When justice falls silent, history screams

جب عدل خاموش ہوجائے،توتاریخ چیختی ہے

جب تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں توغزہ اورکشمیرکے ایسے ایسے باب ملتے ہیں جہاں انسانیت کی روح پرکاری ضرب لگتی ہے اور انصاف کے ترازوکے دونوں پیمانے بگڑجاتے ہیں۔غزہ وکشمیرکاوہ معصوم خون،جوآج برسوں سے نہ تھمنے والابارشِ بلاہے، نہ صرف فلسطینیوں وکشمیریوں کی دہلیزپربلکہ عالمِ انسانیت کی ضمیرپرگہراسوالیہ نشان بن چکاہے۔تاریخ کاسینہ جب لہو سے تر ہو جائے،اورعالمی ضمیرِاپنے ہی اصولوں کاماتم کرتادکھائی دے،توسمجھ لیجیے کہ کوئی بہت بڑاظلم روارکھاگیاہے۔

غزہ کی سرزمین اس وقت انسانیت کی سب سے بڑی آزمائش گاہ بن چکی ہے۔غزہ کی سرزمین آج بھی بے گناہ انسانی خون سے تر ہورہی ہے،جہاں نہتے فلسطینی بچوں،خواتین اوربزرگوں کوجدیدترین اسلحہ اوربارودسے نشانہ بنایاجارہاہے۔معصوم بچوں کی لاشیں،تباہ شدہ عمارتیں،اورچیختے بلکتے زندہ انسان ،ایک ایسی خاموش چیخ بن چکے ہیں جسے صرف وہی سن سکتاہے جس کا دلاورضمیرزندہ ہو۔اس ظلم کی داستان محض اسرائیلی جارحیت تک محدودنہیں، بلکہ اس میں عالمی قوتوں کے علاوہ بھارت کی مکارمودی سرکارکابھی واضح اورمجرمانہ کردارسامنے آیاہے۔

اس ستم ظریفی میں مکارمودی کاشرمناک کردارجسے نظراندازکرنا،تاریخ کے منصفوں کیلئےممکن نہیں۔ایک طرف جہاں اسرائیل فلسطینیوں پرظلم کے پہاڑتوڑرہاہے،وہیں بھارتی حکومت کی خاموش یاگاہے گاہے شریعت نماحمایت نے اس دوزخ کومزید بھڑکانے کاکام کیاہے۔اطلاعات کے مطابق، بھارت نے اسرائیل کوایک ملین کے قریب افرادبھرتی کرکے دیے ہیں جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر فلسطینی عوام کے قتل عام میں شریک ہو رہے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی ضمیرکیلئےایک کھلاچیلنج بھی ہے۔ان مظالم کی سنگینی میں مودی سرکارکا کردارتاریخ کے صفحات میں شرمندگی کی سیاہی سے رقم ہوگا۔

مسلمان دنیاکے سیاسی،اقتصادی اورعسکری افق پرجہاں ایک طرف اندرونی چیلنجزسے نبردآزماہے،وہیں دوسری طرف بیرونی محاذوں پرایک منظم، باہم مربوط اورخفیہ گٹھ جوڑاس کے مفادات،نظریات اورسرحدات کومسلسل نشانہ بنارہاہے۔یہودوہنودکی روز افزوں قربت اورمشترکہ عسکری عزائم اسی بڑی سازش کاحصہ ہیں،جسے اگروقت پرنہ سمجھاگیاتوامت مسلمہ کوناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتاہے۔

بھارت اوراسرائیل کے تعلقات،جوابتدامیں محتاط تھے،اوران کاآغازبھی اگرچہ سردمہری سے ہوا،لیکن1990ءکی دہائی سے بتدریج مضبوط ہوتے چلے گئے،یہ رشتہ صرف سفارتی بوس وکنار تک محدودنہیں رہابلکہ ایک گہری،جڑیں پکڑتی ہوئی دوستی میں بدل گیاہے،جس کامحورہندوتواکے نظریے اورصیہونیت کے سیاسی مفادات کی ہم آہنگی ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ان میں گرمجوشی درآئی۔یہ تعلقات محض تجارتی یادفاعی نوعیت کے نہیں، بلکہ ایک نظریاتی ہم آہنگی پربھی قائم ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

اسرائیل کی صیہونیت اوربھارت کی ہندوتواایک دوسرے کی آئینہ داربن چکی ہیں۔دونوں اقلیت دشمنی،مذہبی عصبیت،اورعسکری طاقت کے زعم میں مشترک ہیں۔یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں روزبہ روزوسعت اورشدت آرہی ہے۔مودی حکومت نے ان روابط کونئی جہت دی ۔دفاعی معاہدات،مشترکہ فوجی مشقیں،خفیہ معلومات کاتبادلہ اور اسرائیلی اسلحے کی خریداری نے دونوں ملکوں کواسٹریٹیجک پارٹنرزمیں بدل دیا۔ تاریخ کاچراغ بتاتاہے کہ مودی کے اقتدارمیں اس تعلق نے نہ صرف عسکری بلکہ ثقافتی اورخفیہ محاذپربھی گہرائی اختیارکی ہے اوراب ایک مضبوط عسکری محاذکی صورت اختیارکرچکے ہیں لیکن اس اتحاد کی اصل قیمت انسانیت اداکررہی ہے،خاص طورپرفلسطین اورکشمیرکے مظلوم عوام۔

