خطۂ افغانستان اورپاکستان کی داستانِ قربت وکشمکش صدیوں پرمحیط ہے۔تاریخ نے بارہادیکھاکہ جب بھی اس خطے کے آسمان پرامن کے بادل گھنے ہونے لگتے ہیں،کوئی نہ کوئی آندھی سازشوں کی سمت سے اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔کبھی یہ شعلے بیرونی قوتوں کے ایندھن سے بھڑکتے ہیں اورکبھی اندرونی گروہوں کے جوش وجنون سے۔آزادی کے سورج نے جب جنوبی ایشیاکی پیشانی چُوم کرنئی قوموں کودنیاکے نقشے پرجگہ دی،اُس وقت بھی افغانستان وپاکستان نے برادرانہ رشتوں کادم بھراتھا—لیکن خانہ جنگیوں،مفادات اورطاقت کی تدبیروں نے اس رشتے کوغلط فہمیوں کے تناؤمیں لپیٹ دیا۔
پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف دہائیوں پرمحیط جہادمیں وہ قربانیاں دیں،جن کی نظیرکم ملتی ہے مگرآج بھی دہشتِ مسلسل اپنی جڑیں گہری کرنے کے درپے ہے۔اسی تلخ حقیقت کے پیشِ نظرپاکستان اورافغان طالبان کے مابین مذاکرات کاسلسلہ شروع ہوا—تاکہ جنگ کے میدانوں میں بہنے والاخون گفتگو کی میزپرتھم سکے۔لیکن دوحہ اوراستنبول کی فصیلوں پرلگی امیدکی روشنی،تعنت، مایوسی اورنظریاتی تعصب کی آندھی میں مدھم ہوتی گئی۔
استنبول میں ہونے والے مذاکرات کامقصدتھاکہ جنگ وجدل کے اس مسلسل المیے کوکوئی سمت ملے۔لیکن نہ کسی تجویزکی صورت بنی نہ کسی معاہدے کی فصل اُگی۔افغانستان کی خاموشی ایک اجنبی سوال ہے—سرحدی کشیدگی کی دھوپ ابھی مدھم نہ ہوئی تھی کہ پاکستان نے افغان طالبان کے ساتھ مذاکراتی حجرے کے دروازے بندہونے کااعلان کردیا۔استنبول کی فضاؤں میں اٹھنے والی”بات چیت “کی گردبارآورثابت نہ ہوئی۔نہ کوئی لائحۂ عمل بنا،نہ کسی سمت کی نشاندہی ہوئی۔کابل کی خاموشی ایک اورسوال بن کرفضامیں معلق ہے۔آیایہ خاموشی اتفاق ہے یااعلانِ لاتعلقی؟کیااس کے پیچھے مصلحت ہے یا معاندت ؟ آخردوحہ میں بڑھتی ہوئی امیدیں استنبول میں کیوں دم توڑگئیں ہیں؟اورنتائج بے ثمرہونے کے خوفناک نتائج کاکون ذمہ دارہے؟
آج کایہ آرٹیکل اسی کشمکش کی تاریخی،سیاسی،نظریاتی اورعلاقائی پرتوں کوکھولنے کی ایک ادبی وتحقیقی کاوش ہے۔بسااوقات حقائق کومحض اعدادکی زبان میں بیان کرناکافی نہیں ہوتا—قوموں کی داستانیں،جذبات،امیدیں اورخوف بھی اُن کے فیصلوں کے سایے میں شامل ہوتے ہیں۔چنانچہ اس تحریرمیں کوشش کی گئی ہے کہ تجزیہ،تاریخ اورادب ایک ہم آہنگ طرز میں قارئین کے سامنے آئے۔یہ تحریرنہ تومایوسی کا مرقع ہے اورنہ محض تنقیدکا آئینہ۔یہ ایک خبردارکرتی صداہے کہ اگرہم نے خطے کے امن کومضبوط اصولوں،باہمی اعتماداورحقیقت پسندانہ تدابیرکے ساتھ نہ سنبھالاتوآنے والے کل میں تاریخ کے صفحات پراوربھی سیاہ دھبے قدرے گہرے تحریرہوں گے جویقیناًہماری آنے والی نسلوں کیلئے ندامت کاسبب بن سکتے ہیں۔
بھارت عرصہ درازسے پاکستان کوعسکری مصروفیت میں مبتلارکھنے کی تدبیریں کرتاآیاہے۔مئی2025ءمیں پاکستان کے ہاتھوں بری طرح ہزیمت اٹھانے اورعالمی دنیامیں شکست خوردہ مودی اب خطے کی بساط پرپاکستان کوایک چھوٹے پیمانے کی مستقل جنگ میں الجھائے رکھناچاہتاہے،اورکابل کی موجودہ حکمتِ عملی اسی سازکے تارچھیڑتی محسوس ہوتی ہے۔افغان طالبان کاطرزِعمل بسااوقات بھارتی مفادات کی تکمیل میں مہرہ بنتادکھائی دیتاہے۔خطے میں طاقت کے توازن کی کشمکش صرف بندوق کاکھیل نہیں—یہ معیشت، سفارت اورذہنی جنگ کامجموعہ ہے۔
یہ سوال اب ہرگفتگوکی پہلی سطربن چکاہے کہ افغان طالبان تحریکِ طالبان پاکستان کے خلاف اقدام سے ہچکچاہٹ کیوں برتتے ہیں؟ آخروہ ہاتھ کیوں لرزاں ہے جودہشت کے اژدھے کودبانے کیلئےبلندہوناچاہیے؟افغان طالبان کے اندرونی حلقے تاحال سمجھوتے کے اس نکتے پرالجھن کاشکارہیں کہ کب، کیسے اورکس قیمت پرٹی ٹی پی کے خلاف اقدام کیاجائے؟ان کے نزدیک یہ معاملہ صرف سیکیورٹی نہیں—نظریہ،وفاداری اورتاریخی احسانات بھی دخل رکھتے ہیں۔
پاکستان نے ناقابلِ تردیددستاویزی شواہداورثبوت فراہم کیے؛نہ صرف افغان طالبان نے،بلکہ ثالثی کرنے والے میزبان ممالک نے بھی ان کی صحت کی تصدیق کرتے ہوئے صحیح مانامگر افغان وفدنے یقین دہانی کے باب کومقفل رکھااوراصل موضوع سے انحراف کا رویہ نہ چھوڑا—گویااصل مدعامذاکرات کے حاشیے میں گم ہوتاگیاگویاحقیقت کے بیچوں بیچ کھڑی دیوارکو نظر اندازکرکے یہ سمجھ لیا جائے کہ دیوارگرچکی ہے۔
پاکستان نے چاربرس کے اندرجونقصان اٹھایا،وہ محض اعدادوشمارنہیں—ہرشہیدکی کہانی میں ایک گھرکاچراغ گل ہوا۔چاربرس تک جانی ومالی قربانیوں کا بوجھ اٹھانے کے بعدپاکستان کے صبرکاپیمانہ لبریزہوچکاہے۔عوام کی سلامتی اس ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔لہٰذاریاست نے یہ اعلان کیاکہ دہشت کے ہرسانپ کوایک ایک کرکے کچلاجائے گا۔لہٰذایہ عہدکیاگیا ہے کہ دہشت ووحشت کی ان خارزارراہوں سے وطن کوپاک کرنے کیلئےہرممکن اقدام اٹھایاجائے گا۔نہ پناہ گاہ بچے گی،نہ سرپرستی اورنہ اعانت۔
سکیورٹی ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ افغان طالبان کسی متوازی منشورپرچل رہے ہیں جوخطے کے امن کیلئےخطرہ ہے۔اگرنیتوں کے زاویے بدل جائیں توراستے بھی بدل جاتے ہیں۔باخبرذرائع کی رائے میں افغان طالبان کے دلائل نہ زمینی حقیقت سے سازگارہیں نہ منطقی تدبیرسے۔گویاپسِ پردہ کوئی اورایجنڈاہے جوخطے کے امن کیلئےسمِ قاتل ثابت ہوسکتاہے۔اگرنیتوں کے زاویے بدل جائیں تو راستے بھی بدل جاتے ہیں۔پیش رفت اب طالبان کی نیت اوررویے کی آزمائش پرموقوف ہے۔
خواجہ آصف نے بے ساختہ کہاکہ امن کی خواہش کمزوری نہیں۔اگراسلام آبادپرحملہ کرنے کاخبط پالنے والوں نے سراٹھایاتوان کی بینائی چھین لی جائے گی —یہ صرف دھمکی نہیں، ریاست کاقانونی حق ہے۔خواجہ آصف کی للکاراعلان بن کرابھری ہے کہ اگربات سے بات نہ بنی توجنگ بھی کوئی دورکی آہٹ نہیں۔اسلام آبادپرکسی یلغارکی کوشش کی گئی توحملہ آورکواس کی آنکھوں کی روشنی تک بھلادی جائے گی۔
افغان ماہرین کاخیال ہے کہ طالبان قیادت ٹی ٹی پی کواپنانظریاتی ہمزادسمجھتی ہے—آٹھویں اورنویں دہائیوں کی مشترکہ جدوجہدنے ان کے رشتوں کو ایسا جوڑاہے کہ جداکرنامحض سیاسی فیصلوں کاکھیل نہیں۔دونوں تحریکوں نے تاریخ کی پچ پرایک ہی روش سے بیٹنگ کی،اسی لیے طالبان کیلئےٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرنااپنوں پرہاتھ اٹھانے کے مترادف محسوس ہوتاہے۔ یہی نظریاتی قربت طالبان کو ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی سے بازرکھتی ہے۔دل ودماغ اگر ایک قبلے پرٹھہرجائیں توہاتھ تلوار پکڑتے لرزتے ہیں۔یہ قربت بسااوقات ظلم کی توجیہ بن جاتی ہے۔جب حق وباطل کی لکیردھندلی ہوجائے تواسی اجتہادی غلطی سے تشددکوبھی جہادکا نام ملنے لگتاہے—یہی المیہ ہے جوامن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
پاکستان نے ماضی میں افغان جہاد کواپنادینی وتزویراتی قلعہ سمجھا،اسی لئے پاکستان نے طالبان کوپناہ اورسیاسی سہارادیا۔مگرتاریخ کی طنزیہ مسکراہٹ یہ کہ آج اسی پالیسی کے منفی اثرات قومی سلامتی کے دروازے پردستک دے رہے ہیں اوراب تاریخ کے دروازے پروہ اس فیصلے کے بھاری قرض کاتقاضہ کرنے آ گئی ہے—وقت کی عدالت میں ہرفیصلے کاحساب ہوتاہے۔
طالبان کے حقانی دھڑے کے ٹی ٹی پی سے عملی تعلق رہے ہیں۔ٹی ٹی پی کے ساتھ ان کے روابط ایسے بندھن ہیں جنہیں توڑناآسان نہیں۔ اگرزور زبردستی کی گئی توداعش کادروازہ ٹی ٹی پی کیلئےزیادہ کشادہ نظرآنے لگے گا—انہیں خوف ہے کہ سخت کارروائی ٹی ٹی پی کوداعش کی آغوش میں دھکیل نہ دے۔یہ وہ خوف ہے جوطالبان کو فیصلہ کن قدم سے روکتاہے۔یوں فسادایک نئے دھارے میں بہہ نکلے گااورخود طالبان کوکابل کے تخت سے دستبردارہونےکاخدشہ ہے اوراس سلسلے میں طالبان کے اپنے کئی گروہ پہلے سے تیاربیٹھے ہیں جوموجودہ طالبان رجیم کوانجام تک پہنچانے کیلئے اشارے کے منتظراور بے تاب بیٹھے ہیں۔
قندھارکی قیادت پاکستانی اقدامات—ملابرادرکی گرفتاری اورملامنصورکی امریکی حملے میں ہلاکت—کوماضی کی تلخ یادسمجھتی ہے،جوآج بھی پالیسی کے سینے میں کانٹابنی ہوئی ہے۔قندھارکے اقتدارکی رگوں میں یہ واقعات آج بھی بلاکے دردکے ساتھ یادکیے جاتے ہیں۔اسی لیے پالیسی کے صفحات میں آج احتیاط اورناراضگی ہم سفرہیں۔
پاکستان کی طرف سے سرحدپارافغان سرزمین پرموجودٹی ٹی پی کے مراکزکونشانہ بنایاگیا،افغان مصنوعات پرتجارتی بندش،تجارتی راہداریاں معطل ہوئیں اورغیرقانونی افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔یہ سب الفاظ سے زیادہ بلیغ پیغام ہے کہ برداشت اب حدِ درک سے آگے بڑھ چکی ہے۔یہ سب پیغامِ عمل ہے،محض لفظوں کی جنگ نہیں۔
سیاست کے کنگرے پریہ سوال ہمیشہ کھڑارہے گااوریہی وہ سوال ہے جس کا جواب سیاست کی تلاش میں سرگرداں ہے کہ کیاطاقت ومعاشی دباؤ طالبان کوٹی ٹی پی کے خلاف صف آرا کردے گا؟کیاپاکستان کے یہ اقدامات طالبان کوعملی اقدام پرمجبورکرپائیں گے؟یاوہ پھرکسی نئی تاویل کاسہارالے کراصل راستے سے بھٹک جائیں گے؟
افغان طالبان ریاستی ذمہ داری کواب بھی شرعی تعبیرکی عینک سے دیکھتے ہیں—اسی لیے وہ ٹی ٹی پی کودشمن نہیں،“قابلِ اصلاح ساتھی” سمجھتے ہیں۔اوریہ سوچ امن کے رستے میں سب سے بڑامغالطہ ہے۔40سالوں تک میزبان ملک میں پاکستان کے ازلی دشمن مودی کے ہاتھوں پراکسی کے طورپراستعمال ہونا شرعی طرپرجائزکہاجاسکتاہے۔اس غیراسلامی اور انسانیت کے خلاف قبیح جرم سے سے روکنابھی توانہی طالبان کے عین فرضِ منصبی میں شامل ہے۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی پالیسی واضح ہے—مگر طالبان خودکوایک ریاستی ذمہ داری کے ساتھ نہیں دیکھتے۔داعش کی سرگوشیاں اوراندرونی اختلافات انہیں تذبذب میں مبتلارکھتے ہیں—انہیں داعش اورفرقہ وارانہ دھڑوں کاخوف ہے،اسی لیے ٹی ٹی پی کے خلاف ضربِ کاری اب بھی ملتوی ہے جس کے انتہائی خطرناک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
نتائج✅
1️⃣افغان طالبان کی فیصلہ سازی اب بھی تحریک کے مزاج کے زیرِاثرہے،ریاستی ذمہ داری کے تحت نہیں۔
2️⃣ ٹی ٹی پی اورطالبان کے روابط محض عسکری نہیں،نظریاتی وجذباتی گانٹھیں بھی شامل ہیں۔
3️⃣خطے میں دہشتگردی کے بڑھتے حملوں کے پیچھے مخصوص علاقائی قوتوں کی حکمتِ عملی کارفرماہے۔
4️⃣پاکستان کے اقدامات سے سیاسی ومعاشی دباؤمیں اضافہ ہواہے،مگرفی الحال خاطرخواہ تبدیلی نہیں آئی۔
5️⃣مذاکراتی میزپرپیشرفت کاانحصارافغان طالبان کے سیاسی بالغ نظری اوربین الاقوامی ذمہ داری کے ادراک پرہے۔
مندرجہ ذیل نکات بھی اس پیچیدہ صورتحال سے نکلنے کیلئے لیے قابلِ عمل اوردوراندیش حکمتِ عملی کی نمائندگی کرتے ہیں:
الف—علاقائی امن کیلئےسفارتی حکمتِ عملی
▪ عالمی برادری،اوآئی سی اورشنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پرمسئلے کواُجاگرکیاجائے
▪ افغانستان کی معاشی بحالی میں تعاون کے بدلے سلامتی کی ضمانت طلب کی جائے
▪ سرحدی انتظام میں دوطرفہ مشترکہ فورس کی تشکیل پرغور
ب—دہشتگردی کے خاتمے کیلئےعملی اقدامات
▪ اعلیٰ انٹیلی جنس اشتراک اورریئل ٹائم کوآرڈینیشن
▪ ٹی ٹی پی کے دہشتگردڈھانچے کوتکنیکی اورمالی لحاظ سے منقطع کیاجائے
▪ سرحدپارلانچنگ پیڈزاورمحفوظ پناہ گاہوں کانیست ونابودہونایقینی بنایاجائے
ج — عوامی وفکری سطح پربیانیہ سازی
▪ جہاداورتشددکے غلط بیانیے کوعلمی اندازمیں بے نقاب کیاجائے
▪ مدارس اصلاحات اورنوجوانوں تک امن پرمبنی دینی تعلیم کی رسائی
▪ میڈیاکے ذریعے قومی یکجہتی اورمتفقہ بیانیہ سازی
د — افغان مہاجرین کی منصفانہ واپسی
▪ انسانی حقوق کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ قانونی نظم کی بحالی
▪ پاکستان کے معاشی وسماجی بوجھ میں کمی
▪ واپسی کے عمل کیلئےعالمی اداروں کی مالی معاونت ضروری
ہ — اعتماد سازی کی تدابیر
▪ مشترکہ کمیٹیاں،بارڈرمیکانزم،تیزرفتاررابطہ کانفرنسیں
▪ غلط فہمیوں کی کھڑکیوں کومسلسل کھلارکھنا
▪ طالبان قیادت میں اعتدال پسندعناصرکے ساتھ گاڑھاتعلق
اس کے ساتھ ساتھ خواہشِ امن کیلئےراہنمائی کے طورپرچندممکنہ حل اورسفارشات پرغورکرنے کی دعوت دے رہا ہوں،شائدکہ ترے دل میں اترجائے میری بات:
1-پاکستان کو اقوامِ عالم کے ساتھ سفارتی مشترکہ حکمت عملی اختیارکرناہوگی۔
2-افغانستان میں سیاسی ومعاشی استحکام کیلئےباہمی تعاون بڑھایاجائے
3-مدرسہ اصلاحات اورسرحدی نگرانی میں تیزی لائی جائے۔
4-عالمی قوتوں کوباورکرایاجائے کہ دہشتگردی صرف پاکستان کامسئلہ نہیں،پورے خطے کاناسورہے۔
5-اس دہشتگردی کے محرک انڈیاکے متعصب ہندومودی کو اقوام عالم میں ثبوت وشواہدکے ساتھ ننگاکیاجائے اوربالآخراقوام متحدہ میں اپنے دوستوں کے توسط سے اس مسئلہ کواٹھایاجائے
6-سماجی سطح پربیانیہ سازی کے ذریعے جہالت کے اندھیروں میں علم کاچراغ جلایاجائے۔
اورآخر میں اے میرے وطن!تیری فضائیں خون وعرق سے ترہیں،مگرتیری شانِ سخاوت بھی ایسی ہی جِلملاتی ہے۔ایک طویل دورِ ہجرت اورمصیبت میں،تونے لاکھوں بےگھر حریف وہمنشینوں کواپنے لہجے اورلحم وخون میں جگہ دی —40برس کے عرصے تک تونے صرف چھت نہیں دی بلکہ روزگارِزندگی کے ہرسامان کے سامنے ہاتھ بڑھایا،کھیتی،درسگاہ، محلہ، اور بازارسب دروازے کھلے رکھے۔یہ وہ عظیم نرم دِلی تھی جس نے عفوواحسان کواپنامِہرہ بنایااورانسانی ہمدردی کواپنے دستورِاول قراردیا۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنربرائے مہاجرین کاطویل عرصہ مہمان رکھنے کاریکارڈاس عہدکی دستاویزآج بھی موجودہے۔
یادکیجئے:وہ دورجب سرحدیں رقت میں لپٹی تھیں،جب خاندانوں نے امیدکے ساتھ پناہ لی تھی،اورجب بچوں کے قدمی نقشِ راه اسی دھرتی پربنے جن پر آج چال قدم بدل کرکھڑی ہیں۔بہت سے وہ لوگ،جنہوں نے اِس مٹی میں اپنی پرورش پائی،وہی آج اس قدیم تعلق کو بھول کرباہرسے آنے والی سازشوں کے سازوں پرنغمہ سُراہیں —اوریہ حقیقت دلِ بے قراری کوچیردیتی ہے۔یادکریں ایک وقت میں عالی مقام رہنماملاعمرکے یہ کلمات:“ہم پاکستان کے احسانات کابدلہ قیامت تک چکانہیں سکتے؛جہاں آپ کاپسینہ گرے گا،وہاں ہم اپنا خون قربان کردیں گے”۔یہ تقریرایک پل کاعہدنہیں بلکہ ایک رگِ جان کی صدائیں تھیں جن میں اخلاص اوروفاکادعویٰ بندھاہواتھا۔آج طالبان کے امیرہیبت اللہ جواس وقت20 برس کے نوجوان تھے،کیاآج اپنے امیرکے خطاب کی گواہی سے انکارکرسکتے ہیں اورآج افغان طالبان کے وزیردفاع ملایعقوب اپنے والدکے ان الفاظ کی گونج کوآج بھی اپنے کانوں میں محسوس توکرتے ہوں گے۔
اس کربناک تماشہ میں تلخ بات یہ ہے کہ وہ نسلیں جن کوبچپن سے جوانی تک اسی اہلِ سخاوت نے پروان چڑھایا،بعض اوقات ماضی کی شان کوفراموش کرکے نامرادانہ راستوں کواپناتی ہیں—وہی کردارآج ایسی اقدارکے منافی ٹھہرتے ہیں جن کی اصل جڑیں اس سرزمین کی مہربان یادوں سے بندھی تھیں ۔اورجب بین الاقوامی محاذپرنئے دوستی کے رنگ جم رہے ہیں—پانی کے منصوبے، سفارتی ہاتھ جوقریب آرہے ہیں—توسوال اٹھتاہے:کیایہ تغیرات تسلسلِ رنج سے نکالنے کی راہ ہیں یاایک نئے وبال کی شروعات؟
ہماری داستانِ ہمدردی کاروشن باب آسانی سے بندنہیں ہوگا،اورنہ اس کی عظمت کبھی چھپ سکتی ہے۔وہ قوم جو40برس تک کٹھن موجوں میں ہاتھ بڑھاکر دوسرے کی آغوش بنی،آج بھی ان احسانات کی میراث اورمحبتِ حال کا تقاضایہ ہے کہ وفاکی قیمت وقتی مفادات سے نہیں،باہمی اعتماد،ذمہ داری اور حقیقت پسندی سے تولی جائے۔اگرہم نے ماضی کی سخاوت کوصرف یادِماضی سمجھ لیا اورعملی کفایت اوراحتیاط سے کام نہ لیا توپھروہی تاریخ ہمیں کس نام سے یادرکھے گی۔
یہ بھی لازم ہے کہ جن روایات نے کبھی اتحادوانسیت کوجنم دیاتھا،انہیں محض لب ولہجہ میں نہیں بلکہ عملی روایات میں دوبارہ زندہ کیاجائے۔سرحدکے وہ لوگ جن کے لہجے یہاں کے ہیں،جن کے تعلیمی اورپیشہ ورانہ نشوونمااسی مٹی نے کی—ان کے مستقبل کے بارے میں روشن،منصفانہ اورانسانی فیصلے کیے جائیں۔نہ صرف قوانین بلکہ ہمدردی کے انسانی تقاضے بھی حکمِ کارہوں—تبھی ہم امن کی ایسی عمارت تعمیرکرسکتے ہیں جودیرپاہو۔
آخری نویدیہ ہے:دشمنی کے موسم میں انسانیت کی گرمی کوفراموش نہ کیاجائے۔آج بیرونی قوت یااس کے سہولت کار،ہمارے احسان و ہمدردی کے بدلے ہمیں دھوکہ دے رہیں توبھی ہمیں اپنی بنیادیں مضبوط رکھنی ہوں گی—یعنی اوّل تودفاع،پھرگفت وشنید،اورآخرکار انصاف۔مگرجہاں عقل اورشجاعت دونوں درکارہوں،وہاں ہمیں ہمت کے ساتھ کھڑاہوناہوگا،اوراپنے گھرکی حفاظت کیلئے ہرقانونی اور اخلاقی ذریعہ بروئے کارلاناہوگا۔امن کی جنگ وہ تنہامعرکہ ہے جس میں دونوں طرف کے سپاہی جیت سکتے ہیں ۔پاکستان اپنافرض اداکرنے کیلئےپرعزم ہے لیکن امن ایک یک طرفہ عہد سے نہیں بلکہ باہمی یقین اورعملی ذمہ داری سے قائم ہوتاہے۔خداکرے کہ یہ خطہ ایک دن جنگ کی دھواں بھری فضاسے نکل کرعلم،تعمیر،تجارت اور انسانیت کی روشنی میں نہااُٹھے۔آمین
آخرمیں ایک بارپھردل سے یہی عرض میری دردمندانہ التجایہ ہے کہ تاریخ کی آنکھ کھلی رہے،عفوکی روشنی گرم رہے،اورانصاف کاپیمانہ انصاف پسندی سے چلے؛تبھی ہم اس عظیم انسانی امتحان کوعزت و احترام کے ساتھ یادرکھ سکیں گے۔ہماری تاریخ ہمیں جلاتی بھی ہے اورسنبھالتی بھی—آئیں ہم اُس روشنی کو ضائع نہ ہونے دیں،اوراپنے فرائض کوایسے پوراکریں کہ آنے والی نسلیں ہمارے بارے میں فخرسے لکھ سکیں کہ ہم نےبدلے کی قوت رکھتے ہوئے بھی معاف کردینے کاراستہ اپنایا۔





