آگ کے دہانے پر عالمی ضمیر
تاریخ کے بعض موڑایسے ہوتے ہیں جہاں اقوام کی خاموشی بھی ایک جرم بن جاتی ہے اوربے حسی بھی ایک فیصلہ۔آج جب مشرقِ وسطیٰ کی فضامیں بارودکی بُوگھل رہی ہے،جب سفارت کی میزپررکھے ہوئے کاغذات کے نیچے عسکری تیاریوں کی لرزش صاف سنائی دے رہی ہے،توسوال یہ نہیں کہ ایران اورامریکا کے درمیان کشیدگی کیوں ہے؛اصل سوال یہ ہے کہ دنیاکی امن پسند قومیں کہاں ہیں؟وہ آوازیں کہاں گئیں جوویت نام،عراق اورافغانستان کی جنگوں کے خلاف سڑکوں پراترآئی تھیں؟وہ دانشور کہاں ہیں جوطاقت کے غرورکوللکاراکرتے تھے؟
آج اگرچہ بیشترمغربی ممالک کے اہلِ قلم،اساتذہ اوردانشور ایک مرتبہ پھرچیخ چیخ کراپنی حکومتوں کوخبردارکر رہے ہیں کہ جنگ کی آگ پورے عالم کوجلاسکتی ہے،مگراقتدارکی راہداریوں میں یہ صدائیں مدھم پڑجاتی ہیں۔ امریکی صدرکی قیادت میں واشنگٹن جس طرزِ سیاست کی جانب بڑھ رہاہے،وہ نہ صرف ایران بلکہ عالمی امن کیلئےبھی ایک آزمائش ہے۔اقوامِ متحدہ جیسے عالمی ادارے کوعملاً نظر اندازکرتے ہوئے یکطرفہ فیصلوں کارجحان اس امرکی نشاندہی کرتاہے کہ طاقت کی سیاست ایک بارپھر قانون کی بالادستی پرغالب آنا چاہتی ہے۔اقوام متحدہ کاقیام اسی لیے عمل میں آیاتھا کہ عالمی تنازعات کوگفت و شنیدکے ذریعے حل کیاجائے،مگراگراسے محض رسمی مہربنادیاجائے توپھرعالمی نظم کاستون متزلزل ہوجاتاہے۔
بعض مبصرین کے نزدیک یہ صورتِ حال اس عالمی تصورکی بازگشت ہے جسے کبھی یہودی نژادہنری کیسنجرجیسے امریکی مفکرین اورپالیسی سازوں نے عالمی طاقت کے نئے توازن کے طورپرپیش کیاتھا—ایک ایسا تصور جس میں طاقت کے مراکزمحدوداورفیصلے چندہاتھوں میں مرتکزہوں۔اگرموجودہ امریکی پالیسی واقعی اسی سوچ کی عملی تعبیرہے تویہ سوال اوربھی سنگین ہوجاتاہے کہ کیاعالمی برادری ایک مرتبہ پھرطاقت کی یک قطبی تعبیر کے سامنے سرنگوں ہونے جارہی ہے؟
ایران اپنی جانب سے اقوامِ متحدہ کے منشورکے آرٹیکل51کے تحت اپنے دفاع اورخودمختاری کے حق کااعلان کررہاہے۔اس کااستدلال یہ ہے کہ وہ جنگ کا آغاز نہیں کرے گا،مگرجارحیت کاجواب ضروردے گا۔یہ مؤقف خواہ کسی کے نزدیک قابلِ قبول ہویانہ ہو،مگراس میں ایک قانونی اورخودمختارانہ لہجہ ضرور موجودہے۔اگریہ کشیدگی بڑھتی ہے توبعید نہیں کہ خطے کی جنگ کسی وسیع ترعالمی تصادم میں تبدیل ہوجائے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ عالمی جنگیں ہمیشہ کسی ایک چنگاری سے شروع ہوئیں—اورپھردیکھتے ہی دیکھتے پوراافق شعلوں کی لپیٹ میں آگیا۔
ایسے میں یہ سوال اوربھی اہم ہوجاتاہے کہ دنیاکی امن پسند قومیں کیوں خاموش ہیں؟کیااقتصادی مفادات نے ضمیرکی آوازکودبادیاہے؟ کیااسلحہ ساز صنعتوں کامنافع انسانی جانوں سے زیادہ قیمتی ہوچکاہے؟یاپھرعالمی سیاست اس مقام پرپہنچ چکی ہے جہاں اصول محض تقریروں کی زینت اورطاقت اصل فیصلہ کن عنصربن گئی ہے؟یہ مضمون اسی کرب،اسی سوال اوراسی تاریخی لمحے کی بازگشت ہے—جہاں ہمیں یہ طے کرناہے کہ ہم تماشائی رہیں گے یاتاریخ کے دھارے کوبدلنے کی جرأت کریں گے۔
عصرِحاضرکی سیاست میں بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں جب الفاظ محض بیانات نہیں رہتے،بلکہ تاریخ کے سینے پرلکھی جانے والی تحریرکاپیش خیمہ بن جاتے ہیں۔ایران اورامریکاکے مابین حالیہ کشیدگی بھی ایساہی ایک لمحہ ہے—جہاں سفارت کی نرم گفتاری اور عسکری قوت کی سخت آہنی چاپ ایک ساتھ سنائی دیتی ہے۔یہ نزاع محض دوریاستوں کے اختلاف کاعنوان نہیں،بلکہ عالمی طاقت کے توازن،خودمختاری کے مفہوم ،اوربین الاقوامی قانون کی عملداری کاامتحان ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نام ایک باضابطہ خط ارسال کیا،جس میں نہایت دوٹوک الفاظ میں یہ مؤقف اختیارکیاگیاکہ اگر ایران پرکسی نوع کی’فوجی جارحیت‘مسلط کی گئی تووہ اپنے دفاع کاحق استعمال کرے گااوروہ جواب دینے میں تامل نہ کرے گا۔اس مراسلے میں اس امرکی بھی صراحت کی گئی کہ تصادم کی صورت میں خطے میں موجود’دشمن طاقت‘سے وابستہ تمام اڈے،عسکری سہولیات اور تزویراتی اثاثے جائزاہداف تصورکیے جائیں گے۔اس مراسلے کالبِ لباب یہ تھاکہ ایران کسی قسم کی جنگ کاآغاز نہیں کرے گا،لیکن اگراس کی خودمختاری پرضرب لگائی گئی تووہ اقوامِ عالم کے منشور کے تحت اپنے دفاع کاحق استعمال کرے گا۔تاہم اس بیانِ عزم کے ساتھ تہران نے یہ بھی باورکرایاکہ وہ نہ کشیدگی کاخواہاں ہے اورنہ جنگ کاآغاز کرے گا۔گویا تلوارنیام میں ہے،مگرہاتھ کی گرفت ڈھیلی نہیں۔
یہ بیان محض عسکری عزم کااظہارنہیں تھا،بلکہ ایک قانونی واخلاقی استدلال بھی تھا۔ایران نے اقوامِ متحدہ کےمنشور کے آرٹیکل51کا حوالہ دیتے ہوئے دفاع کے حق کوبین الاقوامی قانون میں تسلیم شدہ اصول قرار دیا ۔یہاں تہران نے محض عسکری ردِعمل کی دھمکی نہیں دی بلکہ ایک قانونی بنیادبھی فراہم کی—گویاوہ عالمی ضمیرکوگواہ بناکرکہہ رہاہے کہ اس کااقدام جارحیت نہیں بلکہ دفاع ہوگا۔اس طرزِ استدلال سے ایران عالمی رائے عامہ کواپنے حق میں ہموارکرنے کی سعی کررہاہے۔گویاتہران نے اپنی ممکنہ کارروائی کو پیشگی قانونی جوازفراہم کیا—ایک ایساجوازجوعالمی رائے عامہ کومخاطب کرتاہے۔
ایران نے امریکی صدرکے بیانات کومحض سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ’فوجی جارحیت کے حقیقی خطرے‘کامظہرقراردیا۔تہران کے نزدیک جب طاقتورریاست کاسربراہ فوجی کارروائی کی بات کرتاہے تووہ الفاظ محض الفاظ نہیں رہتے،بلکہ پالیسی کاامکان بن جاتے ہیں صدرٹرمپ کی زبان میں جوسختی اورجوحتمیت تھی، اس نے تہران کے شبہات کویقین میں بدل دیاکہ واشنگٹن عسکری آپشن کوسنجیدگی سے زیرِغوررکھے ہوئے ہے۔
تہران کے نزدیک یہ لب ولہجہ محض لفظی گھن گرج نہیں بلکہ خطے کی سلامتی اوراستحکام کے افق پرابھرتاہواایک اندیشہ ہے،جو کسی بھی لمحے شعلہ بن سکتا ہے۔یہاں قابلِ توجہ امریہ ہے کہ جدید سفارت کاری میں بیانات خودایک تزویراتی ہتھیاربن چکے ہیں۔جب کسی طاقتورریاست کاسربراہ ’بری چیزوں‘کی بات کرتاہے تووہ الفاظ نفسیاتی دباؤ،داخلی سیاست اورخارجی پیغام رسانی—تینوں کا مرکب ہوتے ہیں۔ایران اس خطرے کواجاگر کرکے خطے کے ممالک کومتنبہ کرناچاہتاہے کہ کسی بھی مہم جوئی کااثرصرف ایران تک محدودنہیں رہے گابلکہ پورامشرقِ وسطیٰ اس کی لپیٹ میں آسکتاہے۔
جمعرات کوٹرمپ نے ایران کوجاری مذاکرات میں’بامعنی معاہدے‘تک رسائی کیلئےزیادہ سے زیادہ10دن کی مہلت دی،ٹرمپ کی جانب سے دس دن کی مہلت دینادراصل ایک نفسیاتی دباؤکی حکمتِ عملی معلوم ہوتی ہے۔یہ طرزِبیان مذاکرات کووقت کی قیدمیں لاکرفریقِ ثانی کوجلدفیصلہ کرنے پرمجبورکرتا ہے ۔یہ اعلان بظاہرایک سفارتی پیشکش تھا،مگراس کی ساخت میں دباؤکی کیفیت نمایاں تھی۔وقت کی تحدیدمذاکرات کونفسیاتی دائرے میں قیدکردیتی ہے،جہاں فریقِ ثانی کوجلدی فیصلہ کرنے پرآمادہ کیاجاتاہے۔ایران نے جواباًیورینیم کی افزودگی کواپناخودمختاری کاناقابلِ تنسیخ حق قراردے کریہ پیغام دیاکہ وہ بنیادی اصولوں پرپسپائی اختیارنہیں کرے گا۔یہ وہ نکتہ ہے جہاں خودمختاری اورعالمی دباؤکی رسہ کشی پوری شدت سے عیاں ہے۔یہاں اصل نزاع معاہدے کی شقوں سے زیادہ وقارِریاست کا ہے۔تہران کے نزدیک یہ معاملہ محض تکنیکی نہیں بلکہ قومی وقاراوردفاعی خودمختاری کامسئلہ ہے۔یہاں سوال یہ نہیں کہ کتنی افزودگی ہوگی؛سوال یہ ہے کہ کون فیصلہ کرے گا؟
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہوکابیان اس بحران کودو طرفہ کشمکش سے نکال کرسہ فریقی تناؤمیں بدل دیتاہے۔اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کواپنے وجود کیلئےخطرہ تصورکرتاہے۔چنانچہ اگرامریکااقدام کرے یانہ کرے، اسرائیل اپنی سلامتی کے تناظرمیں یکطرفہ کارروائی کوبھی خارج ازامکان نہیں سمجھتا۔اس پہلوسے بحران کی نوعیت زیادہ پیچیدہ ہوجاتی ہے۔اس تناظرمیں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہوکابیان بھی نہایت اہم ہے۔انہوں نے خبردارکیاکہ اگرایران نے حملہ کیاتواسرائیل بھرپورجواب دے گا۔اس بیان نے مشرقِ وسطیٰ کی فضاؤں میں پہلے سے موجودبارودکی بوکواورگہراکردیا۔اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کواپنے وجودکیلئےخطرہ تصورکرتاہے ۔ چنانچہ یہ بحران دوفریقوں تک محدودنہیں رہتابلکہ ایک وسیع علاقائی معادلے میں تبدیل ہوجاتاہے ،جہاں ہراقدام کاردِعمل کئی سمتوں میں ظاہرہوسکتاہے۔
عمان طویل عرصے سے خلیجی سیاست میں ایک معتدل ثالث کے طورپرجاناجاتاہے۔6فروری کو عمان کی ثالثی میں امریکااورایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کاآغازہوا۔عمان خطے میں ایک معتدل اورقابلِ اعتماد ثالث کے طورپرجاناجاتاہے۔اس کے بعدجنیوامیں دوسرا دورمنعقدہوا،جس کے اختتام پردونوں فریقوں نے مذاکرات جاری رکھنے کے عزم کااظہارکیا۔یہ مذاکرات اس امرکاثبوت ہیں کہ سفارت کا دروازہ ابھی بندنہیں ہوا۔مگریہ دروازہ نیم واہے—اس کے ایک طرف امیدکھڑی ہے،اوردوسری طرف اندیشہ۔تاہم شروع ہونے والی بالواسطہ بات چیت اورجنیوامیں ہونے والادوسرادوراس امرکی علامت ہے کہ دونوں فریق دروازہ بندنہیں کرناچاہتے۔یہ مذاکرات دراصل اس نازک توازن کی علامت ہیں جس میں جنگ کی دھمکی اورامن کی خواہش بیک وقت موجودہیں۔سفارت کے اس نرم قالین کے نیچے عسکری اضطراب کی لہریں بدستوررواں ہیں۔
امریکی اخباروال سٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیاکہ ٹرمپ ایران کے خلاف’محدودفوجی حملے‘کے امکان پرغورکررہے ہیں۔تاکہ اسے جوہری معاہدے پر آمادہ کیاجاسکے۔رپورٹ کے مطابق ممکنہ کارروائی مخصوص فوجی یا سرکاری اہداف تک محدودہوگی،مگراس میں توسیع کاامکان بھی موجودہے۔ٹرمپ کے اس بیان نے بحران کوایک نیارخ دے دیاہے۔’محدودفوجی حملہ‘کاتصوربظاہرکم شدت کی کارروائی معلوم ہوتاہے،مگرتاریخ بتاتی ہے کہ محدودکارروائیاں اکثر وسیع تصادم کاپیش خیمہ بن جاتی ہیں اورمحدودحملے اکثروسیع تنازعات کاپیش خیمہ بن جاتے ہیں۔1990کی دہائی میں عراق پرعائدمحدودپابندیاں بالآخرایک مکمل جنگ کی صورت اختیارکرگئیں۔لہٰذا ’محدود‘کی اصطلاح خودایک فریبِ نظربھی ہوسکتی ہے۔ایسااقدام ایران پردباؤڈالنے کاذریعہ ہوسکتاہے،مگراس کاردِعمل بھی محدود رہے،یہ ضمانت کوئی نہیں دے سکتا۔
صدرٹرمپ کی جانب سے حتمی فیصلہ مؤخررکھنااس بات کااشاریہ ہے کہ واشنگٹن میں عسکری اورسیاسی حلقوں میں مکمل اتفاق رائے نہیں۔ایک طرف طاقت کےمظاہرے کی خواہش،دوسری جانب ممکنہ جنگ کے نتائج کاخوف—یہ دومتضاد رجحانات فیصلہ سازی کو پیچیدہ بناتے ہیں۔امریکی انتظامیہ کوایک طرف طاقت کامظاہرہ کرناہے،اوردوسری طرف مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی جنگ کے نتائج کا اندازہ بھی لگاناہے۔افغانستان اورعراق کے تجربات ابھی تاریخ کے اوراق سے مٹے نہیں۔تاہم اخبارکے مطابق صدرنے حتمی فیصلہ نہیں کیا،بلکہ مختصرمہم سے لے کروسیع عسکری کارروائی تک مختلف آپشنززیرِغورہیں۔ گویا شطرنج کی بساط بچھی ہے،مگرآخری چال ابھی پردۂ غیب میں ہے۔
امریکی حکام خودتسلیم کرتے ہیں کہ حملہ ایران کوجوابی کارروائی پرآمادہ کرسکتاہے،جس سے مشرقِ وسطیٰ وسیع ترتنازعے میں مبتلاہوسکتاہے۔ایران کے پاس میزائل صلاحیتیں اورخطے میں اتحادی گروہوں کاایسا نیٹ ورک موجودہے ج امریکی اڈوں اوراتحادی ریاستوں کونشانہ بناسکتاہے۔یوں ایک چنگاری پورے خطے کواپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے—اوریہ آگ سرحدوں کی قیدمیں نہیں رہے گی۔یوں ایک محدودکارروائی پورے خطے کوجنگی دائرے میں لاسکتی ہے او ر محدود چنگاری بھڑک کرخطے کوآگ کی لکیرمیں بدل سکتی ہے۔
سینئرامریکی اورایرانی حکام کے درمیان بات چیت جاری ہے۔امریکاایران کے جوہری پروگرام کومحدود کرنے اوربیلسٹک میزائلوں پر پابندیاں عائد کرنے کاخواہاں ہے،جبکہ تہران جامع معاہدے کومسترد کرتے ہوئے محدود رعایتوں پرآمادہ ہےجو اس کے نزدیک خودداری اورمفاہمت کے درمیان ایک نازک توازن ہے۔ایران کے نزدیک جامع معاہدہ اس کی دفاعی خودمختاری کوکمزورکر سکتاہے۔یہ اختلاف دراصل اعتمادکے فقدان کا مظہر ہے—دونوں فریق ایک دوسرے کی نیت پرمکمل یقین نہیں رکھتے اوریہی بے اعتمادی مذاکرات کو مشکل بناتی ہے۔
خطے میں امریکی افواج کی موجودگی میں اضافہ ہورہاہے۔جدید لڑاکاطیاروں،کمانڈاینڈ کنٹرول ایئکرافٹ اورطیارہ برداربحری جہازکی تعیناتی دراصل ایک خاموش پیغام اور س صف بندی کا صہ ہیں کہ سفارت کی میزپربیٹھنے والا فریق عسکری طاقت سے بھی بے نیاز نہیں۔یہ دباؤ مذاکرات میں فوقیت حاصل کرنے کی کوشش کاحصہ ہے۔یہ عسکری تیاری سفارت کی میزپردباؤکاخاموش مگرمؤثراستعارہ ہے۔پیغام واضح ہے:اگرالفاظ ناکام ہوئے توطاقت موجودہے۔
ٹرمپ کاکہناکہ دنیادس دن میں جان لے گی،کہ آیاامریکاایران کے ساتھ معاہدہ کرے گایافوجی کارروائی کی راہ اپنائے گا۔ان کے الفاظ میں:ہمیں بامعنی معاہدہ کرناہوگا،ورنہ برے واقعات ہوں گے،دراصل ایک سیاسی بیانیہ ہے جوداخلی اورخارجی دونوں سامعین کو مخاطب کرتاہے۔یہ اعلان عالمی میڈیامیں بحران کی شدت کوبڑھادیتاہے اورایران کودفاعی پوزیشن میں لے آتاہے۔علاوہ ازیں یہ اعلان داخلی سیاست کیلئےبھی اہم ہے،کیونکہ امریکی عوام اور کانگریس دونوں اس معاملے پرمنقسم ہیں۔
امریکانے حالیہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ میں اپنے دستے بڑھائے ہیں،جبکہ سوئٹزرلینڈمیں ہونے والی بات چیت میں پیش رفت کی اطلاعات نے امیدکی فضا پیداکی ہے اورامن کی کرن دکھاتی ہیں،مگرفوجی دستوں کا اضافہ اس امیدکو سایۂ خوف میں بدل دیتاہے۔یہی عصرِحاضر کی سفارتکاری کاپیراڈکس ہے— یہ دوہرامنظرعصرِحاضر کی عالمی سیاست کاخاصہ ہے—امن کی گفتگواورجنگ کی تیاری ساتھ ساتھ ۔یوں ایک ہاتھ میں تلوار اوردوسرے میں سفارتی دستاویز—یہی عصرِحاضر کی مکارسیاست کادوہراچہرہ ہے۔
امریکی کانگریس کے ڈیموکریٹک اراکین اوربعض رپبلکن رہنمابغیرمنظوری فوجی کارروائی کی مخالفت کررہے ہیں۔امریکی قانون سازوں کی مخالفت اس امرکی یاددہانی ہے کہ امریکامیں جنگ کافیصلہ یکطرفہ نہیں۔یہ داخلی اختلاف امریکی پالیسی سازی کوپیچیدہ بنا سکتاہے۔اگرکانگریس کی منظوری کے بغیراقدام کیاگیا تو داخلی سیاسی بحران بھی جنم لے سکتاہے۔یہ پہلوٹرمپ کی حکمتِ عملی پراثر اندازہوسکتاہے اوریہ داخلی سیاسی کشمکش امریکی پالیسی سازی کے توازن کومتاثرکر سکتی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچی ستیووِٹکوف اوراپنے دامادجیرالڈکشنزکی ایران کے ساتھ’اچھی ملاقاتوں‘کاذکرکیا،مگرساتھ ہی یہ اعتراف بھی کیاکہ ایران کے ساتھ بامعنی معاہدہ آسان نہیں۔تاہم بیک ڈورچینل کی ملاقاتیں اس بات کااشارہ ہیں کہ پسِ پردہ سفارتکاری جاری ہے یہ پسِ پردہ سفارت کاری بعض اوقات رسمی مذاکرات سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے، کیونکہ اس میں لچک اور رازداری زیادہ ہوتی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ کابیان اس امرکی علامت ہے کہ واشنگٹن تاحال سفارتی حل کوترجیح دیتاہے،اگرچہ عسکری آپشن کومیزسے ہٹایا نہیں گیا۔انہوں نے مزیدکہاایران کیلئےمعاہدہ کرنادانشمندانہ ہوگا ،اورصدراب بھی سفارتی حل کے خواہاں ہیں۔یہ بیان اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن عسکری آپشن کومی پررکھتے ہوئے بھی سفارت کوترک نہیں کرناچاہتا۔یہ بیان سفارت کی آخری کھڑکی کوکھلارکھنے کی سعی معلوم ہوتاہے لیکن بعض سیاسی مبصرین ٹرمپ کی سابقہ پالیسیوں کودیکھتے ہوئے اس بات کا خدشہ ظاہرکررہے ہیں کہ ٹرمپ کبھی بھی عالمی سیاست میں دہماکہ کرسکتے ہیں۔
ابتدامیں بورڈآف پیس کامقصد اسرائیل اورحماس کے درمیان غزہ کی جنگ کاخاتمہ سمجھاجاتاتھا،اسی لئے ابتدامیں بورڈآف پیس کامقصد غزہ میں جنگ کے خاتمے کی نگرانی بتایاگیاتھا،مگراب اس کادائرہ وسیع ہوچکاہے اور یہ اس تاثرکوتقویت دیتاہے کہ امریکابعض معاملات میں اقوام متحدہ سے ہٹ کرمتوازی سفارتی پلیٹ فارم قائم کرناچاہتاہے۔یہ عالمی طاقت کےتوازن میں تبدیلی کااشارہ ہوسکتاہے۔ بعض مبصرین کے نزدیک یہ اقدام عالمی سیاست میں اقوام متحدہ کوپسِ پشت ڈالنے کی کوشش بھی ہوسکتاہے۔اگرایساہے تویہ عالمی نظم میں ایک بڑی تبدیلی کااشارہ ہوگا۔نئے اختیارات پرغوراس تسلسل کی کڑی ہے،جوکسی بھی وقت ایک نئے مرحلے میں داخل ہوسکتی ہے۔
گزشتہ برس ایرانی جوہری تنصیبات پرحملہ اس حقیقت کاثبوت ہے کہ عسکری کارروائی محض نظری مفروضہ نہیں بلکہ عملی تجربہ بھی ہے۔گزشتہ برس امریکی میزائلوں اورطیاروں نے ایرانی جوہری تنصیبات کونشانہ بنایا تھا۔اطلاعات ہیں کہ وائٹ ہاؤس اس ہفتے نئے حملے کے اختیارات پرغورکررہاتھا۔یہ تسلسل ظاہر کرتاہے کہ عسکری آپشن محض نظریاتی بحث نہیں بلکہ عملی امکان ہے۔یہ امرظاہر کرتاہے کہ عسکری آپشن محض نظری بحث نہیں بلکہ عملی امکان بھی ہے۔
ایران اورامریکاکے درمیان جاری کشمکش دراصل طاقت اورقانون،خودمختاری اورعالمی دباؤ،سفارت اورعسکریت کے درمیان ایک پیچیدہ مکالمہ ہے۔ایران اورامریکاکے مابین یہ کشمکش محض دوریاستوں کانزاع نہیں،بلکہ عالمی طاقت کے توازن،خودمختاری کے مفہوم،اورسفارت وعسکریت کے باہمی تعلق کاامتحان ہے۔تہران کالہجہ دفاعی خوداعتمادی کامظہرہے اوروہ اپنے وقاراوردفاعی حق پر اصرارکررہاہے،جبکہ واشنگٹن کی حکمتِ عملی دباؤاورمذاکرات کے امتزاج پرمبنی دکھائی دیتی ہے۔اسرائیل کاعنصر،علاقائی اتحادیوں کی موجودگی،اورعالمی طاقتوں کی خاموش نظریں اس بحران کومزید پیچیدہ بناتی ہیں۔
یہ منظرنامہ ہمیں یاددلاتاہے کہ تاریخ تواس کی تپش سرحدوں کی قیدمیں نہیں رہے گی۔اوراگرسفارت غالب آئی تویہ بحران عالمی سیاست کے دفترمیں ایک کامیاب باب کہلائے گا؛عالمی سیاست کے دفترمیں مشکلات اورآزمائش کے دھارے میں وہی قومیں سرخروہوتی ہیں جوتدبراورتوازن کے ساتھ فیصلے کرتی ہیں ۔ اوراگرعسکریت غالب آئی تومشرقِ وسطیٰ کی سرزمین ایک بارپھربارودکی بوسے معطر—یاشایدمعکدر—ہوجائے گی۔۔یادرکھیں کہ اگرجنگ کی آگ اگر بھڑک اٹھی توایک اورسیاہ اورمکروہ باب رقم ہوکررہ جائے گا—مگروہ باب بھی ہمیں یہ سکھائے گا کہ طاقت کی منطق کے ساتھ حکمت کی روشنی لازم ہے، ورنہ اندھیراسب کواپنی لپیٹ میں لے لیتاہے۔تاریخ کی آنکھ اس منظرکوبغوردیکھ رہی ہے—کہ آیاعقل کی روشنی غالب آتی ہے یاطاقت کاغرور۔
تاریخ کے افق پرابھی دھند چھائی ہوئی ہے۔مگراتناواضح ہے کہ آئندہ چنددن نہ صرف ایران اورامریکابلکہ پوری دنیا کیلئےفیصلہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔عقل اورحکمت کی روشنی اگرغالب آئی توامن کی شمع روشن رہے گی؛اوراگرطاقت کاغرورغالب آیاتویہ شمع آندھیوں کے نرغے میں آسکتی ہے۔آج جب ہم اس بحران کے دہانے پرکھڑے ہیں تومحسوس ہوتاہے کہ تاریخ ایک بارپھرانسانیت کاامتحان لے رہی ہے۔ایران اورامریکاکی کشمکش محض دوریاستوں کانزاع نہیں؛یہ عالمی نظم،بین الاقوامی قانون اورانسانی بقاکاسوال ہے۔اگرطاقت کے بل پرفیصلے مسلط کیے گئے،اگراقوامِ متحدہ کومحض ایک رسمی ادارہ بناکرپسِ پشت ڈال دیاگیا،توپھ دنیاایک خطرناک مثال قائم کرے گی—ایسی مثال جوآنے والے برسوں میں ہرطاقتورریاست کویکطرفہ اقدام کاجوازفراہم کرسکتی ہے۔
امن پسند قوموں کی خاموشی دراصل اسی لیے تشویش ناک ہے کہ جنگ کبھی سرحدوں میں مقیدنہیں رہتی۔ایک خطے کی آگ دوسرے براعظم کی فضاکوبھی دھواں آلودکردیتی ہے۔اگرآج مشرقِ وسطیٰ سلگ رہاہے تو کل یورپ اورایشیابھی اس کی تپش محسوس کریں گے۔ دانشوروں کی صدائیں اگرچہ بلندہورہی ہیں،مگرجب تک عوامی دباؤحکومتوں کومجبورنہ کرے،یہ صدائیں اقتدارکے ایوانوں میں گونج کررہ جاتی ہیں۔یہ وقت ہے کہ عالمی ضمیربیدارہو۔یہ وقت ہے کہ طاقت کے ایوانوں کویہ باورکرایاجائے کہ دنیاکسی ایک نظریے،کسی ایک لابی یا کسی ایک ملک کی جاگیرنہیں۔اگرعالمی سیاست کویک قطبی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی گئی تواس کاردِعمل بھی عالمی سطح پر ظاہرہوگا۔اوراگرجنگ کی آگ بھڑک اٹھی تواس کاانجام کسی کے قابو میں نہیں رہے گا۔تاریخ کی آنکھ ہم سب کودیکھ رہی ہے۔آنے والی نسلیں یہ سوال کریں گی کہ جب دنیاایک اورتباہی کے دہانے پرکھڑی تھی توامن کے داعی کہاں تھے؟کیاوہ خاموش تماشائی تھے یاانہوں نے ظلم کے مقابلے میں آوازبلندکی؟
آج ضرورت اس امرکی ہے کہ اقوامِ عالم،اہلِ دانش،مذہبی واخلاقی رہنمااورعوام سب مل کراس آگ کوبھڑکنے سے پہلے بجھانے کی کوشش کریں۔کیونکہ اگراس بارجنگ کی چنگاری شعلہ بن گئی توشایداسے بجھانے کیلئے کوئی عالمی ادارہ،کوئی سفارتی میزاورکوئی دانشورانہ اپیل کافی نہ ہو۔امن کی شمع ابھی بجھی نہیں —مگراس کے گردآندھیاں ضرورمنڈلارہی ہیں۔فیصلہ ہمیں کرناہے کہ ہم اس شمع کواپنے ہاتھوں سے بچاتے ہیں یااسے طاقت کی آندھیوں کے سپردکر دیتے ہیں۔





