آج کی تحقیقی دستاویزمیں بھارت اورپاکستان کے درمیان پانی کے مسئلے پرممکنہ جنگی صورتحال کاایک فکری،قانونی اورتہذیبی تجزیہ پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔اس میں تاریخی پس منظر، سیاسی بیانات،فوجی توازن،بین الاقوامی قانون،اورعالمی اداروں کے کردارکاجائزہ لیاہے۔تحریر میں ادبی شائستگی،فکری گہرائی اورلسانی وقارکاخاص خیال رکھاگیاہے تاکہ یہ محض ایک رپورٹ نہ ہو بلکہ ایک فکری وعلمی شہادت بن سکے۔
برصغیرکاخطہ،جس نے کبھی دریائے سندھ کی روانی میں تمدن کی کشتیاں بہائی تھیں،آج اسی پانی کی دھارپرشمشیرآبدارتھامے کھڑا ہے۔دریاؤں کی سرزمین ، جوکسی زمانے میں زندگی کی علامت تھی،اب باہمی عدم اعتماد،جغرافیائی رقابت اورسیاسی ترجیحات کے ہاتھوں جنگ کی دہلیزپرکھڑی ہے۔بھارت کے حالیہ جارحانہ بیانات اورپاکستان کاردِعمل ایک ایسے المیے کی نویددے رہے ہیں جو صرف فوجی محاذپرنہیں،بلکہ تہذیبی،ماحولیاتی اورانسانی سطح پربھی خوفناک نتائج پیداکرسکتاہے۔
انڈیااورپاکستان کے درمیان پانی کاتنازعہ ایک طویل عرصے سے جاری ہے،جوبنیادی طورپردریائے سندھ کے طاس سے منسلک ہے۔حالیہ ہفتوں میں انڈیا کے آبی وسائل کے وزیرسی آرپاٹیل کے بیان(پاکستان کوایک قطرہ پانی نہیں دیاجائے گا)اورجوابی ردعمل میں پاکستان کایہ کہناکہ پانی روکنا”اقدامِ جنگ” ہوگا،محض سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک قومی سلامتی کااقرار ہے۔آبی ذرائع پاکستان کی زراعت،معیشت،اورانسانی بقاسے جُڑے ہیں۔ان کاروکنا گویا زندگی کی شہ رگ کودباناہے۔(ایسااقدام جنگ کے مترادف ہوگا)نے اس مسئلے کوایک نئے تناؤکی طرف دھکیل دیاہے۔
برصغیرمیں پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ تہذیبوں کاخمیرہے۔سندھ،جہلم،چناب اورراوی کے کناروں پرانسانی تاریخ نے کئی تمدنوں کوجوانی بخشی ۔1960ءکاسندھ طاس معاہدہ اس تاریخی حقیقت کااعتراف تھاکہ دریاکسی قوم کی جاگیرنہیں،بلکہ خداکی نعمت ہیں۔تاہم آج یہ معاہدہ بھارتی قیادت کے جارحانہ بیانات کی زدمیں ہے۔وزیرآبی وسائل سی آرپاٹیل کابیان کہ “پاکستان کوایک قطرہ بھی نہ ملے”ایک ایسا اشتعال انگیزجملہ ہے جوسیاست کوسفارت سے جداکرکے اسے خالص طاقت کے پیمانے پرلے آتاہے۔یہ پانی کوزندگی سے کاٹ کرہتھیارمیں تبدیل کرنے کی کوشش ہے—گویانیل کوفرعون کی ملکیت قراردے دیناہے۔
پانی اب فقط زراعت کامسئلہ نہیں رہا؛یہ قومی سلامتی کا،وجودکا،اورعلاقائی سیاست میں بالادستی کامسئلہ بن چکاہے۔دریاوہ پُرخروش وجودبن گئے ہیں جن کے کناروں پراب کھیتی کم اور توپوں کی گرج زیادہ سنائی دیتی ہے۔تاریخی اعتبارسے دریائے سندھ اوراس کے معاون دریاؤں نے نہ صرف زراعت کوسہارادیا بلکہ دونوں ملکوں کے عوام کے مابین قدرتی اشتراک کاکرداربھی اداکیا۔ 1960ءکاسندھ طاس معاہدہ،جوعالمی ثالثی اورعقلی سفارتکاری کاشاہکارتھا،آج شدیددباؤکی زدمیں ہے۔بھارت کے آبی وسائل کے وزیرکاحالیہ بیان—ایک ایساسیاسی طبلِ جنگ ہے جس نے فضاکوبارودآلودکردیاہے۔
پاکستان کی90فیصدزراعت دریائی پانی پرمنحصرہے۔پانی کی کمی قحط اورمعاشی تباہی کاسبب بن سکتی ہے۔متعصب ہندوقوم پرست مودی اپنے سیاسی اقتدار اوراپنی سیاسی غلطیوں کوعوام سے چھپانے کیلئے بھی دریاؤں کاکنٹرول مقامی ریاستوں(جموں وکشمیر، پنجاب)میں سیاسی استحکام کیلئے اہم سمجھتاہے تاکہ عوام کی توجہ داخلی مسائل سے ہٹاکران خطرات کی طرف مبذول کرائی جا سکے۔
دریاؤں کی تقسیم اوراستعمال کے حوالے سے بین الاقوامی ادارے نے اخلاقی معیارات،آبی تنازعات کومدںطررکھتے ہوئے ایک نظریاتی فریم ورک جاری کررکھاہے جوعالمی قانون تین اہم اصولوں”معقول ومنصفانہ استعمال”،”نقصان سے بچاؤاور”اطلاع اور مشاورت”پراستوارہے۔یہ اصول اقوام متحدہ کے آبی کورسزسے متعلق کنونشن1997میں واضح طورپربیان کئے گئے ہیں جسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظورکیاتھا۔اگرچہ بھارت اس معاہدے کادستخط کنندہ نہیں،لیکن یہ اصول”عالمی عرفی قانون کے زمرے میں آتے ہیں،یعنی تمام اقوام ان کے اخلاقی طورپرپابندہیں۔بھارت اگردریاؤں کابہاؤروکنے یا رخ موڑنے کی کوشش کرتاہے،تووہ نہ صرف سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرے گابلکہ اقوامِ عالم کے متفقہ قانونی اصولوں کے خلاف بھی اقدام تصورکیاجائے گا۔یہ عمل ایک ایساقانونی جرم ہوگاجوبین الاقوامی دباؤاورتعزیرات کاجوازبن سکتاہے۔
1960ءمیں عالمی بینک کی ثالثی سے طے پانے والاسندھ طاس معاہدہ،بین الاقوامی معاہدات میں ایک نمایاں مقام رکھتاہے۔یہ معاہدہ اس بنیادپرقائم ہوا تھاکہ تین مشرقی دریا(راوی، بیاس،ستلج)بھارت کو،اورتین مغربی دریا(سندھ،جہلم،چناب)پاکستان کودیے گئے۔ورلڈ بینک اس معاہدے کا”ضامن” ہے،اوراس کی نگرانی،شکایات کے ازالے،اورثالثی میں اس کا کردارکلیدی ہے۔انڈیاکومغربی دریاؤں پر محدوداستعمال(مثلاًبجلی کی پیداوار)کی اجازت ہے،لیکن پانی کوروکناممنوع ہے۔اگربھارت دریاروکنے کی کوشش کرے توپاکستان عالمی بینک میں ’تنازع کی درخواست‘دائرکرسکتاہے۔اس کامطلب یہ ہے کہ یہ معاملہ محض دوممالک کے درمیان نہیں رہے گا،بلکہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں اوردنیاکی نظروں میں ایک قانونی مقدمہ بن جائے گاگویاسندھ طاس معاہدہ ان بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں امن یافناکی لکیربن چکاہے۔
پاکستان کی جانب سے یہ واضح عندیہ دیاگیاہے کہ دریاؤں کاپانی روکنا’اقدامِ جنگ‘کے مترادف ہوگا۔یہ اعلان کسی مہم جوئی کاغماز یاصرف سیاسی یاعسکری ردعمل نہیں بلکہ قومی بقاکا اعلان ہے۔پاکستان کی زراعت،صنعت اورروزمرہ زندگی ان دریاؤں سے منسلک ہے اورپاکستان کی زراعت کا90فیصد دارومدار انہی دریاؤں پرہے۔ان کارک جاناگویاپورے ملک کی نبض پرہاتھ رکھ کراسے دبادیناہے۔گویایہ جنگ ہتھیاروں سے پہلے پانی کے قطروں پرلڑی جارہی ہے ۔جہاں بھارت ایک آبی قوت بننے کے خواب دیکھ رہا ہے،وہیں پاکستان اس خواب کو اپنے وجود کے خلاف اعلانِ جنگ سمجھ رہاہے۔اگربھارت آبی جارحیت کوہتھیاربنائے،توپاکستان کیلئے خاموش رہناممکن نہ ہوگا۔اگربھارت نے یہ”آبی سرجیکل سٹرائیک”کی،تویہ ممکن ہے کہ میدانِ جنگ زمین پرہو،لیکن اس کے شعلے فضا،معیشت اورتہذیب کوجھلسادیں۔
پاک وہندمیں تنازعات کی تاریخ کئی دہائیوں پرمحیط ہے لیکن پہلگام کے فالس فلیگ آپریشن کے بعد تیزی کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوتاجارہاہے۔ 1965ءاور1971ءکی کشیدگی کے جواب میں جنگوں کوبھی ایک اہم وجہ سمجھاجاتاہے لیکن2000ءکی دہائی میں پانی،کشمیراوردہشتگردی پرجامع مذاکرات ہوئے لیکن2019ءمیں ایک اورفالس فلیگ پلوامہ آپریشن کے نتیجے میں انڈیانے پاکستان کودریاکے پانی کا”ریاستی ہتھیار”بنانے کی دھمکی دی تھی۔ بعدازاں2021ءمیں دونوں ممالک نے کشمیرمیں فائربندی پراتفاق کیاجو چندروز قبل تک کامیابی کے ساتھ چل رہاتھا۔
سویڈن کے سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے2024میں دفاع پر86ارب ڈالرخرچ کرنے کا منصوبہ بنایا،جبکہ پاکستان کی مجموعی دفاعی بجٹ محض10ارب ڈالرکے آس پاس ہے۔یہ عدم توازن محض ہتھیاروں کی گنتی کا معاملہ نہیں،بلکہ ایک ایسی جنگی فضاکاآئینہ ہے جس میں دانائی،حکمت اورسفارت کے بغیرامن کی کوئی صورت باقی نہیں بچتی۔یہ فرق نہ صرف وسائل کاہے،بلکہ عالمی طاقتوں کی حمایت،ٹیکنالوجی اور جنگی حکمت عملی کابھی ہے۔پاکستان اپنی جغرافیائی مجبوریوں میں جکڑاہواہے،جبکہ بھارت کومشرق،مغرب اوردنیابھرمیں تزویراتی شراکت داری حاصل ہے۔
انڈیاکی فوجی طاقت(15لاکھ اہلکار)پاکستان(6لاکھ اہلکار)سے کہیں زیادہ ہے لیکن پاکستان کی پیشہ وارانہ مہارت کی حامل فوج جو برسوں سے ملک کے اندربھارتی دہشتگردی کے خلاف بھرپورکامیاب کاروائیوں میں مصروفِ عمل اورمتحرک ہے اوراس کے ساتھ ساتھ فوجی عدم توازن کے مقابلےکیلئے جوہری ردعمل بھی جنگ کوغیرمنطقی انجام تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتاہے کیونکہ جنگ صرف بندوقوں کی گنتی کانام نہیں،مگرجب کسی ملک کے پاس ڈرون،سیٹلائٹ،اوربیلسٹک میزائل ہوں اوردوسرے کے پاس صرف غیرت اورتجربہ،توجنگ کا انجام بہت کچھ طے شدہ محسوس ہونے لگتاہے۔یہ عسکری تفاوت خطے میں ممکنہ تنازع کومزید پیچیدہ بناتاہے۔تاہم جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں،بلکہ حکمت اورسفارت سے بھی جیتی جاتی ہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ چھوٹے لشکربھی اگراپنی بقاکیلئے لڑیں،تووہ بڑے لشکروں کوتھام سکتے ہیں—شرط یہ ہے کہ تدبیر،ایمان،اوراتفاق ساتھ ہو۔
مودی اوراس کے جنگی مافیاکایہ فالس فلیگ آپریشن جن مقاصدکیلئے سرانجام دیاگیاتھا،اب اس کے ممکنہ نتائج کی بجائے الٹاان کے گلے میں ہڈی بن کران کاسانس بندکررہاہے۔ان ممکنہ خوفناک حالات سے نکلنے کیلئے جوجنگ کے ممکنہ مناظرنظرآرہے ہیں اس میں مودی اوران کے حواری اپنی قوم کے سامنے شرمندگی سے بچنے کیلئے محدودجنگ کاآغازکرسکتے ہیں جس میں کشمیرمیں سرحدی جھڑپیں جوشروع ہوچکی ہیں اورپاکستان کی طرف سے بھرپورجواب ملنے پرخاموشی چھاگئی ہے اوراب ممکن ہے کہ وہ سائبرجنگ(جیسے پاکستان کے پانی کے ڈیٹا سسٹمز کوہیک کرنا)کابھی آغازکریں۔پاکستان میں اپنے پراکسی دہشتگرد گروپس کی مددسے پاکستان میں داخلی کشیدگی میں اضافہ کرنے کی کوشش کریں گے۔
ماضی میں بھی دونوں ممالک جنگ کے دہانے تک پہنچے،جیساکہ2001کاپارلیمنٹ حملہ یا2019کاپلوامہ واقعہ،مگرپھربھی بیک چینل مذاکرات،عالمی دباؤ اورخطے کے زمینی حقائق نے دونوں ملکوں کوایک مہیب انجام سے روکے رکھااوردونوں ممالک سفارت کاری کے ذریعے واپس آئے۔بیک چینل مذاکرات ،عالمی دباؤاورجنگ کے بعدکی ہولناکی کااحساس دونوں کومیزپرلے آیا۔پہلگام حملے کے بعدموجودہ کشیدگی اسی تناظر میں دیکھنے کی متقاضی ہے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جنگ کی پہلی گولی سے پہلے بھی ہزار مواقع ہوتے ہیں۔دونوں اطراف عقل وشعورکے چندچراغ ہمیشہ روشن رہتے ہیں—شرط یہ ہے کہ کوئی ان کے گردپروانہ بننے کی ہمت کرے۔پانی کی جنگ ہویاخاک کی،انسانیت کی بقاءہمیشہ وہیں ممکن ہے جہاں بات چیت کادریاخشک نہ ہو۔
اقوام متحدہ کے آبی کورسز1997ءکاکنونشن میں اگرچہ بھارت دستخط کنندہ نہیں،مگراس کے اصول عرفی بین الاقوامی قانون کا درجہ رکھتے ہیں۔عالمی بینک کاثالثی کرداراس معاہدے کوقانونی تحفظ فراہم کرتاہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آبی جارحیت کوتجارتی ناکہ بندی امن کے خلاف اقدام’کے طورپر خبردارکرتے ہوئے اس پرعالمی پابندیاں لگاسکتی ہے۔
پانی کازبردستی روکنا”تجارتی ناکہ بندی”کے زمرے میں آتاہے اوریہ عمل امن وسلامتی کے خلاف خطرہ سمجھاجاتاہے۔اقوام متحدہ چارٹرکے باب7کے تحت،اگرکوئی عمل عالمی امن کو خطرے میں ڈالے،تواس پرپابندیاں،ثالثی،یاحتیٰ کہ اقوام متحدہ کی افواج کااقدام بھی ممکن ہے—اگرچہ عملی سطح پریہ امکانات اکثرسیاسی حمایت سے مشروط ہوتے ہیں۔بھارت کو بین الاقوامی سطح پرکٹہرے میں لانے کیلئے پاکستان کوسفارتکاری،قانونی مہارت،اورعالمی حمایت کے امتزاج کی ضرورت ہوگی۔یادرکھیں:دنیاکاقانون شمشیر سے نہیں،تدبیرسے لکھاجاتاہے۔
بھارت کی جانب سے ممکنہ آبی جارحیت کوہمیشہ کیلئے ختم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اس کے مستقل حل کی راہیں تلاش کی جائیں جس کیلئے فوری طورپران تین تجاویزپرعملدرآمد کیلئے عالمی پیمانے پرسفارتی کاروائیوں کاآغازکیاجائے۔
سندھ طاس معاہدے اوردیگرتنازعات کے حل کیلئے عالمی ثالثی کمیشن بناتے ہوئے باہمی مذاکرات کوفعال بنایاجائے۔دوسرافوری طورپرورلڈبینک کی ثالثی کیلئے مشترکہ درخواست کااہتمام کیا جائے۔تیسراعلاقائی آبی معاہدوں کیلئے”ایس سی او”یا”سارک”کے فریم ورک کواستعمال کیاجائے۔آخری تجویزیہ ہے کہ اقوام متحدہ میں مستقل آبی نمائندگی کاقانون منظورکروایاجائے تاکہ مستقبل میں کہیں بھی ایسا تنازعہ جوعالمی امن کیلئے خطرہ بن سکتاہو،اس کیلئے اقوام متحدہ اپنابھرپورکرداراداکرے۔یادرہے کہ اگربرصغیرکے دو ایٹمی ملک دریاکے پانی پرجنگ چھیڑدیں،تویہ صرف ان کا نہیں،دنیاکامسئلہ بنے گا۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی تاریخ کی روشنی سے قانون وسفارت کی نئی راہیں نکالیں—اوربجائے دریاروکنے کے،ان کے بہاؤمیں امن کی لہریں شامل کریں۔
پہلگام کے فالس فلیگ آپریشن کے بعدبین الاقوامی ردعمل بھی سامنے آرہاہے کہ کسی طورپردوایٹمی قوتوں کے درمیان جنگ کے خطرات کواگرختم نہیں توکم کیاجائے۔پاکستان کااتحادی ہونے کے ناطے چین کیلئے سی پیک منصوبے کی حفاظت اس کی سب سے بڑی ترجیح میں شامل ہے کیونکہ سی پیک منصوبہ ہی چین کی طرف سے دنیامیں سب سے بڑے منصوبے “بی آرآئی”بیلٹ اینڈروڈ انیشی ایٹو”کے ساتھ ملائے گا۔ضروری ہے کہ قارئین کیلئے انتہائی اختصارکے ساتھ اس پراجیکٹ کے متعلق بتایاجائے تاکہ چین اپنے ان پراجیکٹس کیلئے کیوں اور کس قدرحساس ہے۔
یہ منصوبہ2013میں چینی صدرشی جن پنگ نے پیش کیاتھا۔بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹودنیاکاسب سے بڑاانفراسٹرکچراوراقتصادی رابطہ کاری کامنصوبہ ہے—اوراس کی مجموعی مالیت کاتخمینہ تقریباً1.3سے2ٹریلین امریکی ڈالرکے درمیان لگایاگیاہے۔اس کامقصدقدیم شاہراہِ ریشم کے تصورکوجدیدتقاضوں کے مطابق دوبارہ زندہ کرناہے،تاکہ ایشیا،یورپ،افریقا،اورلاطینی امریکا کے ممالک کے درمیان اقتصادی اورتجارتی روابط کومضبوط کیاجاسکے۔یہ زمینی راستہ ہے جوچین کووسطی ایشیا،مشرقی یورپ،اور مغربی یورپ سے جوڑتاہے۔گوادرپورٹ21ویں صدی کی میری ٹائم سلک روڈکاواحدسمندری راستہ ہے جو چین کوجنوب مشرقی ایشیا،جنوبی ایشیا،مشرقی افریقا،اوریورپ کے ساحلی علاقوں سے منسلک کرتاہے۔
اس کامقصدقدیم شاہراہِ ریشم کے تصورکوجدیدتقاضوں کے مطابق دوبارہ زندہ کرناہے،تاکہ ایشیا،یورپ،افریقا،اورلاطینی امریکا کے ممالک کے درمیان اقتصادی اورتجارتی روابط کومضبوط کیاجا سکے۔یہ زمینی راستہ ہے جوچین کووسطی ایشیا ،مشرقی یورپ،اور مغربی یورپ سے جوڑتاہے۔گوادرپورٹ21ویں صدی کی میری ٹائم سلک روڈکاواحدسمندری راستہ ہے جوچین کوجنوب مشرقی ایشیا،جنوبی ایشیا،مشرقی افریقا،اوریورپ کے ساحلی علاقوں سے منسلک کرتا ہے۔
چینی حکومت کی جانب سے(2023 تک)براہ راست تقریباًایک ٹریلین امریکی ڈالرخرچ یامختص کیے جاچکے ہیں۔نجی اورریاستی چینی بینکوں،کمپنیوں، اور فنڈز کی شمولیت سے متوقع مجموعی مالیت ڈیڑھ سے 2ٹریلین امریکی ڈالرتک پہنچ سکتی ہے۔مختلف ذرائع کے مطابق اگرتمام منصوبے مکمل ہوئے تومنصوبہ کی مالیت اوربڑھ سکتی ہے۔بی آرآئی میں150سے زائدممالک اورادارے کسی نہ کسی شکل میں وابستہ ہیں۔بی آرآئی منصوبے کے تحت بندرگاہیں،ریلوے، سڑکیں ،توانائی(بجلی،گیس،تیل)،ٹیلی کمیونیکشن،لاجسٹک کوریڈورز،فائبرآپٹک جی،اے آئی 5،اورڈیجیٹل سلک روڈمیں سرمایہ کاری کی گئی ہے۔گویا عالمی معاشی نطام پرمکمل گرفت نظرآ رہی ہے۔اس کے ساتھ ہی اگرچین کی علاقائی توسیع کی طرف نظر دوڑائیں توبی آرآئی اب ایشیا،یورپ،افریقا،لاطینی امریکااور بحرالکاہل کے متعددممالک تک پھیل چکاہے۔
اپریل2025میں،چین کے گوانگژوبندرگاہ سے پیروکے چانکائے پورٹ تک براہِ راست شپنگ روٹ کاآغازہوا۔یہ راستہ جو”کوسکو کوسکووولگا’نامی 300 میٹر لمبے جہازکے ذریعے چلایاجا رہا ہے،ایشیااورجنوبی امریکاکے درمیان تجارتی روابط کومضبوط بنانے کیلئےاہم قدم ہے۔اس سے پیروتک نقل وحمل کاوقت تقریباً30دن ہوگیاہے اورلاجسٹک لاگت میں تقریباً20%کمی آئی ہے۔چین لاؤس ریلوے،جوبی آرآئی کاایک نمایاں منصوبہ ہے،نے دونوں ممالک کے درمیان فریٹ ٹائم اورلاجسٹک لاگت کونمایاں طورپرکم کیاہے۔ چین اورلاؤس کے درمیان تجارتی حجم میں سال بہ سال26.6فیصداضافہ ہوا،جو7.1بلین امریکی ڈالرتک پہنچ گیاہے۔
ورلڈبینک کے مطابق،بی آرآئی کے تحت شامل معیشتیں دنیاکی30%جی ڈی پی،60%آبادی،40%عالمی تجارت اور75٪معروف کرنے،توانائی کے ذخائرکی نمائندگی کرتی ہیں۔یہ منصوبہ سرحدپاربنیادی ڈھانچے کوبہتربنانے،تجارتی لاگت کوکم اورتجارتی قواعد کوبہتربنانے کے مواقع فراہم کرتاہے۔بی آرآئی کے تحت حاصل کردہ قرضوں کی ادائیگی میں کچھ ممالک،جیسے زیمبیا، پاکستان،اورسری لنکاکومشکلات کاسامناہے جس سے ان کی معیشتوں پردباؤ بڑھاہے۔ جس کی بناءپربڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے ماحولیاتی اثرات پربھی تشویش کااظہارکیا گیا ہے۔ورلڈٹریڈمارکیٹ(اوای سی ڈی،ای یو آئی پی او)کی ایک رپورٹ کے مطابق بی آرآئی کے تحت سرمایہ کاری حاصل کرنے والے ممالک سے جعلی مصنوعات کی تجارت میں اضافہ ہواہے۔
بی آرآئی اب اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہورہاہے،جس میں بڑے منصوبوں سے ہٹ کرچھوٹے،پائیدار،اورماحولیاتی لحاظ سے دوستانہ منصوبوں پرتوجہ دی جارہی ہے۔اس میں قابل تجدیدتوانائی کے منصوبے اورنجی چینی سرمایہ کاری شامل ہیں،تاکہ قرضوں کے بوجھ اورماحولیاتی اثرات کوکم کیاجاسکے۔
پہلگام حملے کوچین کے معاشی محاصرے کے تناظرمیں پاک-چین اقتصادی راہداری پردباؤڈالنے کی ایک ممکنہ حکمتِ عملی کے طورپردیکھاجاسکتاہے۔اس حملے کے بعدبھارت کی جانب سے پاکستان پرالزامات،آبی معاہدوں کی معطلی،اورعسکری تیاریوں میں اضافہ،خطے میں کشیدگی کوبڑھارہاہے،جس کااثرسی پیک جیسے منصوبوں پربھی پڑسکتاہے۔چین نے پہلگام حملے کے بعدپاکستان کے موقف کی مکمل حمایت کی اورغیرجانبدارتحقیقات کامطالبہ کیا۔چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے پاکستانی وزیرخارجہ اسحاق ڈار سے گفتگومیں اس بات پرزوردیاکہ مسائل کاحل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیاجاناچاہیے۔
بھارت،پہلگام حملے کوبنیادبناکرخاص طورپرچین کے خلاف اقدامات کیلئے امریکااوردیگرمغربی ممالک سے حمایت حاصل کرنے کیلئے پورازورلگائے گاجس میں اب تک اس کوکوئی خاص کامیابی نہیں ہوسکی تاہم مودی حکومت پوری کوشش کررہی ہے کہ اس فالس فلیگ آپریشن کے نتیجے میں پاکستان پرعسکری اورسفارتی اقدامات کادباؤڈال کرسی پیک کونقصان پہنچایاجائے تاکہ چین اور پاکستان کے اقتصادی مفادات متاثرہوں۔ایسے اقدامات سے خطے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے،جونہ صرف پاکستان بلکہ چین کیلئےبھی تشویش کاباعث ہوسکتی ہے۔توقع ہے کہ عالمی ردعمل کے نتیجے میں امریکااورروس انڈیاکے اسٹریٹجک پارٹنرزہونے کے باوجود، خطے میں جوہری جنگ کے خطرے کوروکنے کیلئےدباؤڈالیں گے۔
آج جب بھارت اورپاکستان دونوں نیوکلیئرصلاحیت کے حامل ہیں،توپانی کی جنگ کاانجام صرف ایک فریق کی شکست نہیں،بلکہ پورے خطے کی ہلاکت ہوگا ۔ دریااگرہتھیاربن جائیں،تو زندگی مرجاتی ہے۔ہمیں پھرسے وہی تدبر،وہی حکمت،اوروہی تہذیب کی روشنی درکارہے جس نے1960میں سندھ طاس معاہدے کوجنم دیا۔یہ وقت ہے کہ بھارت وپاکستان،دونوں اپنی سیاسی اناؤں سے بلند ہوکرتاریخ اورجغرافیہ کے تقاضوں کوسمجھیں۔اگرپانی کوہتھیار بنایا گیا،تواس کاعذاب صرف دشمن پرنہیں،خودحملہ آورپربھی نازل ہو گا۔دریاؤں کی بندش گویازندگی کی بندش ہوگی—اوریہ بندش،جوآج ممکنہ طورپر سیاسی برتری کاآلہ سمجھی جارہی ہے،کل انسانی تاریخ کاسب سے افسوسناک باب بن سکتی ہے۔فریقین کی طرف سے جارحانہ بیان بازی کوروکنے کیلئے اقوام متحدہ اوردیگرعالمی ادارے آگے بڑھ کراس میں مثبت کرداراداکرسکتے ہیں۔تاہم اگربھارت پانی کوہتھیاربناتاہے توپاکستان اسے سلامتی کونسل میں لے جا سکتاہے۔
یادرکھیں!دریاکبھی جھوٹ نہیں بولتے۔جب دریابپھرجائیں توپانی بہتاہے،بانٹتاہے،اورجوڑتاہے—مگرجب سیاست اسے روکتی ہے،تو وہ چیخنے لگتاہے۔ عالمی قانون،اقوام متحدہ،اور ورلڈ بینک کے پاس ایسے اوزارضرورہیں جن سے جنگ روکی جاسکتی ہے مگروہ صرف تب کام کرتے ہیں جب دونوں فریق قانون کوطاقت سے برترمانیں۔برصغیرمیں آبی سیاست،عسکری دھمکیاں اورممکنہ جنگ کی کہانی کوروکنے کاواحدحل یہی ہے کہ یہاں انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں تاکہ متعصب ہندوپرست مودی بارباراپنے اقتدارکودوام دینے کیلئے فالس فلیگ آپریشن کاڈرامہ رچاکراپنے ہی ملک کے شہریوں کی جان نہ لے سکے۔
تاریخ گواہ ہے کہ کارگل،پلوامہ،اوراوڑی جیسے بحرانوں کے بعدبھی دونوں ممالک بات چیت کی میزپرآئے۔آج بھی،اگرسیاسی عزم ہو،توبیک چینل سفارتکاری اورعالمی ثالثی اس بحران کوٹال سکتی ہے۔دریابغاوت نہیں کرتے،مگرجب انسان ان کی راہ روکتاہے،تو وہ تاریخ کی گواہی بن جاتے ہیں۔پانی کوہتھیار بنانے کی بجائے،اسے امن کاوسیلہ بنایاجائے۔اگربھارت نے پانی روکا،توپاکستان صرف خاموش تماشائی نہ رہے گا—یہ مسئلہ جنگ وامن کا،حیات وممات کا،اورتہذیب وتباہی کاہے۔
سوال یہ ہے کہ کیاان حالات میں جنگ ناگزیرہے؟نہیں،کیونکہ کوئی بھی ملک اپنی تباہی کاخطرہ مول نہیں لے گا۔ایٹمی تصادم کو روکنے کیلئے اقوام متحدہ ، چین،اورامریکاثالثی کی کوشش کریں گے۔دونوں ملکوں کے اندرداخلی اورخارجی دباؤانڈیاکوانتخابات میں اورپاکستان کومعاشی بحران کی وجہ سے غیرمقبول بناسکتے ہیں۔ہاں اگرانڈیاسندھ طاس معاہدے کوتوڑدینے کااعلان کرے گاتویقیناً پاکستان اپنے جائزحق کیلئے شدید ردعمل کے طورپر”ریڈلائنز” عبور کرے گااورحالات اس بات کی مضبوط گواہی دے رہے ہیں کہ ایساہونے پرپاکستان اپنے پانی کیلئے ان دریاؤں کے منبع پراپناقبضہ کرے گاجس سے کشمیرکے آزاد ہونے کابھی خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتاہے اوریہ بھی عین ممکن ہے کہ رب تعالیٰ کی مشیت ہو سکتی ہے کہ ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہداء کی قربانیوں رنگ لانے کاوقت آن پہنچاہے۔
اس تنازعہ کا پھر حل کیا ہے؟
٭پہلاحل تویہ ہے کہ سندھ طاس معاہد کی تجدید کرتے ہوئے موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر پانی کی تقسیم کے نئے اصول طے کیے جائیں۔
٭مشترکہ واٹر مینجمنٹ سسٹم کے تحت خشک سالی کے منصوبوں سے بچنے کیلئے پانی کی تقسیم کا ڈیٹا شیئرنگ کا منصفانہ طریقہ رائج کیا جائے۔
٭عوامی سطح پر بیداری کیلئے پانی کے تحفظ کیلئے اجتماعی اقدامات جیسے ڈرپ اریگیشن اور ڈیمز کی تعمیر کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیا جائے تاکہ پانی کے ذخیرہ کو سمندر میں گرنے سے بچا کر اسے زرعی ضروریات کیلئے استعمال کیا جا سکے۔
سندھ،جہلم،چناب اورراوی کے کنارے صرف پانی ہی نہیں،تمدن کی سانسیں بہتی تھیں۔سندھ طاس معاہدہ(1960ء)اسی تاریخی تسلسل کاعقلی اوربین الاقوامی مظہرتھامگراس نازک موڑپر سی آرپاٹیل کابیان گویاپانی میں زہرگھولنے کے مترادف ہے—کہ”پاکستان کو ایک قطرہ بھی نہ ملے”—اورجواب میں پاکستانی وزیردفاع خواجہ آصف نے کہاکہ”پانی روکناجنگ چھیڑنے کے برابرہوگا۔”یہ مکمل سپیکٹرم ڈیٹرنس بیان پاکستان کی فوجی پالیسی سے ہم آہنگ ہے، جوجوہری ہتھیاروں کوبھی شامل کرتاہے،پورے خطے کی آبی اور عسکری سلامتی کوخطرے میں ڈال دیاہے جبکہ پاکستان کاردِعمل ایک زخمی سناٹے کی طرح ہے جوکہہ رہاہے:”مت کھیل میرے آنگن کے پانی سے،یہ میری رگوں میں دوڑتی زندگی ہے”۔
٭آخری بات یہ ہے کہ پانی کاتنازعہ انڈیااورپاکستان کیلئے وجودی خطرہ ہے،لیکن تاریخ اورجوہری توازن جنگ کو”لاکھوں موتوں” والے منظرتک پہنچنے سے روکتے ہیں۔دونوں ممالک کیلئے ضروری ہے کہ وہ پانی کو”ہتھیار”بنانے کی بجائے”مشترکہ وسائل” کے طورپردیکھیں،کیونکہ موسمیاتی تبدیلیاں کسی کونہیں چھوڑیں گی۔
انڈیا اور پاکستان کی ممکنہ ایٹمی جنگ کے دنیا پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں،کسی بھی ذی شعور پرخوف کی جھرجھری طاری ہو جاتی ہے۔ جب دو ایٹمی طاقتیں — بھارت اور پاکستان — کسی تنازعے کی دہلیز پر کھڑی ہوں، تو یہ مسئلہ صرف دو ریاستوں کے درمیان نہیں رہتا؛ یہ ایک ایسا عالمی خطرہ بن جاتا ہے جو سرحدوں، براعظموں، اور نسلوں تک پھیل سکتا ہے۔ اگر خدانخواستہ ان دونوں ممالک کے درمیان ایٹمی جنگ چھڑ جائے، تو اس کے اثرات صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں ہوں گے، بلکہ پوری انسانیت اس کی لپیٹ میں آ جائے گی۔
ایک تحقیق کے مطابق اگر دونوں ممالک ایک دوسرے پر محدود ایٹمی حملے کرتے ہیں تو ابتدائی حملوں میں 12 کروڑ افراد سے کہیں زیادہ فوری طور پر لقمۂ اجل بن سکتے ہیں۔ بڑے شہر (مثلاً دہلی، کراچی، لاہور، ممبئی اوردیگردرجن شہر) صفحۂ ہستی سے مٹ سکتے ہیں، جہاں لاکھوں لوگ فوری تابکاری، آگ اور دباؤ کی لہروں سے ہلاک ہو جائیں گے۔ بنیادی ڈھانچے (اسپتال، سڑکیں، توانائی کے مراکز) مفلوج ہو جائیں گے۔
ایٹمی دھماکوں سے پیدا ہونے والا دھواں اور راکھ فضا میں بلند ہو کر سورج کی روشنی کو روکے گا، جس سے درجہ حرارت کئی ڈگری نیچے آ جائے گا، اسے “نیوکلیئر ونٹر “کہا جاتا ہے— اس کے ہولناک ماحولیاتی اثرات کی وجہ سے فصلوں کی پیداوار متاثر ہو گی، غذائی قلت کا اندیشہ ہو گا، اور بالخصوص افریقہ، مشرق وسطیٰ اور لاطینی امریکا جیسے خطے اس کے غیر متناسب شکار ہوں گے۔ عالمی سطح پر خوراک کی قلت، قیمتوں میں اضافہ، اور قحط کا خدشہ ہے۔
دنیا کی دو بڑی معیشتیں — چین اور امریکا — بھارت اور پاکستان کے حلیف یا مفاد یافتہ ممالک ہیں۔ جنگ ان کو بالواسطہ طور پر کھینچ سکتی ہے۔اگر خاکم بدہن ایسا ہو گیا تو پھر اک ایسی نئی عالمی جنگ شروع ہو جائے گی جس کے بعد جس قیامت کا وعدہ ہے، وہ پورا ہو جائے گا۔ اگر معاملہ یہاں تک نہیں پہنچتا تو اس کے باوجود ان دوملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ کے نتیجے میں اقوام متحدہ، نیٹو، روس، ترکی اور خلیجی ممالک پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ کسی ایک طرف کا ساتھ دیں یا ثالثی کریں۔ علاوہ ازیں عالمی سیاسی اوراقتصادی اثرات کی بناء پر جنوبی ایشیا عالمی تجارتی روٹس (بحیرہ عرب، گوادر، ممبئی، چٹاگانگ) کا مرکز ہے۔ جنگ ان راستوں کو معطل کر سکتی ہے، جس سے عالمی تجارت کو نقصان پہنچے گا۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق اگر ایٹمی جنگ ہوتی ہے تو پناہ گزینوں کا ایسا بحران پیدا ہو گا جس میں 10 کروڑ سے زائد افراد بے گھر ہو سکتے ہیں۔ ایران، افغانستان، بنگلہ دیش، نیپال اور چین جیسے ممالک کو پناہ گزینوں کے بڑے ریلے کا سامنا ہو گا۔ یورپ کو بھی ایک نیا پناہ گزین بحران درپیش آ سکتا ہے، جو پہلے ہی یوکرین، شام اور سوڈان سے متاثر ہے۔
جنگ کو ہندو مسلم کشمکش کا رنگ دینے کی کوشش کی جا سکتی ہے، جس سے بین الاقوامی سطح پر اسلاموفوبیا کو تقویت ملے گی۔ عالمی میڈیا اور سیاسی ادارے اس تنازعے کو نظریاتی تصادم کے طور پر بیان کر سکتے ہیں، جو بین الاقوامی ہم آہنگی کو مزید کمزور کرے گا۔یاد رہے کہ یہودی نژادہنری کیسینجر کا ون ورلڈ آرڈر اسی تھیوری پر بنایا گیا ہے کہ گریٹر اسرائیل کی ساری دنیا پر حکومت ہو گی جبکہ مسلمانوں کا بھی ایمان و یقین ہے کہ دجال کے زمانے میں امام مہدی کے نزول کے بعد ساری دنیا میں اسلام کی حکمرانی ہو گی اور غزوہ ہند کی پیشینگوئی بھی موجود ہے۔
٭جنگ کے بعد دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف ایک نئی اخلاقی و قانونی تحریک جنم لے سکتی ہے۔ایٹمی عدم پھیلاؤ جیسے معاہدوں پر عمل درآمد کا دباؤ بڑھے گا۔ ایٹمی طاقتوں کی شفافیت اور کنٹرول کی مانگ دنیا بھر میں زور پکڑے گی۔
٭خطے میں جنگی ذہنیت کا پھیلاؤ، اسلحہ کی دوڑ، اورجنوبی ایشیائی خطے میں داخلی سیاسی عدم استحکام بڑھے گا۔
٭پاکستان اور بھارت دونوں میں سول سوسائٹی، معیشت، تعلیم اور عوامی خدمات کا نظام پاش پاش ہو جائے گا۔
٭ایک ممکنہ ایٹمی جنگ نہ صرف ایک جغرافیائی مسئلہ ہے، بلکہ یہ اخلاقی، انسانی اور تہذیبی بحران کی بھی نمائندگی کرتی ہے۔ پاکستان اور بھارت کی قیادت کو چاہیے کہ وہ عقل، تدبیر، اور بین الاقوامی مکالمے کا راستہ اختیار کریں۔
عالمی برادری، بالخصوص او آئی سی، اقوامِ متحدہ، یورپی یونین، اور چین، کو چاہیے کہ فوری، غیرجانبدار اور دیرپا ثالثی کا کردار ادا کریں اور مودی اور اس کے آقاؤں جیسےخونخوار بھیڑیوں سے دنیا کو بچانے کیلئے ایک عالمگیر تحریک چلائیں تاکہ دنیا کو درپیش خطرات اور جنوبی ایشیا کو تباہی کے کنارے سے واپس لایا جا سکے۔
📜 سفارشات
٭اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں فوری قرارداد برائے ایٹمی کشیدگی میں کمی۔
٭جنوبی ایشیائی خطے کے لیے ایٹمی ہتھیاروں سے پاک عالمی زون پر بات چیت کا آغاز کیا جائے۔
٭پاکستان، بھارت، چین اور افغانستان کے درمیان چار فریقی امن فورم کی تشکیل دی جائے۔
٭میڈیا اور عوامی بیانیے میں نفرت اور تصادم کی زبان کے خلاف عالمی ضابطۂ اخلاق نافذ کیا جائے۔





