The Fortress of La Ilaha Illa Alla

لَاالہ الااللہ کا قلعہ

قوموں کی زندگی میں کچھ دن محض تقویمی تاریخ نہیں ہوتے بلکہ ان کے وجودکی اساس اوران کے شعورکی جڑیں بن جاتے ہیں بلکہ قوم کی روح میں ابدی چراغ کی طرح روشن ہوجاتے ہیں ۔پاکستان کاقیام1947ءمیں محض ایک سیاسی واقعہ نہیں تھابلکہ یہ ایک روحانی اورتہذیبی انقلاب تھا۔برصغیر کی تقسیم کے نتیجے میں کلمے کی بنیادپرقائم ہونے والی اس معجزاتی ریاست نہ صرف جغرافیے کی لکیروں کوبدلابلکہ دلوں کے دھڑکنے کااندازبھی بدل دیا ۔یہ ریاست”لاالہ الااللہ”کے پرچم تلے وجودمیں آئی اوراسی کلمے نے اس کی بنیادوں کووہ استحکام بخشاجودنیاکی کسی اورتحریک کے نصیب میں نہ آیا۔

“لاالہ الااللہ“کی بنیادپروجودمیں آنے والی یہ ریاست اس عہدکی علامت تھی کہ مسلمان اپنی جداگانہ تہذیب،دینی تشخص اور نظریاتی اساس کے بغیر دنیامیں زندہ نہیں رہ سکتے۔پاکستان کاقیام1947ءمیں محض ایک سیاسی واقعہ نہیں تھابلکہ یہ ایک روحانی اورتہذیبی انقلاب تھا۔یہ ریاست“لاالہ الااللہ ” کے پرچم تلے وجودمیں آئی اوراسی کلمے نے اس کی بنیادوں کووہ استحکام بخشاجودنیا کی کسی اورتحریک کے نصیب میں نہ آیا۔

لیکن جس دن یہ مملکت خدادادمعرض وجود میں آئی،اسی دن سے اس کے دشمنوں نے اس کے خلاف سازشوں کے جال بننے شروع کردیے۔بھارت کے ہندوزعمانے اس حقیقت کو کبھی تسلیم نہ کیا۔ان کے نزدیک تقسیم ہندایک عارضی واقعہ تھااورپاکستان ایک”حادثہ”جسے جلدیابدیرمٹادینا ہے۔ بھارت،جس کے سینے پرپاکستان کاوجودایک ناسورکی طرح تھا،نے ہرموڑ پرپاکستان کو مٹانے کی کوشش کی۔کبھی براہِ راست جنگ کے ذریعے،کبھی پراکسیز اوردہشتگردی کے ذریعے،اورکبھی فطرت کے وسائل کو ہتھیاربناکر۔

لیکن بھارت کے ہندوزعمانے اس حقیقت کوکبھی تسلیم نہ کیا۔ان کے نزدیک تقسیم ہندایک عارضی واقعہ تھااورپاکستان ایک”حادثہ” جسے جلدیابدیرمٹا دیناہے۔کانگریس کے بڑے رہنما بارہاکہتے رہے کہ”پاکستان تاریخ کی ایک غلطی ہے”۔اسی سوچ سے آگے چل کر”اکھنڈبھارت”کاخواب پروان چڑھا ۔اس خواب کی وحشت یہ ہے کہ وہ صرف پاکستان ہی کونہیں بلکہ نیپال،بھوٹان،سری لنکا، بنگلہ دیش اوریہاں تک کہ بحرہندکے پانی سے جُڑے ہرملک کو”اکھنڈبھارت”کاحصہ قراردیتے ہیں۔گویاخطے کے تمام ممالک کو اپنی توسیع پسندانہ ہوس کی بھینٹ چڑھانے کاارادہ رکھتے ہیں۔
قرآن نے ایسے ہی فتنہ پرورگروہوں کے بارے میں فرمایا:
وہ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے تاکہ اگروہ طاقت پاجائیں توتمہیں تمہارے دین سے پھیردیں۔(البقرہ: 217)
پاکستان کے خلاف بھارت کی سازشیں اسی آیت کی عملی تصویرہیں لیکن تاریخ کافیصلہ ہے کہ جب قومیں اپنے ایمان پرقائم رہیں، توکوئی باطل قوت انہیں مغلوب نہیں کرسکتی۔

