انسانی زندگی کی سب سے گہری اورپائیدارکیفیات میں ایک کیفیت ایسی ہے جسے نہ مکمل طورپربیان کیاجاسکتاہے اورنہ ہی اس سے فرارممکن ہے۔انسان کی زندگی میں کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جوزبان سے ادانہیں ہوتے،مگردل میں مسلسل دستک دیتے رہتے ہیں۔ ایک نامعلوم سی کمی،ایک بے نام سی اداسی،ایک انجاناساکھنچاؤ—جودولت،رشتوں،کامیابیوں اورآسائشوں کے باوجودختم نہیں ہوتا۔ انسان کامیاب ہوتاہے، تعلقات قائم کرتاہے،ہنستاہے،آگے بڑھتاہے —مگراس سب کےباوجوددل کے کسی گوشے میں یہ احساس زندہ رہتا ہے کہ کچھ ہے جوچھن گیاہے،کچھ ہے جوپیچھے رہ گیاہے،اورکچھ ہے جس کی یادروح کو بے چین رکھتی ہے۔
فطری فراق سے روحانی جستجواورطلبِ وصال کے سفرکوسمجھنے کی کوشش کرنے سے قبل روح سے وجودتک کے سفرکوسمجھنا ضروری ہے۔انسان کی ہرروح، جب اس دنیامیں قدم رکھتی ہے،ایک فطری بے چینی کے ساتھ آتی ہے۔یہ بے چینی،جوفراقِ ازل کی یاد کاشعلہ ہے،جوخاموش رہ کرانسان کی نفسیات کے گوشوں میں حرارت پیداکرتاہے۔یہ حرارت اسے اس بات کی یاددلاتی ہے کہ اصل وطن اوراصل محبوب کہیں دورہے، اوراسی کے حصول کیلئےروح کو مسلسل طلب میں رہناہوگا۔
انسان جب اس دنیامیں آنکھ کھولتاہے توبظاہروہ ایک مکمل نظام کے اندرپیداہوتاہے—ماں باپ،خاندان،معاشرہ،زبان،مذہب اورتہذیب۔ اسے سکھایا جاتاہے کہ وہ خودکوانہی نسبتوں کے ذریعے پہچانے،انہی دائروں میں معنی تلاش کرے اورانہی حدودکےاندراپنی خوشی اورغم کوسمجھنے کی کوشش کرے۔مگر ان تمام ظاہری شناختوں کے باوجود،انسان کے باطن میں ایک ایسی کیفیت ہمیشہ موجودرہتی ہے جسے نہ خاندان مٹاسکتا ہے،نہ معاشرہ،نہ علم،نہ دولت،اورنہ ہی اقتدار۔
انسان کے باطن میں بسی ہوئی جدائی ہی دراصل کیفیت فراق کاشعورہے۔یہ شعورابتدامیں واضح نہیں ہوتا۔یہ کسی ایک واقعے،کسی ایک صدمے یاکسی ایک جدائی سے پیدانہیں ہوتا،بلکہ انسان کی فطرت میں پہلے سے موجودہوتاہے۔دنیاکی جدائیاں—کسی عزیزکی موت،کسی محبوب سے بچھڑنا،کسی وطن سے ہجرت—درحقیقت اسی اندرونی فراق کوبیدارکرتی ہیں،پیدانہیں کرتیں۔یوں کہاجاسکتاہے کہ دنیاکی ہرجدائی،اس ایک عظیم جدائی کاعکس ہے جوانسان نے شعوری یالاشعوری طورپرپہلے ہی جھیل رکھی ہے۔
