مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ بارہااس امرکی گواہ رہی ہے کہ یہاں کی زمین باروداورسازشوں کی جولانگاہ بنی رہی۔مشرقِ وسطیٰ ہمیشہ سے عالمی طاقتوں کے کھیل کامیدان رہاہے۔سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کے بعداس خطے کی سرزمین پرکبھی تیل کی خاطرجنگ لڑی گئی،کبھی مذہب کے نام پرتصادم ہوا،اورکبھی عالمی سیاست کے شطرنجی کھلاڑیوں نے یہاں کے عوام کوایندھن بنایا ۔یہ سرزمینِ مشرقِ وسطیٰ، جہاں انبیائے کرام کے قدموں کی خوشبورچی بسی ہے،جہاں بیت المقدس کے مینارآج بھی اذان کی صدابلندکرتے ہیں، اورجہاں امتِ مسلمہ کے شہداءکا خون زمین کی رگوں میں دوڑتاہے،ایک بارپھرظلم وستم کی آندھیوں میں گھری ہوئی ہے۔
آج ہم ایک ایسے سانحے پرگفتگوکیلئےجمع ہیں جس نے امتِ مسلمہ کے دلوں کولرزادیاہے۔دوحہ کی سرزمین،جوامن کی علامت سمجھی جاتی تھی،اسرائیلی بمباری کی زدمیں آگئی ہے،یہ حملہ محض قطرپرنہیں،یہ ہماری غیرت،ہماری عزت،اورہمارے ایمان پر ایک کھلاوارہے۔
اسرائیلی جارحیت کے تازہ باب نے ایک بارپھردنیاکوچونکادیاہے۔دوحہ پرحملہ نہ صرف قطرکیلئےایک براہِ راست چیلنج ہے بلکہ عالمی سیاست کے ایوانوں کیلئےبھی ایک نیاامتحان ہے۔دوحہ پراسرائیلی حملہ محض ایک عسکری کارروائی نہیں؛یہ دراصل ایمان والوں کی غیرت کوللکارنے کی کوشش ہے۔یہ وہی آوازِباطل ہے جوکبھی صلیبی جنگوں کے لشکروں میں گونجی تھی، اوروہی خنجر ہے جوکبھی بغداد کے گلی کوچوں میں چمکاتھا۔آج اسرائیل کے دوحہ پرحملے نے ایک نئی بحث چھیڑدی ہے۔یہ محض قطرکی خود مختاری پرحملہ نہیں بلکہ عالمی سیاست کے تضادات کاآئینہ ہے۔اس پس منظرمیں امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات،قطرکی پالیسی، اورمسلم دنیاکے ردِ عمل کوسمجھناناگزیرہے۔
ٹرمپ نے اسرائیلی حملے پرغصے،ناراضگی اورمایوسی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ وہ اس حملے سے خوش نہیں ہیں لیکن مسلم دنیا ان کے بیان پراعتبار کرنے کوتیارنہیں،اوراس بیان کوشک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔مسلم دنیانےان کے بیان کومحض سفارتی لفاظی سمجھا۔تاریخ گواہ ہے کہ یہ وہی امریکاہے جس نے فلسطینیوں کی نسل کشی پرخاموشی اختیارکی،جب فلسطین کا لہوبہایاگیا،اس وقت بھی امریکی صدورنے مذمت کے جملے کہے مگرپالیسی ہمیشہ اسرائیل اورجارحیت کے حق میں رہی۔یہی جس نے عراق کوکھنڈر بنایا،جس نے افغانستان کودہائیوں تک بارودکی آماجگاہ بنایا۔عوام بخوبی جانتے ہیں کہ ان کے بیانات میں سچائی کم اورمصلحت زیادہ ہوتی ہے۔
ان کے نزدیک یہ مذمتی الفاظ ایک روایتی سفارتی فقرہ ہیں—یہ کھلاتضادآج بھی لوگوں کوبے یقینی کی طرف لے جاتاہے۔تاریخ نے یہ سبق دیاہے کہ امریکی صدورکے مذمتی جملے اکثر الفاظ کی حدتک محدودرہتے ہیں۔فلسطین سے عراق تک کی کہانیوں نے عوام کے اذہان میں یہ یقین راسخ کردیاہے کہ امریکاکے لب ولہجے اورعملی اقدامات میں زمین وآسمان کافرق ہے۔لیکن امتِ مسلمہ کے اذہان سوال کرتے ہیں:کیا یہی امریکانہیں جس نے فلسطین کے لہوپرآنکھیں بندرکھیں؟کیایہی امریکانہیں جس نے عراق کوکھنڈربنایا؟کیایہی امریکانہیں جس نے افغانستان کولہومیں نہلایا؟ہم کیسے ان بیانات پریقین کرلیں جوصدیوں سے محض لفظی فریب ثابت ہوئے ہیں؟عملی اقدامات میں ان کاعکس کم ہی دکھائی دیا۔ عوام سمجھتے ہیں کہ اگر امریکااسرائیل کے معاملے میں واقعی غیرجانبدارہوتاتوآج فلسطین کی سرزمین لہومیں نہ نہائی ہوتی۔
ٹرمپ کا یہ کہنا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے کسی واقعے پر حیران نہیں ہوتے، دراصل ایک تاریخی رویے کی جھلک، سیاسی پردہ پوشی اورمنافقت کااعتراف ہے۔ بظاہربے بسی کااظہارہے، مگردراصل یہ سازش کاپردہ بھی ہوسکتاہے۔یہ جملہ گویااعتراف ہے کہ خطے کے خونریزکھیل پرامریکاکی خاموشی محض لاعلمی نہیں،بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی ہے۔امریکاہمیشہ اسرائیل کی غیرمتوازن جارحیت کونظراندازکرتاآیاہے۔یہ بیان گویااس امرکااعلان ہے کہ اسرائیلی خودسری پرواشنگٹن کی خاموشی کوئی نئی بات نہیں۔یہاں سوال یہ پیداہوتاہے کیایہ واقعی بے بسی ہے یاپھروہی پرانی نظربندحکمتِ عملی جو اسرائیل کوکھلی چھوٹ دیتی ہے؟
امریکاکیلئےاسرائیل کی ہرجارحیت ایک معمول ہے۔سوال یہ ہے کہ اگرامریکاحیران نہیں ہوتاتوپھرکب بیدارہوگا؟یاشایدیہ سکوتِ رضا ہے جواسرائیل کی ہربربریت کوڈھانپ لیتاہے لیکن بین السطور سازش کی وہ مہک ہے جوتاریخ کے اوراق میں بارہامحسوس کی جا چکی ہے۔یہ الفاظ گویااعترافِ جرم بھی ہیں اورچشم پوشی کااقراربھی۔
اسرائیل کی جارحیت نئی نہیں۔1982میں بیروت پربمباری،2006میں لبنان کی اینٹ سے اینٹ بجانا،2008اور2014میں غزہ پرقیامت خیزحملے—یہ سب مظاہرہ اسی تسلسل کا ہے۔اسرائیل نے ہمیشہ اپنی جارحیت سے خطے کولرزایاہے۔غزہ ہویالبنان،شام ہویاایران،سب اس کی بربریت کے گواہ ہیں۔ اسرائیل نے غزہ،لبنان،شام اورایران پربمباری کی؛یہ سب دنیانے دیکھامگرقطرپرحملہ چونکادینے والاتھا۔ قطروہ ملک ہے جہاں امریکاکاسب سے بڑااڈہ العدیدقائم ہے۔یہی تضادثابت کرتاہے کہ اسرائیل اب واشنگٹن کی ہدایات کامحتاج نہیں، بلکہ وہ خودکوخطے کابے لگام مالک سمجھنے لگاہے۔
اسرائیل نے پہلے ہی دنیاکوباورکرادیاہے کہ وہ امریکی سرپرستی میں پورے خطے کواپنی عسکری طاقت کاشکاربناسکتاہے۔ہرطرف بارودکی بارش اس کے اختیار میں ہے مگردوحہ پرحملہ اس لیے غیرمعمولی ہے کہ قطرنہ صرف امریکاکاقریبی اتحادی ہے بلکہ وہاں امریکی فضائی اڈہ بھی موجودہے۔اس سے یہ سوال جنم لیتاہے کہ کیااسرائیل اب واشنگٹن کے اثرسے آزادہوچکا ہے یاپھریہ کھیل امریکی اشارے پرہی کھیلاگیا؟
سوال یہ ہے کہ کیاقطرپرحملے کی جرات امریکی مصلحتوں کے دائرے سے باہردکھائی دیتی ہے؟یہی تضاداس جنگی کھیل کومزید پیچیدہ بناتاہے۔یہ تضادعالمی سیاست کی سب سے بڑی گتھی ہے کہ امریکااپنے ہی اڈے کے سائے میں ہونے والے حملے پرمحض لفظی مذمت پراکتفاکرتاہے۔اے اہلِ اسلام!سوچو! اگر ایک ایساملک جس کی سرزمین پرامریکی افواج محفوظ نہیں،تو پھرکون محفوظ ہے،اس پرکیسے یقین کیاجائے کہ اب اسرائیل امریکا کوبھی خاطرمیں نہیں لاتا ؟
قطر کے حکمران خاندان نے ہمیشہ واشنگٹن کے ساتھ قریبی تعلقات رکھے ہیں۔العدیداڈہ امریکی فضائیہ کاسب سے بڑامرکزہے۔اب جب کہ انہی فضاؤں پراسرائیلی بمباری ہوئی ہے تو قطرکی قیادت کاسوال بجاہے کہ امریکااپنے اتحادی کی سلامتی کی ضمانت کیوں نہ دے سکا؟قطراب براہِ راست امریکاکے سامنے سوالیہ نشان بن کرکھڑاہے۔جب ان کے ملک کی فضاؤں میں امریکی طیارے موجودہیں تو پھراسرائیلی بم کیسے گرسکتے ہیں؟وہ کیسے خاموش رہ سکتاہے جبکہ اس کے اپنے وطن میں امریکی افواج کے طیارے پروازکرتے ہیں اورانہی فضاؤں کواسرائیلی جارحیت نے روندڈالاہے؟
کیسے ممکن ہے کہ جس سرزمین سے امریکی طیارے پرواز کرتے ہیں،اسی سرزمین پراسرائیلی بمباری ہواورواشنگٹن اس پرخاموش رہے؟یہ سوال محض ایک ریاستی شکایت نہیں،بلکہ واشنگٹن کے کردارپرایک کھلامقدمہ ہے۔یہ سوال نہ صرف قطرکاہے بلکہ پوری مسلم دنیاکاہے۔یہ سوال محض سفارتی نہیں بلکہ اعتماداورعزت کابھی ہے۔یہ سوال محض قطرکانہیں، بلکہ عالمی سیاست کے ایوانوں پر ایک کڑاامتحان ہے۔
قطری وزیراعظم اورامیردونوں نے اسرائیلی حملے کومجرمانہ لاپرواہی اورریاستی دہشتگردی قراردیا۔یہ اعلان محض غصے کانہیں بلکہ عالمی قانون کی عدالت میں ایک مضبوط گواہی ہے کہ اسرائیل کی کارروائیاں محض عسکری حملے نہیں بلکہ ریاستی سطح پر دہشتگردی کی بدترین مثال ہیں۔یہ الفاظ بین الاقوامی قانون کے تناظرمیں غیرمعمولی اہمیت رکھتے ہیں۔یادرہے کہ1970 کی دہائی میں جب عراق اورکویت کے مابین تنازعہ ہوا،تب بھی ریاستی جارحیت کاتصورعالمی سطح پرابھراتھا۔آج قطراسی زبان میں بات کررہا ہے،جس سے واضح ہوتاہے کہ اسرائیل کی حرکت محض ایک جنگی اقدام نہیں بلکہ عالمی نظام کے خلاف بغاوت ہے۔
قطرکے وزیراعظم کایہ اعلان محض غصے کااظہارنہیں بلکہ ایک عالمی اصول کی تصدیق ہے۔تاریخ یاددلاتی ہے کہ جب1990میں کویت پرحملہ ہواتھاتو دنیانے اسے ریاستی جارحیت کہا۔آج قطراسی اصول کے تحت اسرائیل کے خلاف کھڑاہے۔قطرکے امیرنے اسرائیلی اقدام کومجرمانہ کارروائی اورریاستی دہشت گردی قراردیا۔یہ الفاظ ہمیں یاددلاتے ہیں کہ چھوٹے ملک بھی جب غیرت سے بولتے ہیں توتاریخ میں اپنی جگہ بناتے ہیں۔یہ وہی لہجہ ہے جوکبھی صلاح الدین ایوبی نے کہاتھا:ہم بیت المقدس کوآزادکئے بغیردم نہ لیں گے۔
اسرائیلی حملے کےبعدامیرِقطرنے صدرٹرمپ سے رابطہ کیا۔ٹرمپ نے قطرکے ساتھ یکجہتی اوراس کی خودمختاری کی حمایت کا اعلان کیاتاہم امیرِقطرنے اسرائیلی حملے کومجرمانہ لاپرواہی قرار دیتے ہوئے کہاکہ ان کا ملک اپنی حفاظت،اپنی سلامتی کے دفاع کیلئےتمام اقدامات کرے گا۔یہ الفاظ ایک چھوٹے مگرغیرت مندملک کی خودداری کاآئینہ اورقومی غیرت کامظہرہیں۔یہ وہی لہجہ ہے جوکبھی صلاح الدین ایوبی کے ہونٹوں پرتھا،چھوٹے وسائل مگربڑی غیرت،لیکن تاریخ کاتجربہ یہ بتاتاہے کہ امریکی مذمت اکثر لفظوں کے ہنگامے تک محدودرہتی ہے،ان کے پیچھے عملی اقدام کی کمی ہوتی ہے۔
حماس نے اس حملے کو اپنی قیادت کے خلاف ناکام منصوبہ قراردیا۔چھ جانوں کی قربانی نے اس تنظیم کی جدوجہدکومزیدجوازبخشا۔ حماس نے کہاکہ ان کی قیادت محفوظ رہی،اوریہ اسرائیلی منصوبے کی ناکامی ہے۔تاریخ کے آئینے میں یہ فلسطینی مزاحمت کی نئی زندگی اورفلسطینی مزاحمت کی حیاتِ جاوداں کاپتہ بھی دیتی ہے؛جس طرح احدکے میدان میں زخمی مگرسرخرو مسلمان کھڑے رہے، ویسے ہی آج غزہ اوردوحہ کی فضاؤں میں مزاحمت زندہ ہے۔۔یہ شہداءہماری آنکھوں کانورہیں۔ ان کے لہوسے امت کی غیرت کوجِلا ملتی ہے۔ یادرکھو!رسول اللہﷺنے فرمایا:مومن،مومن کیلئےایک عمارت کی طرح ہے،جس کا ہرحصہ دوسرے کوسہارادیتاہے۔
آج سوال یہ ہے کیاہم اپنے شہداءکے سہاراہیں یامحض خاموش تماشائی؟
دوسری طرف اردن نے وضاحت دی کہ اسرائیلی طیاروں نے ان کی فضائی حدوداستعمال نہیں کیں۔ہرملک اپنے آپ کواس آگ سے دوررکھنے اورصفائی پیش کرنے کی کوشش کررہاہے تاکہ اس آگ کی لپیٹ سے بچ سکے جس کی لپٹیں پورے خطے کواپنی گرفت میں لینے کوہے۔یہ مناظرہمیں1967اور 1990ء کی کی خلیجی جنگ کی یادتازہ کرتی ہیں،جب ہرملک کواپنی سرحدوں کے بارے میں عالمی دباؤکاسامناتھا،جب ہرعرب ریاست اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کرتی رہی اورنتیجہ بیت المقدس کے کھوجانے کی صورت میں نکلا۔
ڈیموکریٹ سینیٹرکرس کونزکی حیرت معنی خیزہے کہ اسرائیل نے اپنے سب سے بڑے اتحادی امریکاکواطلاع دینابھی گوارانہ کیا۔ گویایہ پیغام واشنگٹن کوبھی ہے کہ اب تل ابیب اپنی مرضی کامالک بن چکاہے۔یہ روش اس اتحادمیں دراڑوں کاپتہ دیتی ہے۔یہ بات امریکی اقتدارکی کمزوری اوراسرائیلی خود سری کاجہاں اعلان ہے وہاں یہ صورتحال امریکااوراسرائیل کے تعلقات میں ایک نیارخ ظاہرکرتی ہے۔یہ رویہ اس امرکی علامت ہے کہ اسرائیل اب”جونیئرپارٹنر”نہیں رہابلکہ”خود سراورخودمختار”کھلاڑی کی طرح کھیل رہاہے۔گویااب اسرائیل اپنے سب سے بڑے حلیف کوبھی اطلاع دینے کا پابندنہیں سمجھتا۔یہ رویہ اس اتحادمیں خفیہ دراڑوں کاپتہ دیتا ہے۔۔
یہ صورتحال عراق جنگ کے دورسے مختلف ہے جب اسرائیل امریکی حکمتِ عملی کاحصہ تھا۔آج تل ابیب بظاہراپنی راہ پرچل رہا ہے،جوواشنگٹن کیلئےایک نیاچیلنج ہے۔یہ وہی لمحہ ہے جب طاقتورسامراج کے پاؤں ڈگمگاتے ہیں۔یہ وہی کیفیت ہے جورومی سلطنت کواپنی آخری سانسوں میں لاحق ہوئی تھی،جب اس کے اتحادی اس کی مرضی کے بغیرفیصلے کرنے لگے تھے اوراس کے اتحادی اس کی پرواہ کرناچھوڑگئے تھے۔یہی وہ لمحات ہیں جوہمیں رومی سلطنت کے زوال میں دکھائی دیاتھا۔
عرب لیگ نے اسرائیلی حملے کوبین الاقوامی امن کیلئےخطرہ قراردیامگرتاریخ کی گواہی اورماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ عرب لیگ کے بیانات اکثر الفاظ کے ہجوم تک محدودرہتے ہیں لیکن اے اہلِ اسلام!کیاہم نہیں جانتے کہ ان کے بیانات اکثرکاغذی ہوتے ہیں؟ عملی قوت کاعکس ان میں کم اورنایاب ہی دکھائی دیتاہے۔1967اور1973ءکی عرب اسرائیل جنگ کے بعدسے آج تک عرب اتحادکی کمزوری کھل کر سامنے آچکی ہے جب ہرعرب ملک نے دوسروں پرذمہ داری ڈالی اورنتیجہ یہ نکلاکہ بیت المقدس ہاتھ سے نکل گیا۔ یہی کمزوری اسرائیل کومزید جری بناتی ہے تاہم یہ بیانات اورمذمت کم ازکم اس بات کااعلان ہیں کہ اسرائیل کی جارحیت صرف قطریافلسطین کا نہیں بلکہ پورے خطے کامسئلہ اور سلامتی کاہے۔
اس حوالے سے اگرتاریخی تناظر کے تسلسل پرنگاہ دوڑائیں تواس حقیقت سے بھی انکارنہیں کیاجاسکتاکہ1948ءسے اب تک ہرجنگ میں اسرائیل کو امریکی پشت پناہی حاصل رہی۔2006ء،لبنان میں اسرائیلی جارحیت کے دوران امریکی انتظامیہ نے کھلے عام اسرائیل کومزید وقت دینے کامطالبہ کیا تاکہ وہ حزب اللہ کوکمزورکرسکے۔
1991ءعراق وکویت کی جنگ نے ثابت کیا کہ امریکی اڈوں کی موجودگی کے باوجودمسلم ممالک اپنی خودمختاری کی ضمانت نہیں لے سکتے۔ان حملوں میں بھی دہشتگردی کے خلاف جنگ کانعرہ استعمال ہوا،مسلم ممالک کی تباہی کا تماشاسب نے دیکھا،مگرحقیقت میں افغانستان عراق پرامریکی حملے مسلم دنیاکے وسائل پر قبضے کی جنگ تھی۔آج قطرپرحملہ انہی تاریخی دھاگوں میں پرویا ہوا ایک نیاموتی اورقطر پر حملہ انہی زنجیروں کاایک نیاکڑاہے۔
نتیجتًا سوالات کاانبارہمارے سامنے کھڑاہے؟دوحہ پراسرائیلی حملہ ایک نئے عہدکی نشانی ہے۔کیاامریکاواقعی بے بس ہے یایہ سب ایک طے شدہ کھیل کاحصہ ہے؟کیاقطراپنی خودمختاری کے دفاع میں کوئی عملی قدم اٹھاسکے گایاالفاظ کی دنیاتک محدودرہے گا؟کیا مسلم دنیاکبھی متحدہوکراسرائیلی جارحیت کاجواب دے سکے گی؟یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب آنے والے وقت دے گافی الحال حقیقت یہی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین ایک بارپھرتاریخ کے دھواں دھارباب کامرکزبن چکی ہے۔
یہ پوراواقعہ مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی منظرنامے میں ایک نئے باب کی تمہیدہے۔ٹرمپ کی ناراضگی،اسرائیل کی خودسری،قطرکی غیرت اورعرب لیگ کی مذمت—سب مل کر اس خطے کی اس کہانی کودہرارہے ہیں جوصدیوں سے خون وآگ کے استعاروں میں لکھی جارہی ہے۔سوال یہ نہیں کہ کون کیاکہہ رہاہے؛اصل سوال یہ ہے کہ عمل کی دنیامیں کون ساکردارابھرے گا۔تاریخ فیصلہ کرے گی کہ یہ محض الفاظ کاغبارتھایاآنے والے کل کے طوفان کاپیش خیمہ۔
دوحہ پر اسرائیلی حملہ محض ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی افق پرایک نیاطوفان ہے۔ٹرمپ کی ناراضگی،اسرائیل کی خودسری، قطر کی غیرت،اورعرب لیگ کی قراردادیں سب ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ خطے میں ایک نیا بحران جنم لے رہاہے۔سوال یہ ہے کہ آیایہ محض الفاظ کاغبارہے یاتاریخ کے اوراق پرایک نیاخونچکاں باب لکھنے کی تمہید۔
اے امتِ مسلمہ!ایمان کی للکاراورتاریخ کی یہ صدا دراصل بیداری کے وقت کامطالبہ لئے ہمیں جھنجھوڑرہی ہے۔دوحہ کے آسمان پر گرنے والے یہ بم صرف قطرکے نہیں، بلکہ پوری امت کے قلب پرگررہے ہیں۔یادرکھو!قرآن ہمیں کہتاہے:اللہ کی رسی کومضبوطی سے تھام لواورتفرقہ نہ ڈالو۔آج اگرہم تفرقہ کاشکاررہے ،تو دوحہ کے بعدمکہ ومدینہ بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔یہ حملہ ہمیں پکاررہاہے کہ کیاہم دوبارہ اپنی صفوں کودرست کرسکتے ہیں؟کیاہم اپنے بیت المقدس کوآزادکراسکتے ہیں؟کیاہم اپنے شہداء کے لہوکاقرض اتارسکتے ہیں؟
اے امتِ محمدﷺیہ وقت غفلت کانہیں،بیداری کاہے۔دوحہ پرحملہ ہمیں یاددلارہاہے کہ ہمارا دشمن ایک ہے اورہماراایمان بھی ایک ہے۔ اگرآج ہم نے غفلت کی توتاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی لیکن اگرہم ایمان کے پرچم تلے جمع ہوگئے،تودنیادیکھے گی کہ وہی امت جو بدروخیبرکے میدانوں میں سرخروہوئی تھی،آج بھی زندہ ہے،جاویداں ہے،اوراللہ کے نام پرقربان ہونے کیلئےتیارہے۔
آج تاریخ ایک بار پھرہمیں جھنجھوڑرہی ہے۔اے امتِ مسلمہ!کیاتمہیں اپنے شہداءکالہویادنہیں؟کیاتم نے بدرواحد کی صدائیں فراموش کر دی ہیں؟کیا تمہاری غیرت سوگئی ہے؟یادرکھو!اگرہم نے اپنی صفیں درست نہ کیں،توتاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی لیکن اگرہم نے اپنے ایمان کے پرچم تلے جمع ہوکرآوازبلندکی،تودنیاایک بارپھردیکھے گی کہ بدروخیبرکی امت آج بھی زندہ ہے۔





