں گی کہ فاصلے صرف نقشوں میں تھے،دل توکبھی جدانہیں ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں