he setting of the west, the rising of the east

مغرب کاغروب،مشرق کاظہور

اے اہلِ دنیا!کیاتم نے تاریخ کے دھارے کوبدلتے نہیں دیکھا؟کیاتم نے وقت کی موجوں کومغرب سے مشرق کی طرف پلٹتے محسوس نہیں کیا؟ صدیوں تک طاقت کاسورج رُوماکے ایوانوں،لندن کے محلات اورواشنگٹن کے قلعوں سے طلوع ہوتارہا،مگر آج اس کی کرنیں بدل چکی ہیں۔وہ کرنیں جوکبھی بحرِاوقیانوس کوجگمگاتی تھیں،اب بحرِجنوبی چین کے پانیوں میں رقص کررہی ہیں۔

پوچھواپنے دل سےکیایہ محض توپوں کی گھن گرج ہے؟یایہ تاریخ کااعلان ہے کہ مغرب کے ہاتھوں سے قیادت کی لگام چھوٹ رہی ہے؟کیایہ صرف ایک پریڈہے یایہ زمانے کی سمت کاتعین ہے؟شی جن پنگ نے دنیاکوبتایاہے کہ اب مرکزِجہاں بدل چکاہے۔ کل کامحکوم آج کاقائدہے،کل کازخمی آج کافاتح ہے۔یہ لمحہ،یہ منظر،یہ صدا—دنیاکوجھنجھوڑکرکہہ رہی ہے کہ طاقت کارخ مشرق کی طرف مڑگیاہے۔

تاریخ کادھاراہمیشہ ایک ہی سمت نہیں بہتا۔وقت کادریااپنی موجوں کوکبھی مغرب کی طرف دھکیلتاہے اورکبھی مشرق کی آغوش میں ڈال دیتاہے۔ صدیوں تک دنیاکی باگ ڈورکبھی رومیوں کے ہاتھ میں رہی،کبھی ترکوں کے۔پھریورپ نے اپنی مہمات اور استعمارکے ذریعے قیادت سنبھالی اوربالآخر دوسری جنگِ عظیم کے بعدامریکادنیاکامطلق العنان رہنمابن کرابھرا مگر اب تاریخ کی کروٹ ایک نیاباب لکھنے کوہے۔واشنگٹن کے ایوانوں سے قیادت کی لگام چھوٹتی دکھائی دے رہی ہے اوربیجنگ کی فضاؤں میں ایک نئے سورج کی کرنیں جھلملانے لگی ہیں۔

یہ محض عسکری طاقت کامظاہرہ نہیں،بلکہ تہذیبوں کی کشمکش ہے۔یہ محض توپوں اورطیاروں کی گونج نہیں بلکہ عالمی سیاست کااعلان ہے۔شی جن پنگ کی پریڈنے یہ واضح کردیاہے کہ صدیوں سے جس مشرق کوکمزوراورمحکوم سمجھاجاتارہا،وہ اب اپنے قدموں پرکھڑاہے اوردنیا کی قیادت کی کمان سنبھالنے کیلئے تیارہے۔امریکاجوکل تک دنیاکے فیصلے کرتاتھا،آج دیکھ رہاہے کہ تاریخ کے ترازومیں اس کاپلڑاہلکاپڑرہاہے اورایک نیاتوازن وجودمیں آرہاہے۔

تاریخ کے سفرمیں کچھ لمحات ایسے آتے ہیں جب محض واقعات نہیں بلکہ عہدکی سمت متعین ہوتی ہے۔یہ لمحات محض دن اور رات کی گردش نہیں بلکہ قوموں کے مقدرکافیصلہ کرتے ہیں۔بیجنگ کی ایک صبح بھی ایساہی لمحہ تھی جب شی جن پنگ نے اپنی فوجی پریڈکے ذریعے دنیاکویہ بتایاکہ اب طاقت کامرکزبدل رہاہے۔یہ منظرمحض توپوں کی گرج اورطیاروں کی پروازنہ تھابلکہ تہذیبوں کی ٹکراورسیاست کے نئے موڑکی علامت تھا۔بیجنگ کی صبح، توپوں کی گھن گرج اورطیاروں کی پرواز—یہ سب محض منظرنہیں بلکہ ایک عہدکااعلان تھا۔طاقت نے اپناچہرہ دکھایااوردنیانے محسوس کیاکہ تاریخ نے کروٹ لی ہے۔

چین صدیوں تک مغربی سامراج کی یلغارکاشکاررہا۔افیون کی جنگوں سے لے کرجاپانی جارحیت تک،اسے بارہاشکست اورذلت کا سامناکرناپڑامگرآج کاچین ماضی کی شکست کااسیرنہیں،بلکہ مستقبل کی قیادت کاامیدوارہے۔یہی اس پریڈکاسب سے بڑاپیغام تھا۔ بدھ کی صبح بیجنگ کے افق پرجومنظرکھلا ، وہ محض ایک فوجی پریڈنہ تھابلکہ ایک تاریخ کااعلان اورمستقبل کی تمہید تھا۔شی جن پنگ کی تقریراورچین کی فوجی پریڈنے یہ واضح کردیاکہ یہ صرف عسکری قوت کامظاہرہ نہیں بلکہ عالمی قیادت کے ایک صدیوں پرانے خواب کی تعبیرہے جس سے مشرقی قیادت کاچراغ جل اٹھاہے۔شی جن پنگ کی تقریراورچین کی عسکری قوت کا مظاہرہ اس بات کاغمازتھاکہ مشرقی قیادت اب عالمی قیادت کے منصب پراپنی دعوے داری پیش کررہی ہے۔اس موقع پرجوجاہ و جلال دکھایاگیا،وہ طاقت کے ساتھ ساتھ سیاسی پیغام کی رمزیت بھی اپنے اندررکھتاتھا۔

چین کی پریڈمحض ایک فوجی مظاہرہ نہیں تھا،بلکہ عالمی سیاست کے منبرپرایک نئے عہدکے آغازکااعلان تھا۔طاقت ہمیشہ اپنے ساتھ ایک خاموش پیغام بھی رکھتی ہے،اوراس دن شی جن پنگ نے یہ پیغام دیاکہ ’’اب فیصلہ کرنے والے صرف مغرب کے ایوان نہیں ہوں گے۔‘‘مشرق کی بیداری،جس کی جھلک صدیوں سے خوابوں اورآرزوؤں میں محفوظ تھی،اب عسکری قوت کے مظاہرے کے ساتھ دنیاکے سامنے ظاہرہوئی۔طاقت کااستعمال ہمیشہ دوپہلورکھتاہے۔ایک ظاہری یعنی اسلحے اورفوج کی تعداد،اوردوسراباطنی یعنی پیغام اورتاثر۔اس دن بیجنگ نے دنیاکودونوں پیغام دیے۔ایک طرف ہتھیاروں کی جھلک تھی اوردوسری طرف قیادت کے ارادے کااعلان۔

پریڈکے آغازکے ساتھ ہی بحرِاوقیانوس کے پارسے ایک آتش مزاج صدرڈونلڈٹرمپ نے اپنے مخصوص آندھی وطوفان خیز انداز میں سوشل میڈیا پرایک صدابلندہوئی۔ ڈونلڈٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پراعلان کیاکہ یہ تینوں رہنما—شی،پوتن اورکم—امریکاکے خلاف سازش کررہے ہیں۔یہ صدا دراصل ایک زخمی غرور کی چیخ تھی۔وہ چیخ جواس وقت بلند ہوتی ہے جب طاقت ہاتھ سے پھسل رہی ہو۔ یہ شعلہ بیانی دراصل اس غصے کی آئینہ دار تھی جوانہیں مرکزِنگاہ نہ رہنے پرلاحق ہوئی۔

ٹرمپ کے ردعمل میں وہی پرانی نفسیات جھلکتی ہے جس میں امریکااپنے سواکسی اورقیادت کوبرداشت نہیں کرسکتا۔ٹرمپ کی برہمی اس وقت کی جھلک تھی جب طاقت کے زوال کی پہلی آہٹ کانوں تک پہنچتی ہے۔سوشل میڈیاپران کاالزام دراصل ایک سیاسی چیخ تھی کہ’’میں اب مرکزنہیں رہا۔‘‘گویاوہ اپنے زوال کی ابتدائی آہٹوں کومحسوس کررہے تھے۔ان کاپیغام گویاایک اعلان اوردہمکی بھی تھاکہ عالمی طاقت کااعزازہم آسانی سے جانے نہیں دیں گے اورواحد عالمی سپرطاقت کے تاجداری کی حفاظت کے ہم اب بھی پوری طرح اہل ہیں—مگردنیااب بدل رہی تھی۔یہ ردعمل دراصل اس بات کی علامت تھاکہ امریکاکے طاقتورحلقے اس اجتماع کوکس نظر سے دیکھ رہے تھے۔ٹرمپ کی شخصیت ایک ایسی آئینہ دارہے جس میں امریکاکی خودپسندی،مرکزیت اور بالادستی کی نفسیات جھلکتی ہے۔ان کاغصہ اورالزام تراشی اس بات کاثبوت ہے کہ انہیں محسوس ہورہاہے کہ عالمی قیادت کی کمان اب ان کے ہاتھوں سے پھسل رہی ہے۔

شی جن پنگ کی تقریراوربیجنگ کی فوجی پریڈنے یہ حقیقت آشکارکردی کہ یہ محض عسکری قوت کامظاہرہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی اعلان ہے۔توپیں صرف گولی نہیں چلاتیں،وہ پیغام بھی دیتی ہیں۔ٹینک صرف لوہے کے پہیے نہیں گھماتے، وہ تاریخ کے دھارے کوبھی موڑدیتے ہیں۔چین نے اپنی صدیوں کی شکست وریخت کوفتح کے تاج میں بدلنے کاعزم ظاہرکیا۔شی جن پنگ نے پوتن کودائیں اورکم جانگ ان کوبائیں بٹھاکردنیاکوایک خاموش پیغام دیا۔یہ محض کرسیوں کی ترتیب اور پروٹوکول کامعاملہ نہ تھا بلکہ ایک سیاسی استعارہ تھا،یہ ایک سیاسی مثلث کابھرپوراورزبردست اعلان تھا۔ سیاست میں بعض اوقات خاموش علامتیں الفاظ سے زیادہ اثررکھتی ہیں۔دائیں جانب روس کی عسکری طاقت اوربائیں جانب شمالی کوریاکی بے خوفی گویامشرقی اتحاد کے دو بازوشی کے ساتھ کھڑے تھے۔یہ منظرامریکاکیلئے ایک صریح پیغام تھاہم اکیلے نہیں ہیں،ہم ایک اتحادہیں۔سیاست میں یہ علامتیں الفاظ سے زیادہ اثر رکھتی ہیں۔

شی جن پنگ کی تقریراوربیجنگ کی فوجی پریڈنے یہ حقیقت آشکارکردی کہ یہ محض عسکری قوت کامظاہرہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی اعلان ہے۔توپیں صرف گولی نہیں چلاتیں،وہ پیغام بھی دیتی ہیں۔ٹینک صرف لوہے کے پہیے نہیں گھماتے، وہ تاریخ کے دھارے کوبھی موڑدیتے ہیں۔چین نے اپنی صدیوں کی شکست وریخت کوفتح کے تاج میں بدلنے کاعزم ظاہرکیا۔

چینی صدرنے نہایت شعوری طورپرپوتن کواپنے دائیں اورکم جانگ ان کواپنے بائیں جانب بٹھایا۔یہ محض پروٹوکول کامعاملہ نہ تھا بلکہ ایک سیاسی استعارہ تھا۔بیجنگ کی اس تقریب میں پوتن کودائیں اورکم کوبائیں جانب بٹھانے کافیصلہ ایک محض پروٹوکول نہ تھابلکہ ایک سیاسی علامت تھی۔دائیں جانب روس کی عسکری طاقت اوربائیں جانب شمالی کوریاکی بے خوفی—گویامشرقی اتحاد کے دوبازوشی کے ساتھ کھڑے تھے۔یہ منظرامریکاکیلئے ایک صریح
پیغام تھا’’ہم اکیلے نہیں ہیں،ہم ایک اتحادہیں۔‘‘سیاست میں یہ علامتیں الفاظ سے زیادہ اثررکھتی ہیں۔

پوتن دائیں،کم بائیں—اوردرمیان میں شی۔یہ منظرگویاایک مثلثی اتحادکی تمثیل تھا۔سیاست کی زبان اکثرالفاظ سے زیادہ کرسیوں اور نشستوں سے بولتی ہے۔یہ نشستیں اس اتحادکی مثلث کوظاہرکررہی تھیں جوامریکاکے سامنے ایک دیوارکی طرح کھڑاہوناچاہتی ہے۔سیاست میں اشارے الفاظ سے زیادہ بولتے ہیں،اوریہ نشستوں کااشارہ بہت بلندتھا۔چینی صدرنے جیسے سب کچھ سوچ سمجھ کر ترتیب دیاتھا۔دائیں ہاتھ پرپوتن،بائیں جانب کم جانگ ان—گویامشرقی اتحادکی مثلث اپنے توازن میں مکمل دکھائی دیتی تھی۔یہ محض نشستوں کی تقسیم نہ تھی بلکہ ایک پیغام تھاجوبراہِ راست واشنگٹن کی جانب بھیجاگیا۔

کیا یہ سب محض ایک طبعی انتظام تھایاایک سوچاسمجھامنصوبہ؟کیایہ ٹرمپ جیسے مرکزیت پسندرہنماکو غصہ دلانے کی دانستہ تدبیرتھی یاکسی خاص شخصیت کوجلانے کااہتمام؟تاریخ کے پنوں پریہ سوال قائم رہے گامگراتناطے ہے کہ چین نے اپنے حریف کے دل پردستک ضروردی اورچین نے عسکری طاقت کے ساتھ سیاسی ذہانت بھی دکھائی۔یہ بات بھی زیرِغورہے کہ شی نے یہ سب کسی خاص شخصیت یعنی ٹرمپ کوطیش دلانے کیلئے ترتیب دیاہو۔ٹرمپ کی شخصیت اپنی خودنمائی اورمرکزیت پراصرار رکھتی ہے،اورایسے شخص کیلئے یہ منظرایک کڑوی گولی تھا۔