اسرائیل کی جانب سے غزہ پرڈھائے جانے والے مظالم میں بھارت کی معاونت کئی سطحوں پرواضح ہے۔ہتھیاروں کی فراہمی، انٹیلیجنس کاتبادلہ، اوراسرائیلی اقدامات کی سفارتی حمایت اس معاونت کی نمایاں صورتیں ہیں۔بھارت اوراسرائیل ایک دوسرے کونہ صرف تکنیکی معاونت فراہم کر رہی ہے بلکہ اقوام متحدہ میں فلسطینیوں کے خلاف قراردادوں پرخاموش حمایت یارائے شماری سے اجتناب کاراستہ اپناکراس کی پشت پناہی بھی کررہی ہے۔یہ سب ایک بڑے سازشی جال کی کڑیاں معلوم ہوتی ہیں۔

جب غزہ پرآسمان سے بم برسائے جاتے ہیں،اورزمین پرمعصوم جانوں کی ہلاکت کابازارگرم ہوتاہے،تب بھارت کی خاموشی یاپھر بعض مواقع پرکھل کراسرائیل کی مدد،انسانی روایات کا ایک بہیمانہ اورمکروہ عمل ہے۔2023-2024کی اسرائیلی جارحیت کے دوران جب دنیابھرمیں انسانی حقوق کی تنظیمیں چیخ چیخ کرمظالم کی گواہی دے رہی تھیں،بھارت کی مودی سرکار نے اسرائیل کی نہ صرف اخلاقی بلکہ عملی حمایت کی بھارتی فوج اورخفیہ ایجنسیاں اسرائیل کوفوجی اوراطلاعاتی خدمات مہیاکرتی ہیں،جونہ صرف ان مظالم میں معاون ثابت ہوتی ہیں بلکہ اس تشویش ناک رشتے کی ایک تلخ حقیقت ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق،لاکھوں بھارتی شہری اسرائیل کے مختلف اداروں،خاص طورپرسیکیورٹی اورٹیکنالوجی کے شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ان میں سے بعض افرادبراہِ راست ان آپریشنزکاحصہ ہیں جوفلسطینی علاقوں میں کیے جاتے ہیں۔اس شمولیت سے نہ صرف بھارتی حکومت کی اسرائیل نوازپالیسی کی تصدیق ہوتی ہے بلکہ یہ امربھی ظاہر ہوتاہے کہ بھارت کی طرف سے فلسطینی مسلمانوں کے قتلِ عام میں غیراعلانیہ شرکت بھی موجودہے۔یہ ایک اخلاقی دیوالیہ پن کی بدترین مثال ہے۔

اطلاعات کے مطابق،اسرائیلی افواج کوتکنیکی ماہرین،سکیورٹی کنٹریکٹرز،اوردیگرمعاون عملہ فراہم کرنے کیلئےبھارت نے ایک ملین کے قریب افراد کی بھرتی کی،جنہیں اسرائیل روانہ کیاگیا۔ان میں سے کئی افرادنیم عسکری تربیت یافتہ یاریٹائرڈسکیورٹی اہلکارتھے جونجی عسکری کمپنیوں کے ذریعے اسرائیل کی مدد کررہے ہیں۔

یہ ایک تلخ اوردردناک حقیقت ہے کہ اسرائیلی فوج اوردیگراداروں میں لاکھوں بھارتی شہری مختلف درجوں میں شامل ہیں۔اس جنگی میکانزم میں ان کی خدمات نہایت گہری اورسنگین نوعیت کی ہیں،جس کاخونی رنگ انسانی حقوق کے خلاف ایک بدترین جرم ہے۔یہاں قتلِ انسانیت کے جرم کے ساتھ ساتھ انسانی ضمیرکی موت بھی درپیش ہے۔ایک ملین بھارتی افرادکااسرائیلی فوج اور دیگراداروں میں باقاعدہ خدمات،جس میں مسلمانوں کوقتل کرنا شامل ہے،اب کسی سے بھی ڈھکاچھپانہیں رہا۔ہندوستان کی جانب سے اسرائیل کودفاعی اورسکیورٹی شعبے میں ایک ملین کارکنوں کی فراہمی،ایک معمولی تجارتی معاہدہ نہیں بلکہ ایک عسکری اتحادکی پیش بندی ہے،جس پرامت مسلمہ میں شدیداضطراب پایاجاتاہے۔

