تاریخ کی دبیزچیرہ دستیوں نے جب برِّصغیرکی پیشانی پرتقسیم کی لکیرکھینچی تھی،تواس کے ساتھ ہی مقدرکے اوراق پرایک نہ ختم ہونے والی کشمکش بھی ثبت ہوگئی۔سرحدوں کے اس پار بکھرے ہوئے خواب،ادھوری کہانیاں،اورخونچکاں یادیں آج بھی نسلوں کے حافظے میں آہیں بن کرگونجتی ہیں۔پاکستان اور ہندوستان کاتعلق محض دوریاستوں کاباہمی معاملہ نہیں،یہ تاریخِ ہندوپاک کاوہ رزمیہ باب ہے جس میں آنسوبھی ہیں،فخربھی ہے،شکوہ بھی ہے اورامید بھی۔
آج جب عالمی سیاست کی شطرنج پرنئی چالیں کھیلی جارہی ہیں،کبھی واشنگٹن کی بساط بچھتی ہے اورکبھی بیجنگ کے ایوانوں میں فیصلوں کی گونج سنائی دیتی ہے،تو یوں محسوس ہوتاہے کہ برصغیرکے زخم ابھی بھرے نہیں؛محض مرہم بدلتے رہتے ہیں۔ثالثی کے نام پرآنے والی آوازیں کبھی ہمدردی کی صورت،کبھی بالا دستی کی صورت اورکبھی طاقت کے کرخت لہجے میں سنائی دیتی ہیں۔
سوال مگراپنی جگہ قائم ہے:
کیاقوموں کی تقدیرکانفرنسوں کے قالینوں پرلکھی جاتی ہے؟یایہ تقدیران دلوں کے حوصلوں سے جنم لیتی ہے جواپنی تاریخ کے بوجھ اور اپنی ذمہ داری کے شعورسے آشناہوں؟یہ مقالہ اسی داستان کی گرہیں کھولنے کی ایک عاجزانہ کوشش ہے جہاں الفاظ محض بیان نہیں، عہدِ رفتہ کی دھڑکنوں کی ترجمانی ہیں؛جہاں سیاست کاخشک تجزیہ بھی جذبات کی نمی سے خالی نہیں اور جہاں تاریخ صرف ماضی نہیں،مستقبل کی دہلیزپردستک بھی ہے۔
جنوبی ایشیاکی سیاست ہمیشہ سے تزویراتی کشمکش،قومی بیانیوں،تاریخی تنازعات اورعالمی طاقتوں کے اثرونفوذسے مرکب رہی ہے۔ پاکستان اوربھارت کے درمیان تنازع خصوصاًکشمیرکامسئلہ —نہ صرف دونوں ممالک کی خارجہ پالیسی کامحوررہاہے بلکہ عالمی قوتوں کیلئےبھی دلچسپی کامرکزبنارہا۔ایسے میں جب ٹرمپ نے ثالثی کادعویٰ کیااوراس کے بعدچین نے بھی اسی نوعیت کابیان دیا،تویہ معاملہ محض سفارتی الفاظ کاکھیل نہ رہابلکہ علاقائی طاقت کے توازن اورخود مختاری کے سوال سے جاٹکرایا۔
اس مقالے میں انہی بیانات کے سیاسی وسفارتی اثرات کاعلمی مطالعہ پیش کیاجاتاہے،اوراس امرکی نشاندہی کی جاتی ہے کہ ثالثی کایہ سلسلہ محض حسنِ نیت کااظہارنہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی نئی صف بندیوں کامظہربھی ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے پاکستان اورہندوستان کے مابین جنگ بندی کرانے کے دعووں نے اگرمودی کیلئےسیاسی بساط پرپہلے ہی ایک پیچیدہ گرہ ڈال رکھی تھی تو اب اسی نوعیت کادعویٰ جب چین کی وادیٔ خموشاں سے گونجاتواس نے اس گرہ کومزیدالجھادیا۔چینی وزیر خارجہ کے اس تازہ بیان نے،جس میں انہوں نے مئی کے تناظرمیں دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین ثالثی کی بات کہی،سفارتی فضامیں ایک نئی ہلچل پیداہوگئی۔تاریخ نے ایک مرتبہ پھرطاقت کے ایوانوں میں یہ سرگوشی بلندکی کہ جنوبی ایشیاکی سیاست محض سرحدی خط کھینچنے کانام نہیں،بلکہ مفادات کی ایسی شطرنج ہے جہاں ہرچال کئی معنی رکھتی ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے ثالثی کادعویٰ دراصل اس بات کااظہارتھاکہ امریکاجنوبی ایشیا کے تنازع میں اپنی موجودگی کوبرقراررکھناچاہتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ٹرمپ پہلے ہی ثالثی کا دعویٰ کرچکے تھے،جسےاقوام عالم اورخودبھارت کے اندرتمام سیاستدان مودی کی خاموشی کوٹرمپ کےبیان کی تصدیق سمجھتے ہیں۔ اب چین کی جانب سے اسی نوعیت کابیان آنامودی حکومت کیلئےنئی مشکل بن گیاہے۔چین کے تازہ دعوے نے یہ واضح کیاکہ اب اس خطے میں طاقت کاایک نیامحورتشکیل پارہاہے۔چین کی طرف سے کہاگیاکہ مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں اس نے کرداراداکیا۔اس بیان نے نہ صرف سفارتی سطح پرنئی بحث چھیڑدی بلکہ بھارت کی داخلی سیاست میں بھی ہلچل پیداکی۔
جنوبی ایشیااب صرف دوطرفہ تنازعات کی حدودمیں مقیدنہیں رہا،بھارت مستقل یہ مؤقف دہراتارہاہے کہ کشمیراورپاکستان سے متعلق تمام مسائل دوطرفہ ہیں،کسی تیسرے فریق کی مداخلت قابلِ قبول نہیں جوکہ یقیناًاقوام متحدہ کی قراردادوں کے بھی خلاف ہے۔
عظیم طاقتیں ثالثی کے پردے میں اپنے مفادات کے جال بچھارہی ہیں۔چین کادعویٰ اس مؤقف کوچیلنج کرتاہے،یہ دعویٰ بھارت کیلئے داخلی سیاست میں بھی ایک مشکل بن گیاہے کیونکہ اپوزیشن سوال اٹھاتی ہے،حکومت کی پالیسی پرشکوک پیداہوتے ہیں،سفارتی شفافیت پربحث چھڑتی ہے۔بھارت کیلئےیہ چیلنج ہے کہ وہ اپنے دیرینہ ہٹ دھرمی کوکیسے برقرار رکھے، لہٰذا چین کے بیان نے محض بین الاقوامی نہیں بلکہ اندرونی سیاسی ہلچل بھی پیداکردی ہے۔
چینی بیان سامنے آتے ہی بھارت میں اپوزیشن کی آوازبلندہوئی۔کانگریس نے وضاحت کامطالبہ کیااوروزارت خارجہ کی خاموشی سوال بن گئی۔اس مسئلے نے سیاسی بساط پرتین چالیں ایک ساتھ چلائیں:حکومت پرشفافیت کے مطالبے میں اضافہ،قومی سلامتی کے بیانیے کی آزمائش اورخارجہ پالیسی کی سمت پرعوامی بحث کے مطالبوں نے زورپکڑلیاہے۔یہ صورتحال اس امرکی نشاندہی کرتی ہے کہ خارجہ پالیسی صرف سفارتی خانوں میں طے نہیں ہوتی بلکہ جمہوری معاشروں میں سیاسی جواب دہی کاحصہ بھی بن جاتی ہے۔
چینی دعوے کے بعدہندوستان کے سیاسی ایوانوں میں سوالوں کی کڑیاں درکڑی جڑتی گئیں۔اپوزیشن جماعت کانگریس نے حکومت سے وضاحت کامطالبہ کیا اوروزارت خارجہ کی خاموشی نے اس سوال کومزیدگہراکرکے اسے محض سیاسی بحث نہیں رہنے دیابلکہ قومی حکمتِ عملی کا سوال بنادیا۔گویااپوزیشن کی زبان پریہ شکوہ تھاکہ”خاموشی بھی کبھی کبھی اعتراف بن جایاکرتی ہے۔
اس نکتے میں دواہم باتیں ہیں،اپوزیشن سوال کررہی ہے،وزارتِ خارجہ خاموش ہے،اس خاموشی کے چند اسباب ہوسکتے ہیں:حکومت معاملہ طول نہیں دیناچاہتی،اس بیان کی تردیدکرنا چین سے تعلقات پراثر ڈال سکتاہے،قبول کرناپالیسی کی تردیدبن جائے گا۔اسی لیے اپوزیشن کیلئےیہ ایک سیاسی موقع ہے،حکومت سے قومی سلامتی اورخارجہ پالیسی کوتنقیدکانشانہ بناکر حکومت سے شفاف جواب مانگاجائے۔
کانگریس کے رہنماجے رام رمیش نےبجا طورپرایک اعتراض اٹھایاکہ اگرچین کی طرف سے ثالثی کایہ دعویٰ درست ہے تویہ نہ صرف سابقہ سرکاری مؤقف کی نفی ہے بلکہ قومی سلامتی کے حساس باب پرطنزکابھاری بھرکم طمانچہ بھی بن جاتاہے —اورقومی سلامتی کاباب یہ بوجھ برداشت نہیں کرسکتا،وہاں ہرلفظ تلوار کی دھارپررکھاجاتاہے۔
جے رام رمیش کے بیان میں تین باتیں پوشیدہ ہیں،یہ دعویٰ سرکاری مؤقف سے متصادم ہے،عوام کواصل صورت حال نہیں بتائی گئی، قومی سلامتی کوسیاسی کھیل نہ بنایاجائے۔ان کااصل مدعایہ تھاکہ اگرثالثی ہوئی توبھارت کے دیرینہ مؤقف کاکیاہوا؟عوام کوبتایاجائے، اگرنہیں ہوئی توچین ایسادعویٰ کیوں کررہا ہے؟اگرنہیں ہوئی توواضح تردیدکیوں نہیں آئی؟چین کا دعویٰ خاموشی کے ساتھ رہ جائے تویہ ریاستی مؤقف کی ساکھ کومتاثرکرتاہے۔یہاں خودمختاری کا سوال مرکزی ہے۔کسی بھی ریاست کیلئےثالثی قبول یاردکرنامحض سفارتی عمل نہیں بلکہ قومی وقارسے جڑاہوتاہے۔چین کادعویٰ بھارت کے اسی وقارکے امتحان کے طورپردیکھاجارہاہے۔
اسی سلسلے میں آل انڈیامجلس اتحادالمسلمین کے صدراسدالدین اویسی نے بھی اپنی مخصوص بے باکی کے ساتھ سوال اٹھایاکہ ایک طرف چین پاکستان کواسلحہ فراہم کرکے عسکری ترازوکا پلڑاجھکاتاہے اوردوسری جانب ثالثی کے منصب پرجلوہ افروزہونے کاخواہاں ہے۔ان کے مطابق یہ طرزِعمل اس مسافرکی مانند ہے جوجنگل کوآگ بھی لگائے اورپھرخودکوبارانِ رحمت کا پیامبربھی کہلوائے—یہ بیک وقت ممکن نہیں۔اویسی کے نکات کویوں سمجھاجاسکتاہے کہ وہ چین کی دوہری حیثیت—شراکت داری،اور ثالثی پرسوال اٹھاتے ہوئے مودی سے پوچھ رہے ہیں کہ چین پاکستان کابڑااسلحہ فراہم کنندہ ہے،عسکری تعاون رکھتا ہے۔ان کااستدلال جوملک ایک فریق کو اسلحہ دے،اس کی عسکری طاقت بڑھائے اس کے ساتھ حساس آپریشنز میں تعاون کرے،وہ غیرجانبدارثالث نہیں ہوسکتا،اسی لیے انہوں نے اسے ناقابل قبول قراردیا۔سرحدی تنازعات میں خودبھارت کافریق بھی ہے۔ایسے ملک کاثالثی کادعویٰ نیوٹرل حیثیت کوخودہی مشکوک بنادیتاہے۔کیافریقِ تنازع“غیرجانبدارثالث”بھی ہوسکتاہے؟یہ وہ نکتہ ہے جہاں سیاست،اخلاقیات اورتزویراتی مفادات کاملاپ ہوتا ہے۔
سوال یہ ہے کیاچین کابیانیہ عالمی ثالث کے طورپرابھرتاہواکردارہے؟چین نے اپنی تقریرمیں واضح کیاکہ اس نےایران جوہری مسئلہ، ایران سعودی عرب میں یمن کی جنگ،میانمارتنازع، فلسطین–اسرائیل معاملہ،کمبوڈیا–تھائی لینڈکشیدگی جیسے مسائل میں کرداراداکیا۔یہ اعلان محض اطلاع نہیں بلکہ طاقت کا اظہار ہے۔چین اب خودکواقتصادی وعسکری قوت،سفارتی ثالث ، تینوں حیثیتوں میں منواناچاہتاہے۔
چین کے وزیرخارجہ وانگ یی نے بین الاقوامی صورتحال پرمنعقدہ سمپوزیم میں”ہاٹ اسپاٹ”تنازعات کی فہرست میں بھارت وپاکستان کشیدگی کابھی ذکرکیا۔ چین نے یہ بات واضح کی،وہ دنیاکے مختلف تنازعات میں کرداراداکررہاہے۔پاکستان وبھارت کشیدگی بھی اس فہرست میں شامل ہے۔انہوں نے اسے چین کی سفارتی مساعی کاحصہ قراردیا۔یہ بیان دراصل چین کو عالمی ثالث کے طورپرپیش کرنا، سفارتی امیج کومضبوط بنانا،اپنی بڑھتی طاقت کااظہارکرناہے۔گویایہ بیان یہ بیان دراصل چین کوعالمی ثالث کے طورپرپیش کرنا،سفارتی امیج کومضبوط بنانا،اپنی بڑھتی طاقت کااظہارکرناہے۔اس سے یہ تاثرابھراکہ چین صرف علاقائی طاقت نہیں بلکہ عالمی سیاسی بساط کا سرگرم کھلاڑی ہے۔عالمی برادری کی محفل میں چین کایہ کھلاپیغام ہے کہ ایشیاکی سیاست کامحوربدل رہاہے اوربیجنگ محض تماشائی نہیں بلکہ کرداربن چکاہے۔
وانگ یی کے مطابق دنیانئی کشیدگیوں سے گزررہی ہے،علاقائی جنگوں میں اضافہ ہواہے،طاقت کاتوازن مسلسل بدل رہاہے۔اس سال دنیا میں تنازعات کی لَودوسری عالمی جنگ کے بعدشایدسب سے بلندرہی۔انہوں نے پائیدارامن کیلئے”منصفانہ اورمتوازن رویے”کوعلاجِ درد بتایا۔یہ الفاظ اپنی جگہ خوبصورت ہیں مگرتاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ الفاظ کے صحرامیں معنی کی نخلستان تک رسائی کیلئےعمل کی بارش بھی ضروری ہوتی ہے۔انہوں نے چین کے کردارکومنصفانہ توازن برقراررکھنے والاتنازعات کی جڑحل کرنے والابیان کیا—تاہم یہ تعبیرخودچین کی پالیسی پربھی سوال کھڑے کرتی ہے،کیونکہ تنقیدنگارکہتے ہیں کہ بعض جگہ چین خودتنازعات کافریق ہے کئی مواقع پرمعاشی دباؤاستعمال کرچکاہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ خطے میں انڈیا کےاپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ جارحانہ اورمنافقانہ کردار کے مقابلے میں چین کاکردارکہیں شفاف اور بہترہے۔
نامورانڈین کالم نگارسوشانت سنگھ کے مطابق چینی بیان کئی اہداف کوبیک وقت حاصل کرتاہے،وہ پاکستان اوربھارت کوبرابری کی سطح پرسمجھتتاہے اورچین کوخطے کانیاثالثِ اعظم بناکرپیش کرتاہے۔اس کے ساتھ ساتھ وہ ٹرمپ کے سابقہ دعوے کوبھی وزن عطا کرتاہے۔اس تاثرمیں بظاہرایک نرم لہجے میں سخت حقیقت پوشیدہ ہے کہ خودمختاری کاچراغ تبھی روشن رہتاہے جب اس کی لواندرسے بھڑکتی رہے،باہرسے پھونکی ہوئی ہواپراس کاانحصارنہ ہو۔اس اصولی مؤقف پربھی سب سے پہلے مودی سرکارکوعمل کرنے مکی ضرورت ہے۔
دیگرتجزیہ کاروں نے اس نکتے پرروشنی ڈالی کہ چین پاکستان اوربھارت کوجوایک صف میں کھڑادکھارہاہے،اس سے امریکاکے دعوے کوتقویت مل رہی ہے، بھارت کی خودمختاری زیرِ بحث آرہی ہے۔یہ ردعمل اس بات کاثبوت ہے کہ ثالثی کاموضوع صرف سفارتی کروٹ نہیں بلکہ قومی بیانیے کی بنیادوں تک رسائی رکھتاہے۔یہ دراصل سفارتی علامتیں ہیں۔الفاظ کے پیچھے سیاسی پیغام بیانات کے پیچھے اسٹریٹجک نتائج بڑے خطرناک ہوتے ہیں۔
اسی طرح اسدالدین اویسی نے بھی کہاکہ چین دونوں ممالک کوایک صف میں لاکرخودکوخطے کی سب سے بڑی قوت کے طورپرمنوانا چاہتاہے۔کیایہی وعدہ وپیمان اس وقت طے ہواتھاجب مودی نے چین کادورہ کیا؟گویایہ سوال محض سفارتی نوعیت کانہیں بلکہ نیتوں کے آئینے میں جھانکنے کی دعوت بھی دیتاہے۔
اویسی کادوسراسوال اس سے بھی بڑاخطرناک ہے—کیاچین خودکوبڑی طاقت ثابت کرناچاہتاہے۔یہ نکتہ اہم ہے۔چین جنوبی ایشیامیں اثرو رسوخ بڑھارہا ہے، پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات مضبوط ہیں،بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعات موجودہیں لہٰذاثالثی کااعلان طاقت کے اظہارکاطریقہ بھی ہوسکتاہے۔یہ پیغام بھی ہوسکتاہے کہ چین خطے کافیصلہ سازہے۔اویسی کے سوال کامفہوم یہ ہے کیامودی حکومت نے کسی سطح پرچین کے ایسے کردارکو قبول کیاتھا؟ اگرایسا نہیں تومودی اب تک خاموش کیوں ہے؟
اگرچہ رسمی تردیدنہیں ہوئی مگرذرائع نے کہاچین کاکردارنہیں تھا۔تاہم میڈیانے یہ خبردی کہ ثالثی نہیں ہوئی،تنازع دوطرفہ طورپرحل ہوایعنی مسئلہ براہ راست ڈی جی ایم اوزکے رابطے سے حل ہوا۔یہ بھارت کی دیرینہ پالیسی کے مطابق ہے،تیسرے فریق کی گنجائش نہیں،اس سے دوباتیں واضح ہیں،بھارت دوطرفہ اصول سےدستبردار نہیں ہوناچاہتااورتیسرے فریق کی شمولیت کوپالیسی سطح پرخطرہ سمجھاجاتاہے ۔
انڈیاٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق حکومتی ذرائع نے واضح کیاکہ مئی کے تنازع کے حل میں کسی غیرملکی طاقت کی مداخلت کاکوئی وجودنہیں تھا۔اس مؤقف کے ساتھ یہ تصریح بھی جڑی ہوئی ہے کہ دونوں ملکوں کے ڈائریکٹرجنرل ملٹری آپریشنز کے مابین براہ راست گفتگوہوئی،جنگ بندی پرخوداتفاق کیاجوفیصلہ کن ثابت ہوا۔یہ بیان گویااس بات کااعلان ہے کہ اگرچہ دنیا ثالثی کے گہنوں سے خودکو آراستہ کرناچاہتی ہے مگراصل فیصلہ وہی ہے جوزمینی حقیقتوں کی میزپرطے ہو۔اس سے تین باتیں ظاہرہوئیں،فوجی سطح پررابطے مؤثرہیں،سفارت کاری محاذسے پہلے عسکری اعتماد سازی اہم ہے،بیرونی قوتوں کی ضرورت کم پڑتی ہے۔
دراصل ان ایام میں کشیدگی بڑھی،تحمل کی اپیل سامنے آئی،جنگ بندی ہوئی،ثالثی کادعویٰ سامنے آیا،نتیجہ یہ نکلاکہ مودی کی مجرمانہ خاموشی کی بناءپرسفارتی تاثرچین کے حق میں چلاگیا، بھارت دفاعی پوزیشن پرآیااوراپوزیشن نے سوالات تیزکردیئے۔13مئی کی پریس بریفنگ میں بھی یہی کہاگیاکہ جنگ بندی کی تاریخ،وقت اوراصطلاحات سب فوجی حکام کے درمیان براہِ راست رابطے کے ذریعے طے پائیں۔اس کامطلب جنگ بندی کسی بیرونی دباؤسے نہیں ہوئی، چین یاامریکاکاکوئی براہ راست کردارثابت نہیں،بھارت اپنے مؤقف پر قائم ہے۔یہ بات ایک مرتبہ پھرواضح ہوئی کہ جنوبی ایشیاکے تنازعات میں اصل کڑی دونوں ممالک کے مابین اعتمادسازی ہے،چاہے اس کی صورت کبھی تلخ لہروں کی ہواور کبھی شیریں ندی کی طرح۔
سات اوردس مئی کے درمیان ہونے والے واقعات نے چین کے کردارپرنئے سوالات اٹھائے۔یہ سوالات اس لیے پیداہوئے کہ چین نے تحمل کی اپیل کی، سیزفائرہوا۔چین نے ثالثی کادعویٰ کیا،اسی لیے مبصرین نے تعلق جوڑنے کی کوشش کی۔اپوزیشن نے سوال اٹھائے، چین نے سفارتی فائدہ اٹھایا۔تاریخ کا سبق یہی ہے کہ تحمل کی اپیلیں اگرمفادات کے غلاف میں لپٹی ہوں توان کے معنی بدل جاتے ہیں۔
یوں ان تمام واقعات کاحاصل یہ ہے کہ جنوبی ایشیاکی سیاست اب محض جغرافیہ کاکھیل نہیں رہی بلکہ عالمی طاقتوں کی بساط پرچال در چال کامنظرپیش کررہی ہے۔پاکستان اورہندوستان کے مابین تنازع محض دوہمسایہ ملکوں کی کشمکش نہیں بلکہ تاریخ،فکر،انا، خود مختاری اورسیاسی بلوغت کے امتحان کادوسرانام ہے۔ اصل سوال ثالثی کانہیں—اصل سوال یہ ہے کہ قومیں کب اپنے مسائل کے حل کیلئےبیرونی سہاروں کے بجائے اپنی داخلی حکمت وبصیرت پربھروساکرنا سیکھتی ہیں۔یہی وقت کی آوازہے،یہی تاریخ کاتقاضاہے اور یہی ملتوں کی سربلندی کاراستہ۔
چین نے ثالثی کادعویٰ کرکے سفارتی وزن بڑھایا،بھارت نے دوطرفہ پالیسی دہرائی،اپوزیشن نے حکومت کوگھیرنے کی کوشش کی، پاکستان پس منظرمیں مگرمرکزی فریق رہا،عالمی سیاست میں طاقت کاتوازن نئی کروٹ لے رہاہے۔اصل سوال یہ ہے کیاجنوبی ایشیاکے مسائل بیرونی ثالثوں سے حل ہوں گے؟یاگفتگو،اعتماد سازی اورسیاسی بالغ نظری ہی اصل راستہ ہے؟یہ سوال ابھی کھلاہے اوروقت، تاریخ اورقوموں کی بصیرت ہی اس کاجواب دے گی۔
یہ پورامعاملہ اس امرکی گویاعلامت ہے کہ جنوبی ایشیاعالمی قوتوں کے تزویراتی تجربہ گاہ بناہواہے۔پاک بھارت کے تنازعات دوسروں کے بیانیوں میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔ثالثی کبھی محض خیرخواہی نہیں ہوتی— طاقت کی حکمتِ عملی بھی ہوتی ہے،اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ثالثی کون کرے۔اصل سوال یہ ہے کہ کیاخطے کی قومیں اپنے مسائل خودحل کرنے کاحوصلہ پیدا کریں گی؟جب داخلی بصیرت بیدارہواورسیاسی بالغ نظری جنم لےتو بیرونی ثالثی کی ضرورت خوددم توڑدیتی ہے۔مودی جنتاجس قدرجلد سمجھ لے،اسی قدر بہترہوگا۔
اس لئے ضروری ہے کہ خطے میں کروڑوں افرادکو غربت کے چنگل سے نکالنے امن وسلامتی اورجاری مسائل کامنصفانہ نظام تشکیل دیاجائے اوریہ اسی صورت ممکن ہے جب ہندوستان میں متعصب آرایس ایس کے ہندوتوامنصوبے کی بیخ کنی کیلئے اقوام عالم کی امن پسندقوتوں کومودی کے جارحانہ اورمکارانہ منصوبوں سے آگاہ کیاجائے کہ کس طرح وہ اپنے اقتدار کیلئے عالمی امن کیلئے ایک شدید خطرہ بن سکتاہے۔اس خطرہ سے بچنے کیلئے فوری طورپرپاکستان اور بھارت کے مابین مستقل بامقصدمذاکراتی میکانزم قائم کیاجائے، جنگ بندی کے تمام اصولوں کی دستاویزی اورشفاف نگرانی کی جائے،میڈیا بیانات کے بجائے پارلیمانی اعتمادسازی کاراستہ اپنایاجائے اورعالمی طاقتوں کی ثالثی کی بجائے علاقائی مکالمہ ماڈل تشکیل دیاجائے۔
آخرِکاریہ حقیقت ہمارے سامنے سراُٹھائے کھڑی ہے کہ برصغیرکے دونوں کناروں پربسنے والی قومیں صرف سرحدی فاصلوں سے جدا ہیں،احساس کے رشتوں سے نہیں۔طاقتوں کے ایوان بدلتے رہتے ہیں،ثالثی کے دعوے آتے اورجاتے رہتے ہیں،مگرقوموں کی اصل آزمائش اس میں نہیں کہ ان کیلئےکون بولتاہے—بلکہ اس میں ہے کہ وہ خودکب بولنا سیکھتی ہیں۔
چین ہویاامریکا—دنیاکی ہربڑی قوت اپنامفادلے کرآتی ہے اورتاریخ اس امرکی گواہ ہے کہ طاقت کے بازارمیں ہمدردی کاسکہ نہیں چلتا۔ اصل قوت وہی ہے جودلوں کے اندرجاگتی ہے، جوقوموں کوخودداری،بصیرت اورحکمت کے چراغ تھمادیتی ہے۔برصغیرکی مٹی نے بہت خون دیکھاہے،لیکن اس نے معافی، صبر،قربانی اورحوصلے کے ایسے چراغ بھی دیکھے ہیں جوآج تک بجھ نہ سکے۔
اگرپاکستان اورہندوستان اپنے مسائل خود بات چیت کی خوشبوسے حل کریں،توشایدآنے والی نسلیں جنگ کے طبل نہیں بلکہ امن کی بانسری سنیں۔تاریخ کے طولِ شب میں صبح کی پہلی لکیرہمیشہ انہی قوموں کیلئےابھرتی ہے جودوسروں کے سہارے کی بجائے اپنے قدموں پرکھڑے ہونے کاحوصلہ رکھتی ہیں۔
یہی اس مقالے کاحاصل ہے،یہی اس کی صدا،کہ ثالثی کے شورمیں اپنے ضمیرکی آوازپہچانی جائے،اورسرحدوں سے بلندہوکرانسانیت کی مشترکہ دھڑکن سنی جائے شایدپھرتاریخ کے صحن میں امن کے شجرپرپہلی کونپل پھوٹے اوربرصغیر کی صبح واقعی صبحِ امیدبن جائے۔