انسان جب کسی سے محبت کرتاہے اورپھراس سے محروم ہوتاہے تواس کادردمحض اس شخص تک محدودنہیں رہتا۔وہ غم غیرمتناسب ہوتاہے،حدسے بڑھا ہوا ، اوربعض اوقات اس تعلق سے بھی بڑامحسوس ہوتاہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں انسان حیران ہوتاہے کہ آخریہ دکھ اتناگہراکیوں ہے؟اس سوال کاجواب یہی ہے کہ یہ دکھ کسی ایک رشتے کانہیں،بلکہ اصل محبوب سے جدائی کاہے،جوکسی ایک چہرے،کسی ایک تعلق یاکسی ایک یادکے پردے میں ظاہرہوجاتاہے۔
یہ ایک ایسااحساس ہے جوبظاہرخاموش رہتاہے،مگرباطن میں مسلسل بولتارہتاہے؛ایک ایسی کمی جوکسی ظاہری سبب کے بغیردل میں بسی رہتی ہے؛ایک انجانی اداسی جومسرتوں کے ہجوم میں بھی اپناوجودبرقرار رکھتی ہے۔یہی احساس دراصل اصل وطن کی یادہے۔وہ وطن جومٹی کانہیں تھا،وہ وطن جو زمین کا کوئی خطہ نہ تھا،وہ گھرجواینٹ اورپتھرسے تعمیرنہیں ہواتھا،وہ قربت جوجسمانی نہیں بلکہ روحانی تھی۔
وہ جوآنکھوں کاتارا،دل کی ٹھنڈک،چہرے کانوراورزندگی کاسہاراہوجوتپتی دھوپ میں سایہ بن جائے،ڈوبتے سمندرمیں کنارہ ہو،تاریک راہوں میں چراغ اورصبحِ صادق کی پہلی روشنی ہو۔جس سے تعلق ایساہوجیسے پھول کا خوشبوسے،سازکانغمے سے،شعرکاشاعرسے،صانع کاصنعت سے،پرندے کاآسمان سے۔ جس کے خیال سے دل کی دھڑکنیں سنبھل جائیں،جس کی موجودگی میں اضطراب سکون میں بدل جائے،جس کاساتھ پہاڑکی مانند مضبوط ہو،جس کاہاتھ تھام کرقدم بے خوف دوڑنے لگیں،ایساتعلق جوسکون بھی ہواورزندگی بھی۔ ……… سایہ بھی ہواورسمت بھی،چراغ بھی ہواورروشنی بھی اورپھراچانک وہ ہاتھ چھوٹ جائے، اورجب ایساتعلق اچانک چھن جائے،دل کاشیشہ کرچی کرچی ہوجائے،قدم لرزنے لگیں،راستے اندھیروں میں ڈوب جائیں، پھول مرجھاجائیں اوردل غم کے گہرے سمندرمیں اترجائےتوانسان پہلی باریہ جانتاہے کہ جدائی محض فاصلہ نہیں، بلکہ ایک داخلی زلزلہ ہے۔محبت کاسب سے بڑاامتحان موت نہیں،بلکہ جدائی ہے۔یہی جدائی ہے،اورجدائی محبت کاسب سے سخت امتحان۔موت ہویازندگی کی کوئی اورآزمائش،محبت کے سب سے کڑے لمحے وہی ہوتے ہیں جب اپنے ان لوگوں سے بچھڑناپڑے جن کے بغیرزندگی کاتصوربھی محال تھا۔
کبھی کوئی خاک میں اترکرجداہوجاتاہے،اورکبھی کوئی زندہ رہ کربھی دوری کے اندھیروں میں کھوجاتاہے لیکن محبت کااصل رشتہ تو جسم سے نہیں،دل سے ہوتا ہےجیسے ایک نادیدہ ڈورایک دل کودوسرے دل سے باندھے رکھتی ہے،اوریہی ڈورمحبت کووقت،فاصلے اورموت کے بعدبھی زندہ رکھتی ہے۔یہی لمحہ فراق کالمحہ ہے اورفراق ہی انسان کی روح کاسب سے گہرازخم ہے۔محبت کاسب سے سخت امتحان موت نہیں بلکہ جدائی ہے۔موت میں تویقین ہوتاہے، موت میں ایک قطعیت ہوتی ہے،مگرجدائی میں انتظار،تجسس،اورامیدکاعذاب شامل ہوتاہے۔امیداوراضطراب کانہ ختم ہونے والاسلسلہ شامل ہوتاہے۔ کبھی کوئی خاک میں اترکرجداہوتاہےاورکوئی زندہ رہ کرفاصلے کی دھندمیں گم ہوجاتاہے۔
لیکن محبت جسم کی محتاج نہیں،یہ دل سے دل تک بندھااک محبت بھرارشتہ جووقت،فاصلہ اورموت کے بعدبھی قائم رہتی ہے۔ قرآن ہمیں بتاتاہے کہ جدائی کوئی نئی بات نہیں،یہ انبیاءکابھی امتحان رہی ہے۔حضرت یعقوبؑ اپنے لختِ جگرحضرت یوسفؑ کی جدائی میں چالیس برس تک اشک باررہے،یہاں تک کہ غم کی شدت سے آنکھوں کی بینائی بھی جاتی رہی:
۔۔۔ اوریعقوبؑ نے ان سے منہ پھیرلیااورکہاہائے افسوس یوسفؑ پراورغم کے سبب ان کی آنکھیں سفیدہوگئیں،مگروہ ضبط کیے ہوئے تھے۔( یوسف:84 )
حضورنبی کریم ﷺنے مکہ سے جدائی کاکرب سہا،وہ شہرجہاں بچپن کی یادیں تھیں،حضرت خدیجہؓ کی رفاقت تھی،اورابوطالب کیکی شفقت،مگررسولِ اکرم ﷺکی شفقت،مگررسولِ اکرم ﷺنے مکہ مکرمہ سے ہجرت کے وقت جس دردکااظہارفرمایا،وہ محض ایک شہرسے جدائی نہ تھی بلکہ یادوں،نسبتوں اور روحانی تعلق سے بچھڑنے کاکرب تھا: اے مکہ!تومجھے کتنامحبوب ہے،اگرمیری قوم مجھے تجھ سے نہ نکالتی،تومیں تیرے سواکہیں اورسکونت اختیارنہ کرتا۔یہ الفاظ محض شہرسے محبت نہیں،بلکہ یادوں،نسبتوں اورروحانی وابستگی کا اظہارتھے۔ (صحیح ابن حبان)
یہ الفاظ انسانی زندگی کے ہرلمحے کیلئےسبق ہیں،جدائی اورمحرومی کے باوجود،وصال کی امیداورطلب ہمیشہ موجود رہتی ہے۔اسی طرح حضرت موسیٰؑ کی والدہ کااپنے جگرکے ٹکڑے شیرخواربچے کوٹوکری میں رکھ کردریاکے سپردکرناصبراورتوکل کی وہ مثال ہے جس پرقرآن خودشاہدہے:
ہم نے موسیٰ کی ماں کووحی کی کہ اسے دودھ پلا،پھرجب خوف ہوتواسے دریامیں ڈال دینا،نہ ڈرنانہ غم کرنا۔ ہم اس کوتمہارے پاس واپس پہنچادیں گے اور(پھر)اُسے پیغمبربنادیں گے۔(القصص:7)
انبیاءکی زندگی بھی طلبِ وصال کاعملی مظاہرہ ہے۔حضرت موسیٰؑ کی والدہ نے بچے کودریامیں چھوڑا،مگریہ عمل خوف یاصدمے کا نتیجہ نہیں تھا،بلکہ اعتماداور وصال کی امیدکاسبق تھا۔یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ فراق کے بعدبھی طلب،اعتماداوروصال کی امیدپیداکرتی ہے۔یہ تمام واقعات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جدائی انسانی تجربے کامحض ایک نفسیاتی پہلونہیں بلکہ ایک گہراروحانی رازہے۔حضرت آدمؑ اورحضرت حواؑبھی برسوں ایک دوسرے سے جدارہے،یہاں تک کہ آدمؑ نے پوری دنیاپیدل چھان ماری تاکہ اپنے محبوب کوپاسکیں۔
ازلی فراق کےشاعرمولاناجلال الدین رومیؒ کے نزدیک انسان کی ساری بے قراری کی جڑ یک ہی ہے،اصل سے جدائی۔مثنوی کاآغاز ہی فراق کی چیخ اورفریاد سے ہوتاہے۔رومیؒ اس فراق کوانسان کی پوری نفسیات کی بنیادقراردیتے ہیں۔ان کے نزدیک انسان کاہرسوال، ہرتلاش اورہربے قراری اسی ایک حقیقت سے جنم لیتی ہے کہ وہ اپنے اصل سے جداہوچکاہے۔رومیؒ نے اس رازکواپنی مثنوی میں نہایت گہرے اورہمہ گیراندازمیں بیان کیاہے۔
جب مولانا جلال الدین رومیؒ اپنے مرشدشمس تبریزؒسے جداہوئےتویہ جدائی انہیں ایساتوڑگئی کہ وہ دنیاسے بے خبر،دیوانہ وارپھرنے لگےاوراسی فراق نے مثنوی کوجنم دیا۔مثنوی کاآغازہی فراق کی صداہے:
بشنو ازنی چون حکایت میکند
ازجداییهاشکایت میکند
بانسری کی سن،وہ کیاکہانی سناتی ہے،وہ جدائیوں کاشکوہ ہے۔
ہر کسی کودورماندازاصل خویش
بازجویدروزگاروصل خویش
جواپنے اصل سے جداہوجائے،وہ ہمیشہ وصال کے دنوں کی تلاش میں رہتاہے۔
کزنیستان تامراببریدهاند
ازنفیرم مردوزن ناليدهاند
جب سے مجھے نیستان(اصل وطن) سے کاٹاگیاہے،میری فریاد پرمردوزن سب روئے ہیں۔
یہ نیستان محض ایک استعارہ نہیں بلکہ عالمِ ارواح کی علامت ہے۔بانسری کاسوزاس روح کی آوازاورسوزہے جواپنے اصل مقام سے کاٹ دی گئی ہو۔جواپنے اصل وطن،اپنے حقیقی محبوب سے جداہوکراس دنیامیں آگئی ہے اوراب ہرلمحہ اسی وصال کی جستجو میں سوز وگدازکے ساتھ نالہ زن ہے۔رومیؒ کے نزدیک انسان اگراپنی بے چینی کوسمجھناچاہتاہے تواسے اپنی جدائی کوسمجھناہوگا،کیونکہ وصال کی طلب فراق کے شعورکے بغیرپیدانہیں ہوتی۔رومی کہتے ہیں،یہ بانسری کی آوازدراصل روح کی وہ آواز،سوزاورفریادہے،جواپنے اصل وطن،اپنے حقیقی محبوب،اوراللہ تعالیٰ سے جدائی کانوحہ ہے۔
قرآن کریم انسان کی اسی باطنی کیفیت کی طرف متوجہ کرتاہے،جب وہ انسان کی تخلیق کومحض جسمانی واقعہ نہیں بلکہ ایک روحانی تاریخ کے تسلسل کے طور پر پیش کرتاہے۔انسان اس دنیامیں محض پیدانہیں ہوا،بلکہ بھیجاگیاہے۔اوربھیجے جانے کاتصورخوداس بات کی دلیل ہے کہ کہیں نہ کہیں سے جدائی واقع ہوئی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن انسان کوبارباراس بات کی یاددہانی کراتاہے جوپہلے معلوم ہو،جوپہلے دیکھی جاچکی ہو،اورجوپہلے تجربے میں آ چکی ہو۔اگرانسان نے کبھی اپنے رب کونہ جاناہوتاتواسے یاددلانے کامفہوم ہی بے معنی ہوجاتا۔یہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ انسان کی روحانی اساس ہے۔ہرروح نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کوپہچانا،اس کی قربت کومحسوس کیااوراسی قربت میں سکون پایا۔اسی لیے جب انسان اس دنیامیں آتاہے تواس کے دل میں ایک ایسی پیاس موجودہوتی ہے جوکسی مادی شے سے نہیں بجھتی۔یہ پیاس دراصل اسی قرب کی پیاس ہے۔دراصل عالمِ ارواح اصل وطن ہے،یہ دنیاہماراپہلا گھرنہیں،اورنہ ہی یہ دنیاہم سب کا اصل وطن ہے۔یہاں ہم مسافرہیں،پردیسی ہیں۔ہم ایک ایسے عالم سے آئے ہیں جہاں نہ بھوک تھی،نہ خوف،نہ غم تھا،نہ خواہش،نہ رشتہ،نہ صلہ، بس ایک ذات تھی،اوراسی کی قربت۔یہ طلب،انسانی زندگی کے تمام تجربات کامحورہے۔دنیاوی تعلقات،رشتے،اورخوشیاں سب اس طلب کی آئینہ دارہیں۔
اگرچہ انسان ان میں سکون تلاش کرتاہے،مگروہ سکون عارضی ہوتاہے۔اصل سکون وہ ہے جواصل محبت سے وصال کے لمحے میں محسوس ہوتاہے۔قرآن کریم انسان کی اس فطرتی طلب کی طرف باربارتوجہ دلاتاہے اوراس حقیقت کو قرآن عہدِ الست کے ذریعے واضح کرتاہے:
اور(یادکیجئے)جب آپ کے رب نے اولادآدم کی پشتوں سے ان کی نسل نکالی اوران کوانہی کی جانوں پرگواہ بنایااورفرمایاکیامیں تمہارا رب نہیں ہوں؟وہ بول اٹھے ہاں،ہم گواہی دیتے ہیں۔یہی وہ عہد ہےجوہماری فطرت میں دفن ہے،(الاعراف:172)اوریہی وہ یادہےجوہمیں چین سے جینے نہیں دیتی۔یہی وہ عہدہے جوانسانی فطرت میں پیوست ہےاوریہی وہ یادہے جودل کے کسی نہ کسی گوشے میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے، چاہے دنیاکی مصروفیات اسے کتناہی دھندلاکیوں نہ دیں۔یہ آیت انسان کی اندرونی جستجوکی بنیادہے۔انسان کی روح یادرکھتی ہے،اوروہ عہدجوازل میں ہواتھا،ہرزندگی کے لمحے میں اس کویاد دلاتاہے۔یہی شعورطلب کی بنیادہے—وہ طلب جوروح کواس کے اصل سے جوڑتی ہے اوردنیاکے زنگ آلودتعلقات سے الگ کرکے روحانی زندگی کی راہ پرگامزن کرتی ہے۔
حضرت سلطان باہوؒکی صوفیانہ صدانے اسی کیفیت کوسادہ مگرنہایت گہرے الفاظ میں بیان کیا:
اساں پردیسی ساڈاوطن دوراڈھا
باھودم دم غم سوایاہو
ہم پردیسی ہیں،ہماراوطن بہت دورہے،اورہرسانس کے ساتھ فراق کاغم بڑھتاجارہاہے۔یہ غم مایوسی کاغم نہیں بلکہ یادکاغم ہے—وہ یاد جوروح کوچین سے بیٹھنے نہیں دیتی،اوروہی یادجوآخرکارانسان کواس کے اصل کی طرف لوٹادیتی ہے۔یہ الفاظ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ انسان دنیامیں پردیسی ہے اور روحانی طلب اسے مسلسل اصل کی طرف کھینچتی ہے۔طلب اوروصال کایہ سلسلہ انسانی زندگی کاسب سے بنیادی تجربہ ہے—یہی انسان کوعلم،محبت،اور معرفت کی راہ پرگامزن کرتاہے۔
طلبِ وصال کاسب سے مؤثرذریعہ ذکرِالٰہی ہے۔ قرآن فرماتاہے: اور(اے پیغمبر)جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو(کہہ دوکہ)میں تو(تمہارے) پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتاہے تومیں اس کی دعاقبول کرتاہوں۔(البقرہ:186)
جب انسان طلب کے ساتھ اپنے رب کی یادمیں ڈوبارہتاہے،توفراق کی کیفیت نرم ہوجاتی ہے اوروصال کے لمحات قریب محسوس ہونے لگتے ہیں۔یہی شعور ہمیں انبیائے کرام علیہم السلام کی زندگیوں میں بھی نظرآتاہے۔حضرت آدمؑ کادنیامیں آکرجنت کی یادمیں تڑپنا،حضرت یعقوبؑ کی آنکھوں کاسفیدہوجانا، حضورنبی کریم ﷺ کامکہ سے وداع کے وقت دردبھرے الفاظ کہنا،یہ سب اسی فراق کے مختلف مظاہرہیں۔ان ہستیوں کاغم دنیاوی نہیں تھا،بلکہ ایک اعلیٰ درجے کاروحانی شعورتھا،جس میں جدائی محض نقصان نہیں بلکہ امتحان بن جاتی ہے۔یہ بات بھی قابلِ غورہے کہ قرآن قربِ حق اوروصال کاراستہ،قربِ حق جدائی کامداوا،جدائی کے ساتھ ساتھ قرب کی بھی خبردیتاہے۔قرآن مجیدانسان کی اس قربت کو اس طرح بیان کرتا ہے:و
ہم نے انسان کوپیداکیااوراس کے دل میں جوخیالات اٹھتے ہیں،ان سے ہم واقف ہیں اورہم اس کی رگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں۔(ق:16)
حضورنبی اکرمﷺنے فرمایا:بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتاہے،لہٰذاتم خوب دعاکیاکرو۔(صحیح مسلم482)
اصل وصال نفس کی موت سے شروع ہوتاہے۔یہ قرب،جوانسان کے جسم وجان سے بھی زیادہ قریب ہے،اس وقت محسوس ہوتاہے جب دل کے تمام پردے اٹھ جاتے ہیں اورروح اپنی محدودیتوں سے آزادہوکر اصل محبوب کے ساتھ وصال حاصل کرتی ہے۔اصل جدائی فاصلے کی نہیں،غفلت کی ہے۔ وصال کاراستہ نفس کی موت اورتطہیرسے گزرتاہے۔صوفیاءکرام نے انسان کووصال کی راہ میں عبادت اورذکرالٰہی کی تعلیم دی۔سجدہ،ذکراورمراقبہ انسان کی روحانی توانائی کوپاک کرتے ہیں،نفس کی خواہشات کوکمزورکرتے ہیں،اوردل کو وصال کیلئےتیار کرتے ہیں۔جیسے درخت کی جڑیں زمین میں مضبوط ہوں اورپانی اسے زندہ رکھے،اسی طرح روح کی جڑیں ذکراور فنامیں مضبوط ہوتی ہیں۔
انسان کے اندرموجودفراق کی کیفیت میں ہم نے دیکھاکہ وہ فراق خودطلب کابیج ہے،جوروحانی ترقی،معرفت،اوروصال کی جستجو کو پیداکرتاہے،جوہمیں یہ سمجھنے کی دعوت دیتاہے کہ فراق ایک جرم یانقصان نہیں،بلکہ روح کی بیداری اورطلب کی پہلی کرن ہے۔ جیسے سورج کی پہلی روشنی اندھیروں میں روشنی پیدا کرتی ہے،اسی طرح طلبِ وصال انسان کی روح کے اندھیروں کومنورکرتی ہے۔ آئیے اب ہم اسی طلب کوعملی زندگی، تصوف اورتزکیہ نفس کے تجربات کے ساتھ مزیدسمجھنے کی کوشش کرتے ہیں،تاکہ فراق کی کیفیت انسان کوعلم،محبت اورروحانی بصیرت کی راہ پرلے جائے۔
انسان کی فطرت میں موجودفراق اورطلب اسے اپنی روحانی منزل کی طرف مائل کرتے ہیں،لیکن یہ مائلگی خودبخودوصال کی ضمانت نہیں۔فراق اورطلب کی شدت کے باوجود،اگرانسان اپنی دنیاوی خواہشات،تکبر،حسد، اورنفس کی ضدسے قابونہ پائے،تویہ طلب بے معنی رہ جاتی ہے۔اسی لیے صوفیاءکرام نے انسان کوپہچاننے،دل کی صفائی کرنے،اوراپنےاندرونی تضادات کودورکرنے کی ضرورت پر زوردیا۔یہ عمل تزکیہ نفس کہلاتا ہے—وہ عمل جوانسان کواپنی حقیقت،اس کی حدود،اوررب کی قربت سے صحیح تعلق قائم کرنے کی طاقت دیتاہے۔قرآن کریم تزکیہ نفس کی اہمیت کواس طرح بیان کرتاہے:
۔۔۔یقیناًوہ کامیاب ہواجس نے اپنے نفس کوپاک کرلیا۔(الاعلیٰ:14)
تزکیہ نفس کامقصدمحض گناہوں سے بچنانہیں،بلکہ نفس کی وہ تمام عادات،خیالات اورخواہشات دورکرناہے جوروح کواصل محبوب سے جدارکھتی ہیں۔ صوفیاءکے نزدیک طلب کاحقیقی مرحلہ فنافی اللہ ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے وجود کی تمام محدودیتوں،خواہشات، اورفکری بندھنوں سے آزادہو کرمحض اللہ تعالیٰ کی ذات میں اپنی بقاپاتاہے۔ ۔۔۔جودنیامیں اندھارہا،وہ آخرت میں بھی اندھاہوگااورراستہ سے بہت دورہٹے گا۔ (الاسراء:72)
یہ فرمائش واضح کرتی ہے کہ روحانی بصیرت کے بغیرانسان فراق کے غم میں پھنس کررہ جاتاہے۔دل کااندھاہونادنیاوی حجاب،غفلت اورنسیان کی وجہ سے ہے۔ یہی حجاب رفع کرنے کاراستہ تزکیہ نفس اورفنافی اللہ ہے۔حضرت ابن عربیؒ فرماتے ہیں کہ طلب کے ساتھ ساتھ تزکیہ اورفناانسان کواس مقام پرلے آتے ہیں جہاں دل کی صفائی کے بعدروح نورِحق میں منورہوجاتی ہے،حجاب وپردے اٹھ جاتے ہیں،انسان اپنے اصل محبوب کے قرب کومحسوس کرتاہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے اندرواحدذات کے جلوے دیکھتاہے اورفراق کاشعوروصال میں بدل جاتاہے۔حضرت مولانا رومؒ نے اسے یوں بیان کیا:
عاشقم باش وعاشق راعاشق کن
تاکی یابی جان رادروصل جانان
محبت میں ڈوب جااوردوسرے کوبھی محبت کاطالب بنادے،تب ہی جان کووصالِ محبوب میں پائے گا۔
فنافی اللہ میں انسان اپنی ذاتی محدودیتوں کوپس پشت ڈال دیتاہے اوراپنی ذات کے ہراظہارکوحقیقتِ وحدت کیلئےقربان کردیتاہے۔اس مقام پردل کی ہر دھڑکن ،ہرسوچ،اورہراحساس محض اللہ کی یاداورحضورمیں ڈوب جاتاہے۔صوفیاءکرام فرماتے ہیں کہ انسان کی روح اور فطری طلب کے اندرایک خالی پن ہمیشہ موجودرہتاہے،جوکسی دنیاوی چیزسے نہیں بھرتا۔حضرت ابن عربیؒ کہتے ہیں:
روح کااصل سکون اس کی پیدائش کے مقام میں ہے،اوروہ مقام وہی ہے جہاں اس نے اللہ کی قربت کامزہ چکھاتھا۔
یہی وہ مقام ہے جس کی جستجوانسان کوفطرتاًرہتی ہے۔طلب،نہ صرف روحانی ترقی کاذریعہ ہے بلکہ انسان کے اخلاق،فکراورمحبت کی گہرائی کوبھی بڑھاتی ہے۔ صوفیاء اسے”موتوقبل ان تموتو”یعنی مرنے سے پہلے مرجانا کہتے ہیں۔یعنی نفس کی موت،تاکہ روح اپنے رب کے قرب کاذائقہ چکھ سکے۔یہ قرب ہمیں یہ بتاتاہے کہ اصل مسئلہ فاصلے کانہیں بلکہ احساس کے زائل ہوجانےکاہے۔انسان اپنے رب سے دورنہیں ہوا،بلکہ اس قرب کے شعورسے غافل ہوگیاہے۔یہی غفلت فراق کودائمی دکھ میں بدل دیتی ہے،اوریہی بیداری اس فراق کو وصال کے سفرکانقطۂ آغازبنادیتی ہے۔
یہ تحریرکسی نئی بات کی دعوت نہیں دیتی،بلکہ ایک پرانی،بھولی بسری یادکوبیدارکرنے کی کوشش ہے۔یہ یاداصل وطن کی ہے،اصل محبوب کی ہے،اوراس ازلی عہد کی ہے جوہم نے اپنے خالق سے کیاتھا۔جو اس مضمون کوپڑھے،وہ محض الفاظ نہ پڑھے بلکہ اپنے اندرجھانکے—کیونکہ یہ داستان کسی ایک فردکی نہیں ، بلکہ ہراس روح کی ہے جواپنے اصل کی طرف لوٹنے کیلئےبے چین ہے۔کیونکہ ہم سب پردیسی ہیں،اور ہماری منزل ایک ہی ہے۔اب واپسی کی تڑپ نے بے چین کررکھاہے۔ہم سب نے اپنے محبوب کودیکھا تھا۔ہم نےاس سے وعدہ کیاتھا۔پھرہمیں جداکردیاگیا،تب سے یہ دنیاجدائی کی سرزمین ہے۔ہرمحبت،ہر آنسو، ہرکمی اسی ایک عظیم فراق کی یادہانی ہے۔
اورہرسچی روح آخرکاراسی محبوب کی طرف لوٹنے کیلئے بے چین رہتی ہے کیونکہ اصل وطن وہی ہے،اوراصل سکون بھی وہیں ہے ۔یہی شعورجب رفتہ رفتہ طلب میں بدلے گا،اورطلب انسان کواس راہ پرلے جائے گی جوفراق سے شروع ہوکروصال پرمنتج ہوتی ہے تو انسان کواپنی اصلی گھرکیلئے مضطرب کردیتی ہے،کیونکہ فراق اگرنہ ہوتووصال کی قدربھی نہیں ہوتی۔
کیونکہ جب تک انسان یہ نہ سمجھے کہ وہ کیوں بے چین ہے،وہ کس چیزسے جداہواہے اوراس کی روح کس چیزکی متلاشی ہے،اس وقت تک نہ عبادت میں ذوق پیداہوتاہے،نہ دعامیں سوز،اورنہ ہی ذکرمیں حلاوت۔یہ یاداصل وطن کی ہے،اصل محبوب کی ہے،اوراس ازلی عہدکی ہے جوہم نے اپنے خالق سے کیاتھا۔ یہ داستان کسی ایک فردکی نہیں،بلکہ ہراس روح کی ہے جواپنے اصل کی طرف لوٹنے کیلئےبے چین ہے۔کیونکہ ہم سب پردیسی ہیں،اورہماری منزل ایک ہی ہے۔





