History never remains silent

تاریخ کبھی خاموش نہیں رہتی

تاریخ کبھی خاموش نہیں رہتی،تاریخ ہ لمحے قلم کی زبان میں لکھتی ہے،اوروقت کے مقررہ لمحے پراس کے فیصلے سامنے آتے ہیں۔ آج دنیاایک ایسے موڑپر کھڑی ہے جہاں طاقت کے دعوے،نظریات کے جال اورعلاقائی مفادات نے عالمی امن وسلامتی کے توازن کو جھنجھوڑکررکھ دیاہے۔تاریخ بارباریہ سبق دیتی ہے کہ طاقت کے گھوڑے جوسرحدوں سے باہر دوڑتے ہیں،اکثراندرونی دیواروں کے رخنے سے شکست کھاجاتے ہیں۔کوئی قوم یاریاست،چاہے کتنی بھی مضبوط نظرآئے،جب تک داخلی یکجہتی اورمضبوط قیادت نہ رکھے،اس کی بنیادیں لرزاں رہتی ہیں۔

تاریخ کبھی بہری نہیں رہتی؛ہرلمحہ اس کی قلم کاری کی گونج سنتے ہوئے انسانی اعمال کے فیصلے سامنے آتے ہیں۔ہرقوم کی عظمت یا زوال کی کہانی صفحاتِ تاریخ میں محفوظ ہے،اورعالمی طاقتوں کی حرکات وسکنات ہمیشہ ایک سبق کے طورپرباقی رہتی ہیں۔تاریخ کے طویل وپیچیدہ کارواں میں بعض ایسے موڑآتے ہیں جہاں کمزورسمجھی جانے والی اقوام بھی قوت وجرأت کی ایسی داستان رقم کر جاتی ہیں کہ سپر پاورزکی پیشانی پرشکن اوردلوں میں اضطراب پیداہوجاتاہے۔

یہ بھی یادرہے کہ تاریخ کبھی خالی ہاتھ بھی نہیں رہتی،اورنہ ہی طاقت کے مراکزاپنی ہرحرکت کاحساب چھپاتے ہیں۔ہراقدام،ہرفیصلہ، اورہرمحاذکی کہانی قلم کی زبانی محفوظ رہتی ہے۔برصغیرکے اس خطے میں قائم پاکستان نے نہ صرف اپنی خودمختاری کی حفاظت کی بلکہ عالمی طاقتوں کیلئےایک ایساسبق قائم کیاجسے صرف علم وحکمت کے ترازومیں ناپاجاسکتاہے۔طاقت محض عسکری یا جسمانی نہیں بلکہ ایمان،حکمت اورعقل کے ساتھ مربوط ہوتی ہے۔یہی سبق نائن الیون کےواقعہ کے بعدپاکستان نے تاریخ میں رقم کیاکہ آج خودمغرب اورامریکی دفاعی و سیاسی تجزیہ نگاربھی پاکستان کی اس حکمت عملی پرانگشت بدنداں ہیں۔

برصغیرکے اس خطے میں قائم اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تاریخ بھی کچھ ایسی ہی داستانِ عزیمت سے عبارت ہے۔یہ وہ ملک ہے جس نے محض وسائل کی کمی کے باوجود،عزم وارادہ اورحکمت وتدبرکے ہتھیارسے دنیاکی عظیم طاقتوں کے حسابِ سودوزیاں میں ہلچل پیداکردی۔پاکستان کی تاریخ کایہ باب خاص اہمیت رکھتاہے،کیونکہ اس نے نہ صرف اپنی خودمختاری کی حفاظت کی بلکہ عالمی طاقتوں کوایسے سبق سکھائے جوتاریخ کے صفحات میں سنہری حروف سے رقم ہوں گے۔افغانستان کی جنگ،ایٹمی دھماکے،اسامہ بن لادن کا معاملہ،شمالی کوریا کے میزائل،اورایبٹ آبادمیں سٹیلتھ ہیلی کاپٹرکاواقعہ—یہ سب ایسے مواقع ہیں جہاں پاکستان نے عالمی طاقتوں کے دباؤکوناکام بنایااورقومی مفادکومقدم رکھا۔یہ رپورٹ ان حکمت عملیوں ،سیاسی تدابیراورعسکری واقتصادی فیصلوں کامفصل تجزیہ ہے جس نے پاکستان کوخطے میں ایک مستحکم اورمحفوظ ایٹمی طاقت کے طورپرقائم رکھا۔

یہ بات تاریخ کے اوراق میں کسی مبالغے کے بغیردرج کی جا سکتی ہے کہ جس قدراسٹریٹجک اورنفسیاتی نقصان پاکستان نے امریکا جیسی متکبرطاقت کوپہنچایا،اس کی مثال کسی اورریاست کے ہاں مشکل ہی سے ملتی ہے۔پاکستان نے اس لحاظ سے تاریخ رقم کی کہ پاکستان نے دنیاکی کسی بھی ریاست کے برعکس امریکاکووہ نقصان پہنچایاجس کاتصوربھی مشکل تھابلکہ یہ کہنازیادہ درست ہوگاکہ جس قدرنقصان سپرپاورامریکاکوپہنچایا،وہ کسی اورریاست کے بس کی بات نہیں۔کہیں وہ میدانِ سیاست میں مہرہ بنا،کہیں معمہ؛کہیں اتحادی کہلاکربھی امتحان بنارہا۔

سردجنگ کے بعدامریکاعالمی سیاست میں بالادستی کادعویدارتھا،مگرپاکستان نے افغانستان میں گڈاوربیڈ طالبان کےکھیل سے امریکاکی منصوبہ بندی کوناکام بنایا۔کھربوں ڈالرامریکی خزانے سے خرچ ہوئے،مگر نتائج صرف پاکستان کے حق میں گئے۔یہ اسٹیبلشمنٹ کی مہارت کامنہ بولتاثبوت ہےکہ وہ چھوٹےمگر عسکری دانشمندانہ اقدامات سےعالمی طاقتوں کی حکمت عملی کوکس طرح ناکام کر سکتے ہیں۔

تاریخ کاآئینہ جب ہم پرپڑتاہے،توایک حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ طاقت کے بلندمیناربھی ایک عاقل دشمن کی حکمت عملی کے سامنے لرزسکتے ہیں۔پاکستان نے یہ ثابت کیا کہ کسی بھی عالمی سپرپاورکوصرف طاقت اوروسائل کے ذریعے شکست دیناممکن نہیں،بلکہ عقل،حکمت اورداخلی استحکام کی ضرورت ہے۔1979ءسے شروع ہونے والی سردجنگ کی کشمکش میں امریکانے پاکستان کوافغانستان میں ایک اہم کھلاڑی کے طورپراستعمال کیا۔ امریکاکامقصد محض صرف سوویت یونین کےمقابلہ کیلئے پاکستان کواستعمال کرنانہیں تھا بلکہ اس خطے ککی معدنیات اور پٹرول پر اپنا تسلط قائم کرنامقصودتھامگرپاکستان نے اس جنگ میں امریکی دہمکی کے بعدشمولیت تواختیارکر لی مگرامریکی منصوبہ بندی کواپنے قومی مفادکے مطابق موڑدیا۔طالبان کے دودھڑے—گڈطالبان اوربیڈطالبان—کے کھیل میں پاکستان نے امریکی منصوبوں کو الجھاکرکھربوں ڈالرامریکی خزانے سے ضائع کردیے۔

گویاامریکاکی طاقت کا کمرۂ سیاست ایک خالی کمرے میں گونجتارہا،اورپاکستان نے ہرکمرے کی دیوارپراپنے نقوش ثبت کردیے۔امریکا کی طاقت کے بلندمینار کے سائے میں پاکستان کی حکمت عملی نے خاموشی سے اپنی بنیادیں مضبوط کیں،اورہرقدم پرامریکی منصوبوں کی دیواریں کھچکیاں کھاتی رہیں۔امریکی عوام اورکانگریس میں حیرت واضطراب پیداہواکہ اتنے بڑے وسائل کے باوجودکامیابی حاصل کیوں نہیں ہورہی۔عالمی تجزیہ نگاروں نے پاکستان کی حکمت عملی کو”اسٹیلتھ سٹرٹیجی” قراردیا،یعنی ایسی حکمت عملی جونظرنہ آئے مگراثرڈالے۔

1979ءمیں سوویت یونین کے افغانستان پرقبضے کے بعدامریکانے پاکستان کوایک اہم کھلاڑی کے طورپراستعمال کیا۔امریکی منصوبہ یہ تھاکہ پاکستان کے ذریعے “گڈطالبان اوربیڈ طالبان”کی سازش کے ذریعے سوویت اثرکوکم کیاجائے،مگرپاکستان نے اس کھیل کواپنے قومی مفادکے مطابق موڑدیا۔گویاامریکی منصوبہ خودان کے گلے پڑگیااورپاکستان نے امریکاکوافغانستان میں “گڈ طالبان،بیڈطالبان”کے کھیل میں الجھاکراربوں ڈالرخرچ کروائے اورعالمی مقروض بنا دیا۔پاکستان کی اس حکمت عملی نے نہ صرف امریکاکوناکام بنایابلکہ اس کے خزانے سے کھربوں ڈالر خرچ کروادیے،جس سے عالمی مالیاتی توازن بھی متاثر ہوا ۔

چین نے امریکی بانڈزخریدکرامریکاکومزیداقتصادی طورپرکمزورکیامگراس کارنامے میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کاکردارسب سے اہم رہا۔عالمی میڈیانے پاکستان کی حکمت عملی کو”شطرنج کااستاد” قراردیا۔امریکی تجزیہ نگارحیران تھے کہ اتنے بڑے وسائل کے باوجود افغانستان میں کامیابی کیوں حاصل نہیں ہو رہی ۔گویاایک تجربہ کارشاگردنے استادکے کھیل میں چھپی چالوں کوسمجھ کر مات دے دی۔ پاکستان کی خاموش حکمت نے امریکی منصوبوں کوالجھادیااورعالمی منظرنامے پرگہراناقابل تلافی اثرچھوڑا۔

چین نے اگراربوں ڈالرکے امریکی بانڈز خرید کراسے اپنامقروض بنایاتواس داستان کاایک باب پاکستان کے اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں بھی لکھاگیا۔یہ بھی پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے طویل مدتی کھیل کی کامیابی تھی۔دودہائیوں تک افغانستان کے دشت وکوہ میں گڈطالبان اور بیڈطالبان کی شطرنج نے امریکاکو اس قدر الجھائے رکھاکہ اس کی جھولی سے خزاں کی برگِ گل کی طرح کھربوں ڈالرجھڑگئے۔پاکستان نے دو دہائیوں تک امریکاکو افغانستان میں الجھایا اورمعاشی بوجھ ڈالا۔امریکاقرض لیتارہا،چین اس کافائدہ اٹھاتارہا،اورپاکستان نے اپنے قومی مفاداورملک سلامتی کیلئےاس کھیل کوبخوبی کھیلا۔

پاکستان نے ایک قومی حکمت عملی کے تحت سب سے بڑامالی اورسیاسی فائدہ حاصل کیا۔لیکن دوسری طرف نتیجہ یہ نکلاکہ طاقت کا ترازو ایک روزاچانک پلٹ گیا۔گویاامریکاایک میدان میں خالی ہاتھ کھیلنے آیا،مگرپاکستان کی عمدہ تدابیرنے ہرقدم پرایساالجھایاکہ چین کی سرمایہ کاری نے امریکی طاقت کے پاؤں تلے زمین کھینچ دی۔

امریکی عوام اورکانگریس میں یہ بات زیربحث رہی کہ پاکستان اورچین نے امریکاکے عالمی منصوبوں پرکس حدتک اثرڈالا۔عالمی تجزیہ نگاروں نے کہا “پاکستان نے نہ صرف اپنی پوزیشن مضبوط کی بلکہ چین کے ذریعے امریکاکومقروض کرکے عالمی طاقت کے توازن کوبدل دیا۔چین نے امریکی بانڈز میں اربوں ڈالرکی سرمایہ کاری کی،جس سے امریکاکی مالی آزادی محدودہوگئی۔جیسے شیخ سعدی کے مطابق کارداناکوبادشاہ بھی اپنافرمانبردارمانے،مگرکھیل عقل وحکمت سے ہی جیتاجاسکتاہے۔

جب امریکاکوہوش آیاتواقتصادی منظرنامہ بدل چکا تھا۔وہ قرض خواہ نہیں،مقروض بن چکاتھا،اورچین بالفعل ایک اقتصادی سپرپاورکے طورپر افق پرابھر آیاتھا۔اسی اثنامیں جنوبی ایشیا میں ایک اورباب رقم ہوا،بھارت نے ایٹمی دھماکے کیے،اورپاکستان نے پوری جرات اور خوداعتمادی سے جواب دیا—تمام تر عالمی دباؤکے باوجود،طاقت کے تمام حربے آزمالیے گئے،مگر پاکستان نے اپناراستہ خودمتعین کیا۔