خلیجی ممالک کی سرزمین پرکروڑوں بھارتی ورکرزکی موجودگی اوراربوں ڈالرکی سرمایہ کاری اب ایک شدیداضطراب کاباعث بن چکی ہے۔مسلمانوں کااجتماعی شعوریہ سوال اٹھارہاہے کہ کیا امت مسلمہ اپنے اندرپلنے والے ان عناصرسے بے خبرہے جو درحقیقت اس کے خلاف صف آراءہوچکے ہیں؟ کیاصرف سفارتی مصلحتیں اوروقتی اقتصادی مفادات ہمیں ان دشمنانِ اسلام کے خلاف آوازبلندکرنے سے روکتے رہیں گے؟

یہ تمام واقعات محض اتفاقات نہیں بلکہ ایک واضح اورمنظم حکمت عملی کاحصہ ہیں،جس میں یہودوہنودکاگٹھ جوڑمسلمانوں کے وجود،نظریات اورخود مختاری کے خلاف برسرپیکارہے۔ہندوستان کی جانب سے اسرائیل کوایک ملین افرادی قوت کی پیشکش، اسرائیلی ڈرونزاورآپریٹرزکی پاک بھارت جنگ میں شمولیت،قطراورایران میں بھارتیوں کی اسرائیلی نیٹ ورکس میں گرفتاری—یہ تمام شواہدایک وسیع ترسازش کی نشاندہی کرتے ہیں جوامت مسلمہ کے خلاف بروئے کارلائی جارہی ہے۔

اسرائیلی”ہاروپ کامی کازڈرونز”اوران کے آپریٹرزکی بھارت میں موجودگی اورپاکستان کے خلاف آپریشنزمیں شمولیت ایک کھلی مداخلت ہے،جو اسرائیل کی جارحانہ پالیسی اورہندوستان کے ساتھ اس کے فوجی تعاون کی شدت کوظاہرکرتی ہے۔قطرمیں18 بھارتی نیوی اہلکارجاسوسی کے الزام میں گرفتارہوئے،جنہیں سزائے موت سنائی گئی لیکن مودی حکومت کی پس پردہ معافی تلافی کے نتیجے میں ان کی رہائی ظاہرکرتی ہے کہ یہ جاسوس بھارت واسرائیل کے مشترکہ مفادات کیلئےکام کررہے تھے۔ایران میں موسادکے نیٹ ورک سے وابستہ بھارتی ایجنٹس کی گرفتاری اس بات کاثبوت ہے کہ بھارت نہ صرف اسرائیل کیلئےعسکری پارٹنرہے بلکہ اس کاجاسوسی نیٹ ورک بھی اب عالم اسلام کے قلب تک سرایت کرچکاہے۔

افسوس کامقام یہ ہے کہ عالمی سطح پر،خصوصاًمسلم ممالک کی قیادت نے ان خطرناک پیش رفتوں پرکوئی مضبوط مؤقف اختیار نہیں کیا۔خلیجی ممالک، جہاں25ملین سے زائد بھارتی شہری مقیم ہیں اورجہاں انڈیامیں اربوں ڈالرکی سرمایہ کاری موجودہے،وہاں سے بھی صرف سفارتی خاموشی سننے کومل رہی ہے۔اس خاموشی کوعوام بے حسی سے تعبیرکررہے ہیں،اورسوشل میڈیاو عوامی حلقوں میں خلیجی قیادت سے شدیدسوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ کب تک مفادات کے نام پردشمن کوگلے لگایاجائے گا؟

آج امت مسلمہ ایک دوراہے پرکھڑی ہے۔ایک طرف قومی مفادات،وقتی معاہدے اوراقتصادی وابستگیاں ہیں،تودوسری طرف امت کا اجتماعی ضمیر، عقیدہ،نظریہ اوربقا۔اگراب بھی ہم نے خاموشی اختیارکی،توکل ہمارے شہروں میں وہی دشمن ہماری ہی صفوں سے ہماری بنیادوں کوکھوکھلاکرتادکھائی دے گا۔اب وقت آگیاہے کہ عالم اسلام،خاص طورپرخلیجی قیادت، اس گٹھ جوڑکے خلاف ایک واضح،دوٹوک اورمتحدمؤقف اختیارکرے۔

یہودوہنودکی اس باہمی رفاقت کامقابلہ صرف اس وقت ممکن ہے جب مسلمان ممالک معاشی،عسکری اورسفارتی محاذپربھی اتحادو یکجہتی کامظاہرہ کریں۔قرآن ہمیں خبردارکرتاہے:
“یہودونصاریٰ تم سے ہرگزراضی نہیں ہوں گے جب تک تم ان کے طریقے پرنہ چلنے لگو۔”(البقرہ:120)
یہ آیت آج کے عالمی منظرنامے میں ایک ناقوسِ خطربن کرگونج رہی ہے۔اگراب بھی امتِ مسلمہ خوابِ غفلت میں رہی،تووہ دن دورنہیں جب دشمن ہمارے گھروں کے اندرتک آکر ہمیں کمزورکردے گا۔

اسلامی تعلیمات دشمن کی پہچان،اس سے محتاط رویہ،اورامت کے مفادات کی حفاظت پرزوردیتی ہیں۔جب دشمن کھلے عام مسلمانوں کے خلاف عسکری اورجاسوسی اقدامات کرے تواس سے تعلقات جاری رکھناصریح منافقت اورامت کے مفادسے خیانت ہے۔اسلام دشمن کے ساتھ تعلقات میں نرمی کی اجازت دیتاہے جب تک وہ ظلم نہ کرے۔لیکن جب دشمن کھلے طورپرمسلمانوں کے خلاف صف آراہو،توخاموشی خیانت کے مترادف ہوجاتی ہے۔ قرآن کہتاہے:
اے ایمان والو یہوداورنصاریٰ کودوست نہ بناؤوہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اورجوکوئی تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کرے تووہ ان میں سے ہے الله ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا۔(المائدہ: 51 )یہ آیت ہمیں خبردارکرتی ہے کہ مسلمانوں کودشمنوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات نہیں رکھنے چاہئیں،خصوصاً جب وہ مسلمانوں کے خلاف محاذآرائی پراترآئیں۔ اسلامی اصول واضح ہیں:امت کے مفادکوہر قومی وتجارتی مفادپرترجیح حاصل ہے۔جب دشمن مسلمانوں کے خلاف کھلی جنگ میں مصروف ہو،توان سے اتحادحرام کے درجے میں پہنچ جاتاہے۔

آج امت مسلمہ ایک دوراہے پرکھڑی ہے:ایک طرف قومی مفادات،وقتی معاہدے اوراقتصادی وابستگیاں ہیں،تودوسری طرف امت کااجتماعی ضمیر،عقیدہ،نظریہ اوربقا۔اگراب بھی ہم نے خاموشی اختیارکی،توکل ہمارے شہروں میں وہی دشمن ہماری ہی صفوں سے ہماری بنیادوں کوکھوکھلاکرتادکھائی دے گا۔وقت آگیاہے کہ مسلمان قیادت عوامی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے یہودوہنود کے اس ناپاک اتحادکے خلاف ایک جرأتمندانہ اوردوٹوک مؤقف اختیارکرے۔اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتاہے:
اے ایمان والو!عدل پرقائم رہو،اللہ کیلئےگواہی دینے والے بنو۔(المائدہ:8)

٭ خلیجی قیادت کوچاہیے کہ وہ بھارتی ورکرز،بھارتی سیکیورٹی کمپنیز،اوربھارتی اداروں کے کردارکاازسرِنوجائزہ لے اورغیر جانبدارانہ انٹیلیجنس رپورٹنگ کے تحت پالیسیاں مرتب کرے۔
٭خلیجی ممالک کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنی سرمایہ کاری کی حکمتِ عملی پرنظرثانی کرتے ہوئے جن بھارتی کمپنیوں کا اسرائیل یادشمن طاقتوں سے براہِ راست تعلق ہے،ان پرپابندیاں عائد کی جائیں یاان سے وابستگی کوختم کیاجائے۔
٭عوامی دباؤکومؤثرپالیسی میں بدلنے کیلئے سوشل میڈیا،عوامی فورمزاورخطبہ جمعہ جیسے ذرائع سے عوامی شعورکوبیداررکھا جائے تاکہ حکومتیں بھی اپنی روش بدلنے پرمجبورہوں۔
٭اسلامی ممالک کی تنظیم کوفوری طورپران معاملات پرایک ہنگامی اجلاس طلب کرناچاہیے تاکہ اجتماعی مؤقف اورمشترکہ لائحہ عمل اختیارکیاجاسکے۔

اقوام متحدہ اوریورپی یونین کے بیانات اگرچہ بظاہرمظلوموں کے حق میں دکھائی دیتے ہیں،لیکن ان کاعملی رویہ اکثرمنافقانہ ہوتا ہے۔اقوام متحدہ ہو یا یورپی یونین،بیشترعالمی ادارے محض بیانات پراکتفاکررہے ہیں۔اس لئے یہ کہنابالکل درست ہے کہ اقوام متحدہ اوریورپی یونین کی طرف سے غزہ کے معاملے پرجوبیان بازی ہوتی ہے،وہ اکثرمنافقت کی حدوں کوچھوتی ہے۔عالمی سطح پر انسانی حقوق کے علمبردارادارے کبھی کبھاراس تشددکوصرف لفظی مذمت میں محصورکردیتے ہیں،جس سے اسرائیل کواپنی نرغے بازی جاری رکھنے کی جرات ملتی ہے۔حقائق یہ ہیں کہ یہ عالمی ادارے ایک ایسے کھیل کاحصہ ہیں جہاں طاقتوروں کے مفادات کی آڑمیں مظلوم کی دادرسی پس پشت ڈال دی جاتی ہے۔

