Kashmir: Testimony written in blood

کشمیر:لہو سے لکھی ہوئی گواہی

اے چشمِ زمانہ!سن کہ یہ فسانۂ دہرفقط چندصفحاتِ تاریخ نہیں،یہ ایک امت کے خوں چکاں اشکوں کی تحریرہے،جوہرورق پرنوحہ گر ہے۔اے دلِ بینا!یہ صرف خطۂ کشمیرنہیں،یہ نوعِ انسان کی غیرت وحمیت کاپیمانۂ آزمائش ہے،جہاں خامشی دراصل گناہ ہے، اورتاخیر بذاتِ خودایک سنگین سازش۔ایک خونچکاں داستانِ جدوجہد واستحصال جوگزشتہ سات دہائیوں سے انسانی حقوق کے چیمپئن کادعویٰ کرنے والوں کے ضمیرپرہتھوڑے برسارہی ہے۔

برصغیرکی فضاجب صدیوں کی غلامی کی زنجیروں کوتوڑنے کومچلی،تب تقدیرنے ایک فیصلہ کن لمحے کوجنم دیا۔تقسیم ہندکاوہ طوفانی لمحہ،جسے14/اگست 1947ء سورج نے پاکستان کے قیام کے ساتھ دیکھا،ایک وعدے،ایک اصول اورایک نصب العین پر مبنی تھا:مسلم اکثریتی علاقوں کوپاکستان میں شامل کیاجائے گا۔یہی وہ خدائی اصول تھاجس نے قوم کودوقومی نظریے کی روح سے منورکیا۔مگرافسوس!جب کشمیرکی وادیوں میں اذانوں کی صدائیں99فیصد مسلمان آبادی کی گواہی دیتی تھیں،وہاں سازشوں کی سیاہ گھٹائیں چھاچکی تھیں۔

آج دنیاکے نقشے پرایٹمی سائے میں لپٹااگرکوئی خطہ ہے جوسراپاآتش فشاں ہے،تووہ جنوبی ایشیاہے—جہاں چارایٹمی قوتیں اپنی سرد وگرم آویزشوں کے ساتھ برسرِپیکارہیں۔پاکستان اور بھارت جوکشمیرکے مسئلے پرازل سے متخاصم،ہرلمحہ ایک نئے تصادم کے دہانے پرکھڑے ہیں اورہرمرتبہ دنیاکوان کے ایٹمی تصادم کاخطرہ لاحق رہتاہے جوعالمی امن کیلئے ایک تباہی کا سبب بن سکتاہے۔

ذراپیچھے مڑکرجائزہ لیتے ہیں تو1946ء،ایک ننگِ انسانیت سودا،جس نے سرزمینِ کشمیر کوتاجِ برطانیہ کے تاجرمزاج حاکموں نے محض 75لاکھ نانک شاہی روپوں کے عوض گلاب سنگھ ڈوگرہ کوبیچ ڈالا۔یہ سوداعہد نامۂ امرتسرکہلایا۔گویہ کشمیر،اس سوداگری کااسیربنا،جہاں انسانوں کوزمین کی طرح خریداگیا۔ سعدی نے کہاتھا:”آں کہ زرخَرد،زرفَروشد۔”،یعنی جوانسانوں کوخریدے وہ انسانیت کوفروخت کرتاہے۔

جب1947ءمیں تقسیم کاسورج طلوع ہوا،ریاستوں کواختیاردیاگیاکہ وہ یاتوپاکستان سے الحاق کریں یاہندوستان سے۔گلاب سنگھ کے وارث،مہاراجہ ہری سنگھ نے ابتدامیں کسی سے الحاق سے انکارکیا۔یہ انکاراس کے عزم کاغمازنہ تھابلکہ سازشوں کی تمہیدتھی۔ چنانچہ،جب کشمیری عوام نے پاکستان کے ساتھ الحاق کامطالبہ کیاتوبزدل ہندومہاراجہ جوراجہ نہ بن سکا،اورہندوؤں کی سازش کے تحت26اکتوبر1947ءکوہندوستان سے نام نہادالحاق کااعلان کردیا،جس کی کوئی ائینی حیثیت اس لئے نہیں کہ یہ نام نہادالحاق کاواقعہ دراصل بھارتی فوجی مداخلت کے بعد پیش آیا۔

برطانوی مؤرخ”الفریڈسکوپوفیلڈ”اپنی مشہورتصنیف”دی ڈسپیوٹڈلیگیسی”میں اس معاملے کی چشم کشاحقیقتیں بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ”یہ امرمسلم ہے کہ الحاق کی دستاویزایک افسانہ ہے،جوبعدمیں تیارکی گئی۔برطانوی سلطنت یاہندوستانی تسلط کے سرکاری ریکارڈمیں کوئی مستنداصل آلہ موجودنہیں ہے”۔سکوپوفیلڈلکھتی ہیں کہ یہ تمام رپورٹس ہندوستان کے جھوٹے دعوؤں کی قلعی کھولتی ہے۔
No authenticated original instrument exists in the official records of the British Empire or Indian dominions.

اقوام متحدہ نے1948ءسے1957ءتک متواترقراردادیں منظورکیں جن میں کشمیری عوام کوحقِ خودارادیت دینے پرزوردیاگیا۔خاص طورپر21 اپریل 1948ءکی قراردادمیں ہندوستان کوپابند کیا گیاکہ وہ کشمیرمیں رائے شماری کاانعقادکرے۔قراردادنمبر47،قراردادنمبر91، قراردادنمبر122–سب کی سب یہی فریاد کرتی رہیں مگروعدے وفانہ ہوئے۔
قرارداد39 (20جنوری1948)
اقوام متحدہ نے بھارت اورپاکستان کے درمیان ثالثی کیلئےایک کمیشن قائم کیا تاکہ کشمیر کے مسئلے کا پرامن حل تلاش کیا جا سکے۔اس قراردادمیں جموں و کشمیرمیں امن وامان کی بحالی اوررائے شماری کے انعقادکی سفارش کی گئی تاکہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہو۔ قرار داد کے مطابق پاکستان کوریاست سے قبائلیوں اورغیرمقامی افرادکوواپس بلانے کاکہاگیا۔بھارت کواپنی افواج کوکم سے کم سطح پرلانے اوررائے شماری کیلئے ماحول سازگاربنانے کی ہدایت دی گئی۔اقوام متحدہ کے زیرنگرانی ایک غیرجانبداررائے شماری کاانعقادتجویزکیاگیا۔
قرارداد91 (30مارچ 1951)
اس قراردادمیں بھارت اورپاکستان کویاددلایاگیاکہ جموں وکشمیرکی حتمی حیثیت کاتعین اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اورمنصفانہ رائے شماری کے ذریعے کیاجائے گا۔قراردادمیں کہاگیاکہ جموں وکشمیرکی آئندہ حیثیت کاتعین صرف اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کے ذریعے کیاجائے گا۔
قرارداد122(24جنوری1957)
اس قراردادمیں کہاگیاکہ جموں وکشمیرکی آئندہ حیثیت کاتعین صرف اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اورمنصفانہ رائے شماری کے ذریعے کیاجاسکتاہے۔
قرارداد211(20ستمبر1965)
اس قراردادمیں بھارت اورپاکستان کے درمیان جنگ بندی کامطالبہ کیاگیااوردونوں ممالک سے کہاگیاکہ وہ5/اگست1965سے پہلے کی پوزیشن پرواپس چلے جائیں۔

اقوام متحدہ نے21/اپریل 1948ء کی قراردادنمبر122تک،کشمیریوں کوحقِ خودارادیت دینے کاوعدہ کیا۔ان قراردادوں پردستخط کرنے والے پانچ ممالک امریکا، برطانیہ، فرانس، چین، اورروس بطورضامن شامل تھے۔ان ممالک نے قراردادوں کی منظوری میں اہم کردار اداکیااورکشمیرمیں رائے شماری کے انعقادکی حمایت کی۔ان سب نے،بطورسلامتی کونسل کے ارکان،اس پر دستخط کیے۔یہ تمام عالمی طاقتیں سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کی حامل تھیں،اوران پرلازم تھاکہ وہ ان قراردادوں پرعملدرآمدکویقینی بناتیں۔مگر:
امریکانے بھارت کوچین کے خلاف ایک تزویراتی دیوارکے طورپراستعمال کیا۔
روس نے بھارت کواسلحہ فراہم کرکے معاشی مفادحاصل کیا۔
برطانیہ اورفرانس نے انسانی حقوق سے زیادہ اپنے تجارتی مفادات کواہم جانا۔

یہ تاخیراورخاموشی دراصل وعدہ شکنی،عہدسے فرار،اورکشمیریوں سے کھلا دھوکہ تھا۔ان کے ضمیرنے سامراجی مصلحت کے آگے سرجھکادیاجس کی آج تک سزاکشمیریوں کومل رہی ہے۔

اورپھرکیاہوا؟نہ رائے شماری ہوئی،نہ انصاف ملا۔بڑی طاقتوں،امریکا،برطانیہ،فرانس–نے اقوام متحدہ میں کشمیریوں کوحقِ خود ارادیت کی ضمانت دی،مگر یہ وعدے کاغذی ثابت ہوئے۔طاقت کے ایوانوں میں انصاف کی صدادب گئی اورکشمیری آج بھی غلامی کی زنجیروں میں سسک رہے ہیں۔آج بھی کشمیر حق خودارادیت کی قراردادوں کی منظوری کے باوجودطاقتورضامنوں کے مکرکاشکار ہے۔

آخریہ تاخیرکیوں؟جنوبی ایشیادنیاکاواحدایٹمی گنجان خطہ ہے جہاں بیک وقت پاکستان اوربھارت دومتحارب ایٹمی قوتیں ہیں۔چین ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت اورروایتی طورپربھارت سے متصادم ملک ہے۔روس(وسطی ایشیاکی سرحدپر)عالمی اسلحہ منڈی اورخطے میں اثرورسوخ رکھنے والاملک ہے۔ایران ایٹمی پروگرام کی تکمیل کے قریب ہے،جومغرب اوراسرائیل کیلئےباعث تشویش ہے۔اس قدر حساس خطے میں،کشمیرایک ایساشعلہ ہے جوکبھی بھی پورے خطے کوایٹمی آتش فشاں میں بدل سکتاہے۔

بعض عالمی طاقتیں مسئلہ کشمیرکوجان بوجھ کرالتوامیں رکھتی ہیں تاکہ وہ مسلسل ثالث بن کراپنی سفارتی اہمیت برقراررکھ سکیں۔ خطے میں فوجی اورانٹیلیجنس موجودگی کاجوازقائم رکھ سکیں۔ چین کے اثرکوقابومیں رکھنے کیلئےپاکستان کومحدودرکھاجائے۔

عالمی طاقتوں کی وعدہ خلافی کی وجوہات ان کے سیاسی مفادات کی نذرہوگئےہیں۔
امریکااورمغربی طاقتیں بھارت کوچین کے خلاف تزویراتی شراکت دارسمجھتی ہیں۔انہیں خدشہ ہے کہ اگرکشمیرکے مسئلے پربھارت کوسختی سے روکاگیاتووہ چین کی طرف جھک جائے گا۔
بھارت دنیاکاسب سے بڑااسلحہ خریدنے والاملک ہے۔امریکا،فرانس،روس—سب کیلئےیہ سنہری منڈی ہے۔کشمیرکامسئلہ”سلجھانے” سے یہ منڈی سکڑسکتی ہے۔
اقوامِ متحدہ خودپانچ طاقتورممالک کے رحم وکرم پرچلتی ہے۔ان میں سے کوئی بھی ویٹوپاوراگرمداخلت نہ چاہے توکوئی قراردادمؤثر نہیں ہوسکتی۔

عالمی طاقتیں اگرکشمیرکے مسئلے پربراہ راست دخل دیتی ہیں اورحالات قابو سے باہرہوتے ہیں،توان کے سامنے ایٹمی تصادم کا خدشہ ہے،جس کی آگ دنیاکولپیٹ میں لے سکتی ہے۔
بھارت اورپاکستان کے ساتھ تجارتی اوردفاعی تعلقات کی وجہ سے عالمی طاقتیں مسئلہ کشمیرپرمؤقف اختیارکرنے سے گریزاں رہیں۔
سردجنگ کے دوران امریکااورسوویت یونین نے اپنے جغرافیائی مفادات کے تحت جنوبی ایشیامیں پالیسیزاپنائیں،جس سے مسئلہ کشمیر پس منظرمیں چلاگیا۔
بھارت نے کشمیرکواپناداخلی معاملہ قراردے کربین الاقوامی مداخلت کومستردکیا،جس سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعملدرآمدممکن نہ ہوسکا۔

اقوام متحدہ کی قراردادیں سفارشات کی حیثیت رکھتی ہیں اوران پرعملدرآمدکیلئےکوئی مؤثرنفاذی میکانزم موجودنہیں ہے۔بھارت کوچین کے خلاف تزویراتی دیواربناناتھالہٰذاامریکااوراس کے اتحادی بھارت کوناراض کرنے کاخطرہ مول نہ لے سکے۔بھارت دنیاکی سب سے بڑی اسلحہ مارکیٹ ہے۔ اگرکشمیرحل ہوگیا،توامن آجائے گا۔اوراگرامن آگیا،تواسلحہ کون خریدے گا؟

چین،جس کی واضح موجودگی لداخ اوراروناچل پردیش میں موجودہے،اورجوبھارت سے تزویراتی محاذآرائی بھی رکھتاہے کیونکہ بھارت کواڈ اتحادکے رکن ہونے کی حیثیت سے لداخ سے سی پیک کوکاٹنے کیلئے سرگرم ہے،یہی وجہ ہے کہ چین نے آگے بڑھ کر لداخ کے اس علاقے پراپنا قبضہ مضبوط کرلیاہے جہاں سے انڈیاکی طرف سے سی پیک کوخطرہ ہوسکتاتھا۔خودانڈین وزیردفاع راج ناتھ نے بھارتی اسمبلی میں اس بات کااعتراف کیاکہ چین اس وقت بھارتی لداخ کے36ہزارمربع کلومیٹرپرقابض ہوچکاہے۔

روس خطے میں اسلحہ فروخت کرنے والابڑاکھلاڑی،جوبھارت کاتاریخی حلیف بھی رہاہے اورایران جوایٹمی صلاحیت کے کنارے پر کھڑاہے،اورجس کے وجودسے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست لرزتی ہے۔ایسے نازک،بارودی خطے میں کشمیرایک سلگتاشعلہ ہے،جواگرپھٹ پڑاتویہ خطہ نہیں،بلکہ انسانیت جل کرراکھ ہوجائے گی۔کشمیرکو”حل نہ ہونے والامسئلہ’بناکررکھناعالمی سیاست کاوہ مکارانہ کارڈہے،جس سے طاقتورممالک اپنی اہمیت اورموجودگی کاجوازقائم رکھتے ہیں۔ایسامعلوم ہوتاہے کہ عالمی طاقتیں محض ضامن نہیں رہیں،بلکہ نرغے میں آئے کشمیریوں کی بے حسی کے ساتھ تماشادیکھنے والے بے ضمیرتماشائی بن چکی ہیں۔اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پردستخط کرکے اگروہ خودعملدرآمد نہیں کرواتیں،تویہ عہد شکنی ہے—یہ فریبِ عہد،دھوکہ، اور انسانی حقوق کے نام پر ننگِ انسانیت ہے۔

یورپ میں یوکرین جیسے ممالک کی خودمختاری پرفوری شورمچایاجاتاہے،پابندیاں لگائی جاتی ہیں،فوجی امداددی جاتی ہے۔مگرکشمیر جہاں لاکھوں مسلمان دہائیوں سے محصورہیں،وہاں صرف بیانات،قراردادیں اورمصلحتوں کے پردے ہیں۔یہ وہ دوہرامعیارہے جومسلم دنیااوراقوام عالم کے امن پسندعوام میں غصے،مایوسی اوربےچینی کو بڑھا رہاہے۔ان حالات کودیکھتے ہوئے کہناپڑتاہے کہ”اگرعالمی ضمیرمردہ ہوچکاہے،توکشمیریوں کاخون اسے دوبارہ زندہ کرے گا”اورکشمیری پچھلی سات دہائیوں سے اب تک ایک لاکھ سے زائد اپنی جانوں کی قربانیاں دیکراب تک اپنے مضبوط عزم کااظہارکررہے ہیں اوران تمام خائن طاقتوں سے سوال پوچھ رہے ہیں کہ یہ ناانصافی کب تلک؟ کیاتم نے کبھی سوچاہے کہ وقت کامؤرخ تمہاری آئندہ آنے والی نسلوں کوتمہارے اس مکروہ کرادرکی وجہ سے کس شرمندگی کا سامناکرناپڑے گا؟

اب سوال یہ ہے کہ اس نازک مسئلے پرتاخیرکاکیامطلب اورکیا نتائج نکل سکتے ہیں؟
تاخیرکامطلب ہے ایٹمی تصادم کے خطرے کودن بہ دن بڑھانا۔
تاخیرکامطلب ہے ہزاروں معصوم کشمیری بچوں کایتیم ہونا۔
تاخیرکامطلب ہے خطے کوبارودکے ڈھیرپربیٹھائے رکھنا۔

1965ءمیں جب پاک فوج نے دشمن کی صفوں میں زلزلہ بپاکیا،تواقوام عالم لرزہ براندام ہوگئے۔تب روس کی سرزمین پر”اعلانِ تاشقند” ہوا،جس کے تحت جنگ بندہوئی۔مگرکشمیر کے بنیادی مسئلے پربھارت نے ایک بارپھرعہدشکنی کی اورگفتارکاغازی ثابت ہوا۔

1971ءکی المناک شبِ سیاہ میں جب مشرقی پاکستان میں دشمن نے”را”کے ذریعے نفرت کے بیج بوئے،تومودی نے سقوطِ ڈھاکہ میں راکے مکروہ کردارکی داستان کااعتراف کرتے ہوئے 2015ءمیں ڈھاکہ میں برملاکہا:”ہم نے مکتی باہنی کوسپورٹ کیا،ہم نے پاکستان کو دولخت کیا”۔یہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی تھی،مگراقوامِ متحدہ اورعالمی ضمیرنے مجرمانہ خاموشی اختیارکی۔

جب پاکستان اورچین نے مل کراقتصادی راہداری کاخواب سجایا–سی پیک،جوگوادرکوکاشغرسے ملاتاہے–توسامراجی طاقتوں کی نیندیں اڑگئیں۔امریکا، آسٹریلیا،جاپان اوربھارت پرمشتمل‘کواڈ’ دراصل چین کوگھیرنے کاحربہ ہے اورپاکستان کواس جرم کی سزادی جا رہی ہے کہ وہ مشرق سے اٹھنے والے اس آفتابِ ترقی میں شریک کیوں ہے؟

فروری2019ءمیں جب بھارتی طیارے پاکستان کی فضاؤں میں داخل ہوئے،پاک فضائیہ کے شاہینوں نے ان کی درگت بنائی۔ایک دن میں بھارت کے جدید ترین دوطیارے،مگ- 21، مار گرائے۔پائلٹ ابھی نندن کی گرفتاری اورپھررہائی نے پاکستان کودنیابھرمیں امن پسند قوت کے طورپرمنوایا۔دودن بعدپاکستان نے اپنے اہداف کوکامیابی سے نشانہ بنایااوربھارت کوسنگین پیغام دیاکہ اب میدان تمہارے ہاتھ سے نکل چکاہے۔مودی اس وقت پسپائی اختیار کرتے ہوئے بلبلااٹھاکہ اگرہمارے پاس آج رافیل طیارے ہوتے توہم اس خطے کی شکل ہی تبدیل کردیتے اورفوری طورپردنیا کے بہترین33فرانسیسی رافیل جنگی جہازوں کاآرڈردیکراپنے آقاؤں کویہ پیغام دیاکہ اب اسے خطے کابے تاج بادشاہ بننے سے کوئی نہیں روک سکتالیکن وائے قسمت!جونہی70جنگی جہازوں کی اڑان بھرکراپنے پورے تکبر کے ساتھ(خاکم بدہن) پاکستان کوختم کرنے کیلئے فضاؤں میں اڑان بھری تومعلوم نہیں تھاکہ شیطان کے مقابلے کیلئے رحمان کی قوتیں میدان میں اترچکی ہیں۔اک صدا گونجی۔۔۔۔۔

اے تاریخ! قلم تھام،کہ ایک بارپھربرصغیرکی فضاؤں میں وہی بارودکی بوہے،وہی لہوکی لالی،وہی دجل وفریب کی دھندجس میں سچائی کاسورج ماندپڑجاتا ہے۔ہمالیہ کے دامن سے گوادر کے ساحل تک،ہر ذی روح نے لرزاں دل کے ساتھ وہ ساعتیں گنی ہیں،جب دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے کھڑی ہوئیں—ایک جانب حوصلے کاہمالہ،پاکستان،اوردوسری طرف غرور و مکاری کااستعارہ بھارتی گجرات کاقصاب!رات کے اندھیرے میں خاک وخون کی دہلیزسجانے پہنچ گیا۔

مئی2025میں حالیہ پاک-بھارت جنگی کشیدگی اورعالمی ضمیرکی آزمائش اس نہج پرپہنچے کہ فضاگرجنے لگی،زمین کانپنے لگی، اوردل دھڑکنے لگے۔مودی حکومت ، داخلی سیاسی بحران،کسان تحریکوں،معاشی زوال اورحزبِ اختلاف کی تابندہ پیش قدمی سے خوفزدہ،ایک مرتبہ پھراپنی پرانی چال پرآگئی—’جنگ برائے ووٹ‘۔الزام تراشی کی نئی قسط مقبوضہ کشمیرمیں کسی جھوٹے حملے کے گردگھومتی ہے،جس کاالزام پاکستان پرعائدکیاگیا۔

جب بھارتی فضائیہ نے پاکستانی حدودکی خلاف ورزی کی،توپاک فضائیہ نے صرف اپنے دفاع کاحق استعمال نہ کیا،بلکہ دنیاکویہ جتا دیاکہ ہم صرف ایٹمی طاقت نہیں،بلکہ جنگی حکمت عملی میں بھی برترہیں۔بھارت کے جدیدترین لڑاکاطیارے،راڈارسے چھپنے والے اسرائیلی ڈرونز کےدعوے،سب خاک ہوگئے۔کئی مقامات پربھارت کے اہم عسکری اہداف کونشانہ بنایاگیا اور ان سب کے عالمی میڈیا میں باقاعدہ شواہدبھی پیش کردیئے۔

جب جنگی میدان میں بھارت کوشرمناک شکست کاسامناہوا،تواس کی کمرنازک حلیف اسرائیل کے خفیہ عسکری ماہرین نے تھپتھپائی۔ اسرائیل نے امریکی انتظامیہ کومتحرک کیا،جس نے فوراًسیزفائرکیلئےدباؤبڑھایا۔اقوامِ متحدہ میں سفارتی شوراُٹھا،اورامریکی وزیر خارجہ نے براہ راست اسلام آباداوردہلی سے رابطہ کیا۔پاکستان نے سیزفائرکی رضامندی صرف امن کی خاطردی،نہ کہ کمزوری کے تحت۔یادرہے کہ امریکی صدرٹرمپ نے ابتدامیں اس معاملے سے لاتعلقی ظاہرکی۔وہ کہتے رہے:”یہ انڈیااورپاکستان کااندرونی معاملہ ہے۔” مگرجونہی بھارت کومنہ کی کھانی پڑی،امریکی سفارتکاری متحرک ہوئی اورسیزفائر کاانتظام کروایاگیاتاکہ مودی سرکارکومزید شرمندگی سے بچایاجاسکے۔

اندرونِ ہند،مودی پرعوامی دباؤبڑھ چکاہے۔انتخابات سرپرہیں،اورہربھارتی چینل پرصرف یہی بازگشت ہے:”پاکستان نے ہماری طاقت کابھرم توڑدیا”۔ اس پس منظرمیں یہ بعیدنہیں کہ مودی سرکارایک بارپھراچانک حملے کی ناپاک جسارت کرے۔اس کیلئے اسرائیل سے ڈرون اورمیزائل سسٹم کی فوری درآمد ،امریکاسے خفیہ سیٹلائٹ ڈیٹاکی مدد،اورمتحدہ عرب امارات و سعودی عرب سے مالی مدد حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔آخری خبریں یہ ہیں کہ ایک طرف سیزفائرکاڈرامہ اوردوسری طرف انڈیاکوبچانے کیلئے امریکی ائیرفورس کے تین بڑے جہازانڈیاکے جے پورکے ہوائی اڈے پرپہنچ چکے ہیں۔

میرے ایک بہت ہی عزیزدانشوردوست کوجب یہ اطلاع ملی توان کوفوری کہناتھاکہ جیسے ایران پربمباری کرنے کی صلاحیت رکھنے والےاسٹیلتھ بمبار طیارے ڈیاگوگارسیاپررکھے ہوئے ہیں،اسی طرح ایک انتباہ کے طورپرپاکستان کوبھارتی فضائی اڈوں پر بمباری کرنے سے روکنے کیلئےبھارتی اڈے پر طیارے کھڑے کردیئے گئے ہیں،تاکہ امریکی طیاروں کی تباہی کوامریکاکے خلاف جنگی کارروائی تصورکیاجائے۔

یقیناًپاکستان اب اپنے دیگرآپشنزپرغورکرے گاجوکہ انتہائی خطرناک ہوسکتے ہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اوراسرائیل کو واضح پیغام ملاہے کہ پاکستان اب اپنے وہ کارڈاستعمال کرے گا،جس کاانہیں وہم وگمان بھی نہیں۔سعودی عرب اوریواے ای جیسے ممالک پاکستان سے مضبوط اسٹریٹجک اور اقتصادی روابط رکھتے ہیں،بالخصوص سی پیک میں ان کی دلچسپی ایک سنجیدہ پہلوہے ۔مودی کی کوئی جارحانہ حرکت ان ممالک کوایک دوراہے پرکھڑا کر دے گی،یاتووہ سفارتی غیرجانبداری اپنائیں،یاپھرپاکستان سے خاموش تائیدجاری رکھیں،جیساکہ ماضی میں ہوا ۔امریکاکارویہ منافقت پرمبنی رہاہے۔وہ ایک جانب بھارت کو”چین کے مقابلے میں اہم پارٹنر”کہتاہے،اوردوسری طرف پاکستان کی افواج کوبھی قریبی تعاون کایقین دلارہاہے۔اگر جنگ دوبارہ چھڑتی ہے توامریکا کوشش کرے گاکہ پاکستانی جواب سے پہلے ہی بزورطاقت ایک بارپھرسیزفائرکی میزسجادی جائے،تاکہ مودی کی اپنی عوام میں جورسوائی ہوچکی ہے،اس کامداواہوسکے لیکن اس بارشایددیرہوچکی ہوگی۔

آج پھرخطے کی فضابارودآلودہے۔مودی کی زبان سے نکلاہرلفظ ایک نئے طوفان کاپیش خیمہ ہے۔پاکستان کے صبروتحمل کوکمزوری نہ سمجھاجائے،کہ ہم امن چاہتے ہیں مگرعزت کے ساتھ ۔ کشمیرکالہوپکاررہاہے،اوراب وقت آچکاہے کہ اقوام عالم اس دکھی قوم کی فریادسنیں۔

یادرکھیں کہ یہ دنیاکاواحدخطہ ہے جہاں ایک چنگاری،عالمی تباہی میں بدل سکتی ہے۔اگرعالمی طاقتیں اب بھی تاخیرسے کام لیں،تو کشمیرصرف ایک جغرافیائی تنازعہ نہیں،بلکہ ایٹمی قیامت کامحرک بن سکتاہے۔کشمیرجیسے سلگتے تنازعے کوحل نہ کرنا،انسانی دانش وضمیرپربدنماداغ ہے۔کیاعالمی طاقتیں امن نہیں چاہتیں؟یاجنگ ہی ان کاذریعہ معاش ہے؟

بدقسمتی سے مسلم دنیامیں وہ سیاسی وحدت اوراثرورسوخ نہیں رہاجوفلسطین یاکشمیرجیسے مسائل پرمؤثردباؤڈال سکے۔کشمیری عوام ایک ایسی روحانی جدوجہد میں مصروف ہیں جوبظاہرعالمی ضمیرکوجھنجھوڑنے میں ناکام رہی ہے۔

📜 نتیجہ
مسئلہ کشمیرپراقوام متحدہ کی قراردادیں واضح طورپرکشمیری عوام کوحق خودارادیت دینے کی حمایت کرتی ہیں۔تاہم،عالمی طاقتوں کی سیاسی مصلحتوں اوراقوام متحدہ کی کمزوریوں کی وجہ سے یہ قرار دادیں عملی جامہ نہ پہن سکیں۔اب وقت ہے کہ اقوام متحدہ اور بڑی طاقتیں یاتواپنے وعدوں کوپوراکریں یاتاریخ میں فریب کاروں،وعدہ شکنوں اورسامراجی مفادپرستوں کے طورپریادرکھی جائیں۔

کشمیرکے مسئلے کونہ سلجھانا،محض سفارتی ناکامی نہیں بلکہ یہ ایک اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔اگرعالمی طاقتیں واقعی امن کی دعویدار ہیں توانہیں چاہیے کہ وہ دوہرا معیارترک کریں۔اقوام متحدہ کی قراردادوں پرفوری اورموثر عملدرآمد کروائیں۔

یادرکھیں:کشمیرکی وادی اگرخاموش ہے،تویہ خامشی کسی بھی لمحے ایک ناقابلِ تلافی دھماکے میں بدل سکتی ہے۔وہ دن دورنہیں جب یہ سوال گونجے گاتم نے کشمیریوں کوحق کیوں نہ دیا؟تم نے اپنے وعدے کیوں توڑے؟
اے اقوامِ عالم! تم کب جاگو گے؟ جب دھرتی راکھ ہو جائے گی؟ کشمیر کے مظلوم، تاریخ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ کیا تمہارے ایوانِ عدل میں ان کے آنسوؤں کی کوئی گونج سنائی دے گی؟
اے اقوامِ عالم!اگرتمہاراضمیرجاگتاہے توکشمیریوں کی صدائے حق سنو،وگرنہ تاریخ کے قاضی کے سامنے تمہیں جواب دہ ہوناپڑے گا۔
وادیٔ کشمیر!ہم تجھے تنہانہیں چھوڑیں گے۔یہ چراغِ سحرجوتیرے لہوسے روشن ہے،ایک دن ظلمتوں کوچیرکرصبحِ آزادی کاپیامبر بنے گا۔ان شاءاللہ

اپنا تبصرہ بھیجیں