There is no hope for fate from its desolate ship.

نہیں ہے ناامیداقبال اپنی کشتِ ویراں سے

قومیں ہمیشہ آسائش کے لمحوں میں نہیں بلکہ آزمائش کے اندھیروں میں پہچانی جاتی ہیں۔یہ وہ گھڑیاں ہیں جب دلوں پرمایوسی چھا جاتی ہے،آنکھوں سے خواب رخصت ہونے لگتے ہیں ، اورسینے میں امیدکادیامدھم پڑجاتاہے۔ہماری تاریخ بھی ایسے موڑوں سے گزری ہے۔کبھی غلامی کے زنجیروں میں جکڑی ہوئی،کبھی تقسیم کے المیے میں،کبھی عالمی سازشوں کے نرغے میں۔آج ہم ایک ایسی آواز کی گونج میں جمع ہیں جوایک صدی پہلے بلندہوئی تھی اورآج بھی زندہ ہے۔وہ آوازہے علامہ محمد اقبالؒ کی۔آج کا موضوع ایک ایسے شاعرِ مشرق،حکیم الامت ،اورمردِدرویش کے پیغام پرہے،جن کے کلام نے غلام قوم کوآزادی کاخواب دیا،اور سوئی ہوئی امت کوبیداری کی صدادی۔ شاعرِ مشرق،حکیم الامت،وہ مردِداناجس نے غلام قوم کوبتایاکہ اندھیروں کے بعدسویراہے، اورمایوسی کے بعدامیدکاسورج طلوع ہوتاہے مگرہر بار ایک آواز،ایک خواب،ایک ولولہ ہمیں اٹھاتارہا۔وہ آواز،وہ خواب،وہ ولولہ تھا اقبال کاپیغام:
نہیں ہے ناامیداقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرانم ہوتویہ مٹی بڑی زرخیزہے ساقی

اقبال کایہ پیغام آج بھی صدیوں کے فاصلے طے کرکے ہمیں جھنجھوڑتاہے۔یہ صرف شعرنہیں بلکہ ایک فلسفہ ہے،یہ ایک صدا ہے ،ایک دعوت ہے، اورایک امیدکاچراغ ہے جو مایوسی کی گھنی راتوں میں روشنی دیتاہے جوہمیں یاددلاتی ہے کہ ہماری زمین وقوم بظاہربرباد لگے لیکن اگراس پرایمان اور عمل کی بارش ہوجائے تویہی مٹی گلزاربن جاتی ہے۔
اقبال نے اپنے شعرمیں مایوسی اورامیدکافرق بڑاواضح طورپربیان کیاہے۔اس لئے قرآن کہتاہے:
اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو،مایوس توصرف کافرہی ہوتے ہیں۔اوراقبال نے قرآن سے استفادہ کرتے ہوئے کہا:
نہیں ہے ناامیداقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرانم ہوتویہ مٹی بڑی زرخیزہے ساقی

یعنی مایوسی ایمان کے منافی ہے۔اقبال نے بھی یہی بتایامایوسی ایک زہرہے،موت ہے۔مایوس شخص عمل چھوڑدیتاہے،خواب دیکھناچھوڑدیتاہے، اور امیدایمان کی علامت ہے۔ امید زندگی ہے۔ پرندہ انڈہ دینے کے بعد اُمید کے ساتھ گھونسلہ بناتا ہے، کسان بیج ڈال کر اُمید کے ساتھ پانی دیتا ہے۔ اگر اُمید نہ ہو تو زندگی رک جائے۔ اقبال کا ایمان اس حقیقت پر تھا کہ امت وقتی زوال کا شکار ہو سکتی ہے، لیکن اگر اس کے اندر ایمان، خودی اور عمل کا چراغ روشن ہو جائے تو یہ امت دوبارہ عروج پا سکتی ہے۔

ائیے دیکھتے ہیں کہ اقبال کشتِ ویراں کی تعبیر سے کیا مراد ہے:
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
توکشتِ ویراں سے مرادصرف کھیت یازمین نہیں،بلکہ پوری امتِ مسلمہ کی اجتماعی حالت ہے۔یہ استعارہ تین سطحوں پرسمجھاجا سکتاہے:
پہلامرحلہ انفرادی سطح پرکشتِ ویراں ہے۔انسان کادل ودماغ جب خوابِ غفلت میں ڈوباہو۔جب اندرسے انسان خالی ہوجائے—نہ مقصدہو،نہ عزم ، نہ خودی۔یہ بھی ایک ویران کھیت ہے،جس میں بیج توہیں لیکن پانی اورنگہداشت نہ ہونے کے باعث کچھ نہیں اگ رہا۔اقبال چاہتے ہیں کہ ہرفرداپنی خودی کوپہچانے،اپنے دل کوایمان کے پانی سے سیراب کرے ،تاکہ یہ بنجرزمین دوبارہ زرخیزہو جائے۔اس لئے اقبال نے فرمایا:
خودی کوکربلنداتناکہ ہرتقدیرسے پہلے
خدابندے سے خودپوچھے،بتاتیری رضاکیاہے
اس استعارہ کی دوسری سطح پراجتماعی سطح پرکشتِ ویراں کی طرف توجہ دلائی ہے کہ غلام قوم،جواپنی پہچان کھوبیٹھی ہو۔ ایک ایسامعاشرہ جہاں علم کی روشنی بجھ جائے،اتحادختم ہوجائے،اور لوگ دوسروں کے فیصلوں کے محتاج بن جائیں۔یہ ہے اجتماعی کشتِ ویراں۔

اقبال کاوژن صرف برصغیریاپاکستان تک محدودنہ تھا۔وہ امتِ مسلمہ کے اتحادکے قائل تھے۔جب وہ کشتِ ویراں کی بات کرتے ہیں تو ان کی نظر صرف ایک قوم پر نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا پر تھی، جو استعماری طاقتوں کے ہاتھوں تقسیم ہو چکی تھی کیونکہ اقبال نے اپنے زمانے میں تین بڑے صدمے دیکھے،اقبال نے اپنی آنکھوں سےترکِ خلافت ختم ہونے کازخم جھیلا،عربوں اور اسلامی دنیاپرسامراج کاقبضہ،ایران،افغانستان اوربرصغیرغلامی کی زنجیروں میں جکڑاہواہے۔۔۔ قوم ٹوٹی ہوئی،بکھری ہوئی،یہ سب اقبال کی نظرمیں کشتِ ویراں تھے لیکن اقبال نے حوصلہ نہ ہارا۔اسی سوچ کے تحت اقبال نے کہاتھا:
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے
نیل کے ساحل سے لے کرتابخاکِ کاشغر

اقبال بالکل ناامیدنہیں تھے،کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگرمسلمان اپنی جڑوں کوپہچان لیں،اپنے ایمان،علم اوراتحادکے ذریعے اٹھ کھڑے ہوں تویہ امت دوبارہ عروج حاصل کرسکتی ہے۔اقبال نے حوصلہ نہ ہارا۔وہ فرماتے ہیں:
افرادکے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہرفردہے ملت کے مقدرکاستارا
لیکن اقبال نے کہایہ وقتی ویرانی ہے۔اس امت کی اصل زمین بڑی زرخیزہے۔اگراس پرایمان،علم اورعمل کاپانی برسے تویہ دوبارہ سنبھل سکتی ہے ۔یہی پیغام تھاکہ اگرایک ایک فرداپنی خودی پہچان لے توپوری قوم کانقشہ بدل سکتاہے۔

کا جائزہ لیں توآج ہمارے ملک اورامت کی حالت غلامی،انتشار، اس شعرکااہم اورتیسرااستعارہ پاکستان اورامتِ مسلمہ کے تناظرمیں کشتِ ویراں جہالت اور بے بسی کاشکارکشتِ ویران کی طرح ہے۔کیاہم نہیں دیکھ رہے کہ اندرونی خلفشار،کرپشن،تعلیمی پسماندگی اوربیرونی دباؤنے ہماری کشتِ زندگی کودبوچ رکھاہے۔یوں لگتاہے جیسے ہماری زمین بنجرہوگئی ہے لیکن اقبال یاد دلاتے ہیں۔یہ بنجرزمین اصل میں بنجرنہیں ہے،بس اس میں نم نہیں رہا۔یہ نم کیاہے؟ایمان کانم،علم کانم،قربانی کانم،اتحادوغیرت کا نم،خودی کانم،قربانی کا نم،علم وعمل کانم۔جب یہ8عناصراس مٹی کومل جائیں گے تویہی بنجرکھیت دوبارہ لہلہانے لگے گا۔

تاریخ شاہدہے جب مسلمان اندلس میں داخل ہوئے توایک چھوٹی سی قوم تھی،مگراپنے ایمان اورعلم سے صدیوں تک یورپ کو قیادت دی۔جب صلاح الدین ایوبی نے حوصلہ دکھایاتو بیت المقدس آزادہوا۔جب سرسید احمدخان نے تعلیم کی شمع جلائی،توتاریخ شاہدہے کہ غلام قوم کے نوجوان شعورحاصل کرنے لگے۔یہ سب اس لیے ہواکہ کسی نے کشتِ ویراں میں نم پیدا کیا۔اقبال نے ایک اور خواب دیکھا—پاکستان کاخواب، 1930ءکے خطبۂ الہٰ آبادمیں انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کیلئےایک الگ وطن ہونا چاہیے۔اس وقت لوگ ہنسے،مذاق اڑایا،کہایہ ممکن نہیں لیکن اقبال کاایمان کہتاتھا “نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے” اوردیکھتے ہی دیکھتے وہی خواب قائداعظم کی قیادت میں حقیقت بن گیا۔
اقبال نے سب سے زیادہ امید نوجوانوں سے باندھی۔وہ باربار کہتے ہیں:
ستاروں سے آگے جہاں اوربھی ہیں
ابھی عشق کے امتحان اوربھی ہیں
یعنی نوجوان کی منزل زمین پرختم نہیں ہوتی،اس کے سامنے آسمان بھی چھوٹے ہیں۔اقبال نوجوانوں کوشاہین کہہ کرمخاطب کرتے رہے کیونکہ شاہین بلندی پررہتاہے،تیزنظررکھتاہے،اور دوسروں کے باسی شکارپرقناعت نہیں کرتا۔اگرنوجوان اپنی خودی پہچان لیں،وقت ضائع نہ کریں،تعلیم وہنر حاصل کریں تویہی ویران کشت سبزہ زاربن سکتاہے یعنی نوجوانوں کے سامنے امکانات کی دنیا ہے۔وہ غلامی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں،مگراگراپنی خودی کوپہچان لیں توپوری دنیاان کے قدموں میں ہوسکتی ہے۔اقبال کے نزدیک خودی اپنی اصل پہچان، ایمان قوت کاسرچشمہ اورعشقِ رسولﷺ ہی اصل زندگی ہے۔

اقبال کی کشتِ ویراں سے ناامیدنہ ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ انہوں نے ایک خواب دیکھا—ایک آزادمملکت کاخواب، جہاں مسلمان اپنی تہذیب اورایمان کے مطابق زندگی گزارسکیں۔وہ خواب بعدمیں پاکستان کی صورت میں حقیقت بنا۔یہ سب اس لیے ممکن ہواکہ ایک شاعرنے اپنی قوم کومایوسی سے نکالااوربتایاکہ تمہاری مٹی زرخیزہے،بس تمہیں اپنی صلاحیت پہچاننی ہے۔ لیکن آج پھرحالات کچھ ویسے ہی ہیں۔سیاسی انتشار،معاشی بحران،بیرونی دباؤ،اوراندرونی کمزوریاں۔یوں لگتاہے جیسے ایک بار پھرہماری کشتِ ویراں ہوگئی ہولیکن اگراقبال آج ہوتے تویہی کہتے:
نہیں ہے ناامیداقبال اپنی کشتِ ویراں سے۔

یقیناًپاکستان آج مسائل کاشکارہے،لیکن اگریہ قوم ایمان اورمحنت کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوتوکوئی طاقت ہمیں جھکانہیں سکتی لیکن اگر ہم اقبال کے پیغام کو سمجھ لیں توہمیں پھرسے یقین ہوگا کہ یہ سرزمین بڑی زرخیزہے۔دراصل کشتِ ویراں کی ایک بڑی وجہ علم سے دوری ہے۔ اندلس کازوال اس وقت شروع ہواجب مسلمان کتاب اورتحقیق چھوڑبیٹھے۔اقبال نے اسی لئے کہا:
سبق پھرپڑھ صداقت کا،عدالت کا،شجاعت کا
لیاجائے گاتجھ سے کام دنیاکی امامت کا

آج پاکستان انتشار،سیاسی خلفشار،معاشی بحران،اوربیرونی دباؤکاشکارہے۔عوام مایوسی کاشکارہورہے ہیں،کچھ لوگ تویہ کہنے لگے ہیں کہ اس ملک کا مستقبل نہیں ہے۔ایسے میں اقبال کایہ شعرعوام کو یہ یقین دلاتاہے کہ یہ مٹی بنیادی طورپربنجرنہیں ہے۔یہ قوم اپنی اصل میں بڑی زرخیز اور باصلاحیت ہے۔صرف ذرانم کی ضرورت ہے—یعنی ایمان،دیانت،قربانی،اورقومی وحدت کانم۔مایوس نہ ہوں،یہ ملک بحران سے نکل سکتاہے،بس ہمیں اپنی صفوں کودرست کرناہوگا،اپنے اندرسے خودغرضی ختم کرنی ہوگی اوراجتماعی طورپرآگے بڑھنے کاحوصلہ پیداکرناہو گایعنی عوام اگراپنی ذمہ داری پہچان لیں تووہ خوداپنی تقدیرلکھ سکتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ موجودہ مشکلات سے نکلنے کیلئے ہمیں کیاکرنے کی ضرورت ہے؟اس سوال کاصحیح اوربروقت جواب ہی ہماری اصل قوت ہے اوروہ ہے ایمان اورقرآن سے وابستگی اوراخلاص کے ساتھ جڑنا،علم وتحقیق میں آگے بڑھنا۔نوجوانوں کو مقصداورشعوردینااپنے وسائل پراعتمادکرنااوراتحاد ویکجہتی کادامن مضبوطی سےپکڑنا،اتحادواتفاق پیداکرنا،محنت اورقربانی کے جذبے کوبیدارکرناکیونکہ یہی خواص ہی ہماری نوجوان نسل کامستقبل ہیں۔ تفرقہ ہمیشہ شکست لاتاہے۔اورباغ محنت کے بغیرنہیں اگتا۔ ہی وہ ذرا نم ہے جو اس مٹی کو گلزار بنا سکتی ہے۔
اقبال کاپیغام آج بھی زندہ ہے۔وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ اگرخودی کوبیدارکرلوتوتقدیربھی تمہارے قدم چومے گی۔لہٰذامایوسی کے اندھیروں میں نہ ڈوبو ۔ مایوسی کفرہے۔یہ قوم زندہ ہے،یہ زمین زرخیزہے،یہ مٹی معجزے پیداکرسکتی ہے۔بس ہمیں اپنے اندرکانم تلاش کرناہے۔اللہ کرے کہ ہم اس پیغام پرعمل کریں،اپنی قوم کوسنواریں،اوردنیاکودکھادیں کہ مسلمان کبھی مایوس نہیں ہوتا۔اقبال کا عملی پیغام یہ ہے کہ ایمان کے نم سے دلوں کوترکرو ۔ علم کے نم سے ذہنوں کوبیدارکرو۔قربانی کے نم سے قوم کواٹھاؤ۔اتحادکے نم سے سرزمین کوگلزاربنادو۔اگرہم پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات اور مسلم دنیاکے اتحادکے تناظرمیں دیکھیں،تویہ ایک جامع اور انقلابی پیغام بن جاتاہے۔

اقبال کاپیغام یہ ہے کہ ویرانی مستقل نہیں ہوتی۔زمین ویران ہوسکتی ہے لیکن زمین کی زرخیزی ختم نہیں ہوتی۔اسی طرح امت بظاہرکمزورہوسکتی ہے،مگراس کی صلاحیت،ایمان اور تاریخ اسے دوبارہ زندہ کرسکتی ہے۔اسی لئے اقبال ہمیں یاددلاتے ہیں: ذرانم ہوتویہ مٹی بڑی زرخیزہے ساقی۔

اقبال کاوژن صرف برصغیر یاپاکستان تک محدودنہ تھا۔وہ امتِ مسلمہ کے اتحادکے قائل تھے۔جب وہ کشتِ ویراں کی بات کرتے ہیں توان کی نظر صرف ایک قوم پرنہیں بلکہ پوری مسلم دنیاپرتھی،جواستعماری طاقتوں کے ہاتھوں تقسیم ہوچکی تھی۔یہ سب اقبال کی نظرمیں کشتِ ویراں تھے لیکن وہ ناامید نہیں تھے،کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگرمسلمان اپنی جڑوں کوپہچان لیں،اپنے ایمان، علم اوراتحادکے ذریعے اٹھ کھڑے ہوں تویہ امت دوبارہ عروج حاصل کرسکتی ہے۔

اقبال کاپاکستان اورعالمِ اسلام دونوں کیلئےآج بھی پیغام ہے۔پاکستانی عوام کیلئےکہ مایوسی کوچھوڑکراپنی اجتماعی قوت پریقین کریں۔ سیاسی انتشارعارضی ہے،لیکن اگرعوام میں بیداری آگئی تویہ ملک دوبارہ ترقی کرسکتاہے۔
عالمِ اسلام کیلئے۔۔۔۔۔مسلمان ممالک اگرتفرقے،لسانیت اورقوم پرستی چھوڑکرایک امت کی طرح سوچیں تودنیاکی کوئی طاقت ان کے وسائل،ان کی سرزمین اوران کے مستقبل کوبرباد نہیں کرسکتی۔ اقبال کے نزدیک یہ شعرایک یقین اورامیدکامنشورہے۔وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ ہماری مشکلات عارضی ہیں،ہماری زمین اورہماری امت زرخیزہے، صرف اتحاد،ایمان اور عمل کانم چاہیے۔اقبال کایہ شعرصرف ایک شاعرکی پکارنہیں،یہ ہماری تقدیرکاآئینہ ہے۔یہ یاددہانی ہے کہ یہ سرزمین کبھی بنجرنہیں ہوسکتی،یہ قوم کبھی مردہ نہیں ہوسکتی۔ اس مٹی کو بس نم چاہیے،ایمان،اتحاد،قربانی اورعلم کانم۔ اگرآج ہم نے یہ نم پیداکرلیاتویہی پاکستان روشنی کا میناربنے گااوریہی امر دوبارہ سربلندہوگی۔ورنہ تاریخ وہی فیصلہ سنائے گی جوقوموں کیلئے لکھا گیاہے:
اللہ نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی جس کوخودبدلنے کاخیال نہ ہو!
آؤعزم کریں کہ ہم اقبال کی ناامیدی کوامیدمیں بدلیں گے،ویرانی کوگلزاربنائیں گے،اوردنیاکودکھادیں گے کہ یہ قوم زندہ ہے،جاگ رہی ہے، اور اٹھنے کوتیارہے۔تاریخ میں وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جوخواب دیکھتی ہیں اورپھران خوابوں کوحقیقت بنانے کیلئےلڑتی ہیں۔اقبال نے ہمارے ہی بارے میں کہاتھاکہ ہمارے بازومیں وہ طاقت ہے جس سے تقدیریں بدلتی ہیں، تمہارے قدم میں وہ جرات ہے جس سے زمانے کے نقشے پلٹ جاتے ہیں۔آج یہ سرزمین،یہ پاکستان،تمہیں پکاررہا ہے۔مایوسی کے اندھیروں میں ڈوبے لوگ شایدتھک گئے ہوں، لیکن اقبال کاشاہین کبھی نہیں تھکتا،وہ آج بھی اعلان کررہاہے” نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے”۔

سیاسی انتشار،کرپشن،معاشی غلامی،اورعالمی سازشوں کی زنجیریں۔آج یہ کشتِ ویراں ہمارے سامنے ہے لیکن یہ مٹی بنجرنہیں ہے۔یہی زمین ہے جس نے بدرواحدکے جانبازپیداکیے،یہی قوم ہے جس نے کشمیراورکارگل کے محاذپرقربانیاں دیں۔بس اس مٹی کو ہمارے خون کانم چاہیے،ہماری غیرت کا،ہمارے علم کا،ہماری یکجہتی کانم۔جب یہ نم آجائے گاتویہ کھیت سنسان نہیں رہیں گے بلکہ سرسبز انقلاب اگے گا۔اقبال کا خواب صرف پاکستان تک محدود نہیں تھا۔انہوں نے کہاتھا:نوجوانوں!تم صرف پاکستان کے محافظ نہیں،تم پوری امت کے سپاہی ہو۔تمہاراعزم،تمہارااتحاد،صرف اس وطن کونہیں بلکہ پوری دنیاکے مسلمانوں کوزندہ کرے گا۔

نوجوانو!یہ وقت آرام کانہیں،یہ وقت انقلاب کاہے۔مایوسی کودل سے نکال دو،غلامی کی زنجیروں کوتوڑدو،اوراپنے سینوں میں امید کادیاجلادو۔
یادرکھو:یہی مٹی دوبارہ گلزاربنے گی،یہی سرزمین ایک نئی تاریخ لکھے گی اوروہ تاریخ تمہارے قدموں سے لکھی جائے گی۔
اٹھو!آگے بڑھوکیونکہ اقبال آج بھی تمہیں آواز دے رہاہے
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرانم ہوتویہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

اپنا تبصرہ بھیجیں