2000ءکے عشرے میں جب امریکااپنی طاقت کے عروج پرتھا،پاکستان کی حکمت عملی اورچین کی سرمایہ کاری نے عالمی توازن کو بدل دیا،مگرپاکستان اورچین کی حکمت عملی نے اسے مقروض بنا دیا۔اس منظرنامے نے عالمی طاقتوں کے مفاہمت کے اصول کو دوبارہ سے واضح کیا۔امریکی خزانے پرقرضوں کے بوجھ اور معاشی دباؤنے امریکاکوسیاسی واقتصادی طورپرمحتاط بنادیا۔عالمی مالیاتی تجزیہ نگاروں نے کہاکہ پاکستان اورچین کی یہ مشترکہ حکمت عملی امریکاکی عالمی حکمرانی کیلئےایک محتاط نشان ہے۔ عالمی میڈیامیں پاکستان کو”ایشیائی شطرنج کاماہر”قراردیاگیا، امریکی طاقت کے بلندوبالامیناروں کے سائے میں پاکستان کی خاموش لیکن مستحکم حکمت عملی نے اپناچراغ روشن رکھا،پاکستان نے عالمی سیاست میں خاموش مگرموثرحکمت عملی دکھائی جو چپکے سے میدان میں اپنی حکمت عملی چلا رہاہے۔

امریکانے ایٹمی صلاحیت روکنے کیلئے ہرممکن تدبیرآزمائی،کہیں این پی ٹی کاجال اورکہیں سی ٹی بی ٹی کادام مگرپاکستان کے عسکری وسیاسی دماغ بھی کم زیرک نہ تھے؛ہرگرہ کوگرہ ہی سے کھولا اوراپنے قومی مفادپرکوئی آنچ نہ آنے دی۔امریکی دباؤاور دھمکیوں کے باوجودپاکستان نے اپنے قومی مفادکومقدم رکھااور شدید ترین دباؤکے باوجودپاکستان نے ثابت قدمی سے اپنی پوزیشن برقراررکھی۔

بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے بعدپاکستان نے اپنے ایٹمی پروگرام کوعملی جامہ پہنادیا۔28مئی1998ءکو پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر کے عالمی طاقتوں کوواضح کردیاکہ قومی خودداری پرکوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا۔یہ دن پاکستان کیلئےنہ صرف عسکری بلکہ سیاسی فتح بھی ثابت ہوا۔گویاپاکستان نے اپنے قومی مفادکے علم کوبلندکیااوردنیا کے طوفانی سمندرمیں اپنی کشتی کومضبوط رکھ کر طوفان کامقابلہ کیا۔

امریکانے ایٹمی صلاحیت روکنے کیلئے ہرممکن تدبیرآزمائی،مگر پاکستان کے عسکری وسیاسی دماغ بھی کم زیرک نہ تھے؛ہرچال کا حکمت سے جواب دیااوراپنے قومی مفادپرکوئی آنچ نہ آنے دی۔جنرل اسلم بیگ نے تاریخی مہارت دکھاتے ہوئے دستخط بھارت کے ساتھ مشروط کردیے،خاص طورپرامریکاکے دباؤکو ناکام بنایا۔یہ سیاسی چال ایک تاریخی شاہکارتھی جیسے صحرامیں ایک درخت نے طوفان کے مقابلے میں سرنہ جھکایا،پاکستان نے عالمی دباؤکے سامنے اپنی شاخیں مضبوط رکھیں۔عالمی طاقتیں حیران تھیں کہ پاکستان نے اپنے ایٹمی پروگرام کوکیسے محفوظ رکھا۔

جب دباؤحدسے بڑھاتوبظاہررضامندی ظاہرکی گئی،مگرکس چابک دستی سے،سی ٹی بی ٹی،این پی ٹی پردستخط انڈیاکے دستخط سے مشروط کردیے گئے،یوں گویا بازی اپنے ہاتھ میں رکھی گئی اور انہی کی چال انہی کے نام سے چلائی گئی۔امریکانے ڈاکٹرشکیل کی حوالگی کیلئےہرحربہ استعمال کیا،مگرپاکستان نے اپنی مضبوط اسٹیبلشمنٹ نے اسے بالکل کامیاب نہیں ہونے دیااوربری طرح ناکام بنایا۔طالبان اورحقانی نیٹ ورک کے خلاف کاروائی نہ کرنے سے امریکی منصوبے نہ صرف ناکام ہوئے بلکہ ردی کی ٹوکری میں گئے ۔گویادشمن کاجال تنہاہوااورقومی طاقت نے اپنی دھات سے ہردھاگےکوتوڑدیا۔گویادشمن کے جال کوپاکستانی حکمت عملی نے نہ صرف توڑدیابلکہ اسے اپنی چھاؤں میں محفوظ کرلیا۔آخروہ دن آ گیا جب بھارت نے دوبارہ دھماکے کرکے عالمی بساط الٹ دی۔پاکستان کوگویا آسمان سے موقع ملا۔چاغی کی پہاڑیوں نے28 مئی کے دن وہ ولولہ دیکھاجب قوم نے اپنی حمیت کا اعلان زمین سے آسمان تک سنا دیا۔

ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے حوالے سے پابندیوں،دباؤاورعالمی پروپیگنڈے کی آندھیاں چلتی رہیں،مگرریاست نے اپنے اس اثاثے کی ایسی حفاظت کی کہ امریکا دانت بھیجتارہ گیا۔امریکی پابندیوں اوردباؤکے باوجود پاکستان نے ڈاکٹرقدیرکی حفاظت کوممکن بنایا۔پاکستان نے جنرل مشرف اورجنرل باجوہ کے باوجودڈاکٹر شکیل کی امریکاحوالگی کامیاب نہ ہونے دی،امریکی ہرحربہ آزماچکے تھے مگرپاکستان کا داخلی انفراسٹرکچرکامیاب رہا۔یہ ایک واضح اشارہ ہے کہ قومی اثاثوں کی حفاظت میں عالمی دباؤناکام رہتاہے اورقومی اثاثے صرف ہتھیاریاوسائل سے نہیں، بلکہ حکمت عملی اورداخلی نظم سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔امریکی دباؤ کے باوجود قومی مفادکے تحفظ نے عالمی تجزیہ نگاروں کوحیرت میں ڈال دیا۔پاکستان کی داخلی مضبوطی اورقومی قیادت کی حکمت عملی نے ایک مثال قائم کی۔

امریکی کوششوں کے باوجود پاکستان نے کوئٹہ شوریٰ یاحقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی نہیں کی،جس سے داخلی نظم وضبط کے تحفظ کی مثال قائم ہوئی۔ طالبان اورحقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی نہ کرنا،ایک عاقلانہ حکمت عملی تھی جس نے امریکاکی فوجی کوششوں کوناکام بنایا،امریکانے پابندیاں لگائیں اور ہرحربہ استعمال کیا،مگرداخلی سکیورٹی کے باعث ڈاکٹرقدیرمحفوظ رہے۔ خودکش حملوں کی آگ بھڑکانے کی کوششیں ہوئیں،بازومروڑنے کی تدبیریں اختیار کی گئیں،مگرپاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ اپنے ہاتھ میں رکھا،نہ کوئٹہ شوریٰ پرکاری ضرب لگی،نہ حقانی نیٹ ورک پر۔

گویاایک شیرنے اپنے بچّوں کوشکارکی دنیاسے محفوظ رکھااوردشمن کوصرف خالی دانت دکھائے۔محترمہ بینظیربھٹوکے دورمیں پاکستان نے شمالی کوریاکے ساتھ ایسا سٹریٹجک تبادلہ کیاجس نے خطے کے توازن کونئی کروٹ دی،میزائل ٹیکنالوجی ادھرآئی،ایٹمی فہم وفراست اُدھرگئی۔محترمہ بینظیربھٹوکے دورمیں شمالی کوریا سے میزائل ٹیکنالوجی حاصل کی گئی۔پاکستان نے نہ صرف اپنی فوجی استعدادبڑھائی بلکہ شمالی کوریاکے ساتھ تبادلہ عمل میں بھی عالمی طاقتوں کوحیران کیا ۔ پاکستان نے شمالی کوریاسے میزائل پروگرام کی ڈرائنگزحاصل کیں،اورساتھ ہی انہیں”بریف کیس”تحفے کے طورپرفراہم کرکے عالمی سیاسی بازیگری میں اپنی مہارت دکھائی۔ پاکستان نے نہ صرف میزائل ٹیکنالوجی میں اپنی فوجی استعدادبڑھائی بلکہ شمالی کوریاکے ساتھ تبادلہ عمل میں بھی عالمی طاقتوں کو حیران کردیا۔

اسامہ بن لادن کی مخبری کے پس منظرمیں شکیل آفریدی کی حوالگی کامعاملہ ہویابین الاقوامی دباؤ،امریکانے ہردرکھٹکھٹایا،مگر ریاستی ڈھانچے نے اسے ملکی خود داری کے ترازومیں تولااور فیصلہ ملکی وقارکے حق میں ہوا۔اس اقدام نے خطے میں طاقت کے توازن کوبرقراررکھااورامریکی دباؤکوحکمت سےکمزورکیا۔

پاکستان کے پاس ایٹمی ہتھیار،جدیدٹیکنالوجی اورمضبوط قیادت موجودہے۔شام،عراق یالیبیاکی طرح تباہی کاخطرہ یہاں نہیں۔قومی مفاد کے تمام اقدامات داخلی اوربین الاقوامی نظم وضبط کی بنیادپرہیں۔جیسے پہاڑاپنی جڑوں کی مضبوطی سے طوفان کوبرداشت کرتے ہیں، پاکستان بھی اپنی داخلی قوت سے ہرخطرہ سہتااوربرداشت کرتاہے۔

پاکستانی عسکری حکمت عملی نے یہ کمال بھی دکھایاکہ امریکاکے جدیدترین اسلحے کے بہاؤکوکنٹرول کرکے اس کی فوجی حکمت عملی میں خلل ڈال دیا۔امریکانے افغانستان میں جدیدترین اسلحہ اورفوجی سازوسامان کنٹینرزکے ذریعے پہنچائے،مگرپاکستانی اداروں نے راستے میں ہی ہرچیزکوچیک کیا۔ راستے میں رک کرنہ صرف اشیاءکی جانچ کی جاتی بلکہ غیرقانونی اور”نامعقول” سامان روک لیاجاتا۔امریکی اسلحہ جب کنٹینرزمیں افغانستان کی طرف روانہ ہوتاتوراستوں کی گرد بہت کچھ اپنے اندر سمیٹ لیتی۔چیک پوسٹیں جاگتی رہتیں،اور‘‘مخصوص افراد’’اپناحصہ لے جاتے۔یوں ہرقافلہ منزل تک پہنچنے سے پہلے تاریخ کاایک اور قصہ بن جاتا۔یہ حکمت عملی امریکی منصوبوں کوناکام کرنے کااہم ذریعہ بنی۔جدید ہتھیاربھی پاکستان کی حکمت عملی کے سامنے بے بس ہوگئے۔

امریکی تجزیہ نگارحیران تھے کہ اتنے جدیداوروسیع وسائل کے باوجودمنصوبے کس طرح ناکام ہوگئے۔عالمی ذرائع نے پاکستان کی داخلی نگرانی اورسٹریٹجک مہارت کی تعریف کی۔گویاایک چالاک میزبان نے اپنے گھرمیں آنے والے مہمان کی ہرحرکت پرنظررکھی، اوراپنی قومی سلامتی کیلئےہرقدم پراسے راستے سے ہٹادیا۔

2011ءمیں امریکی جدید سٹیلتھ ہیلی کاپٹر ایبٹ آبادمیں گرایاگیا،امریکی حکمت عملی مکمل طورپرناکام ہوئی۔ ایبٹ آبادمیں گرایاگیاسٹیلتھ ہیلی کاپٹرامریکی ٹیکنالوجی کانازتھا۔اس کی واپسی کیلئے ہر کوشش کی گئی،مگرتاریخ نے مسکراکرلکھ دیا:ہیلی کاپٹرغائب ہوگیا—اور سراغ آج تک نہ ملا۔ہیلی کاپٹرکی واپسی کیلئے امریکا نے ہرحربہ آزمایا،مگر پاکستان کی داخلی نگرانی نے اسے روک دیا۔مگرپاکستان نے اپنی حکمت عملی سے اس کی ٹیکنالوجی محفوظ کرلی۔یہ واقعہ عالمی طاقتوں کیلئےایک سبق بن گیاکہ جدیدترین ٹیکنالوجی بھی داخلی نظام کے بغیرکامیاب نہیں ہو سکتی ۔امریکی حکمت عملی کوشکست کے طورپردیکھاگیااورپاکستان نے عالمی منظرنامے میں اپنی سٹریٹجک اہمیت دوبارہ ثابت کی۔عالمی میڈیانے بھی اس واقعہ کو”ٹیکنالوجی کاسبق اورپاکستان کی عظیم کامیابی”قراردیاگویادشمن کی چالوں کوسرنگوں کرنے میں پاکستان نے اپنے ہاتھ کی چالوں کوروشن رکھاجیسے ایک مضبوط قلعہ اپنے دیواروں میں چھپی حکمت عملی سے دشمن کے حملوں کو ناکام بنادے،پاکستان نے بھی اپنی داخلی نظم وضبط سے عالمی طاقتوں کوحیران کردیا۔

پاکستان نہ شام،نہ عراق اورنہ لیبیااورنہ ہی وینزویلاہے،اس کے پاس ایٹمی صلاحیت بھی ہے،میزائل ٹیکنالوجی بھی اورحوصلہ بھی؛ اوراگرکبھی وقت نے پکاراتوہزاروں میل تک مارکرنے والے میزائل کاتجربہ بھی کوئی بعیدامکان نہیں۔ایک ہفتے کے اندردس ہزار کلومیٹرتک مارکرنے والے میزائل کاتجربہ کرنے کی صلاحیت موجودہے۔افغانستان،عراق یاشام کی طرح پاکستان کوتباہ کرناممکن نہیں، کیونکہ یہاں داخلی نظم،مضبوط قیادت اورعوامی حمایت موجود ہے۔گویاایک مضبوط درخت کی جڑیں زمین میں گہری اورمضبوط ہوں، طوفان کتنے ہی شدید ہوں،وہ درخت نہ ہل سکے گا۔

پاکستان نے افغانستان میں امریکاکی کامیابی کو مسلسل ناممکن بنایا۔امریکی جدیدہتھیارراستے میں روک لیے گئے،فوجی قافلے لوٹ لیے گئے،اورداخلی نگرانی نے منصوبے ناکام کیے۔امریکی عوام اورتجزیہ نگارحیران رہ گئے کہ اتنے بڑے اورفول پروف منصوبے ناکام کیسے ہوئے۔عالمی سطح پریہ عسکری اورٹیکنیکل قوت پاکستان کی سٹریٹجک مہارت کی علامت تصورکیے جاتے ہیں۔گویادشمن کی ہر حرکت پرایک نامرئی ہاتھ نے راہ میں رکاوٹیں ڈالیں اورمنصوبوں کوناکام بنایا جس کومغرب اورامریکاکے دفاعی ماہرین بھی تسلیم کرتے ہیں۔

پاکستان نے نہ صرف ایٹمی ہتھیارمحفوظ رکھے بلکہ اپنی ٹیکنالوجی اورمیزائل پروگرام کوبھی مستحکم کیا۔اگرشمالی کوریاسے حاصل شدہ میزائل ڈرائنگزاور ٹیکنالوجی نے پاکستان کی دفاعی قابلیت کو بڑھایاتووہاں شمالی کوریابھی پاکستان کی ان خدمات کوتحسین کی نگاہوں سے دیکھتاہے جہاں وہ آج امریکاکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کرنے کی صلاحیت رکھتاہے۔عالمی طاقتیں، خاص طورپر امریکا،پاکستان کے اس سٹریٹجک مؤقف پرحیران رہ گئیں۔پاکستان نے ثابت کیاکہ داخلی نظم اورحکمت عملی کے بغیرطاقت کااستعمال ناکام ہوجاتاہے۔جیسے خزانے کومضبوط قلعے میں رکھاجائے،چاہے دنیاکے سب چورآجائیں،خزانہ محفوظ رہتاہے۔

ڈاکٹرقدیر۔ڈاکٹرشکیل کے تحفظ،ایٹمی دھماکوں کی حکمت عملی،اورشمالی کوریاسے ٹیکنالوجی کاحصول اس بات کاثبوت ہیں کہ داخلی نظم وحکمتِ عملی کے بغیر کوئی طاقت حقیقی اثرنہیں رکھتی ۔امریکاکے کئی ادارے حیران ہیں کہ پاکستان نے اتنے دباؤکے باوجود عالمی فول پروف منصوبوں کوناکام بنایا۔عالمی طاقتیں یہ سبق لے چکی ہیں کہ داخلی نظم،شفافیت اورقیادت کے بغیرطاقت کااستعمال ناکام ہوتاہے۔پاکستان نے امریکاکے دباؤ،بھارت کے ایٹمی منصوبوں،اورعالمی معاشی حکمت عملی کے باوجوداپنی خودمختاری کوقائم رکھا۔گویاایک ماہرکاشت کارنے اپنے کھیت کومضبوط نہریں اورمحفوظ دیواریں بناکردشمن کے طوفانوں کوناکام اورنامرادبنادیاہے۔

پاکستان کے اقدامات یہ واضح کرتے ہیں کہ عالمی قوانین اورریاستی خودمختاری کی پاسداری بنیادی شرط ہے۔کسی بھی طاقت کا یکطرفہ قبضہ یادباؤبین الاقوامی امن کیلئےخطرہ بن سکتاہے۔پاکستان کی یہ حکمت عملی دیگرممالک کیلئےسبق آموزرہی۔عالمی تجزیہ نگاروں نے تسلیم کیاکہ پاکستان نے دکھادیاکہ قانون اور اخلاق کے دائرے میں رہ کربھی طاقت استعمال کی جاسکتی ہے جیسے ایک تجربہ کاربحری کپتان نے طوفانی سمندرمیں اپنی کشتی کیلئےمحفوظ راستہ تلاش کیا،پاکستان نے عالمی دباؤکے طوفان میں اپنی پوزیشن محفوظ رکھی۔

حقیقی فتح وہ نہیں جوبیرونی دباؤیاجارحیت سے حاصل ہو،بلکہ وہ ہے جوعوام کااعتماد،قومی اتحاد،اورداخلی قوت مضبوط کرے۔ پاکستان نے تاریخی اورموجودہ تجربات سے یہ سبق دیاکہ طاقت کے مراکزداخلی نظم، شفاف قیادت،اورقانون کی پابندی کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتے۔گویافاتح وہ ہے جوصرف میدان جنگ میں نہیں بلکہ دلوں،اداروں اورقوم کے ایمان میں فتح حاصل کرے۔پاکستان کی حکمت عملی نے دکھایاکہ طاقت صرف ہتھیاراورفوجی قوت نہیں،بلکہ قیادت،داخلی نظم،شفافیت اورقومی اتحادکے ساتھ جڑکرہی واقعی مؤثرہوتی ہے۔

پاکستان کی ان تدابیرکے بعدیقیناًامریکا،بھارت،اسرائیل اوردیگرعالمی طاقتوں نے یہ ضرورسیکھاہوگاکہ اگرداخلی بنیادیں مضبوط نہ ہوں توسب وسائل اور ہتھیاربے اثررہ جاتے ہیں۔پاکستان کے اقدامات ثابت کرتے ہیں کہ عالمی قوانین اورریاستوں کی خودمختاری کی پاسداری طاقت کے مراکزکیلئےاولین شرط ہے۔طاقت کاحقیقی استعمال داخلی نظم، قیادت،شفافیت اورقانون کے دائرے میں رہ کرہی مؤثرہوتاہے۔پاکستان کی مثال یہ واضح کرتی ہے کہ اگرداخلی بنیادیں مضبوط ہوں توعالمی دباؤاورطاقت کے طوفان بھی ناکام رہ جاتے ہیں۔

آخرمیں اتناکہہ دیناہی کافی ہے کہ قومیں حجم سے نہیں،حوصلے سے بڑی ہوتی ہیں اورپاکستان کی داستان ابھی ختم نہیں ہوئی،تاریخ کا قلم ابھی حرکت میں ہے ۔یہ تاریخی اورتحقیقی جائزہ واضح کرتاہے کہ عالمی سلامتی،علاقائی استحکام،اورانسانی حقوق کی حفاظت صرف طاقت یادھمکی سے ممکن نہیں بلکہ داخلی نظم، قائدانہ بصیرت،قانون اوراخلاق کے مضبوط ستونوں کے ساتھ ہی ممکن ہے۔ طاقت صرف ہتھیاریااقتصادی دباؤسے نہیں،بلکہ حکمت،داخلی نظم،قیادت اورشفافیت سے مستحکم ہوتی ہے۔

یادرہے کہ ریاستیں توپوں سے نہیں،بلکہ اتحاد،اداروں کی مضبوطی اورعوامی اعتمادسے قائم رہتی ہیں۔پاکستان کی تاریخ،خصوصاً امریکاکے ساتھ تعلقات ،ایک ایساتاریخی باب ہے جوآنے والی نسلوں کیلئےسبق آموزہے کیونکہ تاریخ خاموش نہیں رہتی۔آج کے فاتح کل کے محاسبے میں کھڑے ہوسکتے ہیں، اوراصل طاقت وہ ہے جوعدل وانصاف کے ترازومیں قائم رہ سکے۔پاکستان نےعالمی منظرنامے پریہ ثابت کیا کہ حقیقی طاقت صرف داخلی استحکام،عوامی وفاداری،اور مضبوط اداروں سے پیداہوتی ہے۔جیسے ایک مضبوط قلعہ اپنی دیواروں اوراندرونی نظام سے ہرحملے کوناکام بناتاہے،اسی طرح ایک قوم کی داخلی طاقت،قیادت،اورعوامی وفاداری ہی اسے عالمی طوفانوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔اگرغیرجانبداری کی عینک لگائی جائے تویہ نتیجہ ناگزیرہے کہ نائن الیون کے بعدپاکستان ہی وہ واحدملک ہے جس نے اپنی حکمت عملی سے نہ صرف پاکستان کوامریکی جنگی تباہی سے محفوظ رکھااورآج بالخصوص مئی کی پاک بھارت جنگ میں اقوام عالم کواپنی صلاحیتوں سے مبہوت کردیااوربھارت جیسامکاردشمن اسرائیل کی مکمل پشت پناہی کے باوجود اپنے زخم چاٹ رہا ہے بلکہ اس نے تاریخ کاوہ باب بھی رقم کیا ہے جوآنے والی صدیوں تک زیرِ بحث رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں