Shame is the name of what feeling?

شرم کس احساس کانام ہے؟

:Share

بہت عجیب ہیں ہم،میں توبدنصیب کہنے والاتھابلکہ سچ تویہ ہے کہ یہی کہناچاہتاہوں۔اندرمجھے روکتاہے کہ نہیں اتنا آگے نہ جاؤ۔ہمارے رویے،ہمارابرتاؤ،ہماری بودوباش،ہماری خواہشات سب کچھ عجیب ہے۔خواب بھی،ہم تضادات کامجموعہ ہیں۔جواہم ہے اسے نظراندازکر دیتے ہیں،جوثانوی ہے اسے اوّلیت دیتے ہیں۔میں بندہ نفس ہوں،مجھے بندہ رب بنناتھااور بندہ رب وہ ہے جواس کی چلتی پھرتی، جیتی جاگتی،ہنستی گاتی تصویروں سے محبت کرے۔لیکن ٹھہرئیے!مشروط محبت نہیں….بس محبت،جس میں اخلاص ہو،طلب نہ ہو۔بس دیناہی دینا،لینا کچھ نہیں،کھلے بازواورکھلادل،تنگ دلی کاگزربھی نہ ہو۔طمع اورلالچ چھوبھی نہ سکیں…..بس خالص محبت۔میرارب تواس سے محبت کرتا ہے جواس کی مخلوق سے محبت کرے۔کتناعجیب ہے یہ رویہ کہ میں کسی سے محبت کرتاہوں اوراس کی تخلیق سے صرف نظر!

وہ وقت آج بھی مجھے یادہے ….. جنا ب حسن مطہرکے ہاں مکہ مکرمہ میں،عمرہ سے ابھی لوٹے تھے اورمدینہ منورہ کی تیاری تھی،بڑاسا ڈرائنگ روم اورسفیدبالوں والے باباجی.. . . اورکچھ دوستوں کی بحث پران کی مسکراہٹ۔میں نے انسا نی شکل میں بہت فرشتے دیکھے ہیں،وہ بھی ایسے ہیں،بہت تحمل اور بہت صبروا لے….اورمجھے تودونوں چھوکربھی نہیں گزرے۔جب بہت دیرہوگئی توانہوں نے مجھ سے کہا ”تو سمجھ گیاہے ناں،ویسے ہی یہ بحث کررہے ہیں!”تومیں بہت ہنسااورکہا”نہیں باباجی مجھے کچھ کچھ توسمجھ آگیا،پوری طرح نہیں” ۔”اوپگلے جب تجھے کسی کی بری عادتیں بھی اچھی لگیں،اس کے غصے پربھی پیارآئے،تواس کی جھڑکی سن کربھی سرشارہو،اس کی ڈانٹ سنناچاہے بلکہ خود ایسی حرکت کرے کہ وہ تجھے ڈانٹ دے،تجھ میں سے”تو”نکل جائے اور”وہ”بس جائے،اناصرف دم نہیں توڑے بلکہ فناہو جائے،جب وہ دھتکاردے اورتواورقریب آئے…. جب تجھ میں،تیری رگ وپے میں، تیری نس نس میں،لہوکی ہربوندمیں وہ سماجائے توسمجھ لیناہاں!اب ہے محبت،اگرایسانہیں توعبث ہے،سب عبث،سب کارِعبث ہے۔

ہاں مجھے سمجھ آگیاتھا،تجربہ توکوئی بھی نہیں جھٹلاسکتا۔با لکل ایساہی ہے۔مجھے عجیب لگتاہے۔ہم سب اللہ کی محبت کے طلبگارہیں اورمخلوق سے بیزار۔نجانے کیاہے یہ۔میں اسے قیدکرناچاہتاہوں جبکہ محبت آزادی ہے۔وہ سارے عالم کا رب ہے،ساری کا ئنات کارب ہے اورمیں اسے صرف رب المسلمین سمجھ بیٹھاہوں۔وہ لامحدودہے اورمیں اسے محدودکر کے اپنی بوتل میں بندکرناچاہتاہوں۔میں اس کے بندوں کوتقسیم کرتاہوں خانوں میں،وہ سب کودیتاہواورمیں سب سے روکتا ہوں۔وہ وسیع ہے اورمیں تنگ دل۔میں بندوں کاحساب کتاب اس پرنہیں چھوڑتا،خودکوتوال بن گیاہوں۔میں محبت توکیا کروں نفرت کابیج بوتارہتاہوں۔

میں کون ہوتاہوں اس کے اوراس کی مخلوق کے درمیان آنے والا!میں ڈنڈے اوربندوقیں لیکرانسان پرٹوٹ پڑاہوں۔وہ جبرسے منع کرتاہے اورمیں اپنی بات طاقت سے منواناچاہتاہوں ۔ میں اس کی کوئی بات نہیں سنتااوراس کاخلیفہ بناپھرتاہوں۔مجھے میرے نفس نے بربادکردیاہے،میں اس کی مخلوق کیلئے آزاربن چکاہوں اوررب سے تقاضہ کرتاہوں کہ مجھے محبت سے دیکھے!میں خودظالم ہوں اوررب سے طلب کرتاہوں اس کارحم!میں کسی کو بھی معاف کر نے کیلئے تیارنہیں ہوں اورہردم اس کوکہتاہوں کہ مجھے معاف کردے!میں خودپیٹ بھرکرکھاتاہوں اوراپنے آس پاس خاک بسرلوگوں سے بے خبرہوں!

میں عجیب ہوں،میرے رب نے جوحقوق دئیے ہیں سب کو،میں وہ سلب کرکے بیٹھ گیاہوں،میں اپنی بات محبت سے نہیں بلکہ دھونس دھاندلی اوردھمکی سے منواتاہوں۔میں اتناظالم ہوں کہ میرے گھروالے جنہیں میں نے اتنی محنت کرکے،سچ جھوٹ بول کر،ہلکان ہوکر ہر جائزوناجائزکی پرواہ کئے بغیرانہیں پالاہے،جب وہ اپنے حقوق جومیرے رب نے ا نہیں دئیے ہیں،طلب کربیٹھیں تومیں ڈنڈالیکرکودپڑتا ہوں ۔ اس وقت تومجھے رب یادنہیں آتا۔میں بہت ظالم ہوں،جورب نے حقوق دئیے ہیں میں نے وہ بھی چھین لئے ہیں اوردعویٰ کرتاہوں محبت کا اپنے رب سے!

ہربندے کارب سے ایک خاص تعلق ہے اورایساکوئی آلہ ایجادنہیں ہوا جو مجھے بتائے کہ کون رب کے کتناقریب ہے….. وہ جوتسبیح لئے گھوم رہا ہے یاوہ جوسڑک پرتارکول بچھارہا ہے،وہ جوموٹرمیں گھوم رہاہے یاوہ جو برہنہ پاہے،ہاں موٹر توکیاہے جہازمیں بیٹھنے والابھی اس کے قریب ہوسکتاہے۔مجھے کیاپڑی ہے کہ میں رب اورمخلوق کے درمیان آؤں! میں خودکو کیوں نہیں دیکھتاکہ میراکیاتعلق ہے رب سے!میں اگرنمازپڑھتاہوں توبے نمازیوں کوحقارت سے دیکھتاہوں۔میں اگرروزہ رکھتاہوں تودوسروں سے خودکواعلیٰ سمجھ بیٹھتاہوں۔مجھے کیا معلوم ہے کیامجبوری ہے کسی کی۔وہ جانے اوراس کارب…….مجھے تواپناکام کرناہے۔جومجھے کرناچاہئے وہ نہیں کرتااورجونہیں کرناچاہئے وہ کرتاچلاجارہاہوں۔میں اپنے رب سے محبت کے جھوٹے وعدے سے کب بازآؤں گا!مخلوق سے نفرت اوررب سے محبت۔مجھے توکچھ پلے نہیں پڑتا،آپ کوسمجھ آگیاہوتوبراہ مہربانی مجھے بھی سمجھائیے۔

میاں شہبازشریف صاحب جب بھی کیمرے اورمائیک کے سامنے آتے ہیں تواب بھی اپوزیشن لیڈربن کرقوم کے غریبوں کے دردکابڑی دلسوزی سے ذکرکرناشروع کردیتے ہیں کہ مہنگائی نے ان کی زندگی اجیرن کردی ہے،بھول جاتے ہیں کہ بطوروزیراعظم انہی کے حکم سے بجٹ میں ٹیکس بڑھائے گئے ہیں جس کے ردعمل میں مہنگائی کے طوفان نے عوام کی چیخیں نکلوادی ہیں،انہی کے حکم سےبجلی اورگیس کے نرخوں میں اس قدراضافہ کردیاگیاہے کہ قوم پرفاقوں کی نوبت آگئی ہے لیکن دوسری طرف انہی کے حکم سے ہمارے ووٹوں سے منتخب ارکانِ اسمبلی کواب سالانہ20کی جگہ30فری ہوائی جہازکی ٹکٹیں ملا کریں گی اورعوام کواس مدمیں سالانہ ساڑھے بارہ ہزاراضافی ٹیکس دینا پڑے گا۔یہ وہ تمام افرادہیں جنہوں نے ووٹ سے قبل اپنے اپنے حلقے میں عوام کواس مشکل سے نکالنے کی قسمیں کھائیں تھیں۔

ایک طرف عوام کاجینامشکل کردیاگیاہے اوردوسری طرف صدرپاکستان آصف علی زرداری کے پروٹوکول گاڑیوں کے قافلے کےبجٹ کو چارگنابڑھاکر44/ارب روپے مختص کردیئے گئے ہیں۔قوم سرپیٹ رہی ہے کہ ان تمام اشرافیہ نے تو بغیرتنخواہ کام کرنے کااعلان کرکے قوم پراحسان کیاتھالیکن دوسری طرف ایوانِ صدرکے باغ کی آرائش کابجٹ دوگنا کرکے6کروڑ روپے کردیاگیاہے۔اکیلے صدرزرداری کی خدمت کیلئے ایوان صدرمیں 85ملازمین کی فوج موجودہے اورروزانہ کی بنیادپردوسوسے زائدافرادکاکھانابھی تیارکیاجاتاہے جبکہ شنیدتویہ بھی ہے کہ اپنے پچھلے دورِ صدارت میں فرانس میں بیٹھے اچانک بھنڈی کھانے کودل للچایاتوفرانس میں بھنڈی کی عدم دستیابی کی بناء پر خصوصی جہازکو اس خدمت پرمامورکردیاگیالیکن قوم کویہ بتایاجا رہاہے کہ آئی ایم ایف کی مرضی سے بجٹ بناناہماری مجبوری ہے لیکن کیا آئی ایم ایف کویہ عیاشیاں نظرنہیں آتیں؟قوم کویہ کیوں نہیں بتایاجاتاکہ ملکی معیشت کابھٹہ بٹھانے کیلئے جوبجلی کے کارخانےآئی پی پی لگے ہیں،ان کے مالکان میں کتنے موجودہ اشرافیہ کے افرادشامل ہیں؟قوم جہاں پل پل تڑپ رہی ہے وہاں ان دوخاندانوں اوراشرافیہ کی شہہ خرچیوں میں دن بدن اضافہ ہورہاہے جس سے خاکم بدہن ملک کے ڈوبنے کے آثاربڑھتے جارہے ہیں۔

غیرملکی قرضوں کابوجھ اس قدربڑھ گیاہے کہ صرف ان کے سودکی ادائیگی کیلئے قرض جیسی لعنت کاسہارالیناپڑ رہاہے اورملک کے وزیر اعظم قوم کویہ نویدسنارہے ہیں کہ اگرہم نے اب بھی آئی ایم ایف سے نجات حاصل نہ کی تو ہمارے لئے شرم سے ڈوب مرنے کامقام ہے۔ آپ کوپتہ ہے کہ شرم کس احساس کانام ہے؟یہ تمام قرضے آپ نے لئے ہیں جس سے عوام کاکوئی تعلق نہیں۔وہ وقت بھی جلدآنے والا ہے کہ مغرب کے بینکوں میں ملک سے لوٹی ہوئی تمام رقم کوضبط کرکے یہ ملکی قرض اداکیاجائے گا!

آپ سب آبادرہیں،خوشحال رہیں،دلشادرہیں….سب کوچلے جاناہے یہاں سے،کسی کوبھی نہیں رہنا،بس نام رہے گامیرے رب کا۔
یہ میں تونہیں کہہ رہاناں،بابااقبال کہہ رہے ہیں!
عجب واعظ کی دیں داری ہے یارب
عداوت ہے اسے سارے جہاں سے
کوئی اب تک نہ یہ سمجھاکہ انساں
کہاں جاتاہے،آتاہے کہاں سے
وہیں سے رات کوظلمت ملی ہے
چمک تارے نے پائی ہے جہاں سے
ہم اپنی درد مندی کا فسانہ
سنا کرتےہیں اپنے رازداں سے
بڑی باریک ہیں واعظ کی چالیں
لرز جاتا ہے آواز اذاں سے

اپنا تبصرہ بھیجیں