اسرائیل کومہلک ہتھیارفراہم کرنے والے بھی یہی ہیں اورامن کی قراردادیں پیش کرنے والے بھی۔اس دوغلی پالیسی نے بین الاقوامی نظامِ انصاف کومذاق بنادیاہے۔ایسے میں فلسطینیوں کی دادرسی کی بجائے،انہیں صرف’تشویش’یا’گہری نظر’جیسے کھوکھلے الفاظ کے سہارے تسلی دی جاتی ہے۔ مغربی دنیا،جویوکرین میں انسانی حقوق کی دہائی دیتی ہے،فلسطینی عوام کے حق میں کھل کربولنے سے گریزاں ہے۔بھارت کااسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی ضمیرپرایک بدترین داغ بھی ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ انسانی حقوق کے عالمی چیمپئن بھارت کی اس شمولیت پرخاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

مودی حکومت کی خارجہ پالیسی میں ایک نمایاں رجحان اسرائیل نوازی ہے۔یہ اتحادمحض عسکری یامعاشی بنیادوں پرنہیں بلکہ نظریاتی ہم آہنگی پرمبنی ہے۔ہندوتوااورصیہونیت دونوں ایک ہی سوچ کوفروغ دیتے ہیں۔مودی حکومت کی پالیسیاں نہ صرف ہندوتواکے نظریے سے مکمل طورپرسرشارہیں بلکہ مودی سرکارکی حکمت عملی درحقیقت ہندوتوااورصیہونیت کے اتحادکی ایک سنگین مثال ہے۔جہاں ایک طرف وہ بھارتی قوم پرستی کوبنیادبناتے ہوئے مسلمانوں کوسیاسی اورسماجی میدان میں تنہاکرنے کی کوشش کرتاہے،وہیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کوگہرائی دیکرعالمی سطح پرایک مشترکہ نظریاتی اورعملی اتحادقائم کررہاہے۔یہ گٹھ جوڑنہ صرف بھارت کے اندرفرقہ وارانہ خلیج کوبڑھارہاہے بلکہ خطے کی سلامتی کیلئےبھی خطرے کی گھنٹی ہے۔

یہی وہ نظریہ ہے جوبھارت کوایک ہندوریاست میں بدلنے کاخواب دیکھتاہے۔اسی خواب کی تکمیل کیلئےاسرائیل کی صیہونی ریاست سے گہری ہم آہنگی پیداکی گئی ہے۔دونوں حکومتیں اپنے اپنے اقلیتوں کے خلاف ریاستی طاقت کااستعمال،میڈیاکنٹرول،اور نفرت انگیز نظریات کی ترویج میں مصروف ہیں۔مذہبی برتری،اقلیت دشمنی اورطاقت کے ذریعے تسلط۔ غزہ میں جاری نسل کشی پربھارتی خاموشی بلکہ عملی شرکت اسی سوچ کاعملی مظہرہے۔ یہود وہنودکایہ گٹھ جوڑنہ صرف جنوبی ایشیابلکہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں بھی نیاعدم توازن پیداکررہاہے۔

آج جب دنیامختلف تنازعات سے دوچارہے،فلسطین کامسئلہ ایک ایساآئینہ بن چکاہے جس میں ہرملک کااصل چہرہ نمایاں ہورہاہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کے سامنے خاموشی کبھی انصاف کی راہ ہموارنہیں کرتی۔انسانیت کاتقاضا ہے کہ عالمی برادری،اقوام متحدہ،اورہرآزادضمیروالے فردکواس انسانی المیے کے خلاف کھڑاہوناچاہیے۔مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کرنا صرف ایک سیاسی مؤقف نہیں،بلکہ ایک اخلاقی اوردینی فرض ہے۔جسے نظرانداز کرناانسانی ضمیرکی موت کے مترادف ہے۔

یہ وقت خاموش رہنے کانہیں۔غزہ میں بہتاخون،فلسطینی بچوں کی چیخیں،اوردنیاکی بے حسی،ہمیں جھنجھوڑرہی ہیں۔انسانیت کا تقاضاہے کہ ہم مظلوموں کاساتھ دیں،انصاف کے حق میں آوازبلندکریں،اورظالموں کے خلاف ہرسطح پرمخالفت کریں۔یہ فقط فلسطین کی جنگ نہیں،بلکہ انسانیت کے وقاراور ضمیرکی بقاکی جنگ ہے۔بھارت،جوخودکودنیاکی سب سے بڑی جمہوریت کہلاتا ہے،اس ظلم میں شریک ہوکرنہ صرف اپنے آئینی اصولوں کی توہین کر رہا ہے بلکہ عالمی امن کیلئےبھی خطرہ بن چکاہے۔انسانیت کاتقاضاہے کہ دنیابھارت کے اس کردارکوبے نقاب کرے اورفلسطینی عوام کے حق میں کھل کرآوازبلندکرے۔