یہ بھی بعید نہیں کہ شی جن پنگ نے اس نشست کی ترتیب اور پوری تقریب کو خاص طور پر ٹرمپ جیسے مزاج رکھنے والے رہنما کو بھڑکانے کیلئے ڈیزائن کیا ہو۔ ٹرمپ اپنی شخصیت میں مرکزیت پسند ہیں اور دنیا کے اسٹیج پر سب سے آگے رہنا چاہتے ہیں۔ ایسے شخص کیلئے یہ منظر ایک ناقابلِ برداشت تلخی تھا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ چین نے محض فوجی طاقت ہی نہیں بلکہ سیاسی ذہانت کا بھی مظاہرہ کیا۔

یہ سوال باقی ہےکیایہ محض تدبیرتھی یاکسی خاص شخصیت کوجلانے کااہتمام؟مگرایک بات طے ہے کہ چین نے عسکری طاقت کے ساتھ سیاسی ذہانت بھی دکھائی۔یہ بات بھی زیرِغور ہے کہ شی نے یہ سب کسی خاص شخصیت یعنی ٹرمپ کوغصہ دلانے کیلئے ترتیب دیاہو۔ٹرمپ کی شخصیت اپنی خودنمائی اورمرکزیت پراصراررکھتی ہے،اورایسے شخص کیلئے یہ منظرایک کڑوی گولی تھا۔۔ٹرمپ اپنی شخصیت میں مرکزیت پسندہیں اوردنیاکے اسٹیج پرسب سے آگے رہناچاہتے ہیں۔

ایسے شخص کیلئے یہ منظرایک ناقابلِ برداشت تلخی تھا۔یوں کہاجاسکتاہے کہ چین نے محض فوجی طاقت ہی نہیں بلکہ سیاسی ذہانت کابھی مظاہرہ کیا۔یہ بھی ممکن ہے کہ یہ سب تدبیر ایک ایسے صدرکے خلاف کی گئی ہوجس کامزاج اشتعال سے بھرارہتاہے اورجوخودکودنیاکا مرکزدیکھنے کاخواہاں ہے۔اس طرح شی نے ایک تیرسے کئی شکارکیے۔

پریڈمیں شی جن پنگ صرف ایک صدرنہیں تھے بلکہ ایک محورتھے—ایک ایسی شخصیت جس کے گردمشرقی اتحادگھوم رہا تھا۔یہ منظراعلان تھاکہ اب دنیا کی قیادت یکطرفہ نہیں رہے گی۔ ٹرمپ کی غیرمتوقع پالیسیوں نےدنیاکوہلاکررکھ دیاتھا۔شی جن پنگ کی حکمتِ عملی یہ تھی کہ پوری دنیاکی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی جائے اوریہ مقصدوہ بخوبی حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ایسے میں شی جن پنگ نے گویایہ پیغام دیاکہ اگرمغرب لرزاں ہے تومشرق مطمئن ہے۔یہ تضادآج کی عالمی سیاست کااصل خلاصہ ہے۔

دنیانے دیکھاکہ ایک مشرقی طاقت اپنے اتحادیوں کے ساتھ اس اندازمیں ابھری ہے جیسے کل کاقائدیہی ہو۔شی جن پنگ نے دنیاکوباورکرایاکہ وہ نہ صرف چین بلکہ پورے مشرقی اتحاد کے قائدہیں۔یہ اتحاددراصل ایک ایسی قوت ہے جوامریکی بالادستی کوچیلنج کرنے کاحوصلہ رکھتاہے۔اس موقع پر چین نے واضح کردیاکہ وہ اپنی طاقت کوصرف دفاع کیلئے نہیں بلکہ قیادت کیلئے استعمال کرے گا۔

شی جن پنگ نے خودکوصرف ایک صدرنہیں بلکہ ایک محورکے طورپرپیش کیا—مشرق کارہنما،مشرقی اتحادکامرکز،اورمغرب کی بالادستی کے خلاف ایک نیاعلمبردار۔یہ منظردراصل ایک اعلان تھاکہ اب عالمی سیاست یک قطبی نہیں رہی۔سردجنگ کے بعد امریکانے جو’’واحدسپرپاور‘‘ہونے کازعم پالاتھا،اس کی بنیادیں ہلنے لگی ہیں۔

شی جن پنگ نے اپنی شخصیت اوراپنی ریاست کوتقریب کامرکزبنایا۔انہوں نے یہ باورکرایاکہ اب مشرقی قیادت ایک جھنڈے تلے جمع ہے اوران کامقصددنیاسے امریکاکی بالادستی کے طلسم کوتوڑناہے۔یہ ایک ایسے گروہ کااعلان ہے جواپنی راہوں پرخودقدم رکھناچاہتاہے۔

شی جن پنگ کایہ مظاہرہ اس وقت سامنے آیاجب دنیاٹرمپ کی صدارت کے غیرمتوقع فیصلوں سے ہنوزسنبھل نہیں پائی۔ٹرمپ کے غیرمتوقع فیصلوں سے دنیاہل چکی تھی۔ ایسے میں شی نے گویادنیاسے کہامشرق کاراستہ پختہ ہے،اورہم لرزاں نہیں۔ایسے میں چین کایہ مظاہرہ گویادنیاکوایک یقین دہانی تھی کہ اگرمغرب غیرمتوازن ہے تومشرق میں ایک نئی قیادت ہے جو اپنے عزم اور تسلسل کے ساتھ دنیاکونئی سمت دے سکتی ہے۔شی کایہ رویہ دراصل اس اضطراب کاجواب ہے جودنیاکوٹرمپ کے غیرمتوقع فیصلوں نے دیا ۔انہوں نے دنیاکو بتایاکہ اگرمغرب غیریقینی میں ہے تومشرق اپنے عزم میں پختہ ہے۔

دنیاکے بہت سے ممالک ابھی تک ٹرمپ کی غیرمتوقع پالیسیوں سے گھبرائے ہوئے ہیں۔شی کایہ رویہ ان کیلئے ایک طرح کی یقین دہانی تھی کہ اگر مغرب غیرمستحکم ہے تومشرق ایک پختہ لائحۂ عمل رکھتاہے۔

بظاہریہ تقریب دوسری عالمی جنگ میں جاپان کی شکست کے اسی برس مکمل ہونے کی یادمیں تھی،مگردرحقیقت اس کے پس منظرمیں ایک اورپیغام چھپا تھاکہ یہ چین کی فتح کااعلان تھا۔شکست کے زخم کوقیادت کے تاج میں بدل دیناتاریخ کی بڑی قوموں ہی کاوصف ہے۔چین دنیاکویہ دکھاناچاہتاتھاکہ اب چین محض ماضی کی یادوں میں نہیں بلکہ مستقبل کی قیادت میں قدم رکھ رہاہے۔ اب چین ماضی کازخم خوردہ ملک نہیں بلکہ مستقبل کارہنماہے۔اب وہ محض ایک شکست خوردہ قوم نہیں بلکہ ایک فاتح طاقت ہے جواپنے ماضی کے زخموں کومرہم لگاکرمستقبل کی قیادت کے منصب پرفائزہورہی ہے۔یہ منظرتاریخ کاایک استعارہ تھاشکست کی یادکوفتح کے اعلان میں بدل دیناگویاایک شکست کی یادکوفتح کے اعلان میں بدل دیاگیا۔

شی کے عقب میں جوفوج کھڑی تھی،وہ دنیاکیلئے ایک انتباہ تھی۔یہ محض عسکری سازوسامان نہ تھابلکہ ایک نظریہ تھاکہ اب طاقت کاتوازن بدلنے والا ہے۔مغرب نے ہمیشہ اپنی فوجی قوت کے ذریعے دنیاپرتسلط قائم رکھامگرآج چین نے یہ باورکرادیاکہ وہ اب کسی کے تابع نہیں۔شی کے پیچھے کھڑی وہ فوج تھی جسے مغرب کامقابلہ کرنے کیلئے تیارکیاگیاہے۔یہ صرف عسکری قوت کااظہارنہ تھابلکہ ایک عزم تھاکہ سمندروں اورفضاؤں میں اب طاقت کا توازن بدلنے والاہے۔شی کے ساتھ موجودفوجی طاقت اس امرکی شاہدتھی کہ چین نے اپنی عسکری تیاری کومغرب کے برابربلکہ اس سے آگے بڑھانے کاعزم کرلیاہے۔چینی فوج کاجلوہ محض توپ اوربارودنہ تھابلکہ ایک نظریہ تھاطاقت اب مشرق کے ہاتھ میں ہے۔ہتھیارصرف لوہے اوربارودکا ڈھیر نہیں ہوتے،بلکہ ایک نظریہ اورایک اعتماد بھی ہوتے ہیں۔

تیانمن اسکوائرپرتین رہنماؤں کی موجودگی گویاایک عہد کی تصویری سندتھی۔تاریخ نے اس منظرکواپنے صفحات میں ایک نئے آغازکے طورپرمحفوظ کرلیا۔شی،پوتن اورکم کاایک ساتھ کھڑاہونا ایک نئی تاریخ کی تحریرتھا۔شی،پوتن اورکم کاایک ساتھ نظرآنا عالمی سیاست میں ایک نیامنظرتھا۔تیانمن اسکوائرمیں یہ اجتماع دراصل اس بات کااعلان تھاکہ مشرق اب اپنی راہیں خود طے کرے گا۔یہ پہلی بارتھاکہ شی،پوتن اورکم اکٹھے نظرآئے۔تیانمن اسکوائرپر—جسے گیٹ آف ہیونلی پیس کہاجاتاہے—یہ منظرتاریخ کے باب میں ایک نئی سطرلکھ رہاتھا۔تیانمن اسکوائر پران کی موجودگی اس بات کی علامت تھی کہ مشرقی دنیاایک جھنڈے تلے جمع ہورہی ہے۔یہ تصویرعالمی سیاست کے مستقبل کاایک آئینہ ہے جس میں طاقت کانیاتوازن جھلکتا ہے۔ یہ تصویرآئندہ نسلوں کیلئے ایک علامت کے طورپرمحفوظ ہوگی۔

یہ وہی مقام تھاجہاں1949ءمیں ماؤ زے تنگ نے جمہوریہ چین کااعلان کیاتھا۔یہ جگہ تاریخ کے فیصلوں کی گواہ ہے۔بعد ازاں دس برس بعدیہی مقام سوویت رہنماخروشیف اورکم کے داداکی فوجی پریڈکی میزبانی کاگواہ بنا۔آج شی نے اسی ورثے کونئی معنویت دی۔گویاتاریخ اپنے دائرے کومکمل کرکے ایک نئے سفرپرروانہ ہوئی۔وہی مقام جہاں ماؤنے جمہوریہ کااعلان کیاتھا،آج شی نے ایک نئی تاریخ کی صدابلندکی۔تاریخ اپنے دائرے میں پھرسے لوٹ آئی۔آج اسی مقام پرشی نے ایک نیاباب کھولا۔گویاتاریخ ایک دائرہ ہے جواپنے محورپردوبارہ گھوم آیا۔

یورپی اورامریکی حلقے اس تقریب کودیکھ کراضطراب میں مبتلاہوگئے ہیں اوران کے دل میں بےچینی نے جنم لے لیاہے۔طاقت کے ترازومیں اب پلڑا بدلتا دکھائی دینے لگا۔یورپ اور امریکامیں پریشانی کی لہریں دوڑتی نظرآئیں۔کچھ چہروں پراس طاقت کے مظاہرے نے اثردکھایااورطاقت کایہ مظاہرہ ان کیلئے ایک چیلنج بھی تھااورایک انتباہ بھی کہ اب عالمی سیاست یک قطبی نہیں رہی۔دنیاکے توازن میں ایک نیاپلڑاوجودمیں آرہاہے اوراب دنیاکی سیاست میں ان کی اجارہ داری کوخطرہ لاحق ہے۔یہ پریشانی محض سیاسی نہ تھی بلکہ تہذیبی بھی۔مغرب صدیوں سے اپنی برتری کاخوگررہاہے،اوراب وہ اس کے زوال کی پہلی آہٹیں سن رہا ہے۔

شی نے اپنے خطاب میں یہ سخت اعلان بھی کیاکہ2035تک تائیوان واپس آجائے گااوردوبارہ چین کاحصہ بنے گا۔یہ بیان محض ایک سیاسی دعویٰ نہیں بلکہ قومی غیرت اورتہذیبی ورثے کامسئلہ ہے۔یہ بیان تائیوان کیلئے ایک خوف اوردنیاکیلئے ایک اعلان تھا۔چین ہمیشہ تائیوان کواپناصوبہ سمجھتاآیاہے، اوراب اس نے دنیاکے سامنے یہ عزم ظاہرکیاہے کہ وہ کسی بھی صورت میں اس ادھورے خواب کوحقیقت بنائے گا۔یہ اعلان تائیوان کے عوام کیلئے خوف اورچین کے عوام کیلئے امیدکاپیغام اورخواب کی تعبیر تھا۔

شی نے طاقت کے استعمال کے امکان کوردنہیں کیا۔جوہتھیاردکھائے گئے،ان میں زیادہ تربحری قوت کی برتری کوظاہرکررہے تھے۔بحری قوت کی نمائش اس بات کااعلان تھی کہ چین اب تائیوان کے گردسمندری دائرہ مضبوط کررہاہے۔شی نے طاقت کے استعمال کوردنہیں کیا۔جوہتھیاردکھائے گئے،وہ خاص طورپربحری قوت کی برتری ظاہرکررہے تھے اوریہ اشارہ تھاکہ تائیوان کے گردسمندروں میں چین کادائرہ تنگ ہوتاجارہاہے۔یہ سمندری حصار کسی طوفان کاپیش خیمہ ہے۔یہ دراصل ایک پیغام تھاکہ چین اپنے سمندری دفاع کوناقابلِ تسخیربنارہاہے۔تائیوان کے گردسمندروں پربالادستی کاخواب اب قریب ہے۔شی نے طاقت کے استعمال کے امکان کوردنہیں کیا۔جوہتھیارپیش کیے گئے،ان میں زیادہ تربحری صلاحیتوں سے متعلق تھے۔یہ تائیوان کے گردسمندروں میں اپنی بالادستی کااشارہ تھا۔گویاسمندراب مشرق کے قدموں کے نیچے آرہے ہیں۔

یوکرین کی جنگ میں الجھامغرب اس تقریب میں غیرحاضرتھا۔چین نے اپنی موجودگی اورمغرب نے اپنی غیرموجودگی کے ذریعے دنیاکوحقیقت بتادی۔چین نے اس موقع پرایک طرف اپنی طاقت دکھائی اوردوسری طرف مغرب کی کمزوری کوعیاں کردیا۔ یہ غیرحاضری اس حقیقت کواجاگر کرتی ہے کہ مغرب اپنی اندرونی مشکلات میں پھنس چکاہے اورمشرق اپنے قدم آگے بڑھارہا ہے۔

چین کے بحری بیڑے،چھٹی نسل کے طیارے اورمسلسل مشقیں اس بات کااعلان ہیں کہ وہ امریکاکی’’جزائرکی زنجیر‘‘توڑنے پر تلاہواہے۔امریکانے بحرالکاہل میں چین کومحدودرکھنے کیلئے جزائرکاایک حصارکھڑاکیاتھامگرچین اب اس حصارکوتوڑکر سمندروں میں آزادانہ حرکت کرنے کاعزم رکھتاہے۔ چین اب اسے توڑنے کیلئے اپنی مشقیں اوربیڑے تیارکررہاہے۔چین بحری بیڑوں کی حرکت،چھٹی نسل کے طیاروں اورمسلسل مشقوں کے ذریعے یہ ظاہرکررہاہے اورچین کایہ پراسرارعمل اس بات کا اعلان ہیں کہ وہ امریکاکی ’’جزائرکی زنجیر‘‘کوتوڑنے پرتلاہواہے جس کے ذریعے وہ چین کو محدود رکھنا چاہتا ہے۔

سمندروں پرحکمرانی ہمیشہ عالمی طاقت کیلئے شرطِ اول رہی ہے۔برطانیہ نے سمندروں پرحکمرانی کر کے سلطنت قائم کی۔امریکا نے بھی یہی کیااوراپنی بالادستی بحری بیڑوں کے سہارے قائم رکھی۔اب چین بھی اسی خواب کی تعبیرچاہتاہے۔اب چین اسی تاج کی طرف بڑھ رہاہے۔یہ محض خواب یا مستقبل کی دستک اورمحض عسکری حکمتِ عملی نہیں ہی نہیں بلکہ ایک تہذیبی بیداری کا استعارہ ہے۔دنیاکی سب سے بڑی بحری قوت کاتاج اب زیادہ دورنہیں۔چین سمندروں پرحکمرانی کے خواب کوحقیقت کے قریب لے آیاہے۔چین کے خواب میں سمندروں پرحکمرانی محض ایک عسکری مقصد نہیں بلکہ تہذیبی بیداری کااستعارہ ہے۔جب کوئی قوم سمندروں پرقابض ہوجاتی ہے تواس کے خواب بھی لامحدودہوجاتے ہیں۔

اعدادوشماریہ بتارہے ہیں کہ امریکاکے پاس219جنگی بحری جہازہیں،جبکہ چین کے پاس234۔یہ گنتی نہیں بلکہ تاریخ کااشارہ ہے کہ طاقت کاترازوبدل رہاہے۔یہ اعدادمحض گنتی نہیں بلکہ ایک مستقبل کی جھلک ہیں جوطاقت کاتوازن بدل سکتی ہے۔یہ عددی حقیقت اس امرکی غمازی کرتی ہے کہ طاقت کا پلڑابدلنے لگاہے۔یہ محض عددی برتری نہیں بلکہ ایک تاریخی موڑہے،جہاں طاقت کاترازوجھکنے لگاہے۔اگریہ رفتارجاری رہی توآنے والاوقت سمندروں کی حکمرانی کاتاج مشرق کے سرپرسجادے گا۔

یہ پریڈمحض ایک تقریب نہ تھی بلکہ ایک اعلان تھاکہ دنیاکامرکز بدل رہا ہے۔یہ پریڈمحض ایک تقریب نہ تھی بلکہ عالمی سیاست میں ایک نئے موڑ کااعلان تھی۔شی جن پنگ نے دنیاکوبتایاکہ اب طاقت کامرکزمغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہورہاہے۔مشرق کی صبح طلوع ہورہی ہے اورمغرب کی شام ڈھلنے کوہے۔دنیااب اس حقیقت سے انکارنہیں کرسکتی کہ چین محض ایک طاقتور ملک نہیں بلکہ ایک ایسارہنماہے جومشرق کومتحدکرکے مغرب کی بالادستی کوچیلنج کرنے کیلئے تیارہے۔تاریخ کے صفحات میں یہ لمحہ ہمیشہ ایک نئے موڑاورایک باب کے طورپریادرکھاجائے گا۔ یہ منظرنامہ دراصل ایک نئی عالمی بساط کاعکس ہے،جہاں مشرقی رہنما اپنے خدوخال مرتب کررہے ہیں۔تاریخ کے صفحات میں یہ لمحہ محض ایک پریڈ نہیں بلکہ ایک یادگاراعلان ہے کہ دنیاکی قیادت کی سمت بدل رہی ہے۔

گویایہ محض ایک پریڈکی رودادنہیں،اس کے تاریخی،سیاسی اورتہذیبی پس منظرکے ساتھ واضح کرتی ہیں بلکہ ایک پوری عالمی تاریخ کاموڑہے جودنیاکی سیاست کے مستقبل کوبدلنے والا ہے۔یہ منظرمحض ایک فوجی پریڈ نہ تھابلکہ تاریخ کاایک فیصلہ تھا۔دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیاکہ طاقت کامرکز اب یکطرفہ نہیں رہا۔واشنگٹن کی گرفت ڈھیلی پڑرہی ہے اوربیجنگ کے ہاتھ مضبوط ہورہے ہیں۔مشرق جسے کل تک محکوم سمجھاجاتاتھا،آج فاتح کی طرح کھڑاہے۔یہ لمحہ ہمیں رومی سلطنت کے زوال،اندلس کی شام،اور برطانوی سلطنت کے غروب کی یاددلاتاہے۔ہرعہدکاایک سورج ہوتاہے، جوطلوع بھی ہوتاہے اورغروب بھی۔ امریکاکا سورج اپنی نصف النہارسے ڈھل رہاہے اورمشرقی آسمان پرایک نیا آفتاب طلوع ہو رہاہے۔

چینی پریڈنے یہ پیغام دیاہے کہ دنیاکی باگ اب مغرب کے ہاتھوں میں نہیں رہے گی۔یہ قیادت کی منتقلی کااعلان ہے—ایک ایسا اعلان جوتوپوں کی گھن گرج،بحری بیڑوں کی روانی اوراتحادکی علامتوں کے ساتھ کیاگیا۔آج کے بعددنیاکویہ مانناہوگاکہ تاریخ نے کروٹ بدل لی ہے،اورمستقبل کاباب مشرق کے ہاتھ سے لکھاجائے گا۔

اے دنیاکے رہنے والو!تم کب تک آنکھیں بندرکھوگے؟کیاتمہیں نہیں دکھائی دیتاکہ واشنگٹن کے ایوانوں میں اضطراب ہے اور بیجنگ کے میدانوں میں اطمینان؟کیاتم نہیں سنتے کہ تاریخ کی گھنٹیاں بج رہی ہیں؟وہی گھنٹیاں جوکبھی رومی سلطنت کے زوال پر بجی تھیں،وہی گھنٹیاں جواندلس کی شام پربجی تھیں،وہی گھنٹیاں جوبرطانیہ کی ڈوبتی سلطنت پربجی تھیں—آج وہی صداامریکا کے دروازے پردستک دے رہی ہے۔

دیکھو!مشرق کے افق پرایک نیاسورج طلوع ہورہاہے۔وہ سورج جس کی کرنیں توپوں کی لومیں،بحری بیڑوں کی روانی میں،اور اتحادکے عزم میں جھلک رہی ہیں۔دنیاکی باگ اب مغرب کے ہاتھ میں نہیں رہے گی۔یہ لمحہ اعلان کررہاہے کہ قیادت کاتاج مشرق کے سرپرسج چکاہے۔

اوراے اہلِ مغرب!سن لو!تمہارے دن گزرگئے،تمہاراغرورٹوٹ چکا۔تاریخ نے کروٹ بدل لی ہے،اورمستقبل کاصفحہ اب بیجنگ کے قلم سے لکھا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں