Honor, ego and world politics: India's test

عزت،انااورعالمی سیاست:بھارت کی آزمائش

بین الاقوامی سیاست کے افق پربعض اوقات ایسے بادل چھاجاتے ہیں جن سے دھوپ بھی چھن جاتی ہے اوربارش بھی برسنے لگتی ہے۔ایک طرف امریکا ہے جوپابندیوں کے کوڑے سے اپنے مخالفین کوراہِ راست پرلانے کاخوگرہے،دوسری طرف بھارت ہے جواپنی معاشی پیاس بجھانے کیلئےروسی چشمۂ تیل سے سیراب ہورہاہے،اورتیسری طرف روس ہے جو خاموشی سے اس کھیل کافائدہ اٹھارہا ہے۔سوال یہ ہے کیایہ محض تیل وتجارت کی داستان ہے یااصل میں انااوراقتدارکامعرکہ ہے؟تاریخ کے اوراق پلٹ کردیکھو،جب کسی قوم پر پابندیوں کے طوق ڈالے گئے تووہ یاتوغلامی کی زنجیروں میں جکڑگئی یاپھرنئی راہوں کےدرکھلے۔

بین الاقوامی سیاست میں پابندی محض ایک معاشی ہتھکنڈہ نہیں ہوتی بلکہ ایک ایساکوڑاہے جس سے طاقتورممالک اپنے مخالفوں کو سیدھی راہ پرچلانے کی کوشش کرتے ہیں۔امریکانے بھارت پرپابندیاں لگاکرگویاایک پیغام دیاہے کہ نئی دہلی اپنی تیل کی پالیسی میں آزادنہیں مگرتاریخ شاہدہے کہ جب بھی کسی قوم کودبایاگیاتواس نے کسی دوسرے دروازے پردستک دی۔آج بھارت کی نگاہیں چین کی طرف ہیں،گویادشمنِ دیرینہ اب وقتی سہارابننے جارہاہے۔یہاں روسی صدرولادیمیرپوتن کاکردارسب سے زیادہ معنی خیزہے۔کیاوہ مودی کی مشکل گھڑی کو اپنے مفادکی سیڑھی بناسکتے ہیں؟سیاسی شطرنج میں اکثرایساہواہے کہ ایک کی کمزوری دوسرے کاموقع بنی ہے۔

تاہم آج سے کچھ ماہ پہلے کسی نے بھی اس منظرنامے کے بارے یہ سوچاتک نہ تھاکہ واشنگٹن کی سیاست نئی دہلی کے کوڑے بردار درپراس حال کوپہنچے گی۔پابندیوں کی بجلی بھارت کی زمین کوجلانے اس شدت سے پہنچے گی اوربھارت اس کے جواب میں بیجنگ اورماسکوکے گھنے جنگلات کے سایہ کیلئے فریادکناں ہوجائے گا۔آج امریکانے بھارت پرقہربرسایاہے،لیکن یہ قہرشایدبیجنگ اور ماسکوکے دروازے پرایک نئی دستک بن جائے۔دشمنِ دیرینہ کبھی وقت کے مصلحتوں میں دوست بن جاتاہے اورروس وہ توصدیوں سے اپنی مصلحتوں کامحافظ رہا ہے،کیاعجب کہ وہ دہلی کی کمزوری کواپنی قوت کاپل بنالے۔

تاریخ کاپہیہ ایک بارپھروہی منظردکھارہاہے جوعہدِقدیم میں سلطنتوں کے زوال کے وقت دکھایاکرتاتھا۔جب ایک طاقت اپنے کوڑوں اورپابندیوں سے دوسروں کوغلام بنانے پرتُل جاتی ہے تودوسری طاقتیں ان غلامی کی زنجیروں کوتوڑنے کیلئےدستک دیتی ہیں۔آج امریکانے بھارت پرپابندیوں کاطوق ڈالاہے،لیکن یہ طوق شایددہلی کوبیجنگ کے آستانے کی طرف دھکیل دے۔اورپوتن—وہ مردِآہن—خاموشی سے اس موقع کواپنے فائدے کی سیڑھی بنارہاہے۔

یہ تاریخ کاوہی کھیل ہے جہاں دشمن کل کے،آج وقتی سہارابن جاتے ہیں۔اورسوال اب یہ ہے کیاپوتن اس فرصت کواپنی شطرنج کی اگلی چال کیلئےاستعمال کریں گے؟کیاوہ مودی کی کمزوری کواپنی طاقت کازینہ نہیں بنالیں گے؟یقیناًامریکانے بھارت پرٹیرف میں اضافہ اورتجارتی معاہدوں کومنسوخ کی شکل میں پابندیوں کی بجلی گرائی ہے۔مگربھارت اس بجلی کے جھٹکے سے بچنے کیلئے اپنے مردہ تن میں بیجنگ اورماسکو سے معاشی حیات کاطلب گاربن کراپنی کوششوں میں مصروف ہے۔اورپوتن؟وہ موقع کی تاک میں ہے،وہ دہلی کی کمزوری کواپنی طاقت بنانا چاہتاہے۔سوال یہ ہے کیابھارت دوسروں کی بساط کامہرہ بنے گایااپنی تقدیرکاعلمبردار؟

ٹرمپ کا50فیصدٹیرف محض اعدادوشمارکاکھیل نہیں بلکہ ایک ایساسیاسی ہتھیارہے جوبھارت کی ریڑھ کی ہڈی پررکھاگیاہے۔اس میں روسی تیل کی خریداری کی وجہ سے اضافی25فیصد ٹیرف بھی شامل ہے۔اس فیصلے کامطلب یہ ہے کہ بھارت کی برآمدی مصنوعات امریکی منڈی میں اپنی کشش کھوبیٹھیں گی۔سوال یہ ہے کہ کیانئی دہلی اس دباؤکے آگے جھک جائے گایااپنی معیشت کیلئےنئے راستے نکالے گا؟گویادونوں اطراف مفادات کے اژدھے ایک دوسرے کونگلنے کیلئے تاک میں ہیں۔

ٹرمپ نے جب سے بھارت پرٹیرف کاکوڑابرسایاہے توگویادہلی کے بازاروں میں کہرام مچ گیاہے۔ٹرمپ نے اعلان کیاکہ بھارت پر سخت اقتصادی قدغنیں عائدکی جائیں گی۔یہ فیصلہ کسی معمولی اختلاف کاشاخسانہ نہیں بلکہ اس عالمی بساط پرایک نیامہرہ ہے۔بظاہر یہ ایک سخت ضرب ہے،لیکن تاریخ کی گواہی ہے کہ بعض اوقات زخم بگڑجائے توزندگی بچانے کیلئے جسدسے علیحدگی ضروری ہوجاتی ہے،توکیااس کیلئے مودی کوسیاست کے منظرنامے سے غائب ہوناپڑے گالیکن یہ بات توطے ہے کہ بھارت کیلئےیہ فیصلہ زحمت بن گیاہے کہ اس کی معیشت پرفوری دباؤبڑھے گا،برآمدات مہنگی ہوجائیں گی،اور درآمدی منڈیوں میں بھارتی مصنوعات کی مسابقت گھٹ جائے گی۔لیکن بھارت اس صورتحال کامقابلہ کرنے کیلئے چین کے ساتھ جاری کشیدگی میں نرمی کا خواستگاردکھائی دے رہاہے اوربھارت کوروس کی طرف زیادہ جھکاؤکاجوازملے گااورچین کے ساتھ جاری کشیدگی میں بھی نرمی پیداہوگی۔گویاہرضرب ایک نئے اتحادکی راہ ہموارکررہی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ انڈیا اس کی کیاقیمت اداکرے گا۔

اگربھارت خطے میں سیاست کے اس یوٹرن میں کامیاب ہوجاتاہے اورامریکی گھاؤکوشفامیں تبدیل کرنے کی کوشش کرلیتاہے توسختی کے کوڑے میں نصرت کی جھلک حاصل کرسکتاہے۔آج ٹرمپ نے بھارت پر50فیصدٹیرف کابوجھ رکھاہے۔بظاہریہ دہلی کیلئےزحمت ہے،لیکن اگریہ زحمت اسے اپنی سمتِ نظر بدلنے پرمجبورکردے،روس کے ساتھ رشتہ گہراکردے اورچین کے ساتھ کشیدگی کم کردے تویہی زحمت رحمت میں بدل سکتی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے اعلان کیاکہ بھارت پریہ پابندیاں دراصل روس-یوکرین جنگ کے پس منظرمیں لگائی گئی ہیں۔یوں امریکا نے گویاایک تیرسے دوشکار کرنے کی کوشش کی ہے،روس پردباؤاوربھارت کوسبق۔لیکن یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیاواقعی بھارت روسی جارحیت کا خاموش شراکت دارہے یایہ محض مغربی سیاست کی ایک نئی علامت ہے؟

امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے الزام لگایاکہ بھارت روسی تیل خریدکرمنافع کمارہاہے۔دلچسپ امریہ ہے کہ چین کے بارے میں انہوں نے یہی زبان استعمال نہیں کی بلکہ یہ کہا کہ ان کے تیل کے ان پُٹس متنوع ہیں۔یہ دوہرامعیاربتاتاہے کہ اصل ہدف بھارت ہے۔کیا یہ الزام محض معاشی ہے یاسیاسی بھی ؟ حقیقت یہ ہے کہ تیل اب صرف توانائی کاذریعہ نہیں بلکہ عالمی سیاست کی شہ رگ ہے۔جس کے ہاتھ میں تیل کی نلکی ہے وہی طاقت کی کنجی رکھتاہے۔ کیا حالیہ بھارت کے خلاف امریکی اقدامات روس-یوکرین جنگ کے تناظر میں اٹھائے گئے ہیں؟کیایہ صرف جنگ کی تپش ہے یامودی اورٹرمپ کی اناؤں کا تصادم؟

واشنگٹن نے اعلان کیاکہ بھارت کوسزاروس-یوکرین جنگ کی وجہ سے ملی۔لیکن کیایہ جنگ صرف یوکرین کے کھیتوں میں لڑی جا رہی ہے؟نہیں یہ جنگ دلوں کی جنگ ہے،عزتِ نفس کی ہے،اناؤں کی جنگ ہے،اورعالمی طاقتوں کے بین السطورفیصلوں کی جنگ ہے۔یہ وہی جنگ ہے جس کی گونج قرآن نے”کافروں پر سخت، آپس میں مہربان” کے الفاظ میں بیان کی کہ اصل طاقت وہی ہے جوباطل کے سامنے سخت ہواوراپنے اندراتحادقائم کرے۔ بھارت کے پاس یہ قوت نہیں،اسی لیے وہ دوسروں کے فیصلوں کااسیرہے۔روسی تیل کی خریداری اوراس کی دوبارہ فروخت کاالزام امریکی وزیرخزانہ نے بھارتی حکومت پرلگایا،جیسے وہ کہہ رہے ہوں کہ بھارت منڈی کے منافع کی ہوس میں روسی توپوں کوبارودفراہم کررہاہے۔اس کے جواب میں بھارتی سفارتکاری خاموش ہے،لیکن یہ خاموشی کسی رضامندی کی نہیں بلکہ شطرنج کی چال ہے۔

اس کے ساتھ ہی50فیصد ٹیرف کااعلان ہوا—گویاایک تازیانہ جودہلی کی معیشت پربرسایاگیا۔البتہ سوال یہ بھی اٹھتاہے کہ اگرٹرمپ واقعی روسی جارحیت کے خاتمے کے خواہاں تھے توالاسکامیں پوتن سے ملاقات کے بعدنرم لہجہ کیوں اختیارنہ کیا؟شایداس لیے کہ اصل تنازعہ تیل نہیں بلکہ کریڈٹ کاہے۔مودی کیلئےیہ ممکن نہ تھاکہ وہ اپنے عوام کویہ باورکرائیں کہ جنگ بندی کاسہراٹرمپ کے سربندھتاہے۔یوں معاملہ دونوں رہنماؤں کی اناکے درمیان آکھڑاہوا۔

امریکی وزیرِخزانہ نے بھارت پرانگلی اٹھائی کہ تم روسی تیل کے سوداگرہولیکن وہی مودی جوسینہ پھلاکرٹرمپ کو“مائی فرینڈ”کہہ کرمخاطب ہوتے تھے،آج گودی میڈیایہ الزام لگارہاہے کہ جب چین کی باری آئی تونرم لہجہ اختیارکیا۔یہی ہے مغرب کی سیاست کا اصل چہرہ جسے چاہاملامت کاہدف بنایا،جسے چاہاچشم پوشی سے نوازا۔یہ محض تیل کاسوال نہیں،یہ انصاف کے پیمانوں کی جانچ ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیاگودی میڈیاماضی کے آئینے میں اپناداغدارچہرہ دیکھے تویہی کام بھارت نے سوویت یونین ٹوٹنے پراپنے پرانے حلیف سے کیاتھاتواب اس پرآنسوبہانابے سودہے۔بھارت پرتیل کاالزام لگا—کوڑے برسائے گئے۔چین پریہی الزام لگا—خاموشی اختیارکی گئی۔بھارت یہ الزام بھی لگارہا ہے کہ یہ انصاف نہیں،یہ طاقت کاکھیل ہے۔یہی ہے مغرب کی سیاست ایک طرف کوڑا، دوسری طرف مکمل دبیزپردہ!

پیٹرناوارونے بھارت پرسخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ امریکی گاہک بھارتی سامان خریدتے ہیں اوربھارت انہی ڈالرزسے روسی تیل خریدکراسے دنیابھرمیں فروخت کرتاہے۔گویابھارت کوروسی جارحیت کابالواسطہ سہولت کارقراردیاگیا۔یہ زبان ظاہرکرتی ہے کہ امریکابھارت کومحض ایک تجارتی حریف نہیں بلکہ ایک اخلاقی طورپردھوکہ دہی اورگناہگارکردارکے طورپرسمجھتا ہے ۔پیٹرناوارو نے گویادہلی پرفتوے کی ضرب لگائی ہے کہ بھارت امریکی ڈالرزسے روسی توپوں کوبارودفراہم کررہاہے یہ الزام نہیں،یہ اخلاقی تختۂ مشق اورمکافاتِ عمل ہے کہ جس پردہلی کو باندھ کرکوڑے برسائے جارہے ہیں۔گویا بھارت کومجرم ٹھہراکردنیاکے سامنے ننگا کیاجارہاہے۔

دوسری طرف تھنک ٹینک اننتاسینٹرنے بجاکہاہے کہ مغرب کے نزدیک بھارت محض ایک”پنچنگ بیگ”ہے۔روس اپنی حکمتِ عملی میں بھارتی زخموں کی پروانہیں کرے گا،کیونکہ وہ جانتاہے کہ بھارت اورامریکاکاجھگڑاعارضی ہے،مستقل نہیں چنانچہ ماسکو کیلئےدہلی ایک ایساشراکت دارہے جسے کبھی اپنے مفاد کیلئےتھام لیناہے اورکبھی چھوڑدیناہے جیسابھارت نے اس سے کیاتھا۔

الاسکامیں ٹرمپ اورپوتن کی ملاقات کے بعدیہ تاثرابھراتھاکہ شایدبھارت پرسے اضافی ٹیرف ہٹالیاجائے گالیکن ہوااس کے برعکس۔یہ اس بات کاثبوت ہے کہ عالمی سیاست میں وعدے اورامیدیں اکثرریت کی دیوارکی طرح گرجاتی ہیں۔بھارت کی امیدیں اگرچہ برحق تھیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کھیل میں اصل فیصلہ واشنگٹن اورماسکوکے تعلقات پرہوتا ہے، دہلی محض ایک مہرہ ہے۔

تاہم یہ مکافاتِ عمل ہے،ایک ایساوقت جب بھارت کی مصنوعات امریکی منڈی میں بوجھل ہوجائیں گی،قیمتیں بڑھیں گی،خریدارگھٹیں گے۔یہ50فیصد ٹیرف محض عددنہیں،یہ دہلی کی معیشت کی کمرپررکھاہواپتھرہے۔اب دیکھنایہ ہے کہ مودی اس بوجھ کوسہہ لیں گے یا نئی راہیں نکالیں گے۔اس وقت ہندوستان کی تمام اپوزیشن جماعتیں سرجوڑکریہ سوچ رہی ہیں کہ اگرمودی مزیدحکومت میں رہتے ہیں تواگریہ معاشی بوجھ جوکل کلاں سیاسی منافرت میں بدل گیاتویہ بوجھ غلامی کے دروازے تک لے جائے تویہ اس کیلئےتباہی کانشان ہوگا۔

یادکریں وہ لمحہ جب الاسکاکی سردفضاؤںمیں ٹرمپ اورپوتن نے مصافحہ کیاتومودی کے دل میں ایک نئی امیدپھوٹ رہی تھی،کہ شاید نئی امیدکاچراغ روشن ہولیکن امیدکے چراغ بجھ گئے، آس اوربھارتی آرزؤں کادیپ ٹمٹماکرختم ہوگیا۔وعدے ریت کے گھروندے تھے۔ ایک لہرآئی،سب بہالے گئی۔یہ سبق ہے کہ عالمی سیاست کے وعدے ریت کے گھروندے ہیں، ایک لہرآتی ہے اورسب بہالے جاتی ہے۔ یہ سبق ہے کہ قومیں اگردوسروں کے وعدوں پراپنی تقدیرکاانحصارکریں توان کاانجام ہمیشہ مایوسی ہوتاہے۔بقول قرآن: اورجولوگ ظالم ہیں،ان کی طرف مائل نہ ہونا،نہیں توتمہیں(دوزخ کی)آگ آلپٹے گی۔یادرکھوطاقتوروں کے وعدوں پراعتمادکرنااپنے چراغ کودوسروں کے ہاتھ دیناہے۔

اگربغوردیکھاجائے توامریکاکوروس یاچین سے اتنی رنجش،اتنی چبھن نہیں،جتنی بھارت سے ہے۔چین سے اتناخوف نہیں،جتنابھارت سے غصہ ہے۔اس کی وجہ کیاہے؟سوال یہ ہے کہ کیوں؟اس کاجواب محض تیل نہیں بلکہ اس اعتمادکاٹوٹناہے جسے واشنگٹن دہلی پر قائم کیے ہوئے تھا۔بھارت ایک ایسااتحادی سمجھاجاتاتھاجومغرب کے قریب رہے گالیکن روسی تیل کی خریداری نے گویااس رشتے میں دراڑڈال دی ہے۔جب اتحادی بے وفائی کرے توزخم زیادہ گہرا ہوتاہے۔یہ رنجش ایک ٹوٹے ہوئے اعتمادکاشاخسانہ ہے۔یہ وہی اعتماد کاشیشہ ہے جوٹوٹ گیاہے۔مغرب بھی سمجھتاتھاکہ بھارت ان کااتحادی ہے،مگردہلی نے روسی تیل کی خوشبوسونگھ لی۔اوربس،یارانہ اب بدگمانی میں بدل گیااوراتحادی کی بے وفائی کازخم سب سے گہراہوتاہے۔یہ زخم اعتمادکے ٹوٹنے کازخم ہے۔اصل تصادم تیل کا نہیں،اناکاہے۔ٹرمپ چاہتے تھے کہ امن کاسہراان کے سربندھے،مودی نے انکارکیا۔اورجب دو تاجداروں کی عزتِ نفس ٹکراتی ہے تووہ زلزلہ پیداہوتاہے جسے تاریخ برسوں یادرکھتی ہے۔

یہ سوال اب زیادہ اہمیت اختیارکررہاہے کہ کیا ٹرمپ اورمودی کے درمیان جھگڑاصرف تیل کاہے یااناکا؟آئیے،اصل رازکھولیں،یہ جھگڑاتیل کانہیں،یہ تصادم اناؤں کاہے۔ٹرمپ کویہ گوارانہ تھاکہ مودی نے جنگ بندی کاکریڈٹ انہیں نہیں دیا،ٹرمپ چاہتے تھے کہ جنگ بندی کاسہراان کے سرباندھا جائے کیونکہ مودی اورنیتن یاہوکی پکارپرہی ٹرمپ نے مداخلت کی تھی۔مودی یہ قبول نہیں کر سکتے تھے کیونکہ گودی میڈیانے اس جنگ میں مودی کو ساتویں آسمان کی فتح پربٹھادیاتھا۔مودی کیلئےاپنے عوام کے سامنے یہ تسلیم کرناممکن نہیں تھاکہ امن کاسہراامریکاکوجاتاہے۔یوں معاملہ اناؤں کے تصادم میں بدل گیاہے۔اوریوں دوتاجداروں کی عزتِ نفس ٹکرا گئی۔اورجب عزتِ نفس ٹکراتی ہے، تب فیصلے توپوں اوربندوقوں سے زیادہ خطرناک ہوجاتے ہیں۔یہی ہے اصل تصادم۔ یہی ہے وہ آگ جس نے سیاست کوسلگادیاہے۔اورمودی کے قدموں کے نیچے سے اب بھارتی اقتدارکی زمین لرزہ براندام ہے۔

تاریخ کہتی ہے کہ قومیں اپنی عزتِ نفس پرقائم رہتی ہیں یاپھربکھرجاتی ہیں۔قوموں کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ عزتِ نفس پرلڑی جانے والی جنگیں سب سے شدیدہوتی ہیں۔قوموں کے درمیان بڑے جھگڑے اکثرعزتِ نفس پرہوتے ہیں۔یہاں بھی دونوں رہنمااپنی اپنی سیاسی بقاکیلئےایک دوسرے کو جھکانے پرتُلے ہیں۔ٹرمپ کواپنی برتری دکھانی ہے،ٹرمپ دبیں توامریکا کی برتری کودھچکالگے گا۔ مودی کواپنی چانکیہ سیاست بچانی ہے،مودی جھکیں توعوامی غیرت ٹوٹے۔یہ معرکہ اب محض اعدادوشمارکانہیں رہا۔ یہ دلوں کی ضد اوراناکی کشمکش ہے۔یہ معرکہ کسی تجارتی معاہدے سے زیادہ نفسیاتی اور سیاسی ہے۔یہ وہ کھیل ہے جہاں دونوں کیلئےپسپائی زہرِ قاتل ہے۔

دراصل یہ وہ مقام ہے جہاں“لاغالب إلاالله”کاسبق ہی اصل حل ہے—طاقتیں ٹوٹتی ہیں،مگرعزت اوروقاراللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔قومیں اپنی عزتِ نفس پرزندہ رہتی ہیں یاپھربکھر جاتی ہیں۔یہ معرکہ اعدادوشمارکانہیں،یہ معرکہ اب امریکی غیرت بن چکاہے۔اس فیصلے سے پیچھے ہٹناگویاٹرمپ سلطنت کی برتری کودھچکا۔یہی ہے اصل جنگ ۔تھنک ٹینک اننتا سینٹر نے بالکل درست کہاہے کہ بھارت مغرب کے نزدیک ایک پنچنگ بیگ ہے،حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ہاں،یہ وہی حقیقت ہے جودہلی کے سامنے کھڑی ہے۔یقیناً بھارت کووہ وقت یادکرناچاہئے کہ کہ وہ پانچ دہائیوں تک روس کاطفیلی رہالیکن جونہی روس پربراوقت آیاتواس نے ایک منٹ کی تاخیرکئے بغیرامریکی تلوے چاٹنےمیں عافیت سمجھی۔اب پوتن کواس کی کوئی پرواہ نہیں کہ بھارت کونقصان پہنچے،وہ اپنے مفادات کوترجیح دیتے ہیں۔

پوتن بھارت کے زخموں کی پرواہ نہیں کریں گے،وہ صرف اپنے مفادکی فکرکرتے ہیں۔ٹرمپ کوبھارت کی عزت کی فکرنہیں۔یہ وقت دہلی کیلئےغورکا ہے،کیاوہ ہمیشہ دوسروں کی بساط کامہرہ رہے گایااپنی تقدیرکافیصلہ خودکرے گا؟اب سوال یہ ہے کیادہلی ہمیشہ دوسروں کے مہرے کی طرح کھیلاجائے گایا اپنی تقدیرکاعلمبرداربنے گا؟بھارت کیلئے یہ لمحہ امتحان ہے کہ وہ کب تک دوسروں کی تھالی کابینگن بن کررہے گا۔یوں بھارت ایک ایسے کھیل کاحصہ ہے جس میں وہ خودفیصلہ سازنہیں بلکہ دوسروں کے فیصلوں کا شکارہے۔چین اورپوتن کوپروا نہیں،ٹرمپ کوفکرنہیں۔بھارت کب اپنی تقدیرکاچراغ خود جلائے گا؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارتی عوام روس اورپاکستان کے تعلقات سے اتنے پریشان نہیں جتنے پاکستان اورامریکا کے تعلقات سے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت جانتاہے کہ روس کے ساتھ تعلقات وقتاًفوقتاًبدلتے رہیں گے،لیکن امریکا کے ساتھ پاکستان کی قربت بھارت کیلئےایک مستقل دیرپاخطرہ بن سکتی ہے۔یہ خوف بتاتاہے کہ بھارت کی اصل فکرامریکا ہے، روس نہیں۔یہ کمزوری ہے، کیونکہ جوقوم کسی ایک طاقت سے خوف کھاکراپنی پالیسی بنائے،وہ کبھی آزادنہیں رہ سکتی۔یہ نفسیات بھارت کی کمزوری بھی ہے اوراس کی حکمتِ عملی کاآئینہ بھی۔ان کے ذہنوں میں امریکاکاسایہ زیادہ بڑاہے۔یہ نفسیاتی غلامی ہےاورغلامی کی سب سے بڑی علامت یہی ہے کہ آدمی طاقت کے سائے سے خوف کھانے لگےاور طاقت کے سائے سے لرزنے لگے۔

روس کاپاکستان اورطالبان کے ساتھ بڑھتاتعلق بھارت کیلئےنیاخطرہ ہے۔یہ وہی حقیقت ہے جوعہدِقدیم میں سلطنتوں نے دیکھی تھی کہ طاقتیں کبھی ایک جگہ ٹک کرنہیں رہتیں،ہمیشہ نئے تعلقات بنتے اوربگڑتے ہیں۔خطے کی بساط مزیدپیچیدہ تب ہوئی جب پاک-چین-افغان مذاکرات میں سی پیک کی توسیع کااعلان ہوا۔یہ اعلان نہ صرف اقتصادی مفہوم رکھتاہے بلکہ سیاسی معنویت میں بھارت کیلئے ایک کاری ضرب ہے۔وہ بھارت جوکبھی خطے میں مرکزی حیثیت رکھتاتھا،اب اسے اپنے ہمسایوں کے اتحادکے سائے میں دباؤکا سامناہے۔

اسی دوران پاکستان اورروس کے بڑھتے ہوئے تعلقات بھارت کیلئےمزیدپریشانی کاسامان ہیں۔کبھی ماسکواسلام آبادکواسلحہ فراہم کرتا تھا،آج وہ طالبان کے ساتھ بھی دفاعی روابط بڑھارہا ہے ۔ گویاوہ وقت دورنہیں جب جنوبی ایشیا کی سیاست میں نئی صف بندیاں جنم لیں گی اوربھارت اپنے پرانے توازن کوکھوبیٹھے گا۔

الغرض،موجودہ حالات محض تجارتی اعدادوشماریاتیل کے سودے کامسئلہ نہیں بلکہ عالمی سیاست کے اس کھیل کاحصہ ہیں جس میں عزتِ نفس،انا، اور طاقت کے استعارے سب ایک دوسرے میں گڈمڈہوگئے ہیں۔اگرٹرمپ بھارت کوسزادے رہے ہیں توپوتن مسکرارہے ہیں،اوراگردہلی شطرنج کی نئی چال سوچ رہاہے توبیجنگ خاموشی سے اپنے تاش کے پتّے سنبھال رہاہے۔

آنے والا وقت بتائے گا کہ یہ امریکی سختیاں بھارت کیلئےزحمت ثابت ہوں گی یارحمت۔مگرفی الحال اتناکہنابجا ہے کہ عالمی سیاست کے اس مقتل میں بھارت ایک ہی وقت میں دوستوں کی امیداوردشمنوں کے شک کانشانہ بناہواہے—اوریہی اس کی سب سے بڑی کمزوری بھی ہے اورسب سے بڑاامتحان بھی۔یہ نئی صف بندی بھارت کیلئےخطرے کی گھنٹی ہے۔جنوبی ایشیاکی سیاست میں بھارت اب تنہاہوتاجارہاہے اورروس بھی اس تنہائی کومزیدگہراکررہاہے۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جنوبی ایشیا کی سیاست میں روس ایک نئے کھلاڑی کے طورپرابھررہاہے جوبھارت کومسلسل دباؤمیں رکھے گا۔جنوبی ایشیاکی سیاست میں بھارت اب تنہاہوتاجارہاہے اور روس بھی اس تنہائی کومزیدگہراکررہاہے۔یہ نئی صف بندی بھارت کیلئےخطرے کی گھنٹی ہے۔آنے والاوقت اسے خطے کی بساط سے بے دخل کردے گا۔

پاک-چین-افغان مذاکرات میں سی پیک کی توسیع کااعلان بھارت کیلئےایک کڑا دھچکااورناقوسِ موت ہے۔یہ اعلان خطے کی معیشت اورسیاست اب دہلی کے گردنہیں گھومے گی بلکہ بیجنگ اوراسلام آبادکے محورپرگھومے گی،یہ وہ لمحہ ہے جب بھارت کا مرکزی کردارپیچھے ہٹ رہاہے اورخطے کانقشہ بدل رہا ہے اوربھارت کی مرکزی حیثیت ماضی کاقصہ بن رہی ہے کیونکہ اس کے اثرو رسوخ میں کمی کامطلب ہے کہ خطے کی معیشت اورسیاست اب دہلی کے گردنہیں بلکہ بیجنگ اوراسلام آباد کے محورکی محتاج رہے گی۔یوں بھارت کامرکزی کردارپس منظر میں جارہاہے۔یہ اعلان بھارت کیلئےایک فیصلہ کن ضرب ہے۔

اے صاحبانِ فکریہ کھیل تیل اورٹیرف کانہیں،یہ کھیل عزت وغیرت،انااوروقارکاہے۔ٹرمپ دہلی کوسزادے کراپناجھنڈاگاڑناچاہتاہے۔ مودی اپنے اقتدارکے چراغ کوبجھنے نہیں دینا چاہتا ، پوتن مسکراکرموقعہ کونقدبنارہے ہیں،اوربیجنگ خاموشی سے اپنی بساط پھیلارہا ہے۔تاریخ کاورق چیخ چیخ کرکہہ رہاہے کہ جوقومیں دوسروں کی شطرنج کے مہرے بنتی ہیں،وہ کبھی تاجدار نہیں بن سکتیں۔سوال یہ ہے بھارت کب تک دوسروں کے فیصلوں کاشکاررہے گا،اور کب اپنی تقدیرکاعلمبرداربنے گا؟

تاریخ ہمیشہ ان قوموں کوسرخروکرتی ہے جواپنی تقدیرکے فیصلے خودکرتی ہیں۔اورقرآن کی صداآج بھی گونج رہی ہے:
بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔
یہ پورامنظرنامہ بتاتاہے کہ موجودہ بحران محض تیل اورٹیرف کی کہانی نہیں بلکہ انا،عزتِ نفس اورعالمی سیاست کاایک عظیم معرکہ ہے۔امریکااپنی طاقت کاسکہ جماناچاہتاہے،بھارت اپنی خودمختاری بچاناچاہتاہے،روس موقع کافائدہ اٹھارہا ہے،اورچین خاموشی سے اپنے پتّے سینے سے لگائے بیٹھاہے۔تاریخ کاورق ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ جب بڑے کھیل کھیلے جاتے ہیں توچھوٹے ملک اکثر مہرے بن جاتے ہیں۔اب یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ مودی نے اس خطے میں جوکچھ بویاہے، وہ فصل اسے ہرھال میں کاٹنی ہوگی کیونکہ قوموں کی تقدیردوسروں کے وعدوں سے نہیں،اپنی غیرت کے چراغ سے بدلتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں