تاریخ کے بعض موڑایسے ہوتے ہیں جب زمانہ اپنے قدم روک کرسانس لیتاہے،اوراقوام کی تقدیرچندفیصلوں کے پلڑے میں رکھ دی جاتی ہے۔آج مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے ہی دہانے پرکھڑاہے—جہاں طاقت کی زبان،نظریے کی آگ،معیشت کی نبض اور سفارت کی سانس ایک دوسرے میں الجھ کرایک پیچیدہ گرہ بناچکی ہیں۔آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتباہی بیانات،ٹرمپ کے جارحانہ عزائم،پینٹاگون کی عسکری منصوبہ بندی،اورآبنائے ہرمزوآبنائے مندب جیسے آبی راستوں کی حساسیت—یہ سب مل کرایک ایسامنظرنامہ ترتیب دے رہے ہیں جس میں صرف گولیاں نہیں چل رہیں،بلکہ عالمی سیاست کی بساط بھی ازسرِنوبچھائی جا رہی ہے۔
یہ محض ایران اورامریکایااسرائیل کاتصادم نہیں؛یہ نظریاتی اصراراورعالمی مفادات کی کشمکش ہے۔ایک طرف انقلاب کاتسلسل ہے، دوسری جانب عالمی برتری کادعویٰ۔ایک طرف مزاحمت کابیانیہ ہے،دوسری طرف”نظام کی تبدیلی”کااعلان۔سوال یہ نہیں کہ کس کے پاس زیادہ اسلحہ ہے؛سوال یہ ہے کہ کس کے پاس زیادہ صبر،زیادہ تدبراورزیادہ دوراندیشی ہے۔
اس بحران کی تہہ میں صرف عسکری حکمتِ عملی نہیں بلکہ داخلی سیاست،عالمی توانائی منڈی،خلیجی ریاستوں کی بے چینی،اور عالمی طاقتوں کی صف بندی بھی شامل ہے۔اگر آبنائے ہرمزکی موجوں میں اضطراب پیدا ہوتاہے تواس کی بازگشت ٹوکیو،بیجنگ،برلن اورنئی دہلی تک سنائی دے گی۔اگرباب المندب کادروازہ لرزتاہے تویورپ کی منڈیاں بھی کانپ اٹھیں گی۔
یہ مضمون انہی تمام پہلوؤں کویکجاکر کے پیش کرتاہے—ایسے انداز میں کہ قاری نہ صرف واقعات کی ترتیب سمجھے بلکہ ان کے باطن میں پوشیدہ معنی بھی دریافت کرے۔ یہاں الفاظ محض خبرنہیں سناتے،بلکہ زمانے کی دھڑکن سناتے ہیں؛یہاں تجزیہ صرف اعداد وشمار نہیں گنواتا،بلکہ تاریخ کے آئینے میں حال کاعکس دکھاتاہے۔آئیے،اس داستان کوسرسری نگاہ سے نہیں بلکہ غوروفکرکی آنکھ سے پڑھیں—کیونکہ جو کچھ آج رقم ہورہا ہے،وہ کل کی تاریخ کاعنوان بن سکتاہے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہفتوں پیشترجس لہجے میں تنبیہ محض عسکری بیان نہ تھی بلکہ ایک نظریاتی اعلان جومحض سیاسی بیان نہ تھابلکہ تاریخ کے اوراق پرثبت ایک پیشگوئی تھی۔انقلابِ ایران کے بعدسے ایرانی قیادت یہ مؤقف اپنائے ہوئے ہے کہ وہ خودکو محض ایک قومی ریاست نہیں بلکہ ایک انقلابی مرکزسمجھتی ہے۔آیت اللہ علی خامنہ ای نے جس لہجے میں پیشگی خبردارکیاتھا،اس میں محض سیاسی عتاب نہ تھابلکہ ایک اسٹریٹجک اعلان مضمرتھا۔انقلابِ ایران کی سینتالیسویں سالگرہ پران کایہ اعلان کہ”اگرامریکا نے جنگ شروع کی تویہ پورے خطے تک پھیل جائےگی”گویا آتشِ زیرِخاکستر پرپھونک تھا”۔
چنانچہ جب خامنہ ای نے کہا کہ جنگ پورے خطے تک پھیلے گی تواس کامفہوم یہ تھاکہ ایران اپنی جغرافیائی حدودسے باہربھی اثر اندازہونے کی صلاحیت رکھتاہے—خواہ وہ سیاسی نیٹ ورکس ہوں یامسلح گروہ۔ایران خودکو محصورنہیں ہونے دے گا۔یہ اعلان دراصل”جوابی پھیلاؤ”کی حکمت کااشاریہ تھا—یعنی حملہ اگرمرکزپرہوگاتوارتعاش محیط تک جائے گا۔آج جب امریکی واسرائیلی حملوں کے جواب میں تہران نے اپنے وعدوں کوعملی جامہ پہنایاہے تومحسوس ہوتاہے کہ الفاظ نے بارودکی صورت اختیارکرلی ہے، اوروعید،واقعہ بن چکی ہے۔ایرانی قیادت نے داخلی سطح پراس بیانیے کومزاحمتی وقارکے ساتھ جوڑا،تاکہ قوم کویہ احساس رہے کہ وہ دفاعی نہیں بلکہ فعال پوزیشن میں ہے۔
ایران کے میزائل جب سعودی عرب،کویت،بحرین،قطراورمتحدہ عرب امارات کی فضامیں گونجے تویہ محض ردِعمل نہ تھابلکہ ایک جغرافیائی پیغام تھا۔ یونائیٹڈ اسٹیٹس ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں تقریباًچالیس ہزارامریکی اہلکارتعینات ہیں۔قطر میں العدیدایئربیس کمانڈوکنٹرول کا مرکزجوامریکا کیلئےفضائی آپریشنزکامرکزی اعصابی مرکزہے،بحرین میں پانچویں بحری بیڑے کی موجودگی،کویت میں بری اوربحری تنصیبات، اور اردن میں ٹاور22جیسی چوکیوں کاجال،سعودی عرب میں دفاعی اڈے،ایک ایساحصار بناتے ہیں جوایران کوچاروں طرف سے گھیرتامحسوس ہوتاہے۔ایران کی نظر میں یہ محض دفاعی انتظام نہیں بلکہ اس کے خلاف ایک مستقل عسکری دباؤاورایک وسیع عسکری جال کی مانندپھیلے ہوئے ہیں۔
یونائیٹڈاسٹیٹس ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس کی اطلاعات کے مطابق یہ موجودگی محض علامتی نہیں بلکہ فیصلہ کن ہے۔کویت،سعودی عرب، بحرین،عراق،شام اورمصر میں امریکی اڈے اس امرکاثبوت ہیں کہ خطہ ایک عسکری شطرنج بن چکاہے جہاں ہرمہرہ کسی بڑے داؤ کاحصہ ہےجوایران کیلئےایک مسلسل نگرانی اورفوری ردِعمل کاامکان پیداکرتاہے۔اس بندوبست کوتہران”گھیراؤکی سیاست”کے طور پردیکھتاہے۔
یہ سوال کہ ایران خلیجی ممالک کوکیوں نشانہ بنارہاہے،دراصل اس بڑے سوال کاجزوہے کہ جنگ کی حدبندی کون کرے گا؟ایران شاید یہ باورکراناچاہتا ہے کہ اگراس کے خلاف محاذ کھولاگیاتواس کی تپش صرف تہران تک محدود نہ رہے گی۔ایران کی کارروائیوں کو “توازنِ خوف”کی حکمتِ عملی کے تحت سمجھاجاسکتاہے۔ تہران یہ باورکراناچاہتاہے کہ اگراس کے خلاف حملہ ہواتو اس کی قیمت پوراخطہ اداکرے گا۔یہ وہی منطق ہےجو سرد جنگ کے دورمیں “ڈیٹرنس”کہلاتی تھی—دوسرے فریق کونقصان کے خوف سے روکنا۔
گویا ایران وہی کررہاہے جس کااعلان کیاتھا—”اگرہمیں گھیراؤمیں لیاگیاتوحصارکی دیواریں بھی محفوظ نہ رہیں گی۔ایران کی جانب سے خلیجی ریاستوں میں موجودامریکی تنصیبات کی سمت کارروائی دراصل براہِ راست امریکا کونہیں بلکہ”میزبانوں” کومخاطب کرنے کااندازہے۔مقصدیہ باورکراناکہ عسکری شراکت داری کی قیمت مقامی سلامتی سے اداہوسکتی ہے۔یہ ایک طرح کی “بالواسطہ بازگشت”ہے—ریاض،ابوظہبی،قطر،اردن اوردوحہ پردباؤ دراصل واشنگٹن کوپیغام دیاگیاہے۔
سعودی عرب،متحدہ عرب امارات،کویت، بحرین اورقطر—ان سب کیلئےمعیشت اولین ترجیح ہے۔ان کی توانائی تنصیبات،بندرگاہیں اور شہری ڈھانچے کسی بھی طویل کشیدگی کے متحمل نہیں۔خلیجی ممالک کیلئےیہ صورتِ حال دودھاری تلوارہے۔ایک طرف وہ امریکی دفاعی چھتری کے محتاج ہیں،دوسری طرف وہ ایران کے ساتھ کھلی جنگ نہیں چاہتے،اگرحملے امریکی اہداف تک محدودرہیں اور تیل کی تنصیبات محفوظ رہیں توغالب امکان ہے کہ وہ براہِ راست تصادم سے گریزکریں گی۔اسی لیے بظاہرمذمتی بیانات کے باوجود عملی سطح پران کی کوشش یہی ہوگی کہ تصادم کی لکیران کے شہروں سے دوررہے جبکہ پسِ پردہ دفاعی تیاریوں میں اضافہ اور پسِ پردہ کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں میں مصروف رہ سکتے ہیں —یہی متوقع راستہ ہے۔سیاست میں بعض اوقات خاموشی بھی حکمت ہوتی ہے،اوراحتیاط بھی ایک اعلان ہوتاہے۔
ایران کی کارروائیوں کافوری اثرعالمی منڈی پرپڑتاہے۔اگررسد میں معمولی خلل بھی آئے توقیمتوں میں تیزی آسکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایرانی اقدام کاپہلاارتعاش عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اضافے کی صورت نمودارہواہے۔عراق میں شیعہ مسلح گروہوں کی ممکنہ سرگرمیاں امریکی تنصیبات کیلئےاضافی خطرہ اوراسرائیلی اہداف کیلئےنئی آزمائش بن سکتی ہیں جس سے سرمایہ کاروں کا اعتمادمزید متزلزل ہوگا۔گویاجنگ کادائرہ محض سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ معیشت کی نبض تک پھیل چکاہے۔
عالمی توانائی منڈی میں شدیداضطراب کی لہریں دکھائی دے رہی ہیں۔تیل اورگیس کی رسدمیں معمولی خدشہ بھی قیمتوں کواوپرلے جاتاہے۔ایشیاکی صنعتی معیشتیں—خصوصاًچین،جاپان اورجنوبی کوریا—خلیجی رسدپر انحصار کرتی ہیں۔یورپ،جو پہلے ہی توانائی کے بحرانوں سے گزرچکاہے،مزید عدمِ استحکام کا متحمل نہیں ہوسکتاچنانچہ یہ تنازع محض علاقائی نہیں بلکہ بین البراعظمی اثرات رکھتاہے۔
دراصل ایران نے پیشگی اعلانات کے مطابق مرحلہ وارردِعمل اپنایاہے۔اس سے ظاہرہوتاہے کہ تہران نے اپنے بیانیے کوعمل سے جوڑنے کی کوشش کی تاکہ ساکھ برقراررہے۔اس حکمتِ عملی سے خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات متاثرہوں گے،تاہم ایران پہلے ہی خبردارکرچکاتھاکہ اگ وہ امریکی قیادت کوحملوں سے نہ روک سکے تونتائج کیلئےتیاررہیں۔بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ دباؤ کی سیاست اورردِعمل خلیجی ممالک پرسیاسی دباؤڈالنے کی کوشش بھی ہوسکتاہے—تاکہ خطے کے ممالک خودجنگ بندی کی وکالت اورواشنگٹن کوجنگ کے خاتمے پرآمادہ کریں۔
دراصل ایران اس تنازع کوصرف امریکاواسرائیل تک محدودنہیں رکھناچاہتابلکہ اس تنازع کووسیع تربناناچاہتاہے۔تاکہ جنگ کی قیمت سب اداکریں،اور جنگ کے خاتمے کی آوازیں خودانہی دارالحکومتوں سے بلندہوں جوآج محتاط خاموشی اختیارکیے ہوئے ہیں۔اس حکمتِ عملی کامقصدیہ ہوسکتاہے کہ خلیجی دارالحکومت خودامریکاپردباؤڈالیں کہ وہ مہم جوئی ترک کرے۔ایران کی حکمت عملی میں “دائرہ وسیع کرنے”کاعنصرموجودہے،تاکہ کسی ایک فریق پر انحصارنہ رہے۔اگرسب متاثرہوں گے توسب متحرک بھی ہوں گے—یہی اس سوچ کی بنیادہے۔
ایرانی حملوں سے اگرچہ خلیجی انفراسٹرکچر کومحدود نقصان پہنچا،تاہم یہ تاثرابھراکہ ایران شدیددباؤمیں ہے۔جب کوئی ریاست یہ محسوس کرے کہ کھونے کوکچھ نہیں رہاتواس کے اقدامات زیادہ جرات مند بلکہ بعض اوقات مایوس کن ہوسکتے ہیں۔متحدہ عرب امارات میں رہائشی عمارتوں کونقصان اورکویت ایئرپورٹ پرحملے نے یہ تاثرپیداکیاکہ ایران ایک نازک موڑپرہے۔تاہم خلیجی ممالک غالباًبراہِ راست جواب دینے کے بجائے دفاعی تیاریوں کوترجیح دیں گے۔جنگ کے ہنگام میں بعض اوقات صبربھی سب سے بڑاہتھیار ہوتاہے۔
ایران کی داخلی کیفیت کایہ عالم ہے کہ ایرانی معاشرہ معاشی پابندیوں،مہنگائی اورسماجی بے چینی سے دوچارہے۔بیرونی تصادم بعض اوقات داخلی وحدت پیداکرنے کاذریعہ بنتاہے۔تاہم اگرنقصانات بڑھیں تویہی حربہ الٹابھی پڑسکتاہے۔اس لیے تہران کیلئےتوازن برقرار رکھنانہایت اہم ہے۔
ٹرمپ نے واضح کیاکہ ایران میں حکومت کی تبدیلی ان کاہدف ہے۔ٹرمپ کاحکومت کی تبدیلی کااعلان دراصل ایران کے سیاسی ڈھانچے کوچیلنج کرنے کی کوشش ہے۔حکومت کی تبدیلی کی بات دراصل ایک نفسیاتی دباؤبھی ہے اورسیاسی عزم کااظہاربھی۔ان کا یہ بیان کہ ایرانی عوام سڑکوں پرنکلیں،ایک داخلی بغاوت کی تمناکاعکاس ہے—مگرتاریخ گواہ ہے کہ بیرونی دباؤسے پیدا ہونے والی تبدیلی جہاں اکثرطویل افراتفری کاپیش خیمہ اورناپائیدارہوتی ہے وہاں غیرمتوقع نتائج لاتی ہے۔عراق اورلیبیا کی مثالیں سامنے ہیں۔ ایران جیسے مضبوط ریاستی ڈھانچے میں فوری انہدام کاامکان کم،مگر طویل بے یقینی کا امکان زیادہ ہے۔
امریکی ٹھنک ٹینک سٹیمسن سنٹر کی ریسرچ سکالرباربراسلاون نے خبردارکیاتھاکہ سینیئرایرانی عہدیداران حتیٰ کہ رہبرِاعلیٰ بھی نشانہ بن سکتے ہیں،اگر سینئر قیادت کونشانہ بنایاگیاتواس کے بعدیاتومزیدسخت گیر قیادت ابھرے گی یاطویل بدامنی جنم لے گی۔ ریاستی ادارے—فوج،پاسدارانِ انقلاب، عدلیہ—ایک مضبوط نیٹ ورک کی صورت موجودہیں،جواچانک خلاکو پُرکرسکتے ہیں۔اس سے ظاہرہوتاہے کہ قیادت کی تبدیلی ہمیشہ نظام کی تبدیلی نہیں لاتی۔
امکان ہے کہ امریکااوراسرائیل ایران کی میزائل وجوہری صلاحیتوں کومحدود اورکمزورکرنے پرتوجہ مرکوزرکھیں گے وسیع پیمانے پرعسکری اورسویلین قیادت کونشانہ بنانا،فوری سیاسی خلاپیداکرنااوراندرونی احتجاج کوہوادینا،ایک تدریجی حکمت ہوسکتی ہے—مگریہ راستہ باریک بھی ہے اورپُرخطربھی۔ پینٹاگون کی منصوبہ بندی بظاہرایران کی میزائل،ڈرون اورجوہری تنصیبات کی صلاحیت گھٹانے پرمرکوزہے۔یہ”صلاحیت کم کرو”کی حکمت ہے، نہ کہ لازماً”نظام بدل دو”کی۔ تاہم دونوں کے بیچ لکیرباریک ہے۔
خلیجی قیادتیں سمجھتی ہیں کہ یہ جنگ ان کے دروازے تک آپہنچی ہے،جبکہ ان کی ترجیح اقتصادی استحکام اورعلاقائی ترقی تھی۔ان کیلئےیہ بحران ایک غیر مطلوب بوجھ ہے۔خلیجی ریاستیں اگرچہ امریکی سکیورٹی فریم ورک کاحصہ ہیں،مگروہ یہ بھی سمجھتی ہیں کہ کشیدگی کی قیمت انہیں اداکرنی پڑتی ہے۔مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اس جنگ سے ہی نہیں بلکہ ٹرمپ انتظامیہ کی حکمتِ عملی سے بھی مایوس دکھائی دیتے ہیں۔تعلقات میں فوری بہتری کی امیدکمزورپڑچکی ہے،مگراس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ واشنگٹن کے ہر اقدام کے ہم نواہوں گے۔اسی لیے وہ یک طرفہ وابستگی کے بجائے متوازن خارجہ پالیسی اپنانے کی کوشش کرتی ہیں—چین اورروس کے ساتھ روابط اسی تناظرمیں دیکھے جاسکتے ہیں۔
حالیہ حملوں نے مذاکرات کی بساط لپیٹ دی ہے۔سفارت کاری کی شمع مدھم ہوچکی ہے اورخطہ نئی آگ کی لپیٹ میں آتامحسوس ہوتا ہے۔حملوں کے بعد مذاکراتی عمل تعطل کاشکارہوگیاہے۔مذاکراتی راستے وقتی طورپر مسدود ضرورہوئے ہیں،مگرعمان،قطراوربعض یورپی ممالک پسِ پردہ رابطوں میں کردارادا کرسکتے ہیں۔تاریخ بتاتی ہے کہ شدیدتصادم کے بعدہی کبھی کبھی مفاہمت کی کھڑکی کھلتی ہے۔یادرہے کہ جب توپیں بولتی ہیں تو سفارت کارخاموش ہوجاتے ہیں—یہ تاریخ کاالمیہ ہے۔
ایران میں تبدیلی کی خواہش ایک ایساجواہے جونہ صرف خودامریکی سیاست میں طوفان اٹھاسکتاہے بلکہ خودامریکی سیاست میں اختلافات کوہوادے سکتا ہے ۔امریکامیں عوامی رائے بیرونی جنگوں کے حوالے سے منقسم ہے۔اگر جنگ طویل ہوئی،نتائج توقع کے مطابق نہ نکلے توصدر کی ساکھ مجروح اورانتخابی سیاست پر اثرات پڑسکتے ہیں جس سے عوامی حمایت میں کمی آسکتی ہے۔ معاشی دباؤ،بجٹ خسارہ اورافراطِ زرجیسے مسائل رائے دہندگان کے فیصلوں پراثر انداز ہوں گے۔
ٹرمپ نے ایک بڑاداؤکھیلا ہے—ٹرمپ کی حکمتِ عملی فوجی طاقت کے ذریعے خطے کوازسرِنو ترتیب دینے کی کوشش اوردیرینہ خواب ہے—ایک ایسا خواب جوماضی میں بھی دیکھاگیامگرمکمل تعبیرنہ پاسکا۔جس میں ماضی کے کئی امریکی صدورناکام رہے۔ مشرقِ وسطیٰ کوطاقت کے ذریعے”ری انجینئر” کرنے کی سوچ نئی نہیں۔مگرعراق اورافغانستان کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ عسکری برتری سیاسی استحکام کی ضمانت نہیں ہوتی۔ایران کاریاستی ڈھانچہ عراق سے کہیں زیادہ مربوط ہے،اس لیے نتائج بھی مختلف ہو سکتے ہیں۔
اگرفضائی طاقت ایران کی جوہری صلاحیت کومفلوج کردے یااگرایران کی جوہری پیش رفت عارضی طورپررک بھی جائے اورتہران میں اقتداربدل جائے،خواہ بعدکانقشہ مبہم ہی کیوں نہ ہوتوسوال باقی رہے گاکہ بعدازاں کیا ہوگا؟ کیاکوئی واضح سیاسی منصوبہ موجود ہے یاصرف عسکری فتح پراکتفاکیا جائےگا؟ کیایہ پائیدارحل ہے؟اوراگر قیادت تبدیل ہوبھی جائے توکیا نئی قیادت عالمی برادری سے ہم آہنگ ہوگی یامزید خودمختارراستہ اپنائے گی؟
پینٹاگون نے اس کارروائی کو”آپریشن ایپک فیوری”کانام دیاہے۔اگریہ آگ پھیل گئی تونومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن جماعت کے امکانات متاثرہوسکتے ہیں۔امریکی عوام بیرونی مہمات کے بارے میں منقسم رائے رکھتے ہیں۔ٹرمپ کایہ کہناکہ”امریکی ہیروزکی جانیں جاسکتی ہیں”دراصل اس خطرے کااعتراف ہے کہ یہ معرکہ طویل بھی ہوسکتاہے اورمہنگابھی۔ایک امریکی اخبارکو انٹرویودیتے ہوئے انہوں نے امریکی فوجیوں کی ہلاکت کااعتراف بھی کیاہے اورساتھ ہی یہ اعلان کہ وہ آئندہ ایرانی سربراہ سے بات چیت کرنے کیلئے تیارہیں،دراصل حقائق کوچھپانے کی ایک چال ہے۔
امریکاکودوبارہ عظیم بنانے”کا نعرہ داخلی استحکام پرزوردیتاہے۔اگربیرونی مداخلت اس تصورسے متصادم ہوئی توصدرکواپنے حامیوں کوقائل کرنامشکل ہو سکتاہے۔امریکاکودوبارہ عظیم بنانے”کے نظریے کے حامی کیاایک نئی بیرونی مہم جوئی کوقبول کریں گے؟مہنگائی اورداخلی مسائل کے بیچ یہ سوال ٹرمپ کیلئےکڑاامتحان بن سکتاہے۔جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کے بعض سینیئراہلکارایران پر بڑے آپریشن سے متحفظ اورحق میں نہ تھے۔عسکری توسیع اورعوامی دھمکیوں کے درمیان پالیسی اختلافات ابھر آئے تھے—جواس امرکی نشاندہی کرتے ہیں کہ فیصلہ سازی کے عمل میں مکمل ہم آہنگی نہیں تھی اورفیصلہ یک رائے نہ تھا۔
آبنائے ہرمزکی جغرافیائی ومعاشی اہمیت بھی اس جنگ میں فیصلہ کن کردارادا کرنے میں معاون ہوسکتی ہے۔خلیج فارس کوبحرِعمان سے ملاتی ہے۔آبنائے ہر مز ایک عالمی اقتصادی شہ رگ ہے۔یہ تقریباً21میل چوڑا تنگ راستہ ہے جس سے یومیہ لاکھوں بیرل خام تیل گزرتاہے۔عالمی تیل تجارت کاتقریباًبیس سے تیس فیصداسی راستے سے گزرتاہے۔ اوربالخصوص سعودی عرب،کویت،یواے ای،عمان اورقطرکا90فیصد تیل اور دیگر توانائی ایل این پی جی کاروٹ یہی ہے،یہ ممالک کب تک اس کی بندش سے عظیم مالی خسارہ برداشت کرسکیں گے اوراس کے ساتھ ہی ان ملکوں کا مکمل فضائی نیٹ ورکس بھی منجمدہوگئے ہیں اورروزانہ ہزاروں ملین ڈالرکی آمدن بھی اچانک رک گئی ہے۔اس کےبندہوجانےپر عالمی توانائی منڈی میں شدید بحران پیداہوسکتاہے،ایشیائی معیشتیں فوری متاثرہوں گی اوریورپ کومتبادل راستوں کی تلاش کرناپڑے گی۔آخری اطلا ع کے مطابق ایران نے اسے بندکردیاہے اوراس عمل سے نہ صرف توانائی کی قیمتیں آسمان کوچھوسکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت ایک شدیدبحران میں مبتلا ہوسکتی ہے۔ایشیائی معیشتیں فوری متاثرہوں گی اوریورپ کو متبادل راستوں کی تلاش کرناپڑے گی۔
اس کی بندش نہ صرف قیمتوں کواوپ لے جائے گی بلکہ عالمی شپنگ انشورنس،مال برداری لاگت اورتوانائی کی ترسیل پربھی گہرے اثرات ڈالے گی۔ جاپان ،بھارت اورچین جیسے ممالک فوری متبادل تلاش کرنے پر مجبورہوں گے۔یہاں خطرہ دوچندہوجاتاہے کہ باب المندب جوایک طرف سویزتک رسائی کا دروازہ اوردوسری طرف بحیرۂ احمرکاجنوبی دہانہ ہے۔حوثی تحریک،جوپہلے ہی بحری جہازوں کونشانہ بنانے کی صلاحیت دکھا چکی ہے،اگر اس آبی گزرگاہ کو عملی طورپرغیرمحفوظ بنادے تویہ ایک”غیر ریاستی”فریق کی جانب سے عالمی تجارت پراثر اندازہونے کی مثال ہوگی۔
حوثی اس سے قبل کئی مرتبہ عالمی تجارت کے اس اہم روٹ کوبند کرنے میں کامیابی حاصل کرچکے ہیں اوراب ایرانی سربراہ کے قتل کے بعداس بات کاشدید خطرہ پیداہوگیاہے کہ وہ اپنی استطاعت کے بھرپور استعمال سے اس راستے کوبند کرسکتے ہیں یاخطرات میں اضافہ کرسکتے ہیں۔یہاں خلل کامطلب ہے یورپ اورایشیا کے درمیان جہازرانی کارخ افریقہ کے گرد طویل سفرکی جانب مڑجانا۔ اس سے اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ اورترسیل میں تاخیریقینی ہوسکتی ہے جس سے لاگت اوروقت دونوں بڑھ جائیں گے۔ آئندہ منظرنامہ میں امکانات اور اندیشے بڑھتے جارہے ہیں جن میں ممکنہ راستے تین ہوسکتے ہیں۔ پہلا محدودمدت کی عسکری کارروائی اورتدریجی سفارت،دوسراوسیع علاقائی تصادم جس میں بحری راستے اورتوانائی رسدمتاثر ہوں اورتیسرا داخلی سیاسی ہلچل جوایران یاامریکا میں پالیسی تبدیلی کاباعث بنے۔
ترکی،مصراورپاکستان جیسے ممالک براہِ راست فریق نہیں مگراثرات سے محفوظ بھی نہیں۔ان کی خارجہ پالیسی توازن اورثالثی کے امکانات کے گردگھوم سکتی ہے۔چین اورروس اس بحران کوسفارتی یااقتصادی فائدے میں بدلنے کی کوشش کرسکتے ہیں لیکن ایرانی سربراہ اوردیگراہم شخصیات کی ہلاکت کے بعد حالات انتہائی خراب اورتصفیہ کے امکانات محدودہوگئے ہیں۔روس اورچین نے امریکا کے اس ظالمانہ عمل کی شدید مذمت اورایران کی خودمختاری پر امریکی حملہ کودنیاکے امن کیلئے تباہی کاذمہ دارٹھہرایاہے۔
یہ بحران محض دویاتین ریاستوں کاتصادم نہیں بلکہ ایک پورے خطے کی تقدیرکاسوال ہے۔ایران کی حکمتِ عملی،امریکاکی عسکری مہم،خلیجی ریاستوں کی محتاط سفارت،اورعالمی معیشت کی لرزتی نبض—سب ایک دوسرے سے پیوست ہیں۔یہ بحران محض بندوق اوربیان کانہیں،بیانیہ اورمعاشیات کابھی ہے۔ایک طرف نظریاتی استقلال ہے،دوسری طرف عالمی مفادات کاجال۔اگرحکمت غالب نہ آئی توخطہ ایک طویل بے یقینی میں داخل ہوسکتاہے۔اور اگرعقلِ سلیم نے راہ نکالی توشایدیہی بحران کسی نئی سفارتی ترتیب کاپیش خیمہ بھی بن جائے۔تاریخ کے اس موڑپرہرفیصلہ آنے والی دہائیوں کی سیاست ومعیشت پراثر اندازہو سکتا ہے۔
یہ معرکہ محض میزائلوں اور بیانات کانہیں،نظریات اورمفادات کاتصادم ہے۔ایران اپنے وعدے کی تکمیل میں سرگرم ہے،امریکااپنی طاقت آزمائی میں مصروف،اورخلیجی ریاستیں توازن کی باریک راہ پرگامزن۔تاریخ کے اس موڑپرایک چنگاری پورے خرمن کوجلا سکتی ہے۔سوال یہ نہیں کہ آگ لگی ہے یانہیں؛سوال یہ ہے کہ اسے بجھانے کاحوصلہ کس کے پاس ہے۔
جب قومیں جذبات کی موج پرسوارہوکر فیصلے کرتی ہیں توتاریخ انہیں آزمائش کے کڑے مرحلوں سے گزارتی ہے۔ایران اورامریکا کے اس تصادم میں محض دوریاستیں آمنے سامنے نہیں؛بلکہ دوتصوراتِ قوت،دو سیاسی فلسفے،اور دوتاریخی بیانیے ایک دوسرے سے برسرِپیکارہیں۔اگر طاقت کے استعمال کوہی آخری دلیل سمجھ لیاجائے توانجام اکثروہی ہوتاہے جوماضی کی جنگوں نے دکھایا—علاقائی عدمِ استحکام،معاشی بحران اورنئی صف بندیاں۔مگراگر حکمت غالب آجائے،تو شایدیہی بحران کسی نئے توازن کاپیش خیمہ بھی بن سکتاہے۔
خلیجی ریاستیں اس کشمکش میں توازن کی باریک راہ پرچل رہی ہیں؛عالمی معیشت لرزاں ہے؛توانائی کی منڈیاں اضطراب میں ہیں؛ اورعوام اپنے اپنے ملکوں میں اس سوال سے دوچارہیں کہ کیایہ قیمت واقعی ناگزیر تھی ؟تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ بیرونی مداخلتیں اکثر غیر متوقع نتائج پیدا کرتی ہیں، اور نظریاتی جنگیں صرف میدانِ کارزار میں نہیں بلکہ ذہنوں اور معاشروں میں بھی لڑی جاتی ہیں۔اگراس تصادم نے سفارت کے دروازے بندکردیے توآنے والی نسلیں اس کی قیمت چکائیں گی؛اوراگراسی بحران سے مفاہمت کی کوئی کرن پھوٹ نکلی تویہی لمحہ ایک نئے باب کی تمہیدبھی بن سکتاہے۔
قارئین!اس تحریرکومحض واقعات کامجموعہ نہ سمجھیں۔یہ ایک عہدکی کیفیت کابیان ہے—ایک ایساعہدجوہمیں یہ یاددلاتاہے کہ طاقت عارضی ہے،مگر نتائج دائمی۔مشرقِ وسطیٰ کی فضامیں اٹھتی ہوئی یہ گردآخرکب بیٹھے گی؟یہ فیصلہ صرف میزائلوں سے نہیں، بصیرت سے ہوگا۔اورشاید تاریخ ایک بارپھر یہی پوچھ رہی ہے:ماضی میں امریکی جارحیت اوراس کے نتائج سے اخذکیاجاسکتاہے کہ امریکی جنگی اسلحہ فروخت کرنے والی انڈسٹری کی رگوں میں انسانیت کا تازہ خون ہروقت جنگوں کے میدان سجائے رکھتاہے۔
1955ءسے لیکر1975ءتک مسلسل20سال تک ویتنام جنگ امریکاکی سب سے نمایاں اورمتنازع مداخلت تھی۔طویل جنگ کے بعد امریکی افواج کی ذلت آمیزواپسی آج بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ امریکی فوجیوں نے ہیلی کاپٹرسے لٹک کرراہِ فرارحاصل کی۔
نائن الیون کے بعددہشتگردی کے خلاف جنگ کے تحت مداخلت کی گئی۔طالبان حکومت ختم ہوئی مگردودہائیوں بعدامریکی افواج کے انخلاکے ساتھ طالبان دوبارہ اقتدارمیں آگئے۔یہ ایک طویل اورپیچیدہ مہم تھی جس کااختتام امریکا کیلئے سیاسی طورپرمشکل ثابت ہوا۔ امریکی فوجیوں کوبراستہ پاکستان نکلنے میں مدد کی گئی۔
2003ءاور2011ءمیں صدام حسین کے خلاف کارروائی بڑے پیمانے پرتباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے دعوے پرکی گئی،جوبعدمیں ثابت نہ ہو سکے۔صدام حکومت ختم ہوئی،مگر ملک طویل بدامنی اورفرقہ وارانہ کشیدگی کاشکاررہا اوراب تک سنبھل نہیں پایا۔
2011ءمیں نیٹوکی مداخلت سے قذافی حکومت ختم ہوئی،مگرملک سیاسی انتشارمیں مبتلاہوگیااوراب تک اس کی خوشحالی لوٹ کرنہیں آ سکی۔
2014ءمیں داعش کے خلاف کارروائی کے تحت محدودمداخلت،مگر شامی خانہ جنگی ایک وسیع علاقائی تنازع میں بدل گئی۔
1983ءمیں گریناڈامیں مختصرفوجی مداخلت جسے امریکانے کامیاب قراردیا اورجلد انخلاپرمجبورہوگیا۔
1989ءمیں پانامہ میں جنرل نوریگاکی حکومت ختم کی گئی؛امریکانے اسے کامیاب آپریشن قراردیا۔
اوراب وینزویلاکی مہم جوئی بھی ساری دنیا کے سامنے ہے اور اسکے تیل پر مکمل تصرف حاصل کرلیاگیاہے۔
یہ فہرست طویل ہے اوریہ بھی درست ہے کہ ہمیشہ ان خطوں میں امریکی جارحیت اورمہمات سیاسی طورپرمتنازع رہیں،اورخطے میں طویل عدم استحکام کوجنم دیا۔
کیاتاریخ خودکودہرارہی ہے؟یہ سوال اہم ہے:کیا انسان نے ماضی سے کچھ سیکھاہے؟ویتنام نے سکھایاکہ مقامی مزاحمت کوکم نہیں سمجھناچاہیے۔عراق نے سکھایاکہ ریاستی ڈھانچے کواچانک گراناآسان ہے،مگرمستحکم متبادل بنانامشکل۔افغانستان نے سکھایاکہ طویل عسکری موجودگی سیاسی کامیابی کی ضمانت نہیں ۔ اگرموجودہ کشیدگی وسیع جنگ میں بدلتی ہے تووہی اسباق دوبارہ سامنے آسکتے ہیں۔
اب اہم سوال یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کامستقبل اوربربادی کی گردکب بیٹھے گی؟یاد رکھیں کہ گردتب بیٹھتی ہے جب سفارت کاری عسکریت پرغالب آئے، علاقائی طاقتیں تصادم کی بجائے توازن کاراستہ اپنائیں،عالمی طاقتیں محدوداہداف کے بعدمذاکرات کادروازہ کھولیں۔طاقت عارضی ہے—یہ بات تاریخ نے بارہاثابت کی ہے۔مگراس کے اثرات نسلوں تک رہتے ہیں۔اگر بصیرت غالب آئی تویہ بحران محدودرہ سکتاہے۔اگر جذبات غالب آئے تویہ دہائیوں پرمحیط عدم استحکام کاسبب بن سکتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی فضا میں اٹھتی ہوئی گردمیزائلوں سے نہیں،مذاکرات سے بیٹھے گی؟یہ عسکری کامیابی سے نہیں،سیاسی حکمت سے ممکن ہوگا۔اورشاید تاریخ ایک بارپھر یہی پوچھ رہی ہے کیاامریکانے واقعی ماضی سے سبق سیکھاہے،یاوہ پھراسی دہانے پرکھڑاہے جہاں سے کئی بارگرچکاہے؟





