آج ہم ایک ایسے دَورِآزمائش میں کھڑے ہیں جس کاوزن تاریخ کے ترازوپرتولنے سے ہلکانہیں ہوتا۔تاریخ کے اوراق پربعض زخم ایسے ثبت ہوجاتے ہیں جووقت کی گردسے مٹتے نہیں بلکہ ہرصدی کے ساتھ اورنمایاں ہوجاتے ہیں۔فلسطین کاقضیہ بھی انہی میں سے ایک ہے—وہی ارضِ مقدس جہاں انبیائے کرام کے قدموں کی برکتیں ہیں،جہاں قبلۂ اول کی تقدیس ہے،اورجہاں آج بھی ظلم کی تیزدھارمعصوم بچوں کے لہوکوبہارہی ہے۔بیت المقدس کی فضاؤں میں اذان کی صداگونجتی ہے،مگرتوپ وتفنگ کے شورنے اُسے دبانے کی کوشش کی ہے۔فلسطین کی ویرانی صرف ایک جغرافیائی خلاؤں کانام نہیں، وہ ہمارے ایمان کی تابانی ہے،ہماری تاریخ کا نحیف ساچراغ ہے اورہماری امت کی آنکھوں میں بہہ جانے والاایک پاکیزہ خون ہے۔بیت المقدس کی دھول میں ہمارے انبیائے کرام کے نقشِ قدم جڑے ہیں،اوراسی دھرتی پرہراذان میں تاریخ نے اپنانام لکھ رکھاہے۔
پاکستان کی تاریخ بھی دراصل اسی شعورکی آئینہ دارہے۔قائداعظم کے الفاظ آج بھی ہمارے لیے چراغِ راہ ہیں کہ”جب تک فلسطینیوں کواُن کاحق نہیں ملتا،ہم تسلیم کرنے کاجرم برداشت نہیں کریں گے”۔یہ الفاظ محض ایک سیاسی اعلان نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے درد کی ترجمانی ہیں۔یہ الفاظ محض بیانِ موقع نہیں،بلکہ ایک سیاسی وایمانی ضابطۂ حیات ہیں—ایک عہدِ ضمیرجوہمارے بزرگوں نے برقراررکھا۔آج اگرہم امن کی آغوش میں قدم رکھناچاہتے ہیں تو پہلے انصاف کی بنیادرکھنی ہوگی؛انصاف کے بغیرامن،پتھروں پر کھڑی ایک عمارت ہے جوہلتے ہی گِرجا ئے گی۔
دنیاکی سیاسی بساط پربعض قدروقضاکے ایسے فیصلے ہوتے ہیں جووقت کے ساتھ مٹتے نہیں بلکہ مزیدگہرے ہوجاتے ہیں۔فلسطین کا مسئلہ انہی قضایامیں سے ہے۔سات دہائیوں سے زائدعرصہ گزرگیامگرخونِ ناحق کی بارشیں اوربمباری کی کڑک ابھی تک جاری ہے۔اس پس منظرمیں جب امریکی صدرٹرمپ نے20نکاتی امن منصوبہ پیش کیاتودنیانے اسے حیرت وتذبذب کے ساتھ دیکھا۔پاکستان نے اس منصوبے کاخیرمقدم کیامگرساتھ ہی اپنے تاریخی مؤقف یعنی”دوریاستی حل”کوہی خطے کے امن کی بنیادقراردیا۔یہ خیر مقدمی کلمات محض سفارتی آداب نہیں تھے،بلکہ ایک پیچیدہ سیاسی کھیل کی جھلک بھی تھے۔
آج عالمی طاقتیں امن کے نام پرنقشے اورنئے منصوبے لیکرآئیں ہیں جس کی لکیریں شہداءکے خون،ماؤں کی اجڑی کوکھ اورجوان بیٹوں کی لاشوں کے اوپر کھینچی گئی ہیں،توسوال یہ ہے کہ کیایہ منصوبے واقعی انصاف کی بنیادپرہیں یاپھرکمزورقوموں کی قربانی پرکھڑے کیے گئے ہیں؟کیاان نقوش میں مظلوم کاچہرہ دکھائی دیتاہے؟یاپھریہ وہی تختِ دوش ہے جس پرکمزورقومیں بٹھ کراپنی آزادی گنوابیٹھی ہیں؟ہمیں اپنے اصولوں کویادرکھناہوگا،اپنی عوام کی آوازسننی ہو گی،اوراپنی تاریخ کااحتساب کرناہوگا۔ہم امن کے دشمن نہیں؛ہم انصاف کے غلام ہیں۔اور جب انصاف ہوگاتوامن خودبہ خودجنم لے گا—ورنہ خیر مقدمی بیانات تارِامیدکوکاٹ دیں گے۔
ٹرمپ نے نیتن یاہوکے ہمراہ منصوبے کااعلان کیا۔مشترکہ پریس کانفرنس میں پیش کیاگیامنصوبہ دراصل امریکی قیادت کے اس موقف کی جھلک ہے کہ خطے کاامن صرف اسرائیل اورفلسطین کے تنازع کوکسی”فارمولے”کے ذریعے حل کرنے سے ممکن ہے۔ مگرواشنگٹن کی پالیسی میں اسرائیلی مفادات کا جھکاؤکھل کرسامنے آتاہے،جواس منصوبے کی غیرجانبداری پرسوالیہ نشان کھڑاکرتا ہے۔بظاہراس منصوبے کامقصدغزہ میں فوری جنگ بندی اورمشرقِ وسطیٰ میں امن کاقیام تھا۔پاکستان نے ایک امکانی امن کی پیش رفت اوراسے ایک امید کی کرن سمجھتے ہوئے خیرمقدم کیااوراس اعتراف میں دوریاستی حل کوخطے میں دیرپاامن کے حصول کی لازمی شرط قراردیاگیاہے۔یہ خیرمقدمی جذبۂ رسمی نہیں بلکہ مفہومی اعترافِ امکان ہے مگرناقدین کے نزدیک اسی کے ساتھ عوامی ونظریاتی تحفظات کاشوربھی بلندہواہے۔وزیرِاعظم شہبازشریف اورفوجی قیادت نے اس کی حمایت میں بیانات بھی دیے،جبکہ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈارنے اعلان کیاکہ اسلامی ممالک مشترکہ امن فورس تشکیل دیں گے۔اس اعلان نے ایک طرف امن کی امیدجگائی مگردوسری طرف یہ سوال بھی پیداہواکہ آیاپاکستان اپنے تاریخی مؤقف سے پیچھے ہٹ رہاہے یانہیں۔
ٹرمپ نے خاص طورپرشہبازشریف اورفیلڈمارشل عاصم منیرکاذکرکرتے ہوئے کہاکہ وہ ابتداسے ہی اس منصوبے کی حمایت میں ہیں؛اس سلسلے میں شہباز شریف کا”ایکس”پرپیغام بھی منظرِعام پرآچکاہے۔یہ بیان پاکستان کوامریکی پالیسی کے قریب دکھانے کی ایک حکمت ہوسکتاہے۔اسحاق ڈارنے بھی اسلام آبادمیں اعلان کیاہے کہ آٹھ اسلامی ممالک مجوزہ منصوبے کے تحت ایک امن فورس تعینات کریں گے اورپاکستان بھی اس ضمن میں باضابطہ فیصلہ کرے گا —ایک ایسااعلان جوسرِعام غوروخوض اورعوامی بحث کا موجب بن گیاہے۔یہ نقطہ نہ صرف سفارتی اہمیت رکھتاہے بلکہ پاکستان کیلئےعملی ذمہ داری کابوجھ بھی بڑھاتاہے۔
پاکستان کیلئےمسئلۂ فلسطین محض ایک سفارتی قضیہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی معاملہ ہے۔قیامِ پاکستان کے آغازسے ہی قائداعظم کامشہوراعلان—کہ جب تک فلسطینی حقوق بحال نہیں ہوتے،پاکستان اسرائیل کوتسلیم نہیں کرے گا—آج بھی پاکستانی پالیسی کافکری ضامن ہے۔یہ نہ محض تاریخی حوالہ ہے بلکہ عوامی جذبات کاآئینہ بھی ہے،جوکسی بھی حکومتی فیصلے میں’قابلِ عمل میعار‘کے طورپرسامنے آتاہے۔ قائداعظم کایہ واضح مؤقف آج بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کی اساس ہے۔دفترِخارجہ کے بیانات ہمیشہ اسی تسلسل کودہراتے ہیں کہ فلسطین کی ایک آزاداورخودمختارریاست،جس کی بنیاد1967ءسے قبل کی سرحدوں پرہو،اورجس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔یہ مؤقف محض الفاظ نہیں بلکہ پاکستان کی اسلامی شناخت اورعوامی جذبات کاعکاس ہے۔
دوسالہ بمباری کے بعدامن کی کوئی بھی کرن غزہ کے عوام کیلئےامیدہے،لیکن جب پاکستان نے ٹرمپ کے امن منصوبے کی حمایت کی توعوامی سطح پریہ سوال گونج رہاہے کہ کہیں یہ خیرمقدم”اصولی مؤقف”سے انحراف تونہیں؟کیاپاکستان نے فلسطین کے بارے میں اپنے روایتی اورتاریخی اصولی موقف میں تبدیلی اختیارکرلی ہے؟اس خوف کے پیچھے عوامی جذبات کادباؤاورماضی کی مستقل پالیسی کاتسلسل ہے۔یہ تضادسیاست اورعوامی رائے کے بیچ خلیج کو نمایاں کرتاہے۔
عوامی جذبات کی شدت کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ سوشل میڈیاپرسوال گونجنے لگاکہ وزیرِاعظم نے عوام کواعتمادمیں لیے بغیریہ فیصلہ کیسے کیا ؟ مسلم ممالک کےمشترکہ اعلامیہ کوبھی”سرینڈر” قراردیاجاسکتاہے کیونکہ اس میں مشرقی یروشلم اور فلسطینی ریاست کاذکرتک نہیں۔سوال یہ کہ آیا خیر مقدم کرناہی تسلیمِ باطنی ہے یامحض تعمیری مذاکراتی اقدام؟یہ تشویش عوامی جذبات اورخارجہ پالیسی کے مابین اک دائمی تنازع کی مانند دکھائی دیتی ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کی”حق خودارادیت”کی تحریک کوجائزقراردیاہے۔یہ مؤقف نہ صرف اخلاقی ہے بلکہ نظریاتی بنیادپربھی قائم ہے اوراس مسئلے کی اہمیت پاکستان کے ماضیِ کی خارجہ پالیسی کے تاریخی سوتوں میں ہے۔ریاستِ پاکستان نے بارہااعلان کیا کہ وہ1967ءسے قبل کی سرحدوں پرمبنی ایک خود مختارومتصل فلسطینی ریاست کے قیام کاحامی ہے،جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہوگا۔یہ موقف قائداعظم کے صریحِ کلام کے مترادف بھی سمجھا جاتا رہاہے جب تک فلسطینیوں کے حقوق مکمل طورپرتسلیم نہ ہوں،اسرائیل کوقبول نہیں کیاجائے گا۔اس مؤقف کی جڑیں قراردادِلاہورکے اسلامی شعور اورجناح کے بیانات میں ملتی ہیں۔
جون1967ءمیں اسرائیل نے مصر،اردن اورشام کے ساتھ چھ روزہ جنگ میں غزہ،مغربی کنارہ،مشرقی یروشلم اورگولان کی پہاڑیاں اپنے قبضے میں لے لیں۔اس جنگ کے بعداسرائیل کی حدودتین گنابڑھ گئیں۔مغربی کنارہ اورغزہ وہ علاقے ہیں جوآج تک تنازعے کی جڑبنے ہوئے ہیں۔اقوامِ متحدہ اورعالمی برادری نے اسرائیل کے ان علاقوں پرقبضے کوقانونی حیثیت نہیں دی،مگرامریکاکے حالیہ فیصلوں(یروشلم کودارالحکومت ماننا،گولان کی پہاڑیوں کواسرائیل کاحصہ تسلیم کرنا)نے مسئلے کومزیدپیچیدہ کردیا۔پاکستان امریکی کوہمیشہ”یکطرفہ،غیرمنصفانہ اوربین الاقوامی قانون کے منافی”قراردیتارہاہے۔پاکستان نے اب تک اسرائیل کوتسلیم نہیں کیااورباربارواضح کررہاہے کہ امن کی حمایت اوراسرائیل کوتسلیم کرنادوالگ معاملات ہیں۔ یہ اصولی فیصلہ پاکستان کے عوامی،مذہبی اورنظریاتی جذبات کی عکاسی کرتاہے۔جنگ بندی،یرغمالیوں کی رہائی اورانسانی امداد کی فراہمی وقتی اقدامات ہیں،مگراسرائیل کوتسلیم کرنا ایک بنیادی پالیسی تبدیلی ہوگی—اورپاکستان ایسی تبدیلی پرآمادہ نہیں۔تسلیمیت کامطلب محض سفارتی تعلق نہیں بلکہ اخلاقی وسیاسی اعتراف بھی ہے۔ جب تک فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوتی ، یہ تسلیم ایک”سیاسی خودکشی”کے مترادف ہے۔جنگ بندی،یرغمالیوں کی رہائی اورانسانی امداد کی فراہمی وقتی اقدامات ہیں،مگراسرائیل کوتسلیم کرناایک بنیادی پالیسی تبدیلی ہوگی—اورپاکستان ایسی تبدیلی پرآمادہ نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ وزیرِخارجہ نے کہا”پاکستان کی پالیسی بڑی واضح ہے اوراس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔”یہ بیان دراصل عوامی اعتمادبحال کرنے کی کوشش تھی۔پاکستان کی روایتاًپالیسی یہ رہی ہے کہ فلسطین کے منصفانہ حل تک اسرائیل کوتسلیم نہیں کیاجائے گامگردوریاستی اصول کے تحت”فلسطینی ریاست کے تسلیم”کامطلب یہ بھی بنتاہے کہ دیرِبعداسرائیل کو بالواسطہ طورپرقبولیت نصیب ہوسکتی ہے—یہاں فرقِ مفہوم وفرقِ طریقہ واردہوتاہے کیاپاکستان کا مطلب اسرائیل کی بذاتِ خودتسلیم ہے یافلسطینی ریاست کے تسلیم کے بعدایک بالواسطہ تعلق قائم ہوسکتاہے؟
یہ سوال ہرپاکستانی کے ذہن میں ہے۔20نکاتی منصوبے میں فلسطین کی آزادریاست کاذکرہے لیکن اسرائیل کی حیثیت کے بارے میں خاموشی یاابہام ہے ۔پاکستان کی خارجہ پالیسی کیلئے یہ ایک نازک توازن ہے کہ وہ امن کاخیرمقدم کرے مگراسرائیل کی “براہ راست تسلیمیت”کی طرف نہ بڑھے۔پاکستان میں فلسطین کامسئلہ مذہبی وجذباتی حیثیت رکھتاہے۔عوام اسے محض سفارت کاری نہیں بلکہ ایمان اورضمیرکامسئلہ سمجھتے ہیں۔مذہبی جماعتیں کھل کراسرائیل کو ناجائزقراردیتی ہیں اوربعض تودوریاستی حل کی بھی مخالفت کرتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ حکومتیں کسی بڑے فیصلے سے پہلے ہچکچاہٹ کاشکاررہتی ہیں۔
یہ سوال نہایت سنگین اورمعروضی ہے۔20نکاتی منصوبے میں کہیں واضح طورپر’بغیرکسی الحاق کے فلسطینی ریاست کی تشکیل کا ہے؛اس طرح کابیان بذاتِ خودتنازع کوکم کرنے کی نیت رکھتاہے مگرپاکستان کے مدارِعمل میں عوامی ونظریاتی تقاضے،مذہبی جماعتوں کی حساسیت،اوربین الاقوامی حقوقِ قلبی کی پاسداری شامل ہے—اس لیے صرف پلان کی منظوری کو تسلیمِ رسمی سمجھ لیناقبل ازوقت ہوگا۔
پاکستانی دفترِخارجہ کی سرکاری سائٹ پرموجودمؤقف—کہ پاکستان ایک خودمختارفلسطینی ریاست کے قیام جس کادارالحکومت القدس ہوگا—اس امرکی تائیدکرتاہے کہ سرکاری پالیسی میں تاحال اصلِ مؤقف برقرارہے؛مگرعملی مذاکرات میں بیاناتِ خیرمقدم اور عملی شرائط دوالگ جہتیں ہیں۔یہ مؤقف سفارتی زبان میں”ریاستی وعدہ”ہے۔چنانچہ ہرحکومت،خواہ کسی بھی جماعت کی ہو،اسی تسلسل کودہراتی رہی ہے۔پاکستان واضح کررہاہے کہ امن کی حمایت اوراسرائیل کی تسلیمیت دومختلف باتیں ہیں۔ابھی اصل ہدف غزہ میں جنگ بندی اورانسانی ہمدردی کی بحالی ہے۔
امریکی منصوبے کے تحت حماس کوکہاگیاکہ وہ72گھنٹوں میں یرغمالیوں کورہاکرے،بدلے میں اسرائیل کارروائیاں روک دے گا۔یہ تجویزوقتی سکون تولا سکتی ہے مگرمستقل امن کی ضمانت نہیں دیتی۔ناقدین کے مطابق اس منصوبے کااصل مقصدحماس پردباؤڈالنا ہے تاکہ اسرائیل کوسیاسی برتری ملے۔جب اسلام آبادمیں اسحاق ڈارسے سوال کیاگیاکہ کیاپاکستان نے اسرائیل کوتسلیم کرلیاہےیانہیں، تواُن کاجواب یہ تھاکہ پاکستان کی پالیسی بڑی واضح ہے اوراِس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔اس بیان سے ایک سیاسی تسلسل کی تصویربنتی ہے کہ مذاکراتی باب کھلارکھنابھی حکمتِ عملی کی لچک کاحصہ ہے۔سیاست میں ایسے بیانات اکثر”ڈیمج کنٹرول”کے طورپردیے جاتے ہیں۔
پاکستان کیلئےاصل سوال یہ ہے کہ وہ کس طرح”امن کی حمایت”اور”اصولی مؤقف”کے درمیان توازن قائم کرے۔اگروہ منصوبے کی حمایت کرتاہے تواسرائیل کی تسلیمیت کاخدشہ پیداہوتا ہے۔اگروہ مخالفت کرتاہے توعالمی سطح پرتنہاپڑسکتاہے۔اسی لئے پاکستان کاموجودہ مؤقف یہی ہے کہ فلسطینی ریاست کاقیام لازمی ہے،سرحدیں1967ءسے پہلے والی ہوں،اورالقدس دارالحکومت ہو۔یہ مؤقف اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اورمسلم دنیاکے تاریخی مطالبات سے ہم آہنگ ہے۔پاکستان کا ماننا یہ ہے کہ یہ تاریخ وجغرافیہ کاایک واضح نقطۂِ حوالہ ہے۔اسی حوالہ سے بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کی قرار دادیں بھی جڑی ہیں،اور پاکستان اس نقطۂِ نظرکو اقوامِ متحدہ واسلامی تعاون تنظیم کی قراردادوں کے مطابق حلِ تنازعہ کیلئے بنیادسمجھتاہے۔
پاکستان میں عوامی سطح پریہ خوف پیداہواکہ حکومت عالمی دباؤمیں آکراسرائیل کوتسلیم کرلے گی۔سیاسی جماعتیں اس معاملے پر ابہام کاشکارہیں کیونکہ عوامی جذبات مذہبی بنیادوں پرسخت اورواضح ہیں۔پاکستان میں فلسطین کامسئلہ مذہبی حساسیت سے جڑاہے۔ عوام اسے محض”خارجہ پالیسی”نہیں بلکہ “ایمان کاحصہ”سمجھتے ہیں۔اسی لئے حکومتیں اس معاملے پردوٹوک فیصلے سے گریز کرتی ہیں۔تاہم اسرائیل پرپاکستان کی پالیسی”ناقابلِ تبدیلی”ہے۔اس کوکشمیراورایٹمی پروگرام کی طرح ایک”ریڈلائن”سمجھاجاتاہے۔
ممکن ہے کہ یہ منصوبہ دراصل حماس کودباؤمیں لانے کی چال ہو۔یرغمالیوں کی رہائی کے بعداسرائیل اپنی کارروائیاں جاری رکھ سکتاہے۔اس سے منصوبے کی نیت پرسوال اٹھتاہے۔بعض ماہرین نے اسے”مسلم دنیاکی کمزوری”کہاہے۔اگراس میں القدس یافلسطینی ریاست کاذکرنہیں تویہ فلسطینی عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔مسلم ممالک کے مشترکہ اعلامیے میں فلسطینی ریاست اورمشرقی یروشلم کاذکرنہ ہونا”سرینڈر”ہے۔یہ تنقید پاکستان کی عوامی تشویش کوبڑھارہی ہے۔خدشہ ہے کہ منصوبہ عرب ومسلم ممالک کی جانب سے حماس پردباؤڈالنے اوریرغمالیوں کی رہائی کے بعدفلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی عسکری کارروائیوں کی راہ ہموار کرسکتاہے؛اس لیے امن کے نام پرصرف وقتی توقف کوحقیقی امن کے مترادف نہ سمجھاجائے—حقیقی امن تبھی ممکن ہے جب انصاف اورخودارادیت کے تقاضے پورے ہوں۔
پاکستان کی طرف سے منصوبے کی حامی خبروں کے بعدچندواضح اثرات ابھرے:(1)عوامی سطح پرجذباتی ردِ عمل اورمذہبی جماعتوں کی تنگ نظری، (2) سیاسی جماعتوں میں ابہام،(3) سوشل میڈیاپرشدیدتنقیداور(4)بعض سفارتی حلقوں کی تشویش کہ یہ قدم تاریخی مؤقف میں موڑثابت ہوسکتا ہے۔
یہ سب ایک خیالِ عام کے گرد گھومتے ہیں کہ سیاسی فیصلے عوامی اعتمادکے بغیراختیار کرنانقصان دہ ہوگا۔تاہم مشترکہ مسلم بیانیہ”سرینڈر”کے مترادف ہے،اگراس اعلان میں مشرقی یروشلم اورفلسطینی ریاست کاواضح ذکرنہیں تویہ مفاہمت نامہ کمزورہے۔منصوبہ دراصل حماس پردباؤڈال کریرغمالیوں کی رہائی لینے کی چال ہے،اوراس کے بعد اسرائیل کی عسکری کارروائیاں جاری رہ سکتی ہیں۔مسلم دنیامیں یگانگت کے نام پرکئے گئے بیانات بھی بعض اوقات داخلی دباؤومفادات کی تابعداری میں کمزورپڑسکتے ہیں۔بظاہریہ منصوبہ”خطرناک”اور”مکارانہ” قرار دیاجاسکتاہے۔
پاکستان میں مسئلۂ فلسطین ایک جذباتی قضیہ ہے،بعض مذہبی جماعتیں نہ صرف اسرائیل کی قانونی حیثیت تسلیم نہیں کرتیں بلکہ دو ریاستی حل کی حمایت بھی نہیں کرتیں؛ایسے میں سیاسی جماعتیں عوامی مزاج کے مطابق متذبذب رہتی ہیں۔سوال یہ کہ حکومت کس طرح عوام کااعتماد بحال کرے گی،اورکیاوہ اس فیصلے کوقومی سطح پرپیش کرکے اکثریتی حمایت حاصل کر پائے گی؟
یہ واضح رہے کہ امن کی کوششیں(جنگ بندی،یرغمالیوں کی رہائی،ہنگامی انسانی امداد)اورکسی ریاست کی تسلیمیت دومختلف ادوار وامورہیں۔پاکستانی مؤقف کے مطابق اسرائیل کوتسلیم کرنااورفلسطین میں قیامِ امن دوالگ شے ہیں؛اس لمحے مسئلہ غزہ میں جنگ بندی کواولین ترجیح ہے—مگرطویل المدت پالیسی مؤقف پرعوامی اتفاق ناگزیرہوگا۔
اسرائیل کے معاملے میں پاکستان کی پالیسی”کوئی حکومت یاوزیراعظم تبدیل نہیں کرسکتا”۔یہ دعویٰ ملک کے آئینِ خارجی اورقومی جذبات کاعکاس ہے، اسے قابل قبول بنانے کیلئے اخلاقی طاقت اوردلیل،عوامی جوازاوربین الاقوامی توازن کی ضرورت ہوگی۔پاکستان دوریاستی حل کوفلسطین کے حق میں دیکھتا ہے ،اسرائیل کی براہِ راست حمایت کے طورپرنہیں۔اس فرق کوعوامی سطح پرواضح کرنا ضروری ہے تاکہ ابہام نہ پھیلےمگراس کامطلب ہرگز نہیں کہ پاکستان بلاواسطہ اسرائیل کوفوراًتسلیم کرلے گا۔دوریاستی حل دراصل فلسطینی حقِ خودارادیت کی ضمانت اورانتقامی تسلط کے خاتمے کی جانب قدم ہے—یہ مقصد طویل مگراخلاقی بنیادپرواجب ہے۔
پاکستان میں عوامی رائے فلسطین کے حق میں بہت دوٹوک اورواضح ہے؛ سیاسی ومذہبی جماعتوں کی تقاریرنے اس امرکومزید تقویت دی ہے کہ پاکستانی عوام کسی ایسے امن منصوبے کو قبول نہیں کریں گے جس میں اسرائیلی لیڈرشپ کوجنگی جرائم پرمعاف کردیاجائے،وہ عوامی قبولیت حاصل نہ کرے گا۔یہی جذبات حکومت پردباؤبڑھاتے ہیں۔اس لیے حکومتی اقدامات کوعوامی مشاورت اورپارلیمانی شمولیت سے گزرنالازمی معلوم ہوتاہے۔
پاکستانی حکومت پرسوشل میڈیااورعوامی حلقوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایاگیاکہ وزیراعظم نے عوام کواعتمادمیں لئے بغیرٹرمپ کے منصوبے کاخیرمقدم کیسے کیا؟وزیراعظم کوعوام کواعتماد میں لیے بغیرکوئی حق نہیں کہ وہ امریکی منصوبے کی حمایت کریں۔ یہ سوال پاکستان میں جمہوریت کے اصولی ڈھانچے سے جڑاہے۔یہ سوالی آوازیں ظاہرکرتی ہیں کہ ریاستِ خارجہ پالیسی میں پارلیمان،عوام اورمعتبرعلمی حلقوں کی رائے لازمی ہونی چاہئے۔کسی بھی قومی موقف کی قابلِ قبولیت اسی وقت ممکن ہے جب وہ داخلی اجتماعی ضمانت کے ساتھ پیش کیاجائے۔یہ سوال حکمرانی میں شفافیت کی کمی کوظاہرکرتاہے۔شفافیت،قومی مفادات کی واضح نمائندگی اورپارلیمانی بحث ایسے تقاضے ہیں جن کااحترام لازمی ہے تاکہ کوئی فیصلہ عوامی مجوزہ قدروں سے متصادم نہ ہو۔
کیاامت مرچکی ہے؟‘‘جیسے سوال عوامی غصے اورمایوسی کی عکاسی کرتے ہیں۔فلسطین کامسئلہ مسلمانوں کیلئے مذہبی وجذباتی حیثیت رکھتاہے۔ایسے جذباتی نعروں میں وہ غم وغضب جھلکتاہے جوتاریخی مظالم کے سامنے انسانی ضمیرکوجنجھوڑتاہے۔یہ جذباتی فریادیں ہمیں یاددلاتی ہیں کہ بین الاقوامی سیاست میں انسانیت کی صداکبھی محض استدلال نہیں رہنی چاہئے—اصول،اخلاق اورانصاف ہی مطمئن انصاف کی بنیادہیں۔
کئی مذہبی جماعتیں یہ کہتی ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹرکے تحت کسی قوم کویہ حق ہے کہ اگراس کی زمین پرقبضہ ہوتووہ مسلح جدوجہدکرسکتی ہے۔پاکستان میں اس نظریے کی موجودگی سیاسی مؤقف کومزیدپیچیدہ کرتی ہے،خاص طورپرجب حکومتیں عوامی رضاکے بغیرکسی اہم سفارتی موڑاختیارکریں۔یہ مؤقف پاکستان کیلئے سفارتی مشکلات بڑھادیتاہے کیونکہ عالمی سطح پرمسلح مزاحمت کواکثردہشتگردی قراردیاجاتاہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیاہم عالمی طاقتوں کے اس غلط مؤقف کومانتے ہوئے اپنے جائز حقوق کامطالبہ اوراس کیلئے کوششیں ترک کردیں تاکہ ان کی جارحیت کوتوقانونی جوازمل جائے اوریہاں اپنے حق کیلئے قربانیوں کودہشتگردی کے پلڑے میں ڈالنے کے خوف سے ہم دستبردارہوجائیں۔
امن منصوبے میں حماس کویرغمالیوں کی رہائی کے بدلے جنگ بندی کی پیشکش کی گئی ہےمگریہ پیشکش وقتی ہے اورمستقل امن کی ضمانت نہیں دیتی۔ٹرمپ اورنیتن یاہو نے ایک نئے امن منصوبے پراتفاق ظاہرکیااورحماس کوہدفِ قبولیت میں آنے کی تنبیہ کی؛ منصوبے کے تحت حماس کوابتدائی طورپر72گھنٹوں میں20زندہ یرغمالیوں اوردرجنوں یرغمالیوں کی باقیات اسرائیل کوحوالے کرنے کاکہاگیا،جس کے بدلے غزہ میں فوجی کارروائیوں کوروکنے کی پیشکش رکھی گئی اوراس کے ساتھ ٹرمپ نے یہ دہمکی بھی دے ڈالی کہ اگرحماس اس کایہ حکم نہیں مانتی تواسرائیل سے مقابلہ کرنے کیلئے تیارہوجائے۔کیاگزشتہ دوبرس سے زائداسرائیل کو حماس اورغزہ کے باشندوں کوقتل کرنے کالائسنس نہیں ملاہواجس کیلئے امریکاکاہی عطاکردہ خوفناک اسلحہ استعمال ہورہاہے— تاہم حماس کی طرف سے اس دہمکی پرعملدرآمد کیلئے کئی عملی اوراخلاقی اعتراضات باقی ہیں۔
پاکستان کیلئےاصل امتحان یہی ہے کہ وہ”امن کی حمایت”اور”اصولی مؤقف”کے درمیان توازن برقراررکھے۔دوریاستی حل کی بنیاد پرفلسطینی ریاست کی حمایت پاکستان کیلئےناگزیرہے، مگر اسرائیل کی براہِ راست تسلیمیت فی الحال ممکن نہیں۔اس توازن کوبرقرار رکھناہی پاکستان کی سفارت کاری کااصل امتحان ہے۔پاکستانی پالیسی کی بنیادآج بھی وہی ہے جوقائداعظم نے رکھی تھی،انصاف پرمبنی حل،فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت، اوراسرائیل کی غیر قانونی جارحیت کاانکار۔امن منصوبوں کوخوش آمدیدکہناسفارتی آداب کاحصہ ہے،مگراسرائیل کی تسلیمیت ایک ایسی لکیرہے جسے پاکستان عبورنہیں کرسکتا۔ حقیقی امن تبھی ممکن ہے جب انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔امن کے نام پرفلسطینی عوام کے حقوق کوپسِ پشت ڈال دینا”سفارت کاری”توکہلاسکتا ہے، مگریہ”انصاف”نہیں کہلاسکتا۔پاکستان کیلئےیہی سب سے بڑاامتحان ہے کہ وہ اپنی پالیسی کووقت کے تقاضوں کے مطابق لچکداربھی رکھے اوراصولوں پر قائم بھی۔
اس مشکل موجودہ مرحلے میں (1) جنگ بندی اورانسانی امدادکواولین ترجیح دی جائے،(2)کسی بھی طویل المدت سیاسی فیصلے سے قبل قومی مشاورت اور پارلیمانی منظوری ضروری ہے،(3)پاکستان کاتاریخی مؤقف—جو1967ءکی سرحدوں اورالقدس الشریف کے باضابطہ مؤقف پرقائم ہے—بطورِبنیاد محفوظ رہے،اور(4)بین الاقوامی سطح پرمنصفانہ،شفاف اورحقوقِ بین الاقوامی کے مطابق حل تلاش کیاجائے۔مختصراًامن کی تلاش میں انصاف کوقربان نہ کیاجائے—یہی وہ اخلاقی اورسیاسی اصول ہیں جوکسی بھی ریاست کوآئندہ رہنمائی دے سکتاہے۔
یہ رپورٹ جہاں حقائق کوچونچ ماری کے بغیرمنظم کرتی ہے،وہاں اس میں وہ تہذیبی لَمس بھی رکھاگیاہے جوفکری تمکنت،سیاست کی زبانِ شائستگی اوراسلامی استدلال سے مستفادہے۔تاریخ ایک آئینہ ہے؛آئینہ صرف چہرہ نہیں دکھاتابلکہ اس روشنی کی شدت اور زاویہ بھی بتاتاہے جس سے حقیقت کے رنگ اُبھر کر آتے ہیں۔پاکستان کیلئےسب سے مطلوبہ راہ وہی ہے جس میں قومی عزت،بین الاقوامی قانون،اورانسانی ہمدردی تینوں برابروقعت رکھتے ہوں۔
اب وقت کاامتحان ہے۔تاریخ ہم سے سوال کررہی ہے کیاہم اپنی بنیادوں سے ہٹ کرچلیں گے یاپھرعدل وانصاف کے اُس چراغ کو روشن رکھیں گے جسے ہمارے اکابرنے جلایا تھ ا؟فلسطین کے معصوم بچے،زخمی ماؤں کے آنسواورشہیدوں کالہوہم سے یہی تقاضا کرتے ہیں کہ ہم اپنے اصولوں پرقائم رہیں۔ پاکستان کااصل وقاریہی ہے کہ وہ ظلم کے آگے جھکے نہیں بلکہ حق کی گواہی دے۔ اسرائیل کی جارحیت کوتسلیم کرنامحض ایک سیاسی فیصلہ نہیں،بلکہ یہ تاریخ سے انحراف ہوگا۔امن اگرانصاف کے بغیرآئے تووہ محض دھوکہ ہے۔یقیناپاکستان کوسفارت کاری کی نزاکتوں کودیکھناہوگامگراس کی اساس ہمیشہ وہی ہوجوقرآن نے سکھائی ہے: وَلاَ تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ، ظالموں کی طرف نہ جھکو،ورنہ آگ تمہیں چھولے گی۔
ہم نے سن رکھاہے،ہم نے دیکھاہے،اورہم نے محسوس بھی کیاہے—ہرآنسو،ہرفریاد،ہربانجھ مٹی کی داستاں ہمارے ضمیرکے سینے پرایک گہرانشان چھوڑ گئی ہے۔امتِ مسلمہ کی سربلندی اس میں ہے کہ وہ مظلوم کے ساتھ کھڑی رہے،نہ کہ ظالم کے زورپرخاموشی اختیارکرے۔قرآنِ کریم ہمیں یاددلاتا ہے
— بیشک مومن آپس میں بھائی ہیں۔( الحجرات)
اگرہم بھائیوں کوچھوڑکرمفادات کی سوئی کے پیچھے بھاگیں توہم اپناایمان اوراپناوقاردونوں کھودیں گے۔
میں اپنے تمام قارئین سے کہناچاہتاہوں:آئیں،ہم پارلیمنٹ کی معتبرمسندپرغوروفکرکریں،عوامی مشاورت کوفروغ دیں،اورایک واضح قومی پالیسی بنائیں جو نہ محض بین الاقوامی توازن کاتقاضا پوراکرے بلکہ ہمارے عوامی ضمیراوراسلامی اصولوں کی بھی پاسداری کرے۔جنگ بندی کوفوری ترجیح دیں،انسانی امداد پہنچائیں،—مگریادرکھیں کہ کسی بھی ڈھنگ کاامن جب تک منصفانہ حقوق کویقینی نہ بنائے،وہ پائیدارنہیں ہوگا۔ ان تاریخی اورآزمائش کے وقت قوم کویہ اعزازبخش دیں کہ ہم نے ظلم کے خلاف آوازاٹھائی،مظلوم کے ساتھ کھڑے رہے،اوراپنے اصولوں کوبیچ راستے میں فروخت نہیں کیا۔تاریخ ہمارے بارے میں پوچھے گی توہمیں شرمندہ نہیں ہوناچاہیے—ہمیں فخرہوناچاہیے کہ ہم نے انصاف کوترجیح دی۔
ختمِ کلام سے پہلے عرضِ عاجزانہ یہ ہے پاکستان کی عزت وشرافت،امتِ مسلمہ کی بقاءاورانسانی ہمدردی کاتقاضایہی ہے کہ ہم نہ صرف امن کے خدوخال طے کریں بلکہ انصاف کے دامن کوکبھی نہ چھوڑیں۔آئیں،ہم ایک آوازبن کرکہیں کہ انصاف کے بغیرامن قبول نہیں۔یہی پیغام ہے کہ پاکستان ظلم کے ساتھ نہیں،مظلوم کے ساتھ کھڑاہواوریہی پیغام ہماری نسلوں کودیناہے کہ”قدس کی آزادی” محض فلسطینیوں کی جدوجہد نہیں،بلکہ پوری امتِ مسلمہ کی غیرت وحمیت کاامتحان ہے۔
آئیے آج ہم متحدہوکراعلان کریں پاکستان انصاف کے ساتھ،مظلوم کے ساتھ،اوراصولوں کے ساتھ کھڑارہے گا۔ہم عالمی مفاہمت میں اپناکرداراداکریں گے مگراپنی بنیادی قدروں کوقربان نہیں کریں گے۔ اللہ ہمیں ہدایت دے،ہمیں صوابدیداورحکمت عطافرمائے،اورمظلوموں کوجلدنجات عطاکرے۔