یہ داستان محض جنگوں کی روداد نہیں بلکہ ایمان اورکفر،ظلم اورعدل،طاقت اورعقیدے کی کشمکش کی کہانی ہے۔یہ وہ تاریخ ہے جس میں بدروحنین کی صدائیں سنائی دیتی ہیں،جس میں کربلا کا استقامت بھراسبق جھلکتاہے،اورجس میں اقبال کی دعااورقائداعظم کاعزم گونجتاہے۔اس رودادمیں پاکستان باربارلہومیں نہایا،لیکن ہربارایک نئے حوصلے کے ساتھ ابھرا۔

6ستمبر1965ءکی رات تاریخ کے اوراق پروہ سیاہ لمحہ ہے جب برصغیرکی سرزمین پرظلم کی سیاہ آندھی نے پاکستان کے ننھے چراغ کوبجھانے کاخواب دیکھا۔6ستمبر1965ءکی وہ رات جب بھارت نے رات کی تاریکی میں پاکستان پربزدلانہ یلغارکی،دراصل کفراورایمان کاایک اورمعرکہ تھا۔بھارت ، جواپنے حجم،وسائل اورعسکری طاقت میں چھ گنابڑاتھا،رات کی تاریکی میں حملہ آورہوا۔ دشمن نے لاہورکونشانہ بناتے ہوئے یہ سوچاکہ صبح کاسورج طلوع ہونے سے پہلے وہ اس شہرکوروندڈالے گا۔لاہورکی سرحدوں پرجب دشمن نے اپنی زبردست فوجی طاقت سے قدم بڑھایاتواس کایہ گھمنڈ،تکبر اورگمان تھاکہ اگلے چندگھنٹوں میں لاہور جمناپار کےجھنڈوں کے نیچے ہوگا۔اس کے خیال میں شایدیہ مٹی کاگھرہے جوایک آندھی کے جھونکے سے بکھر جائے گالیکن وہ یہ بھول گئے تھے کہ یہ سرزمین بدرواحدکے وارثین کی ہے۔پاک فوج کے جوانوں نے نہ صرف ٹینکوں کے سامنے اپنے جسموں کو ڈھال بنایابلکہ پاک فوج کے جوان ٹینکوں کے سامنے اس طرح ڈٹ گئے جیسے حضرت خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ یرموک کے معرکے میں روم کی فوجوں کے سامنے ڈٹے تھے۔

لیکن وہ دن کی روشنی تک نہ جان پایاکہ یہ شہرمحض اینٹ اورپتھرکامجموعہ نہیں،یہ عاشقانِ رسولﷺکے قلوب کاحصارہے،یہ مومن کے ایمان کی قلعہ بندی ہے۔جہاں کے کوچہ وبازار اقبال کی صداؤں اورمجاہدین کے خوابوں سے معمورہیں۔ یہاں کے جوانوں نے ٹینکوں کے سامنے سینے بچھادیے، یہاں کے سپاہیوں نے”اللہ اکبر”کی صداؤں سے دشمن کے دل دہلا دیے۔یہی وہ دن تھاجب اقبال کاخواب اورقائدکاپیغام حقیقت کے لہومیں نہایااور نئی زندگی کااعلان ہوا۔

ہندوبنیاءیہ بھول گیاکہ لاہورمحض سرسبزباغات کامجموعہ نہیں بلکہ یہ ان مخلص عاشقوں کاشہرہے جووطن پرجان نچھاورکرنا ایک اعزازسمجھتے ہیں۔پاک فوج کے جوانوں نے نہ صرف ٹینکوں کے سامنے اپنے جسموں کوڈھال بنایابلکہ اس جنگ میں عوام نے بھی حیرت انگیزکرداراداکیا۔اس وقت پاکستان کے گلی کوچے”اللہ اکبر”کی صداؤں سے گونج اٹھے۔گھروں کی عورتوں نے اپنے زیوربیچ کرمحاذ کیلئےچندہ دیا،بچے فوجیوں کوپانی اورکھانے پہنچاتے رہے ،اورپوری قوم”پاکستان زندہ باد”کے نعرے میں ایک آوازہوگئی اوراس بھارتی جارحیت کے نتیجے میں پوری قوم ایک صف میں کھڑی تھی۔ مکار برہمن نہیں جانتاتھاکہ یہ سرزمین ایک نظریے پرقائم ہے،ایک کلمے کی بنیادپراستوارہے،اوراس کے سپوت وہی ہیں جن کی رگوں میں بدروحنین کے شہسواروں کا خون گردش کرتاہے۔

وہ سترہ دن کی جنگ،جس میں دشمن نے بارباریلغارکی،پاکستان کے جوانوں نے بڑھ چڑھ کرہروارکوسینے پرروکا۔دشمن کی شکست ایسی تھی کہ آج تک اس کی پیٹھ اورمنہ پرزخم ہراہے۔سترہ دن کی جنگ کے بعددنیانےپاکستان کاپرچم پہلے سے زیادہ سر بلنددیکھااوردشمن کے عزائم خاک میں مل گئے۔ اس دن بھارت کویہ سمجھ آگئی کہ پاکستان محض جغرافیہ نہیں،یہ ایمان کاقلعہ ہے۔ لیکن زخم خوردہ کمینہ ومکاربرہمن دشمن آج تک اس شکست فاش کو فراموش نہ کرسکااورہرنئے مکروہ حربے کے ساتھ پاکستان کے وجودکومٹانے کے درپے رہا۔

اس شکست نے بھارت کے منہ پرایسی کالک ملی اوردل پرایسازخم لگایا کہ وہ آج تک نہ توچہرے کی سیاہی دورہوئی اورنہ ہی زخم بھرسکالیکن اسی کے ساتھ دشمن کے اندرایک انتقام کی آگ دہکنے لگی،جوآج تک بجھی نہیں۔یہ وہی جذبہ تھاجس کاذکرقرآن نے کیا:
اگرتم اللہ کی مددکروگے تواللہ تمہاری مددکرے گااورتمہارے قدم جمادے گا۔(محمد:7)

سترہ دن کی اس جنگ کے بعددشمن پسپاہوا۔اس کے دل پروہ زخم لگاجوآج تک رس رہاہے لیکن ساتھ ہی اس نے یہ فیصلہ کرلیاکہ براہِ راست جنگ سے ہٹ کرسازشوں کے نئے دروازے کھولے جائیں گے۔

وقت گزرا،لیکن دشمن کی سازشیں نہ رکیں۔اس نے جان لیاکہ میدانِ جنگ میں پاکستانی شیراس کوروندڈالیں گے،جب براہِ راست میدان میں بھارت کوناکامی ہوئی،تواس نے اندرونی انتشارکوہتھیاربنایا۔جب میدانِ جنگ میں اس کی ایک نہ چلی،تو اس نے مکار بزدلوں کی طرح پاکستان کواندر سے توڑنے کی کوشش کی۔لہٰذااس نے نئے محاذکھولے۔دہشتگردی کے اندھیروں کوپاکستان پر مسلط کردیاگیا۔بلوچستان،خیبرپختونخواہ اورملک کے دیگرگوشے خون آلودکردئیے گئے۔بلوچستان،خیبرپختونخواہ کوبالخصوص ہدف اورملک کے دیگرحصوں کوبالعموم دہشتگردی کانشانہ بنادیا۔وہاں دہشت گردی کی آگ بھڑکائی گئی۔مساجدکونشانہ بنایاگیا، مدارس کے طلبہ کوشہیدکیاگیا،اورمعصوم پاکستانیوں کے خون سے بازاروں کی گلیاں سرخ کردی گئیں ۔یہ دہشتگرد محض بندوق بردارنہ تھے،یہ وہ بھارتی پراکسیزتھیں جنہیں پاکستانی قوم آج “فتنۂ خوارج“اور“فتنۂ ہند”کے نام سے پہچان چکی ہیں۔

ان خوارج نے مسلمانوں کے ہی خون کوحلال سمجھا،مسجدوں میں معصوموں کوشہیدکیا،بازاروں میں خون کی ندیاں بہائیں اوردنیا نے دیکھاکہ یہ سب کس کے اشارے پرہورہاتھا۔دشمن نے سوچاکہ اگربراہِ راست حملہ کامیاب نہیں ہوتاتواندرونی انتشارپیداکیا جائے لیکن وہ یہ بھول گیاکہ جس قوم نے ہجرت کے بعدبھی بدرجیتی،احدکے زخم سہہ کربھی زندہ رہی،اورکربلاکے امتحان میں بھی صبرکاجھنڈابلندرکھا،وہ قوم دہشتگردی کی اس آگ میں بھی اپنی شناخت کھونہ سکے گی۔

یہی وہ وقت تھاجب دنیانے دیکھاکہ”فتنۂ خوارج”ایک بارپھرسراٹھارہاہے۔قرآن نے جس گروہ کو”شر الدواب ” کہاتھا،وہی گروہ مسلمانوں کاخون بہانے میں پیش پیش تھا۔یہ دہشتگرد اپنے آپ کواسلام کاداعی کہلاتے تھے،لیکن درحقیقت وہ دشمن کے ایجنڈے کے تحت کام کررہے تھے۔ یہ وہی خوارج تھے جن کے بارے میں حضورﷺ نے فرمایا:
“آخرزمانے میں ایک قوم نکلے گی جوقرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا۔وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیرشکارسے نکل جاتاہے”(صحیح بخاری)۔یہ دہشتگردانہی خوارج کی عملی شکل تھے۔وہ مسلمانوں کے خون کوحلال سمجھتے،اوردشمن کے اشاروں پرپاکستان کے خلاف جنگ چھیڑتے۔ لیکن پاکستان نے صبر، حوصلے اورقربانی کے ساتھ اس فتنے کوبھی ناکام بنایا۔ بھارت کی پراکسیزنے پاکستان کوکمزورکرنے کی کوشش کی،لیکن قوم نے ان اندھیروں میں بھی امیدکاچراغ جلائے رکھا۔فوج، عوام اور ریاستی ادارے مل کراس فتنے کے مقابلے پرڈٹ گئے اورتاریخ نے پھرایک بارگواہی دی کہ ایمان کی بنیادپرقائم قوم کو دہشتگردی کی دھول میں چھپایانہیں جاسکتا۔

مئی2025ءایک اورمعرکہ بھی گواہی دے گااورتاریخ میں سنہری حروف سے لکھاجائے گا۔دشمن نے ایک بارپھرپاکستان کوکمزور کرنے کاخواب دیکھا۔بھارت نے بڑے زوروشورسے اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑکرکے پاکستان کوایک بارپھرکچلنے اورگھٹنے ٹیکنے پرمجبورکرنے کامکمل منصوبہ بنایا۔اس نے جدیداسلحے اورٹیکنالوجی پربھروسہ کیالیکن یہ بھول گیاکہ اصل طاقت ایمان ہے،نہ کہ توپ اورٹینک لیکن قدرت کوکچھ اورہی منظورتھااورنتائج اس کے گمان کے برعکس نکلے۔

اسرائیل کے ساتھ مل کراس نے پاکستان پریلغارکی فاش غلطی توکرلی،اپنے جدیدترین اسلحے اوراسرائیلی ٹیکنالوجی پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے مربیوں کوبھی بڑے تکبرسے اطلاع دی کہ اگلے چندگھنٹوں میں پاکستان گھٹنوں اورمنہ کے بل گرکر معافی کا طلب گارہوکرغلامی اختیارکرلے گالیکن جب پاک فوج کے جوان“اللہ اکبر”کے نعروں کے ساتھ میدان میں اترے تودشمن کے ٹینک اورطیارے سب خاک چاٹنے لگے۔اسرائیلی اسلحہ،جدید ٹیکنالوجی ، اورپراپیگنڈے کے طوفان بھی پاکستانی جوان کے عزم کے آگے ریزہ ریزہ ہوگئے۔پاکستانی جوانوں نے اس معرکے میں جس جرات کامظاہرہ کیا،وہ ہمیں یرموک اورقادسیہ کی یاددلاتا ہے۔حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے وہ الفاظ زندہ ہوگئے کہ اللہ کے سپاہی جب اللہ پربھروسہ کرتے ہیں تودنیاکی کوئی فوج ان کاراستہ نہیں روک سکتی۔تاریخ نے خودگواہی دی کہ جس سرزمین کے پشت پرایمان کی ڈھال ہو،اس پرباطل کاوارکبھی کامیاب نہیں ہوتا۔

دنیانے حیرت کے ساتھ دیکھاکہ اسرائیلی حمایت کے باوجودبھارت کومنہ کی کھانی پڑی۔بالآخراس کی قیادت کوامریکی صدرٹرمپ سے سیزفائرکی بھیک کرنی پڑی۔یہ لمحہ بھارت کی تاریخ کا سب سے بڑاداغ ہے،جب اس کی فوجی طاقت اورعالمی حمایت کے باوجودوہ پاکستان کے سامنے سرنگوں ہوگیا۔یہ لمحہ بھارت کی تاریخ کاسیاہ ترین لمحہ تھا۔اسرائیلی مدد کے باوجودیہ رسوائی اس بات کااعلان تھی کہ پاکستان کے خلاف ہراتحادناکام ہوگا۔تاریخ کے صفحات پریہ لمحہ اس کیلئے قیامت صغریٰ ہے،اورپاکستان کیلئے ایک اورغازیانہ فتح کا عنوان ۔

جب دشمن عسکری اوردہشتگردی کے محاذ پرناکام ہواتواس نے فطرت کے سب سے قیمتی تحفے،یعنی پانی کوہتھیاربنانے کی کوشش کی۔آبی دہشتگردی کاایک نیاباب کھلا۔بھارت نے اپنے ڈیموں کے پانی کارخ موڑکرپاکستان کوسیلابوں میں ڈبونے کی سازش کی۔ڈیمزکے پانی کوروک کراورپھربارشوں کے موسم میں رخ بدل کرپاکستان کوسیلابوں میں غرق کرنے کی سازش کی گئی۔ گرمیوں میں پانی روک لیاگیاتاکہ پاکستان کے کھیت پیاس سے مرجائیں، اوربارشوں میں یکدم پانی چھوڑکربستیاں ڈبودی گئیں۔یہ آبی دہشتگردی محض پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین کے خلاف بھی تھی۔

دنیاکے مہذب معاشرے پانی کوزندگی کا ذریعہ سمجھتے ہیں،لیکن بھارت نے اسے موت کاہتھیاربنادیا۔لیکن پاکستان کے عوام نے ان آفات کوبھی صبر اورحوصلے سے سہہ لیا۔بھارت نے دنیاکے سامنے اسے”قدرتی آفت”کانام دیالیکن ہرصاحبِ بصیرت نے جان لیاکہ یہ دراصل دشمن کی نئی سازش ہے۔ وہ یہ سمجھ بیٹھاہے کہ قدرتی آفات کابہانہ بناکراپنی سازش چھپالے گا،لیکن حقیقت آخرکارسامنے آہی گئی۔وہ اپنے تئیں مکاری کے اس سراب میں بیٹھا سوچ رہاتھاکہ پانی کے سیلاب سے ایک نظریہ کوبہالے جائے گامگروہ نہیں جانتا کہ کلمۂ حق کی بنیادکوکوئی طوفان مٹانہیں سکتا۔

یہ وہی پراناحربہ ہے جوفرعون نے نیل کے پانی پرقبضے کاخواب دیکھاتھالیکن بالآخراسی نیل نے اسے غرق کیا۔بھارت کی آبی دہشتگردی بھی اسی فرعونی روش کی یاددلاتی ہے۔قرآن نے فرعون کے انجام کے بارے میں فرمایا:پھراللہ نے اسے دنیااورآخرت دونوں کیلئےعبرت کانشان بنادیا۔(النازعات: 25)
یہ آیت اس بات کی ضمانت ہے کہ جوبھی قوم فطرت کے نظام سے کھیلنے کی کوشش کرے گی،وہ خوداس کے عذاب میں گرفتار ہوگی۔

مودی نے پاکستان کوکمزورکرنے کی ہرممکن کوشش کی۔مودی نے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھاکہ جس امریکاپراس نے تکیہ کیا تھا،وہ اب کھل کراس کی پالیسیوں سے کنارہ کشی کررہاہے۔مودی،جوکبھی واشنگٹن کے دروازے پرسررکھتاتھا،آج ٹرمپ کی بے رخی دیکھ کرچین اورروس کی طرف دیکھ رہا ہے۔امریکی صدرنے نہ صرف اسے دھتکارابلکہ بھارت میں ہونے والی “کواڈ” میٹنگ میں نہ صرف شرکت سے انکارکیابلکہ بھارت کی پالیسیوں پرکھلے لفظوں میں ناپسندیدگی کااظہارکیا۔یہ وہ لمحہ تھاجب بھارت کیلئےعالمی سیاست کے دروازے بندہونے لگے۔

مودی کیلئے یہ لمحہ شکست وریخت کاتھا۔اب وہ اپنی کھوئی ہوئی سیاسی عزت کوبچانے کیلئے روس اورچین کے درپرجابیٹھاہے۔ ایسے میں روس اورچین کے سامنے ہاتھ پھیلانااس کی مجبوری بن گیالیکن یہ بھی ایک عارضی سہاراہے،کیونکہ روس اورچین کی اپنی ترجیحات ہیں،اوریہ دونوں ممالک بھارت کو محض ایک مہرہ اورآلہ سمجھتے ہیں،نہ کہ کوئی حلیف اورنہ کوئی حقیقی شراکت دار۔بھارت کیلئے یہ تبدیلی ایک ایسی ڈوبتی کشتی ہے جس کاسہارابھی غیریقینی ہے۔

ٹرمپ کے اس رویے کے بعدمودی کوعوامی نفرت اوردباؤنے اس کے اوسان خطاکردیئے اوریہ وہی وقت ہے جب”اکھنڈبھارت”کا خواب پھرسے اس کے لبوں پرآنے لگا۔بھارت کادعویٰ ہے کہ بحرہندکے ساحل سے جُڑے تمام ممالک—سری لنکا،نیپال،بھوٹان، مالدیپ،حتیٰ کہ پاکستان تک—سب”اکھنڈبھارت”کاحصہ ہیں۔یہ سوچ دراصل چانکیہ کے اس فلسفے کاتسلسل ہے جس میں طاقت اوردھوکہ ہی سیاست کے ہتھیارہیں لیکن تاریخ اس خواب کی بارہانفی کرچکی ہے۔محمودغزنوی کے حملے ہوں یااحمدشاہ ابدالی کی یلغار،بھارت ہمیشہ بیرونی طاقتوں کے سامنے کمزورثابت ہوا۔آج بھی اس کا”اکھنڈبھارت”کامحض سراب بھارت کے جلدٹوٹنے کاآغازبھی ہے جومودی کے ہاتھوں انجام تک پہنچے گا۔

ٹرمپ نے بھارت کی پالیسیوں پرکڑی تنقیداورپاکستان پربھارتی آبی جارحیت کوکھلے الفاظ میں مستردکرتے ہوئے کہاکہ امریکا روس اورچین کے اتحاد سے خوفزدہ نہیں۔اس بیان کااصل مخاطب بھارت تھا۔گویابھارت کوواضح پیغام دے دیاکہ اس کی جارحانہ روش ناقابلِ قبول ہے۔وہ دنیاکے سامنے روس اورچین کے صدورکے ساتھ تصویریں بنواکرامریکاکومرعوب کرنے کی کوشش نہ کرے۔مودی کایہ اوچھاعمل درحقیقت وہ ایک تنہا ریاست کاہے،جواپنی ناکامیوں کوچھپانے کیلئےدنیاکے سامنے جھوٹی نمائش کر رہاہے۔ یہپیغام دراصل بھارت کیلئے ایک تنبیہ تھاکہ حقیقت کوچھپانہیں سکتا۔

دنیاکے سامنے بھارت کااصل چہرہ ابھرآیاہے۔اس کے ہتھکنڈے،اس کی پراکسیزاوراس کی آبی دہشتگردی سب بے نقاب ہوچکی ہیں۔پاکستان کے خلاف ہرسازش ناکام ہوئی ہے،اور دنیاکے ضمیرنے بھارت کوایک جارح ملک کے طورپرپہچان لیاہے۔بھارت کی یہ پالیسی خود اس کیلئے وبالِ جان ہے ۔ امریکانے واضح کردیاکہ وہ بھارت کی جارحانہ روش کاحامی نہیں۔گویاعالمی سیاست میں بھارتی تنہائی اورزوال کاسفرشروع ہوچکاہے۔اورپاکستان،اپنی مشکلات اورآزمائشوں کے باوجود،دنیاکے ضمیرکوجھنجھوڑنے میں کامیاب ہورہاہے۔

پاکستان کی تاریخ ایمان،قربانی اورحوصلے کی کہانی ہے۔پاکستان کی یہ تاریخ دراصل ایمان،قربانی اورعزم کی کہانی ہے۔1965ء کی جنگ سے لیکر 2025 ءکے معرکوں اورسازشوں تک دشمن نے بارباراسے مٹانے اورپاکستان کوختم کرنے کی کوشش کی لیکن ہربارپاکستان ایک نئے حوصلے کے ساتھ ابھرا۔کبھی جنگ کے میدان میں،کبھی دہشتگردی کے اندھیروں میں،کبھی پانی کے طوفانوں میں،اورکبھی عالمی سیاست میں لیکن ہربارناکام ہوا،ہر سازش بے نقاب ہوئی،اورہرحملہ پاکستان کیلئے نئی حیات کاپیغام بن گیا۔ہمیشہ پاکستان کاپرچم بلندرہا۔

یہ ملک محض سرحدوں کانام اورمحض جغرافیہ نہیں بلکہ کلمہ کی بنیادپرایک نظریہ ہے۔یہ وہ خواب ہے جس کی تعبیراورتکمیل قائداعظم کی جدوجہداور عزم کے ساتھ معرضِ وجود میں آئی،اور یہ شہداءکے خون کی امانت ہے۔اسی لئےدشمن کی ہرسازش ناکام ہوگئی،اورپاکستان آج بھی”لاالہ الااللہ”کی بنیادپرسینہ سپرہے۔ قرآن کی وہی آیت آج بھی اس قوم کی بنیاد ہے: کتنی ہی چھوٹی جماعتیں ہیں جواللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پرغالب آگئیں۔(البقرہ: 249)

پاکستان کاوجوداسی آیت کازندہ ثبوت ہے۔دشمن کے تمام ہتھیار،تمام سازشیں،اورتمام خواب ہمیشہ ناکام ہوں گے کیونکہ یہ سرزمین “لاالہ الااللہ” کے نام پربنی ہے،اوریہ پرچم قیامت تک سربلندرہے گا۔ ۔پاکستان آج بھی اپنی شناخت پرقائم ہے۔یہ داستان ہمیں سبق دیتی ہے کہ جب قوم اپنے ایمان پرڈٹ جائے تودنیاکی کوئی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی ۔ پاکستان کی یہ سرزمین ہمیشہ قائم رہے گی،کیونکہ یہ کلمۂ حق پرقائم ہے۔اورجوقوم کلمۂ حق کواپنی بنیادبناتی ہے،اس کے خلاف باطل کے تمام ہتھیارہمیشہ ناکام رہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں