From the Haramain to the Islamic World: A Defensive Covenant

حرمین سے عالمِ اسلام تک: ایک دفاعی عہد

تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ جب قومیں اپنے وجودکے دفاع کیلئےباہمی اعتماداورمشترکہ بصیرت کی بنیادرکھتی ہیں تومحض معاہدے نہیں بنتے،بلکہ تاریخ کے دھارے بدلتے ہیں۔بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ میں یہ اصول مسلمہ ہے کہ انفرادی سلامتی کبھی پائیدارنہیں ہوتی جب تک اجتماعی سلامتی کاحصارموجودنہ ہو۔پاکستان اورسعودی عرب کے مابین طے پانے والا حالیہ دفاعی معاہدہ اسی نوع کی ایک غیرمعمولی پیش رفت ہے،جس کے تحت کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کودونوں ریاستوں کے خلاف جارحیت تصورکیاجائے گا۔یہ شق محض الفاظ کامجموعہ نہیں بلکہ دو ریاستوں کے مابین مشترکہ تقدیرکااعلان ہے۔یہ شق محض دفاعی نہیں بلکہ سیاسی،نفسیاتی اوراسٹریٹجک ڈیٹرنس رکھتی ہے جودشمن کے حملے کوسوبارسوچنے پرمجبور کرتی ہے۔

پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان طے پانے والایہ اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ اسلامی دنیامیں اجتماعی سلامتی کے تصورکی جانب ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔یہ معاہدہ نہ صرف دوطرفہ دفاعی تعاون کوادارہ جاتی شکل دیتاہے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن،مسلم ریاستوں کی خودمختاری،اورعالمی سلامتی کے بدلتے ہوئے منظر نامے میں ایک نئے اجتماعی مسلم سیکیورٹی فریم ورک کی بنیادرکھتاہے۔پاکستان اور سعودی عرب کے مابین طے پانے والادفاعی معاہدہ اسی اصول کی عملی تعبیر ہے، جس کے تحت کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصورکیاجائے گا۔آنے والے دنوں میں ترکیہ اورایران کی ممکنہ شمولیت اس اتحادکوایک وسیع تراسلامی دفاعی معاہدہ میں تبدیل کرسکتی ہے۔

قومی سلامتی سے اجتماعی سلامتی تک کے اس سفرکاآغازایک مشترکہ دفاعی اصول کی طرف گامزن ہونے کی وجہ یہ ہے کہ عالمی سلامتی کانظام اس وقت شدیدعدم توازن کاشکارہے۔مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات،غزہ میں انسانی بحران،جنوبی ایشیامیں ایٹمی کشیدگی،مسلم ریاستوں پرسیاسی وعسکری دباؤنے اسلامی دنیامیں ایک ایسے اجتماعی دفاعی ماڈل کی ضرورت کواجاگرکیاہےجونیٹوکی طرزپرہومگر عالمی سیاسی بالادستی سے آزادہو۔

پاکستان اورسعودی عرب کے مابین طے پانے والا دفاعی معاہدہ اس اصول پرمبنی ہے کہ کسی ایک ریاست کے خلاف جارحیت کواجتماعی جارحیت تصورکیاجائے گا۔یہ تصورجدیدعالمی سلامتی کے نظام میں ایک تسلیم شدہ حقیقت کی شکل میں سامنے آچکاہے جیسے نیٹوآرٹیکل5 کی واضح شق نہ صرف عسکری تحفظ فراہم کرتی ہے بلکہ دشمن قوتوں کیلئےمشترکہ اسٹرٹیجک ڈیٹرنس بھی پیداکرتی ہے۔

سعودی ولی عہدشہزادہ محمدبن سلمان اوروزیرِاعظم پاکستان میاں محمدشہبازشریف کے دستخطوں سے وجودمیں آنے والایہ اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ اس عزم کامظہرہے کہ دونوں ممالک اپنے تاریخی تعلقات کورسمی دوستی سے نکال کرعملی دفاعی شراکت داری کی سطح پر لے آئے ہیں۔یہ وہ لمحہ ہے جہاں سفارت کاری نے عسکری بصیرت سے ہاتھ ملایاہے۔ولی عہدمحمد بن سلمان اوروزیراعظم شہبازشریف کے مابین اسٹریٹجک ہم آہنگی نے اس معاہدے کومحض علامتی نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت میں تبدیل کیاہے۔اعلیٰ سطح کی قیادت میں یہ فیصلہ علاقائی عدم استحکام،بڑھتے ہوئے جیوپولیٹیکل خطرات اورمسلم دنیاکے خلاف بڑھتے ہوئے دباؤکے تناظرمیں ایک پیشگی اسٹرٹیجک عملی اقدام کے طورپرسمجھاجارہاہے۔

ولی عہدمحمدبن سلمان اوروزیراعظم شہبازشریف کی قیادت میں طے پانے والایہ معاہدہ اس حقیقت کااعلان ہے کہ اسلامی دنیامیں اب محض ردِعمل نہیں بلکہ پیش بندی کاشعورجنم لے چکاہے۔یہ وہ لمحہ ہے جب قیادت نے وقتی سفارتی مصلحت کی بجائے طویل المدتی سلامتی کو ترجیح دی ہے۔پاک سعودی دفاعی معاہدہ اس اصول پرقائم ہےکہ کسی ایک ریاست کےخلاف جارحیت،دونوں کےخلاف جارحیت تصورہوگی ۔یہ شق نیٹوکی آرٹیکل5 سے مماثلت رکھتی ہے اورمشترکہ دفاعی ردِعمل کے طورپرممکنہ جارح قوتوں کیلئے مشترکہ ڈیٹرنس پیداکرتی ہے۔

یہ معاہدہ نہ صرف دونوں ممالک کی قومی سلامتی کومضبوط بنانے کاذریعہ ہے بلکہ خطے اوردنیامیں امن کے قیام کیلئےمشترکہ ارادے کی عکاسی بھی کرتاہے۔اس کا بنیادی مقصددفاعی تعاون کوفروغ دینااورکسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف مشترکہ تحفظ کومؤثربناناہے۔یوں یہ معاہدہ طاقت کے توازن کوجارحیت کی بجائے امن کے حق میں موڑنےکی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔

اس معاہدے کابنیادی مقصددفاعی تعاون کوادارہ جاتی شکل دینا،مشترکہ خطرات کے خلاف متحدہ ردِعمل،خطے اوردنیامیں امن کے قیام میں فعال کرداراداکرنا ہے ۔یہ تصوربعینہٖ وہی ہے جویورپ نے دوسری جنگ عظیم کےبعدنیٹوکی صورت میں اختیارکیاتھا۔پاک سعودی دفاعی معاہدے کے بھی بنیادی مقاصداورکلیدی اہداف میں یہ شامل ہے کہ مشترکہ خطرات کے خلاف دونوں ممالک دفاعی تعاون کی ادارہ جاتی تشکیل کرتے ہوئے خطے اورعالمی سطح پرامن واستحکام میں مشترکہ کرداراداکریں گے۔یہ اہداف اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ معاہدہ صرف دوطرفہ نہیں بلکہ یہ ریجنل سیکورٹی فریم ورک کی بنیادبھی فراہم کرتاہے۔

معاہدے کے بنیادی اہداف میں دفاعی تعاون کورسمی اورمستقل ڈھانچے میں تبدیل کرنا،موجودہ اورمستقبل کے خطرات کے خلاف مشترکہ تیاری،علاقائی اورعالمی امن کیلئےمشترکہ کردار، عسکری،انٹیلی جنس اوردفاعی صنعت میں تعاون مہیاکرناہے۔یہ اہداف اسے محض دفاعی نہیں بلکہ مشترکہ اسٹرٹیجک دفاعی معاہدہ کی شکل منسلک کرگیاہے۔

مشترکہ اعلامیے میں واضح کیاگیاکہ پاکستان اورسعودی عرب کی شراکت داری کوئی وقتی مفاد نہیں بلکہ آٹھ دہائیوں پرمحیط ایک مستحکم، آزمودہ اوربااعتمادتعلق ہے ۔مشترکہ اسٹریٹجک مفادات، قریبی دفاعی تعاون اورعالمی چیلنجزکے تناظرمیں یہ معاہدہ دونوں ممالک کی سلامتی اورعالمی امن کیلئےمشترکہ عزم کی توثیق کرتا ہے۔ آٹھ دہائیوں پرمحیط شراکت داری محض سفارتی نہیں بلکہ عسکری تربیت،دفاعی مشاورت، خفیہ تعاون پرمبنی رہی ہے۔یہ معاہدہ اسی تاریخی رشتے کوقانونی و اسٹریٹجک تحفظ فراہم کرتاہے۔یہ معاہدہ ایک مضبوط اورطویل المدتی طویل شراکت داری کوایک قابل اعتمادبھائی چارے کی بنیادبھی فراہم کرتاہے جہاں اقوام عالم کویہ پیغام دینابھی مقصودہے کہ پاکستان حرمین کی حفاظت کونہ صرف اپناایمان سمجھتاہے بلکہ اسے اللہ اوراس کے رسولﷺکی خوشنودی کاوسیلہ بھی سمجھتاہے

یہ معاہدہ پاک۔سعودی اسٹریٹجک شراکت داری کی گہرائی اوردفاعی تعاون کی مضبوطی کاعملی ثبوت ہے۔پاکستانی عسکری قیادت، بالخصوص آرمی چیف فیلڈمارشل سیدعاصم منیر،نے معاہدے کوعملی شکل دینے میں کلیدی کرداراداکیا۔اس معاہدے کے بعدپاکستان حرمین شریفین کے تحفظ میں باضابطہ شراکت دار،اسلامی دنیا میں ایک ذمہ دارسیکیورٹی ریاست کے طورپر بھی ابھراہے۔اس معاہدے کےبعدپاکستان، حرمین شریفین کے تحفظ میں سعودی عرب کاباقاعدہ دفاعی شراکت دار بن گیاہے—اوریہ اعزازتاریخ میں کم ہی کسی غیرعرب ریاست کو حاصل ہواہے۔یہ کردارپاکستان کواسلامی دنیامیں ایک مرکزی دفاعی ستون بناتاہے اوریہ ذمہ داری محض عسکری نہیں بلکہ عقیدتی،تہذیبی اور تاریخی ہے۔

پاک سعوی دفاعی معاہدہ کے علاقائی اورعالمی مضمرات کانمایاں پہلویہ ہے کہ یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کومستحکم کرتا ہے،جنوبی ایشیامیں سیکیورٹی ڈائنامکس پراثراندازہوتاہے ۔مسلم ریاستوں کومغربی عسکری انحصارسے جزوی آزادی دیتاہے۔مشہورِزمانہ عالمی ادارہ بلوم برگ اوردیگرعالمی ذرائع کے مطابق،اگر ترکیہ اس اتحادمیں شامل ہوتاہے تویہ مشرق وسطیٰ سے آگے تک طاقت کے توازن کومتاثرکرے گا۔

اعلامیے کے مطابق موجودہ اورمستقبل کے خطرات وچیلنجزکے پیشِ نظریہ معاہدہ دفاعی تیاریوں،انضمام اورعملی ہم آہنگی کوفروغ دے گا۔اس کے نتیجے میں دونوں ممالک اپنی علاقائی سالمیت اورسلامتی کولاحق کسی بھی خطرے کامشترکہ طورپرمقابلہ کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔یہ معاہدہ موجودہ وآئندہ خطرات،روایتی جنگ، ہائبرڈوار،سائبر وار،میزائل ٹیکنالوجی،ڈرون ٹیکنالوجی علاقائی عدم استحکام اوران سب کے مقابلے کیلئےناگزیردفاعی تیاری،انضمام اورمشترکہ منصوبہ بندی کی بنیادیں فراہم کرتاہے۔ایران اورترکیہ کی جانب سے معاہدے میں شمولیت کی خواہش اوردلچسپی اس امرکی علامت ہے کہ مسلم دنیامیں اجتماعی دفاعی خلاکاادراک بڑھ چکاہے۔ترکیہ کی شمولیت نیٹوتجربے اور دفاعی صنعت کی بدولت اتحادکوتکنیکی اورآپریشنل برتری دے سکتی ہے۔اس تناظرمیں یہ نکتہ بھی بہت اہم ہے کہ اوآئی سی کومحض سفارتی نہیں بلکہ عسکری ستون کی ضرورت ہے۔

معاہدے کی شقوں کے تحت کسی بھی ملک پربیرونی مسلح حملہ دونوں ریاستوں پرحملہ تصور ہوگا،جہاں یہ شق نیٹواتحاد کے آرٹیکل فائیوسے مشابہ ہے،وہاں اسلامی دنیاکے تناظرمیں اس کی معنویت کہیں زیادہ گہری ہے۔دہائیوں پرمحیط مشترکہ فوجی تربیت،کثیرالجہتی مشقیں اور دفاعی صنعتی تعاون اس معاہدے کی مضبوط بنیاد ہیں۔

یہ معاہدہ عملی طورپرنیٹوکے اجتماعی دفاعی تصورکی اسلامی تعبیرکےاسلامی تناظرمیں منطبق ہوتی ہے۔فرق یہ ہے کہ نیٹومغربی سیاسی ومعاشی مفادات کامحافظ ہے اوریہاں اسلامی دفاعی اتحاد امت کے وجود،خودمختاری اورمقدسات کاتحفظ کامحافظ ہوسکتاہے۔یہ وہ خلاہے جسے یہ معاہدہ پُرکرنے کی بنیادرکھتاہے۔یہ تقابل اس معاہدے کی معیاری قانونی حیثیت کومضبوط کرتاہے۔تاریخی تجربہ بتاتاہے کہ نیٹویورپ کے اجتماعی دفاع کاضامن بنا،سیٹواورسینٹوامریکی مفادات کیلئےتشکیل دیے گئے۔پاک–سعودی معاہدہ پہلی بارایک مسلم-مرکوزدفاعی تصورپیش کرتاہے جوخودمختاری،مقدسات اورامت کے اجتماعی مفادپرمبنی ہے۔

یہ دفاعی معاہدہ پاکستان اورسعودی عرب دونوں کیلئےسکیورٹی،معیشت اورسفارت کاری کے میدان میں غیرمعمولی فوائدکاحامل ہے۔اس کے تحت کسی ایک ملک کی دفاعی طاقت دوسرے ملک کے تحفظ کیلئےبھی موجودہوگی—یوں گویادونوں ممالک ایک دوسرے کی ڈھال بن گئے ہیں۔سکیورٹی،معیشت اورسفارت کاری کے باہمی ربط کومضبوط بنانے کیلئےمشترکہ دفاع،سرمایہ کاری کاتحفظ،توانائی راہداریوں کی سلامتی ،عالمی سفارت کاری کے باہمی انحصارکوبڑھاتاہے۔یہی وجہ ہے کہ نیٹو ممالک میں جنگ کم اورمعیشت مضبوط رہی۔اس دفاعی معاہدہ کے پالیسی مضمرات کایہ بھی ایک نمایاں پہلوہے کہ مسلم ممالک کیلئےدفاعی خوداعتمادی کاماڈل بن سکتاہے،غزہ فلسطین اورکشمیرجیسے بحرانوں میں عملی ڈیٹرنس فراہم کرسکتاہے، عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات میں مسلم ریاستوں کاوزن بڑھاسکتاہے۔

یادرہے کہ الیمامہ پیلس میں ولی عہدمحمدبن سلمان نے وزیرِاعظم شہبازشریف کاپرتپاک استقبال کیا۔دونوں ممالک کے وفودکی موجودگی میں باضابطہ مذاکرات ہوئے،جن میں شاہ سلمان بن عبدالعزیزکیلئےنیک تمناؤں کااظہارکیاگیااورتاریخی واسٹریٹجک تعلقات کاجامع جائزہ لیاگیا۔ مشترکہ دلچسپی کے متعدداہم امورپر تفصیلی گفتگو ہوئی۔الیمامہ پیلس میں ہونے والے مذاکرات نے واضح کیاکہ دونوں ممالک کااعتماد شخصیات سے بڑھ کراداروں تک پہنچ چکاہے۔مشترکہ مفادات اب تحریری معاہدوں میں محفوظ ہورہے ہیں اوراب تحریری اورقانونی ضمانتوں میں ڈھل رہے ہیں۔یہ پالیسی تسلسل کی علامت ہے۔

تاہم یہ بات ذہن نشین رہے کہ دشمن قوتیں کبھی بھی مسلم ممالک کے دفاعی معاہدوں کوکامیاب ہوتاہوانہیں دیکھ سکتے اوراس ضمن میں یقیناً مسلم ممالک کوبھی اہم چیلنجزاورخدشات کا سامنابھی ہے اورمسلم دنیاکو داخلی سیاسی اختلافات،عالمی طاقتوں کاممکنہ دباؤاوراتحاد کی ادارہ جاتی ہم آہنگی کیلئے ان چیلنجزسے نمٹنے کیلئےشفاف، قانونی اورتدریجی حکمت عملی بھی ناگزیرہے۔

اب ایران نے بھی اس دفاعی معاہدے میں شمولیت کی خواہش ظاہرکردی ہے۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرمحمدباقرنے پاکستان کے دورے کے دوران کہاکہ اس معاہدے میں ایران کوبھی شامل کیاجاناچاہیے،اوراوآئی سی کونیٹوکی طرزپراسلامی ممالک کی مشترکہ فوج تشکیل دینی چاہیے۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرکی پیشکش اس امرکی عکاسی کرتی ہے کہ مسلم دنیامیں دفاعی خلاکاشعوربڑھ رہاہے اوراوآئی سی کو عسکری ستون کی ضرورت ہے۔ایران کی شمولیت اتحادکو پان اسلامک سیکورٹی بلاک میں بدل سکتی ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرکی پیشکش اس حقیقت کااعتراف ہے کہ امت کوٹکڑوں میں بانٹ کرمحفوظ نہیں رکھاجاسکتااورمشترکہ دفاع اب ناگزیرہوچکاہے۔یہ تجویزاگر آگے بڑھی تواوآئی سی کوعسکری روح مل سکتی ہے۔پاک–سعودی دفاعی معاہدہ اسلامی دنیاکیلئےایک اسٹریٹجک مثال،اجتماعی سلامتی کی سمت پہلاعملی قدم،مستقبل کے مسلم دفاعی اتحادکی بنیادہے۔اس کیلئے ضروری ہے کہ اتحادکوکثیرجہتی بنانے کیلئےمشترکہ عسکری مشقیں اورکمان اسٹرکچرتشکیل دیاجائے اوراو آئی سی کے تحت ایک دفاعی فریم ورک پرغورکیاجائے کیونکہ اجتماعی دفاع محض عسکری بندوبست نہیں بلکہ سیاسی خودمختاری، اخلاقی وقاراورعالمی توازن کاضامن ہوتاہے۔

ایرانی اسپیکر نے زوردیاکہ اسلامی ممالک،خصوصاًپاکستان،فلسطینیوں کے تحفظ اورامدادکیلئےاپنی افواج غزہ بھیجیں،اورکوئی ایسااقدام نہ کیاجائے جواسرائیلی تسلط کو مزید تقویت دے۔غزہ اور کشمیرمیں جاری مظالم نے ثابت کیاکہ محض بیانات اورسفارتی مذمت ناکافی ہیں، اجتماعی دفاعی طاقت عسکری ڈیٹرنس ہی حقیقی ڈیٹرنس فراہم کرسکتی ہے جومظلوم کوبچاسکتی ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں اسلامی دفاعی اتحاد کی اخلاقی حیثیت پرکھی جائے گی اوریہ مسئلہ اسلامی دفاعی اتحادکی اخلاقی بنیادکومضبوط کرتاہے۔محمدباقرنے اس امرکااعتراف کیاکہ اسرائیلی جارحیت کے دوران پاکستان نے جس طرح ایران کاساتھ دیا،وہ ایرانی قوم کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ان کے مطابق پاکستان امتِ مسلمہ کیلئےایک قیمتی اثاثہ ہے۔پاکستان اورایران مشترکہ چیلنجزسے دوچارہیں جن کامقابلہ مل کرکیاجاسکتاہےجبکہ طب،توانائی اوربینکاری سمیت متعددشعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجودہیں۔

ایران کی جانب سے پاکستان کےکردارکااعتراف اس بات کاثبوت ہے کہ اب پاکستان توازن،عقل اورمزاحمت کی علامت بن چکاہے۔پاکستان خطے میں ہی نہیں بلکہ عالمی طورپربھی ایک مضبوط اورمتوازی طاقت کے طورپرتسلیم کیاجاچکاہےاور ایران اب خطے میں پاک سعودی دفاعی تعاون میں کثیر جہتی شراکت کا متمنی ہے۔ایک اوراہم پیش رفت کے تحت ترکیے نے بھی پاک۔سعودی دفاعی اتحادمیں شمولیت کی خواہش ظاہرکردی ہے۔عالمی خبررساں ادارے بلوم برگ کے مطابق، پاکستان،ترکیے اورسعودی عرب پرمشتمل دفاعی اتحادمشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ اس سے آگے تک طاقت کے توازن کو تبدیل کرسکتاہے۔ترکیہ جدیدعسکری ٹیکنالوجی،نیٹوتجربہ،جدیددفاعی صنعت،جغرافیائی رسائی واہمیت کے ساتھ اگراس اتحادمیں شامل ہوتاہے تومشرق وسطیٰ،جنوبی ایشیااوربحیرہ روم میں طاقت کاتوازن یکسربدل سکتاہے۔ترکیے کی شمولیت طاقت کے توازن میں عالمی اسٹریٹجک وزن کے باعث تاریخی تبدیلی فراہم کرسکتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ سیٹواورسینٹوامریکی دفاع کیلئے تشکیل دیئےگئے،یورپ نے نیٹوکے ذریعے خودکومحفوظ کیاتویہ سوال اب ناگزیرہوگیاہے کیااسلامی دنیاکو اپنے دفاع کاحق حاصل نہیں؟کیا اسلامی دنیااپنے اجتماعی دفاع کی حقدارنہیں؟یہ معاہدہ اسی سوال کاعملی جواب ہے۔بلوم برگ کے مطابق،ترکیے کواس دفاعی اتحادمیں شامل کرنے کیلئےتینوں ممالک کے درمیان معاہدہ جلدطے پانے کاامکان ہے۔اگرایساہواتویہ اتحادمحض عسکری بلاک نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی اجتماعی خودداری،خود انحصاری اوردفاعی وحدت کی علامت بن جائے گا۔اگرپاکستان، سعودی عرب،ترکیہ اورایران ادارہ جاتی دفاع،مشترکہ کمان،مشترکہ مشقیں قائم کرلیتے ہیں تویہ اتحادجنگ روکنے کاذریعہ،امن قائم رکھنے کی قوت،امت کے وقارکی ضمانت بن سکتاہے اوریہ اتحاد مستقبل کی سمت اسلامی مشترکہ دفاعی ڈھانچہ کی صورت میں نہ صرف امت مسلمہ کیلئے بلکہ عالمی امن کیلئے بھی قابل قدرکرداراداکرنے کے قابل بنادے گا۔

یہ دفاعی اتحادمحض ریاستی مفادات کامعاہدہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی اعلان ہے—کہ امت جب بیدارہوتی ہے توتاریخ کے رخ بدل دیتی ہے۔اگریہ اتحادبصیرت، اعتدال اوراصولی سیاست کے ساتھ آگے بڑھاتوبعیدنہیں کہ یہ اسلامی دنیاکیلئےایک نئے مستحکم دورِاورخودمختاری کا پیش خیمہ ثابت ہو۔یادرکھیں قومیں ہتھیاروں سے نہیں،کرداراوراتحادسے زندہ رہتی ہیں۔

اسلامی دنیاکواب ردِعمل سے نکل کرپیش بندی مشترکہ دفاع،اسٹریٹجک اتحادکی طرف بڑھناہوگا۔یہ معاہدہ محض دوریاستوں کادفاعی بندوبست نہیں بلکہ اسلامی دنیاکیلئے اجتماعی سلامتی کی بنیاداورمستقبل کے مسلم سیکیورٹی آرکیٹیکچرکاآغازہے۔یادرکھیں طاقت کاحقیقی سرچشمہ اسلحہ نہیں،بلکہ اتحاد،ادارہ سازی اورمشترکہ وژن ہے اوریہ معاہدہ آغاز ہے،انجام نہیں۔قومیں جب اپنی حفاظت کافیصلہ خودکرتی ہیں،توتاریخ ان کے فیصلے کی حفاظت کرتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں