تاریخ کے اوراق جب پلٹے جاتے ہیں توکچھ صفحے ایسے نکلتے ہیں جن پرخون کے دھبے اورآنسوؤں کے داغ ثبت ہوتے ہیں۔ فلسطین کی داستان بھی انہی میں سے ایک ہے—ایک ایساباب جس میں ظلمتوں کی سیاہی بھی ہے اورقربانیوں کانوربھی۔70برس سے زیادہ عرصہ بیت گیا،مگراس قوم کے خواب اب تک ادھورے تھے۔طاقتورایوانوں نے اسے نظراندازکیا،بڑے بڑے علمبرداروں نے اس کی آوازدبائی،لیکن صداؤں کی گونج کودبانے والاکب کامیاب ہوا ہے؟
تازہ بین الاقوامی رپورٹس(ستمبر2025)کے مطابق تقریباً156ممالک باقاعدہ طورپرریاستِ فلسطین کی خودمختاری/سٹیٹ ہُڈ کوتسلیم کرچکے ہیں۔ فرانس، بیلجیم،لِکسمبرگ،مالٹا،اَندورا اورموناکو سمیت حالیہ یورپی اعلانات نے تسلیم کرنے والوں میں بڑی تبدیلی پیداکی،اوراسی لہرنے مجموعی عددکو 157 تک پہنچادیا۔یورپی یونین کے27 میں سے16/ارکان تسلیم کرچکے ہیں جبکہ چندمزید ممالک نے اس کوتسلیم کرنے کاعندیہ دے دیاہے۔اورآج،وقت کے صحیفے پرایک نئی سطرلکھی گئی ہے۔کینیڈا،آسٹریلیا،برطانیہ ،فرانس اورپرتگال نے اس مظلوم قوم کوتسلیم کرکے گویایہ مان لیا ہے کہ تاریخ کاقرض اداکرنالازم ہے،اورانصاف کی شمع بجھائی نہیں جاسکتی۔یہ لمحہ صرف فلسطین کالمحہ نہیں،بلکہ پوری انسانیت کے جاگ اٹھنے کالمحہ ہے۔
یہ صدیوں کی بے قراری اورعشروں کی خونچکاں جدوجہدکے بعدتاریخ کاوہ موڑہے جب کینیڈا،آسٹریلیا،برطانیہ اورپرتگال نے بالآخرفلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کااعلان کیا۔یوں لگتاہے کہ ظلمت کی رات میں اُفق پرامیدکاایک چراغ روشن ہوگیاہے۔ان چاراہم ممالک کایہ فیصلہ محض سفارتی کاغذپرثبت الفاظ نہیں بلکہ عالمی سیاست کی بساط پرایک نئےخانے کی جنبش ہے ۔یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ طاقتور اقوام بھی اب فلسطین کے مسئلے کونظراندازنہیں کر سکتیں۔یہ تبدیلی بتاتی ہے کہ دنیاکے سیاسی افق پر”طاقت کا بیانیہ”کمزورپڑرہاہے اور “انصاف کا بیانیہ”اپنی جگہ بنارہاہے۔
یہ فیصلہ عالمی سیاست کے طویل اورپرپیچ سفرمیں ایک نئی کروٹ کی حیثیت رکھتاہے۔برسوں تک طاقت کے ایوانوں میں صرف ایک آوازگونجتی رہی: طاقت ہی حق ہے مگرآج پہلی باروہی طاقتوراقوام انصاف کی دہلیزپرسجدہ ریزنظرآتی ہیں۔یہ تبدیلی اس حقیقت کااعلان ہے کہ اب وقت آگیاہے جب عالمی ضمیرظلم کے بوجھ تلے مزیددبنے سے انکارکررہاہے۔
کینیڈا،آسٹریلیا،اورپرتگال کے بعدبرطانیہ کی فضامیں بھی ایک نیااعلان گونجا۔وزیراعظم سرکیئرسٹارمرنے اپنے ویڈیوخطاب میں کہا کہ آج امن اوردو ریاستی حل کی امیدکوزندہ کرنے کیلئے،میں واضح طورپراعلان کرتاہوں کہ برطانیہ فلسطینی ریاست کوباضابطہ طورپرتسلیم کرتاہے۔یہ اعلان محض الفاظ نہیں ،صدیوں کے بوجھ تلے دبی ایک قوم کیلئے نئی زندگی کی نویدہے۔
یہ اعلان صرف سفارتی میزوں پرنہیں ہوا،بلکہ مغربی شہروں کی گلیوں اورسڑکوں پراٹھنے والی صداؤں نے اس کاسنگ بنیادرکھا۔ مظاہرے،جلوس، یونیورسٹیوں میں طلبہ کے پرجوش عزم، اورانسانی حقوق کے کارکنوں کی جدوجہدنے حکمرانوں کومجبورکردیاکہ وہ اپنی پالیسیوں پرنظرِثانی کریں۔ان ممالک میں فلسطین کوتسلیم کرنے کافیصلہ صرف عالمی دباؤکانتیجہ نہیں،بلکہ مقامی عوامی رائے،احتجاج اورانسانی حقوق کی تحریکوں کی کامیابی بھی ہے۔مغربی معاشروں میں فلسطینی عوام کیلئے ہمدردی اب سیاسی طاقت میں ڈھل رہی ہے۔یہ بات اس امرکی دلیل ہے کہ رائے عامہ کادباؤاگرمسلسل اورمنظم ہوتو ایوانِ اقتدارکے دروازے کھول سکتاہے۔یہ لمحہ یاددلاتاہے کہ عوامی رائے اگرمسلسل اورپرجوش ہوتوطاقت کے ایوانوں کوبھی جھکناپڑتا ہے ۔
کینیڈااورآسٹریلیادونوں نے اس ہفتے نیویارک میں منعقدہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اتوارکے روزبرطانیہ،کینیڈا،آسٹریلیااور پرتگال نے فلسطینی ریاست کے وجودکوتسلیم کرنےکااعلان کیاجبکہ مزید ممالک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے80ویں اجلاس کے دوران ایساکرنے کی تیاریاں کررہے ہیں۔اس سے اگلے دن ہی بیلجیئم،فرانس،سان مارینو،لکزمبرگ،مالٹااور اندور نےبھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر نے کا اعلان کردیاہے۔یوں عالمی ادارہ ایک بارپھرمظلوموں کی آہ و زاری کاگواہ بنااوربڑی طاقتیں اپنے دیرینہ تعصب کے پردے چاک کرنے پرمجبور ہوگئیں ہیں۔
یہ فیصلہ اور اعلان مسلم دنیاکیلئے ایک کسوٹی اورآئینے کا درجہ رکھتا ہے۔سوال یہ ہے کہ اگرکینیڈا،آسٹریلیا،برطانیہ اورپرتگال اور دیگریورپی ممالک انصاف کیلئے کھڑے ہوسکتے ہیں تومسلم حکمرانوں کے لب کیوں سل گئے ہیں؟کیامسلمان حکمران اس موقع پرمحض تماشائی بنے رہیں گے یا امت کے اجتماعی شعورکوبیدارکرکے فلسطین کی عملی پشت پناہی کریں گے؟کیاامتِ مسلمہ کافریضہ صرف دعاؤں اورقراردادوں تک محدودہے؟یہ لمحہ مسلم ممالک سے تقاضاکرتاہے کہ وہ محض بیان بازی اورمذمتی قراردادوں پراکتفانہ کریں بلکہ اپنے وسائل، سیاسی اثرورسوخ اورسفارتی صلاحیت کو بروئے کارلائیں۔اگرغیرمسلم ممالک فلسطین کے حق میں کھڑے ہوسکتے ہیں تومسلم دنیا کی خاموشی تاریخ کے کٹہرے میں اورزیادہ مجرم ٹھہرے گی۔یہ وقت ہے کہ مسلم دنیااپنے وسائل اورسفارتی قوت کو فلسطین کی عملی مددمیں صرف کرے،ورنہ تاریخ ہمیں مزیدشرمندہ کرے گی۔
کینیڈااس سفرکاپہلامسافرثابت ہوااورفلسطینی ریاست کوتسلیم کرنے والاپہلاجی سیون ملک بن گیا۔یہ اقدام گویاشمالی نصف کرۂ ارض میں انصاف کے نئے دریچے کھولنے کاپیغام ہے۔برطانیہ کایہ اعلان محض حالیہ پالیسی نہیں بلکہ ایک تاریخی بوجھ،تاریخی بارِ گراں اوراحساسِ ندامت کااعتراف بھی ہے۔بالفور اعلامیہ اورفلسطین کی تقسیم وہ زخم ہیں جن میں برطانیہ کاکردار کسی سے پوشیدہ نہیں۔بالفوراعلامیہ سے لیکرفلسطین کی تقسیم تک برطانیہ اس قضیے کے جنم میں شریک رہا۔آج کااعتراف گویااس پرانے زخم پر مرہم رکھنے کی ایک کوشش ہے۔اگرچہ زخم ابھی بھی گہراہے،مگریہ قدم کم ازکم یہ بتاتاہے کہ تاریخ کے بوجھ سے آنکھیں ہمیشہ کیلئے نہیں چرائی جاسکتیں۔
آج کایہ قدم گویاصدیوں بعداس بات کااقرارہے کہ ظلم کی بنیادپرتعمیرکی جانے والی عمارتیں زیادہ دیرقائم نہیں رہ سکتیں۔یہ اعلان دراصل ماضی کے جرم پرتاخیرسے اداکیاگیااعتراف ہے، اگرچہ ابھی بھی اس جرم کاکفارہ باقی ہے۔
کینیڈاکے نقشِ قدم پرچلتے ہوئے آسٹریلیانے بھی اعلان کیاکہ وہ فلسطین کوایک آزاداورخودمختارریاست کے طورپرتسلیم کرتاہے۔ یوں جنوبی دنیاکی فضاؤں میں بھی امیدکی ایک لہردوڑگئی۔یہ تسلیم دراصل فلسطینی عوام کی صدیوں پرمحیط قربانیوں کااعتراف ہے۔یہ لمحہ فلسطینی عوام کیلئے خون میں نہائی ہوئی ایک امیدہے۔وہ بچے جوملبے تلے دب گئے،ان معصوم بچوں کا خون جوغزہ کی مٹی پربہایاگیا،وہ عورتیں جولاشوں کے پاس نوحہ کرتی رہیں،ان عورتوں کی آہیں جوکھنڈرات کے بیچ اپنے شہیدوں کودفناتی رہیں،اوروہ بزرگ جومسجداقصیٰ کے دروازے پراللہ سے انصاف مانگتے رہے—اوران بزرگوں کی دعائیں جومسجداقصیٰ کی دہلیز پرسجدہ ریزہیں،یہ اعلان ان سب کی قربانیوں کاایک اعتراف ہے۔فلسطینی عوام نے اپنے خون سے یہ تحریر لکھی ہے کہ ظلم کے ایوان ڈگمگاتے ضرورہیں اوربالآخریہ سب قربانیاں اب عالمی سطح پرتسلیم کی جانے والی حقیقت بن رہی ہیں۔
برطانیہ میں متعین فلسطینی مشن نے اس فیصلے کوتاریخی قراردیااورکہاکہ یہ لمحہ محض سیاسی اقدام نہیں بلکہ انصاف کی دیرینہ پیاس بجھانے کی طرف ایک قدم ہے۔لیکن دوسری طرف اللہ کی اس زمین پرانسانیت کے سب سے بڑے دشمن اسرائیلی وزیراعظم نے اسے”دہشتگردی کونوازنا”قراردیا،لیکن حقیقت یہ ہے کہ فلسطین کوتسلیم کرنادہشتگردی کونہیں بلکہ انسانیت کو نوازناہے۔نیتن یاہو کی جانب سے اسے دہشتگردی کونوازناکہنادراصل اس خوف کااظہارہے کہ سچائی کی دیواریں اب گرنے کوہیں۔دنیاجان چکی ہے کہ فلسطین کاتسلیم ہوناکسی گروہ کونوازنا نہیں بلکہ ایک قوم کے ناقابلِ انکارحق کومانناہے۔
دنیانے یہ جان لیاہے کہ ظلم کاتسلسل کسی قوم کوفنانہیں کرسکتا۔جب دنیاکے بڑے ممالک ایک کے بعدایک فلسطین کوتسلیم کرنے لگیں تواسرائیل کیلئے بھی انکاراورہٹ دھرمی کے قلعے کوزیادہ دیرقائم رکھنامشکل ہوجائے گا۔ظلم کاقلعہ کتناہی مضبوط کیوں نہ ہو،جب ضمیرکی فصیلیں اُٹھتی ہیں تودیواریں خودبخود گرنے لگتی ہیں۔
اب اقوام متحدہ کے دروازے پرتاریخ دستک دے رہی ہے۔کینیڈا،آسٹریلیابرطانیہ اورپرتگال کے فیصلے کے بعداقوام متحدہ اوردیگر عالمی اداروں پربھی دباؤبڑھے گاکہ وہ فلسطین کوباضابطہ طورپررکنیت دیں اوراس کے حقوق کے تحفظ کیلئے عملی اقدامات کریں۔ ورنہ دنیایہ سوال اٹھائے گی کہ اگربڑی طاقتیں بھی انصاف کاساتھ دینے لگیں ہیں،اگربڑی طاقتیں بھی فلسطین کوتسلیم کررہی ہیں تو عالمی ادارے اب تک خاموش کیوں ہیں اورکب جاگیں گے؟؟کیا انصاف کاپرچم صرف قراردادوں میں ہی لہراتارہے گایاکبھی عملی صورت بھی اختیارکرے گا؟اگراقوام متحدہ اب بھی غفلت کی نیندسوئے رہاتواس کاوجود ہی سوالیہ نشان بن جائے گا۔
آج کادن صرف فلسطین کے بارے میں نہیں ہے،بلکہ یہ دن برطانیہ کی ذمہ داری کے بوجھ کوسنجیدگی کے ساتھ قبول کرنے کادن بھی ہے۔گویاتاریخ کا پراناقرض اب اداہونے لگاہے ۔یہ دیرینہ مگرناگزیراعلان دراصل اس بات کااقرارہے کہ برطانیہ نے بالآخر فلسطینی عوام کے ناقابلِ انکارحقِ خود ارادیت ،آزادی اورخودمختاری سے صرفِ نظرکاخاتمہ کردیاہے۔آج غیرمسلم دنیانے وہ قدم اٹھایا ہے جوہماری ذمہ داری تھی۔یہ لمحہ ہمیں آئینہ دکھاتاہے اور ہماری کمزوریوں کوبے نقاب کرتاہے۔
یہ لمحہ ایک تلخ حقیقت بھی یاددلاتاہے اوریہ فیصلہ ایک تلخ سچ بھی سامنے لاتاہے۔اگرمسلم دنیامتحد،باشعوراورمضبوط ہوتی تو فلسطین کوتسلیم کرنے کاآغاز اوراعلان سب سے پہلے مسلم ممالک کی زبان سے نکلتا،نہ کہ مغربی طاقتوں سے۔مگرافسوس!ہم اپنی داخلی لڑائیوں میں الجھے رہے،اپنی تنگ نظری کے اسیر بنے رہے۔یہ حقیقت ہماری سیاسی کمزوری،داخلی انتشاراور امت کی غفلت کاکھلاثبوت ہے۔آج اگرہم خوابِ غفلت سے نہ جاگے توکل ہماری تاریخ ہمیں مزید کڑی سزادے گی۔
فلسطینی ریاست کوتسلیم کرنے کامطلب محض ایک کاغذی کارروائی نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت کااعتراف ہے جسے خون کی ندیوں ،آہوں کے بادلوں اور قربانیوں کے طوفان نے رقم کیاہے۔یہ اس بات کااعلان ہے کہ مظلوموں کی آواز،اگرچہ دبائی جائے،مگرایک دن یہ دہائی اپنی سچائی کے ساتھ جلوہ گرہو کررہتی ہے۔
یہ فیصلہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پرگہرے اثرات ڈالے گااورخطے کی سیاست میں ایک نئی جنبش پیداہوگی۔اسرائیل پرسفارتی دباؤ بڑھے گا،امریکاکوبھی اپنی پالیسی میں تبدیلی پرمجبورہونا پڑے گااوردیگرمغربی ممالک بھی اس صف میں شامل ہونے پرمجبورہوں گے۔خطے میں طاقت کاتوازن بدلنے کی یہ پہلی کرن ہے،اگرچہ راستہ ابھی طویل اورکٹھن ہے۔یہ ابتدائی کرن اگر مسلسل روشنی میں بدل گئی تومشرقِ وسطیٰ میں طاقت کاتوازن بدل سکتاہے،اورفلسطین کواپنے خواب کی تعبیرکے قریب لاسکتاہے۔
برطانوی وزیراعظم کے مطابق غزہ میں انسانوں کاپیداکردہ بحران عروج کوپہنچ چکاہے،اوریہ ظلم اب انسانیت کے ضمیرکو جھنجھوڑرہاہے۔یہ تسلیم دراصل تاریخ کے افق پرطلوع ہونے والی ایک نئی صبح ہے۔ظلم وجبرکے اندھیروں میں امیدکاچراغ جل اٹھا ہے۔مگریہ چراغ صرف اس وقت دائمی روشنی میں بدل سکتاہے جب مسلم دنیااپنی ذمہ داری پہچانے،جب عالمی ضمیر بیداررہے،اور جب انصاف کوطاقت پرترجیح دینے کاعہدزندہ رکھاجائے۔
یہ اعلان ایک نئی صبح کااعلان ہے۔ظلم کے اندھیروں میں ایک روشنی کاچراغ جل اٹھاہے۔مگریہ چراغ کب شمعِ فروزاں بنے گا؟یہ اس بات پرمنحصرہے کہ مسلم دنیااپنی ذمہ داری کو سمجھے،عالمی ضمیرجاگتارہے،اورانسانیت کے نام پریہ قافلہ آگے بڑھتارہے۔ فلسطین کااعتراف دراصل انسانیت کے اعتراف کا دوسرا نام ہے۔ ان چاروں ممالک کے سربراہوں نے یہ بھی کہاکہ غزہ میں ہونے والے ظلم وستم کے ساتھ ساتھ اب بھوک اورتباہی کے دل دہلا دینے والے مناظرنے انسانیت کوشرمندہ کرکے رکھ دیاہے اوراب ناقابلِ برداشت ہے۔
برطانوی وزیراعظم کے یہ الفاظ صرف ایک سیاستدان کی تقریرنہیں بلکہ انسانیت کے لہومیں ڈوبی ہوئی صداہیں۔انہوں نے اعدادو شمارپیش کرتے ہوئے کہاکہ دسیوں ہزارافراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں،حتیٰ کہ وہ بھی جومحض روٹی اورپانی کے حصول میں نکلے تھے۔یہ موت اورتباہی کے مناظرہم سب کوخوفزدہ کررہے ہیں،اگرچہ انسانی امدادمیں اضافہ کیاگیاہے لیکن صورتحال اب بھی ناگفتہ بہ ہے اورکوئی فردخاطرخواہ امدادنہیں پارہا۔
برطانوی وزیراعظم نے اسرائیل کومخاطب کرتے ہوئے کہاہم اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سرحدی پابندیاں ختم کرے،ظالمانہ ہتھکنڈے بندکرے اورانسانی امدادکے دروازے کھول دے۔اس اعلان کے جواب میں کس ڈھٹائی سے نیتن یاہونے کہاکہ اس طرح کے اقدامات دہشتگردی کو نوازنے کے مترادف ہیں۔تاہم برطانیہ نے واضح کردیاکہ فلسطین کوتسلیم کرنے کامقصدکسی گروہ کونوازنا نہیں بلکہ ایک قوم کے دیرینہ حق کوتسلیم کرنا ہے
ادھر دنیاکی نئی ابھرتی ہوئی عالمی طاقت چین بھی کھل کرمیدان میں آگیاہے۔چین نے عالمی برادری سے پرزوراپیل کی ہے کہ وہ فلسطین کی اقوام متحدہ میں مکمل رکنیت کے حق میں آوازبلندکرے۔یہ اقدام نہ صرف عالمی انصاف کی جانب ایک نشانِ راہ ہے بلکہ مظلوم فلسطینی قوم کے حق خودارادیت کیلئےایک سنجیدہ واصولی مؤقف کی عکاسی بھی کرتاہے۔جیسے تاریخ کے صفحات پر کمزور قومیں اکیلی ٹھہرتی آئیں،آج فلسطین بھی عالمی ضمیرسے اپنے حق کامطالبہ کررہا ہے،اورچین اس مظلوم قوم کے ساتھ انصاف کی صدابلندکررہاہے۔
چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے مطابق چین غزہ میں جنگ بندی اورجنگ کے خاتمے کیلئےپُرعزم ہے۔یہ الفاظ کسی محض سفارتی اعلان کاحصہ نہیں،بلکہ انسانی ہمدردی،عالمی استحکام،اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کاعملی عزم ہیں۔گویاچین نے عالمی سیاست کے سحروجادومیں پھنس کرنہیں بلکہ انصاف کے اصولوں کیلئےاپنی راہ ہموارکی ہے۔
وانگ یی نے اس بات کی جانب توجہ دلائی کہ”دوبرس سے جاری غزہ جنگ نے بے مثال انسانی المیے کوجنم دیااوراسرائیلی کاروائیاں بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتی ہوئی مشرق وسطیٰ کے استحکام کونقصان پہنچارہی ہیں”۔جیسے دریااپنی رفتار سے پتھروں کوتراشتا ہے،ویسے ہی طاقتورممالک کے اقدامات انسانی تقدیرکے رُخ کوبدلنے کی کوشش کرتے ہیں، مگرتاریخ کاانصاف بعدمیں ان کے ظلم وستم سے ٹکراکران کوپاش پاش کردیتاہے اور ندامت کے پہاڑکابوجھ ان کوکچل کررکھ دیتاہے۔
چینی وزیرخارجہ نے زوردیاکہ”غزہ میں فوری جامع جنگ بندی،فلسطینی حکمرانی،اوردوریاستی حل کی مضبوطی، عالمی برادری کیلئےتین ناگزیر اقدامات ہیں” ۔یہ تین ستون ایسے ہیں جوانصاف اورامن کے محل کواستوارکرتے ہیں،اوراگریہ مضبوط نہ ہوں تو محض ظاہری جنگ بندی کسی حقیقی امن کاضامن نہیں بن سکتی۔
وانگ یی نے مزیدکہا”کہ عالمی برادری دوریاستی حل کے تحت فلسطین کی اقوام متحدہ میں مکمل رکنیت کی حمایت کرے”۔یہ مطالبہ نہ صرف دائمی انصاف کےاصولوں کاتقاضاہے بلکہ اسلامی تعلیمات کی روح کاآئینہ بھی ہے،کہ مظلوم قوموں کی حمایت اورظالم طاقتوں کے مقابل انصاف کی راہ پرچلناہرمؤمن کی ذمہ داری ہے۔
امریکانے دیگرمغربی ممالک کے فلسطینی ریاست کے تسلیم کے اعلانات کونمائشی اقدام قراردیا۔گویاطاقتوروں کے بیانات صرف کاغذ پرنقش ہیں،عمل کی حقیقت کچھ اورہے۔ بہت بڑے داناوبیناکی اصطلاح میں،یہ عالمی سیاست کی شطرنج کی وہ گھڑی ہے جس میں نقاب پوش طاقتیں اپنی منطق کیلئےدنیاکودھوکہ دیتی ہیں،مگرتاریخ کاحساب ہرزوال وعروج کومحفوظ رکھتا ہے ۔
یہ رپورٹ نہ صرف سیاسی فیصلے کی رودادہے بلکہ تاریخ کے صفحات میں ایک نئے ورق کے کھلنے کااستعارہ بھی ہے۔فلسطین کااعتراف دراصل انسانیت کے اعتراف کادوسرانام ہے،اورظلمت کی اس صدی میں یہ روشنی کاایک چراغ ہے جس کے گرد اندھیروں کے بادل بھی ہمیشہ کیلئے چھٹنے لگے ہیں۔
اے اہلِ ایمان!اے صاحبانِ ضمیر!یہ اعلان تمہارے سامنے ایک سوالیہ نشان ہے۔غیرمسلم اقوام انصاف کیلئے اٹھ کھڑی ہوئی ہیں،توتم کس انتظارمیں ہو؟کیاتم اپنی تلواریں نیام میں ڈال کرخوابِ غفلت میں پڑے رہوگے،یااس چراغ کوبھڑکاکرروشنی کاقافلہ آگے بڑھاؤ گے؟
یادرکھو!فلسطین کااعتراف صرف ایک سیاسی فیصلہ نہیں،یہ انسانیت کی فتح ہے۔یہ ان ماؤں کے آنسوؤں کا اعتراف ہے جوبیٹوں کی لاشوں پرنوحہ کرتی رہیں۔یہ ان معصوم بچوں کے خون کاصدقہ ہے جوملبے کے نیچے مسکراکرشہیدہوگئے۔یہ ان بزرگوں کی دعاؤں کی قبولیت ہے جومسجد اقصیٰ کے دروازے پراس وقت تک سجدہ ریزرہے جب تک یہودیوں کی بمباری نے ان کے چیتھڑے تک نہیں اڑا دیئے۔
لیکن یہ ابھی آغازہے۔ابھی منزل باقی ہے،ابھی القدس آزادہوناہے،ابھی ظلم کی دیواریں گرنی ہیں۔یہ تمہاری ذمہ داری ہے کہ اپنے ضمیرکوجگاؤ،اپنی صفوں کوسیدھاکرواوراپنی زبان وقلم سے لیکراپنے وسائل وطاقت تک سب کچھ فلسطین کے حق میں لگادو۔
اٹھو!کہ وقت تمہیں پکاررہاہے۔تاریخ تمہاری طرف دیکھ رہی ہے۔اوراگرآج بھی تم نے غفلت کی چادراوڑھے رکھی توکل تمہاراذکر ان قوموں میں ہوگا جنہیں تاریخ نے معاف نہیں کیا۔فلسطین کااعتراف دراصل تمہاری غیرت کاامتحان ہے۔اے مسلمانو!اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے—کیایہ چراغ بجھ جائے گایاایک دن سورج بن کرپوری انسانیت کوروشنی عطاکرے گا؟
نجانے کیوں مجھے آج مُرشدعلامہ اقبال شدت سے یادآرہے ہیں:
ہے عیاں یورشِ تاتارکے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کوصنم خانے سے