یوں تاریخ کاوہ کارواں جوظلم وستم کی وادیوں سے ہوکرگزرتاہے،ایک دن ضرورانصاف کی بلندیوں کوچھوئے گا۔غزہ کی زمیں پربہتاخون رائیگاں نہیں جائے گا،اورمودی سرکار کی صیہونی گٹھ جوڑکی سازشیں دنیاکی روشن آنکھوں سے پوشیدہ نہیں رہیں گی۔اس قصے کاانجام وہی ہوگاجوہمیشہ ہوتاآیاہے۔ ظالموں کوعبرت کی نظرسے دیکھاجائے گااورمظلوموں کوان کاحق ملے گا۔یہ وقت ہے کہ ہم سب اپنے ضمیرکی آوازسنیں اوراس صدی کے اس ظلم کے خلاف بلندآوازمیں اعلان کریں کہ جوظلم کرے گا، تاریخ اسے معاف نہیں کرے گی۔

تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ ظلم ہمیشہ وقتی جیت حاصل کرتاہے،مگرہمیشہ ہزیمت اس کامقدربنتی ہے۔آج اگرہم نے خاموشی اختیارکی توکل شاید ہماری نسلیں ہمارے اس جرم عظیم پر شرمندہ ہوں گی۔غزہ کاخون پکاررہاہے،اورمودی سرکارکاکردارہرحساس دل کیلئےباعثِ اذیت ہے۔وقت آگیاہے کہ ہم صرف تماشائی نہ رہیں بلکہ مظلوموں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں ، ورنہ یہ خامشی ہمارے ضمیرکی موت کااعلان ہوگی۔

امت مسلمہ اس وقت تاریخ کے ایک نازک ترین دورسے گزررہی ہے۔جہاں اندرونی کمزوریوں،فرقہ واریت اورسیاسی بےسمتی نے اس کے اتحادکو متزلزل کررکھاہے،وہیں بیرونی دشمن ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت مسلمانوں کے خلاف خفیہ اوراعلانیہ اقدامات میں مصروف ہیں۔ہندوستان اور اسرائیل کاحالیہ فوجی،انٹیلیجنس اورمعاشی اتحاداسی وسیع ترسامراجی منصوبے کاحصہ ہے،جوامت مسلمہ کی وحدت،سلامتی اورخودمختاری کوچیلنج کررہاہے۔لہٰذا،اب صرف تماشائی بن کربیٹھنے کاوقت نہیں رہا۔اب وقت ہے ایک فعال اوربیدارامت کا، جو ظالموں کوللکارے،مظلوموں کاسہارا بنے،اوراپنی سرزمینوں پردشمن کے ہرخفیہ وارکاڈٹ کرمقابلہ کرے۔مسلمان عوام کااضطراب صرف جذبات کاطوفان نہیں،بلکہ عمل،احتساب اور بیداری کا ایک صریح مطالبہ ہے۔

یہودوہنودکایہ گٹھ جوڑاب کسی رازکی شکل میں نہیں بلکہ کھلے الفاظ میں سامنے آچکاہے۔ان کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری ہم آہنگی،جاسوسی نیٹ ورکس،اورمشترکہ دشمنی صرف ایک قوم یاریاست کے خلاف نہیں،بلکہ اسلام اورامتِ محمدیہﷺکے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔اگرامت آج بھی خاموش رہی،تووہ دن دورنہیں جب دشمن ہمارے گھروں کے اندربیٹھ کرہمارے مستقبل کے فیصلے کرے گا۔
قرآن کاپیغام واضح ہے:
اوران سے لڑنے کیلئےجوکچھ(سپاہیانہ)قوت سے پلے ہوئے گھوڑوں سے جمع کرسکوسوتیاررکھوکہ اس سے الله کے دشمنوں پر اورتمہارے دشمنوں پراوران کےسوادوسروں پرجنہیں تم نہیں جانتے الله انہیں جانتاہے،ہیبت پڑے۔(الانفال:60)

غزہ کابہتاہواخون صرف اسرائیل کے ہاتھوں کاقصورنہیں،بلکہ ان تمام قوتوں کی مجرمانہ خاموشی اورعملی شمولیت کانتیجہ ہے جوظالم کے ساتھ کھڑی ہیں۔مودی سرکارکی جانب سے اسرائیل کوملین افرادکی عسکری مددفراہم کرناایک ایسا”جرم عظیم”ہے جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔لہٰذا، وقت آگیاہے کہ ہم بیدارہوں،ہم باہم متحد ہوں،اورنہ صرف ہم اپنے دشمنوں کوپہچان کر ان کی سازشوں کامؤثرجواب دیں بلکہ اقوامِ عالم اورباضمیر افرادکوبھی ظلم کے خلاف اپناہمنوابنائیں کہ فلسطین کے مظلوم عوام کا ساتھ دیں قبل اس کے کہ انسانیت مکمل طورپرشرمندہ ہوجائے۔یہ وقت ہے فیصلہ کرنے کا،عمل کرنے کااورامت کی حفاظت کا۔ اگرہم نے آج اقدام نہ کیا،توکل صرف پچھتاواباقی رہے گا۔

جب زمین کی خامشی چیخ میں ڈھل جائے،اورآسمان کی نیلاہٹ بارودکے دھوئیں سے سیاہ ہوجائے،تویہ محض ایک انسانی سانحہ نہیں ہوتا،بلکہ تہذیبوں کے زوال کی نوحہ گری ہوتی ہے۔غزہ کے زخم خوردہ درودیوار،اوران کے سائے میں سسکتی زندگی،ایک سوالیہ نشان بن چکی ہے—ایساسوال جواقوامِ عالم کی پیشانی پرکلنک کے داغ کی مانندثبت ہو چکاہے۔

یہ ظلم محض چندمیزائلوں،چندعمارتوں،یاچندلاشوں کااحاطہ نہیں کرتا؛یہ اس پورے عالمی نظامِ انصاف کی چیرپھاڑ ہے،جوطاقتوروں کے مفادپرست عزائم کے سامنے بےبس ہوچکاہے۔مودی،جوآج ہندوستانی سیاست میں فسطائیت کاننگا مجسمہ بن کرکھڑاہے،صرف غزہ کے قاتلوں کاحلیف نہیں بلکہ خودایک ایساجابرہے جس کے دامن پرگجرات کے مسلمانوں کالہوابھی تک خشک نہیں ہوا۔وہ جب اسرائیل کوایک ملین انسانی قوت فراہم کرتاہے، تویہ محض عددی معاونت نہیں بلکہ ایک مشترکہ نظریاتی ہم آہنگی ہے،جوانسانی اقدارکوروندکر”ہندوتوا” اور “صہیونیت”جیسے تنگ نظرتصورات کوعالمی طاقت بنانے کی کوشش کررہی ہے۔

اورجب اس ظلم پرامریکاجیسے مدعیانِ تہذیب وتمدن خاموش رہیں،بلکہ اپنے اسلحہ واثرسے اس ظلم کی آبیاری کریں، اورجب اس ظلم پرامریکا خاموش نہیں بلکہ سرگرمِ تعاون ہو،اسلحہ مہیا کرے، دفاعی قراردادوں کوویٹوکرے،اوراسرائیل کی ہردرندگی کو”حقِ دفاع”کانقاب پہناکرعالمی ضمیرکودھوکہ دے،توپھریہ صاف ظاہرہوتاہے کہ دنیااب دوواضح کیمپوں میں بٹ چکی ہے تو وقت کامؤرخ سوال کرتاہے کہ یہ عالمی ضمیرکس خواب خرگوش میں مدہوش ہے؟کیایہی وہ عالمی اقدارہیں جن کے نام پردنیاکوماضی میں درسِ انسانیت دیاجاتارہا؟کیایہی وہ”جمہوریت”ہے جوفلسطینی بچوں کی لاشوں پر اپنے جھنڈے گاڑکرجشن مناتی ہے؟ایک طرف وہ جومظلوموں کے ساتھ کھڑے ہیں،اوردوسری طرف وہ جو ظالموں کی پشت پرنیزہ بردارہیں،اپنی آئندہ نسلوں کیلئےکیاپیغام چھوڑکرجارہے ہیں۔

یادرکھیں!جب تاریخ کے اوراق گردآلودہوکرپلٹتے ہیں،توخون کی روشنائی سے لکھی گئی سطریں صدیوں تک چیختی رہتی ہیں۔غزہ کی اجڑی ہوئی گلیاں، یتیم بچوں کی آہیں،اورچھتوں سے بے نیاز،دھوپ اوربارودمیں لپٹی مائیں،گواہ ہیں اس ظلم کی جسے مودی جیسے نسل پرست حکمرانوں کی سیاسی قہقہوں نے نہ صرف روارکھابلکہ ننگِ انسانیت کے منصب پرفائزہوکراس کی پشت پرایک ملین ہندوانہ فوجی مظالم کااضافہ کیا—ایسااضافہ جسے انسانیت کاکوئی دستور، عقل کاکوئی پیمانہ،اورشرافت کاکوئی اصول تسلیم نہیں کرتا۔

خلیجی ریاستوں کی خاموشی،ان کاسفارتی بےحسی سے لبریزسکوت،اورمجرمانہ چشم پوشی اس مقام پرآپہنچی ہے جہاں امتِ مسلمہ کے قلوب واذہان میں اضطراب کی چنگاریاں بھڑکنے لگی ہیں۔عوامی بیداری کی صداسوشل میڈیاکے دجلہ وفرات میں بہتی ہوئی،اب کسی طوفان کی تمہیدبنتی جارہی ہے۔ ایک ایساطوفان،جس نےشاہی خیموں کی ریتلی بنیادوں کولرزادیا ہے، اور جس کومجرمانہ سیاسی مصلحتوں کی کالی چادروں نے ڈھانپ رکھاہے۔

خلیجی ممالک ،جنہیں حرمین کی نسبت،امت کی قیادت،اورتیل کی دولت نے ایک اخلاقی وسیاسی ذمہ داری عطاکی تھی، وہ جب غزہ کے بچوں کے نوحے سن کربھی لب کشائی نہ کریں ،اوراسرائیلی مظالم پرایک مذمتی بیان دینابھی گوارانہ کریں،تووہ صرف اپنی حکومتی چادریں داغدارنہیں کرتے،بلکہ امتِ مسلمہ کے اجتماعی ضمیرکوبھی زخمی کرتے ہیں۔ ان کی یہ خاموشی اس مجرمانہ غفلت کی مظہرہے جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی۔آج ان ممالک کی عوام سوشل میڈیاکے دروبام پرسوالات کی بارش کررہی ہے،اوراگریہ سوالات دیر تک ان سروں کے اوپرمنڈلاتے رہے،توکل یہ بارش طوفان بن کرمحلات کی بنیادوں کوبہا لےجائے گی۔

مگر مکافاتِ عمل کی راہ میں کوئی دربان نہیں ہوتا۔یورپ،جسے ہم اکثر مصلحت پسند اور منافق کہتے آئے ہیں، وہاں کی جامعات، طلبہ اورباضمیرافرادنے وہ اخلاقی جرات دکھائی ہے جس کی امیدہمیں اہلِ قبلہ سے تھی۔فرانس جیسے ممالک کافلسطین کوتسلیم کرنے کافیصلہ اس حقیقت کی دلیل ہے کہ عوام کااجتماعی ضمیراگربیدارہوجائے،توایوانِ اقتدار کے ستون لرزنے لگتے ہیں۔یہ وہ لمحہ ہے جسے ہم بیداری کی ابتداکہہ سکتے ہیں،اگرہم نے اس کی قدرنہ کی،تویہ شعلہ بجھ کرصرف راکھ چھوڑجائے گا۔
آنے والی نسلیں،جب ان لمحات پرنظرڈالیں گی،توتاریخ کاترازوہاتھ میں لیے سوال کریں گی:
اے عالمی راہبرو!تم نے ظلم کے خلاف کیاکیا؟
اے مسلم حکمرانو!تم نے مظلوموں کاساتھ دیایا قاتلوں کی میزبانی؟
اے اہلِ علم ودانش!تمہارے قلم،تمہاری تقریریں،اورتمہارے فتویٰ کہاں دفن ہوگئے تھے؟

یہ سوالات ہم سے بھی ہوں گے۔ ہم،جوآج قلم تھامے بیٹھے ہیں،جوزبان رکھتے ہیں،جواحتجاج کی رمق رکھتے ہیں—ہم اگرخاموش رہے توہم بھی اسی صف میں کھڑے تصورکیے جائیں گے جہاں مصلحت کے نام پرغیرت بیچ دی جاتی ہے، اورخاموشی کوعقلمندی کانام دیاجاتاہے۔اب وقت ہے کہ ہم تاریخ کی سمت بدلنے والے کرداروں میں اپنانام درج کروائیں۔یہ صرف غزہ کامقدمہ نہیں،یہ انسانیت کی بقا،تہذیب کامستقبل،اورامتِ مسلمہ کی عزت وناموس کاسوال ہے۔ جوآج خیمۂ ظلم کے سائے میں خاموش کھڑاہے،کل وہ عدل کے ایوان میں مجرموں کی صف میں کھڑاہوگا۔

مگرمکافاتِ عمل اپنے خدادادتوازن سے کبھی غافل نہیں ہوتا۔فرانس،آئرلینڈ،اوردیگریورپی ممالک کے وہ طلبہ وطالبات ،جنہوں نے اپنی جامعات کواحتجاج کاقبلہ بنادیا،وہی اس تبدیلی کااستعارہ بن گئے جس نے بالآخران کی حکومتوں کو فلسطین کوتسلیم کرنے پرمجبورکردیا۔گویامغرب کے ضمیرکی خاکسترمیں اب بھی کچھ چنگاریاں سلگتی ہیں،جوعدل و حق کی شمع روشن کرنے کاحوصلہ رکھتی ہیں۔

آنے والی نسلیں جب اس عہدِ ستم پرنظرڈالیں گی،تومودی،نیتن یاہو،اوران کے عالمی پشت پناہوں کے نام تاریخ کے اس اوراق میں ہوں گے جہاں یزید،ہلاکو،اورچنگیزجیسے استبدادی سائے منہ چھپائے کھڑے ہوں گے۔اوروہ نسلیں یہ سوال ضرور کریں گی کہ جب انسانیت کاگلاگھونٹاجارہاتھا،تم کہاں تھے؟جب پلٹ کرتاریخ کاجواب میں ان کے آباؤاجدادکانام لے گی تووہ ندامت کے کس سمندرمیں غرق ہوں گے۔

اوراگرہم نے آج بھی اپنی آوازبلند نہ کی،توکل ہماری خاموشی ہماری شناخت بن جائے گی—ایک ایسی شناخت جو شرمندگی سے بھرپور،تاریخ کے ہاشیوں میں محوِ ماتم ہو گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں