تاریخ کے صفحات پربعض اوقات برف پوش علاقے وہ صدائیں جنم دیتے ہیں جوآگ کے الاؤسے بھی زیادہ گرم ہوتی ہیں۔تاریخ کے افق پرجب بھی ظلم کی دھوپ اپنی تمازت سے انسانیت کوجھلسانے لگتی ہے،کہیں نہ کہیں بغاوت کاایک بادل اُٹھتاہے۔برصغیرکی مٹی نے بھی ایسی ہی صداؤں کوبارہاجنم دیا—کبھی وہ گاندھی کے عدم تشدد کی صورت تھی،کبھی بھگت سنگھ کے انقلابی نعرے کی، کبھی خالصتان کی فکری للکارکی اورکبھی ناگالینڈ،منی پوراوردیگردرجن بھران مزاحمتی تحریکوں کی جوسارے بھارت میں ہندو سامراج سے جان چھڑانے کیلئے چل رہی ہیں۔آج وہی صداایک نئے نام کے ساتھ برف زاروں میں گونج رہی ہے۔
لداخ—وہ خطہ جوہمالیہ کی برفیلی چوٹیاں اوڑھے بیٹھاتھا—اب احتجاج،بغاوت اورخودی کی بیداری کااستعارہ بن چکاہے۔یہ وہی لداخ ہے جہاں کبھی قوم پرستی کی نیندکے خواب دیکھے گئے تھے،مگرآج اس نیندکی تعبیریں مودیکے ڈراؤنے خواب کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔یہاں کے پہاڑاب گونگے نہیں رہے،وہ دہلی کی سیاست کے خلاف صدائیں بن چکے ہیں۔آرٹیکل370کی منسوخی نے جس آئینی شاخ کوکاٹاتھا،اب وہاں پہلے سے مضبوط نئی جڑیں پھوٹنے لگی ہیں مگر لداخ کی بغاوت اکیلی نہیں۔بھارت کی فضاؤں میں آج کم ازکم دودرجن تحریکیں اسی صداکودہرارہی ہیں۔
مشرق میں ناگالینڈ،میگھالیہ،میزورم اورمنی پورکے قبائل دہلی سے خودمختاری مانگ رہے ہیں۔جنوبی ہندمیں تامل ناڈوکے نظریاتی گروہ اورآندھراپردیش کے علاقائی اتحادوفاقی اختیارات کی نئی تعبیرچاہتے ہیں۔پنجاب میں خالصتانی تحریکوں کی بازگشت دنیا بھر میں پھرزندہ ہے۔تمام مغربی ممالک اور امریکا سمیت کینیڈا میں خالصتان کی آزادی کے حق میں سکھ برادری ریفررنڈم میں اپنا بارہا فیصلہ دے چکی ہے۔کیرالہ،آسام،چھتیس گڑھ اورجھارکھنڈ میں مقامی آزادی کے نعرے دبے لفظوں میں نہیں،کھلے عام سنائی دے رہے ہیں۔دلت تحریکیں،کسان یونینز اورطلبہ محاذ—سب ایک نئے اجتماعی اضطراب کی علامت بن چکے ہیں۔
یہ سب محض سیاسی اختلافات نہیں بلکہ ہندوستان کے اندرونی ضمیرکی بغاوتیں ہیں—وہ ضمیرجومودی سرکارکے مصنوعی اتحاد کے پردے کوچیررہاہے۔ مودی کی حکومت اب اُس مقام پرآچکی ہے جہاں اس کے وعدوں کاجادوپاش پاش ہوچکاہے،اورجب جادو ٹوٹ جائے توجابراپنی شکست کوچھپانے کیلئے دشمن تراشتاہے۔اسی لیے آج دہلی کی زبان پرپاکستان کانام ہے،اسی لیے سرحدوں پرجنگ کی دہمکی دی جارہی ہے،تاکہ اندرکے شورکودبایاجاسکےلیکن تاریخ کے کان بہت تیزہوتے ہیں۔وہ سن رہی ہے کہ ہندوستان کے اندرونِ خاک اب آزادی کی نئی داستانیں لکھی جارہی ہیں اورلداخ اُن میں سب سے تازہ اورخطرناک باب ہے۔
چین کی سرحد کے دامن میں واقع لداخ،جہاں صدیوں سے خاموش برفانی فضادلوں کی سردمہری کی تصویربنی رہی،آج یکایک آگ بن گئی ہے۔خاموش برف زاروں میں اچانک احتجاج کی وہ لہراُٹھی جس نے چارجانوں کی قربانی سے تاریخ کانیاباب لکھ دیا۔وہی برف پگھل کراب احتجاج کی صورت میں بہنے لگی ہے۔چین کی سرحد کے قریب،یہ مظاہرے محض سیاسی ردِعمل نہیں بلکہ محکومی کے خلاف انسانی غیرت کی فطری بغاوت ہیں۔چارجانوں کی قربانی نے اس برف زارکولہوکی گرمی عطاکردی۔ہندوستانی افواج کی گولیوں نے نہ صرف جسموں کوچھیدابلکہ ریاستی جبرکی نقاب بھی چاک کردی۔
آج کی یہ آگ اوریہ اضطراب دراصل اُس چنگاری کاتسلسل ہے جو2019میں دہلی کی پارلیمان کے ایوانوں میں بھڑکی تھی۔جب پارلیمان نے آرٹیکل 370 کاجنازہ اٹھایا۔آرٹیکل370کی تنسیخ کوجسے’مودی کاماسٹراسٹروک‘کہاگیا،وہی اب ریاستی بدن پرزخم بن کر اُبھررہی ہے اوروہ آج’ریاستی زخم‘ بن کرلہوبن گیاہے۔سیاست کی وہ بازی جس میں آئینی حقوق کومہرے بنایاگیا، آج انسانی ضمیرکی عدالت میں زیرِسماعت ہے۔
پانچ برس سے وادی کشمیرظلم کی سیاہ رات میں ڈوبی ہوئی ہے،پندرہ ہزارکشمیری نوجوانوں کی گمشدگی نے اس خطے کے دل میں خاموش انتقام کی لوجلادی ہے۔کشمیرکے مظلوموں کے بعداب لداخ کی خاموش فضاؤں نے زبان پائی ہےمگرلداخ میں یہ طوفان دبے دبے قدموں سے بغاوت کی شکل اختیارکر چکی ہے۔پُرسکوت پہاڑوں کے نیچے بے چین دلوں کی دھڑکنیں سنائی نہ دیتی تھیں،مگراب وہ صدائے احتجاج بن کرگونج رہی ہیں۔پندرہ ہزارنوجوانوں کی گمشدگی صرف اعدادنہیں،بلکہ ضمیرکی قبرپرکھڑی شمشان کی مشعلیں ہیں۔
پانچ اگست2019کادن ہندوستانی جمہوریت کے صفحات پرایک سیاہ ترین اوربدبودارسنگِ میل کے طورپردرج ہوچکاہے—جموں و کشمیرکودوحصوں میں بانٹ کردہلی نے گویااُس تاریخ کودولخت کردیاجوکبھی ایک وحدت تھی۔صرف جموں وکشمیرکوہی نہیں بانٹاگیا بلکہ لداخ کواسمبلی سے محروم کردیاگیا۔ لداخ کواسمبلی سے محروم ایک یونین ٹیریٹری بناناایساہی تھاجیسے کسی بدن سے روح نکال کراُس پرنظم ونسق کے لبادے ڈال دیے جائیں۔یہ محض انتظامی تقسیم نہیں تھی،بلکہ ایک تہذیبی شناخت کی توڑپھوڑتھی۔
لداخ کے لوگوں کی فریادیہ نہیں کہ انہیں کوئی نیاتاج دیاجائے،بلکہ یہ ہے کہ ان کی شناخت کی بقاکی ضمانت دی جائے۔وہ شیڈول6 کے سایے میں اپنے ماحول،اپنی ثقافت اوراپنی زمین اوراپنی فضاکی امان چاہتے ہیں۔یہ مطالبہ دراصل بقاکی پکارہے،نہ کہ بغاوت کی۔ یہ مطالبہ دراصل جینے کاحق ہے،سیاست کا نہیں لیکن مودی کے ظالمانہ رویہ نے لداخ کے عوام کواپنی بنیادی زندگی کے حقوق کی پہچان کروادی ہے اوروہ اب اس ظالمانہ الحاق سے جان چھراناچاہتے ہیں۔
سونم وانگچُک—ایک استاد،ایک مفکر،ایک فطرت دوست—اب تحریک کے محوربن چکے ہیں۔وہ محض ایک ماہرماحولیات نہیں، بلکہ ضمیر کی آوازہیں۔ان کی قیادت میں لیہہ کے بودھ اورکرگل کے مسلمان ایک ہی صف میں کھڑے ہیں،گویامذہب کی دیواروں کے پارانسانیت نے ہاتھ ملالیاہو۔لداخ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ انسان نے مذہب پرسبقت حاصل کی۔یہ اتحادتاریخ کے جبرکے مقابلے میں فطرت کی زبان میں لکھی گئی نظم ہے۔
جب طاقت نے سنی ان سنی کی توبھوک نے زبان پائی۔جب بات دلیل سے نہ بنی تووانگچُک نے بھوک سے احتجاج کیا۔وانگچُک کی بھوک ہڑتال دراصل انسانی وقارکی علامت تھی۔حکومت کے مذاکرات محض سیاسی چال ثابت ہوئے۔دہلی تک کامارچ اورحکومت کے بے حاصل مذاکرات یہ ثابت کرتے ہیں کہ طاقت جب سننے سے انکارکردے توخاموشی خودایک للکاربن جاتی ہے۔یادرکھیں کہ خاموشی احتجاجی آوازوں کی مرشدہے اورتحریربھی خاموشی کی روح اور زبان ہے۔خاموشی اورسچائی کی بھوک بجھائی نہیں جا سکتی،حکومت کی خریدارانہ سیاست اُس ضمیرکونہیں خریدسکی جوبرف کے پتھروں میں بھی گرم ابلتا خون رکھتاہے۔
ستمبرکی سردراتوں میں شہید پارک کے روزے دارمجاہدین نے بھوک کواحتجاج کااستعارہ بنادیا۔23ستمبرکوجب دوبزرگ بھوک سے نڈھال،گرکربے ہوش ہوگئے،یہی لمحہ عوامی صبرکی آخری حد تھا۔بھوک کااحتجاج اب عوامی شعورکی آگ میں ڈھل گیاتودلوں میں جو جذبہ تھا،وہ آتش فشاں بن گیا۔انسان جب اپنے وجودکےانکارپرمجبورہو،توبھوک بھی انقلاب کاہتھیاربن جاتی ہے۔
24ستمبرکو لیہہ کی گلیوں میں نوجوانوں کے قدم گویاتاریخ کی چاپ بن گئے۔عوام نے مارچ کیاتوریاست نے جواب گولی سے دیا۔ہر گولی دراصل ایمان، انصاف اوروعدے پرچلائی گئی ایک گولی تھی۔گولیاں چلیں،خون بہا،اورسرکاری عمارتیں اُن آنسوؤں کی قبریں بن گئیں جنہیں ریاست نے کبھی پونچھنے کی زحمت نہیں کی۔ہرگولی ایک وعدے کے ٹوٹنے کی آوازتھی۔چار زندگیاں اپنے جائزمطالبات کیلئے خاک میں مل کرقربان ہوگئیں—ایک سابق سپاہی بھی اُن میں تھا،جوکبھی اسی پرچم کامحافظ تھا اورجس نے شاید کبھی اسی ترنگے کیلئےجان دینے سے بھی گریزنہیں کیاتھامگراب وہ پرچم اُس کے خون سے ترہوگیا۔وانگچُک کی گرفتاری نے گویاانصاف کوزنجیرپہنادی۔وانگچُک کی گرفتاری نے انصاف کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔ریاست کی سلاخیں جب اہلِ فکرکو قیدکریں،تودیواروں سے صدائیں اٹھتی ہیں،خاموشی شور بن جاتی ہے۔
لداخ کے بامِ فلک پرکرفیوکاسناٹاچھاگیا۔موبائل،انٹرنیٹ،حتیٰ کہ گفتگوکے دھاگے تک کاٹ دیے گئے۔کرفیونے زبانیں بندکیں،مگردلوں کی صدائیں گونج بن گئیں،مگردلوں کی موجوں اور روشن جذبوں کوکون روک سکتاہے؟ریاست نے جسم قیدکیے،مگرروح آزادکر دی۔ عوام کااضطراب اب فضامیں پھیل چکاہے،اورپہاڑبھی اس خاموش چیخ کے گواہ ہیں۔
چیرین دورجے کی پکارمیں آئینی روح بولتی ہے،چیرین دورجے لاکرُک کی زبان میں جوآگ ہے،وہ مایوسی نہیں،ایمان ہے۔وہ کہتا ہے:ہم جرم نہیں کر رہے ،وعدہ یاددلارہے ہیں،وعدہ خلافی کے جواب میں گولی نہیں،انصاف چاہیے۔یہ صداگویاآئین کے بطن سے اٹھتی ہے۔وہ حکومت سے نہیں،انصاف سے مخاطب ہیں—کہ وعدے پورے کرو،ہم صرف وعدے مانگتے ہیں،رعایتیں نہیں۔
6 اکتوبرکے مذاکرات کے آغازسے پہلے ہی چارافرادموت کے گھاٹ اترگئے۔جب ظلم کے بعدمذاکرات کی میزبچھائی جاتی ہے تو الفاظ محض رسمی تعزیت بن جاتے ہیں۔ظلم کے بعد مذاکرات،انصاف نہیں،تمسخرہوتاہے۔لداخ کے رہنماؤں نے بائیکاٹ کرکے عزتِ نفس کاپرچم بلندرکھ کربتادیاکہ عزت کی سیاست سودے بازی سے بلندہے۔نوجوان اب دہلی کے وعدوں پرنہیں،اپنی خودی کے عزم پریقین رکھتے ہیں۔لداخ کے نوجوانوں کی آنکھوں میں اب وہ خواب نہیں جودہلی نے دکھائے تھے،بلکہ وہ عزم ہے جوخودان کے دل نے تراشا ہے۔وہ سونم وانگچُک کوایک رہنمانہیں،اپنے وجودکی علامت سمجھتے ہیں۔ وانگچُک اُن کیلئےایک تحریک نہیں بلکہ ایک آئینہ ہیں۔یہی نوجوان تحریک کے حقیقی ترجمان ہیں—زندہ ضمیرکی دھڑکن۔
جب مطالبات آئینی اورقانونی ہوں،اورجواب میں گولی ملے،توسوال یہ نہیں رہتاکہ حکومت ظالم ہے یانہیں بلکہ آئین خودسوال بن جاتا ہے کہ آئین کس کاہے؟عوام کایااقتدارکا؟یہی لداخ کی داستان ہے۔جوحکومت آئین کاسہارالے کرظلم کرے،وہ دراصل آئین کی روح سے بغاوت کرتی ہے۔لداخ کے نوجوان اپنی زمین،اپنے آکاش،اپنے دریاکے محافظ ہیں۔ان کامطالبہ محض قانون نہیں بلکہ فطرت کے حق کی بازگشت ہے۔وہ کہتے ہیں:جوہوا،جوپانی، جو مٹی ہماری ہے،اُس پرغیرکاحکم کیسے چلے؟ان کانعرہ:”ہماراآسمان،ہماراقانون۔”یہی وہ صدائے خودی ہے جسے دہلی سننانہیں چاہتی۔یہی شیڈول6کافلسفہ ہے—خودمختاری نہیں،خودی کی حفاظت۔
لداخ کایہ خوف بجاہے کہ سرمایہ داری کاسیلاب اُس کی تہذیب اورلداخ کے پہاڑوں کوبہا نہ لے جائے۔تین لاکھ کی آبادی اگرلالچ کی سیاست میں پِس گئی تویہ پہاڑانسانیت کی قبریں بن جائیں گے۔یہ خطہ اگرکارخانوں کی دوڑمیں پِس گیاتوفطرت کا ایک حسین ورق مٹ جائے گالہٰذااُن کی پکاردراصل زمین کے حق میں زمین کی آوازہے۔
دیسکِت انگموکی بات میں عورت کی فطری بصیرت جھلکتی ہے۔وہ کہتی ہیں،“ہم تشددکے نہیں،سچ کے طلبگارہیں۔ہم عدالتی تحقیقات چاہتے ہیں تاکہ سچ سامنے آئے۔”یہ جملہ لداخ کے ماتھے پرنسائی وقارکاتاج ہے،یہ جملہ محض مطالبہ نہیں،تہذیب کی فتح ہے—کہ احتجاج کے بیچ بھی اُنہوں نے عدم تشدد کاچراغ روشن رکھااورعدم تشددکی فتح کاپرچم تھام رکھاہے۔
جب رائے عامہ دو حصوں میں بٹ جائے توسچ ہمیشہ زخم بن کرابھرتاہے۔وانگچُک کودشمن کہناآسان ہے،مگرسچ کاگلاگھونٹنامشکل۔ بی جے پی کے حامی انہیں غدارکہتے ہیں،مگرعوام انہیں وطن کاضمیرمانتے ہیں۔وانگچُک کوغدارکہنے والے دراصل اپنی خوفزدہ سیاست کے حصارمیں ہیں مگردوسری آوازجواُنہیں قومی مفادکامحافظ کہتی ہے،وہ دراصل انسانیت کی ضمیرکی گواہی ہے،جواب عالمی میڈیا میں بھی حق کی آوازبن کرابھررہی ہے۔
چیرِن دورجے کااعتراف ایک تاریخی طنزہے۔جنہوں نے آرٹیکل370کی منسوخی پرجشن منایاتھا،آج وہ پچھتاوے کے آنسوبہارہے ہیں۔ آج وہی کہتے ہیں:ہم اس آرٹیکل کے سائے میں زیادہ محفوظ تھے۔گویاتاریخ نے پلک جھپکتے میں جشن کوماتم کدہ بنادیا۔آرٹیکل370 ایک آئینی حصارتھا،جوریاست کی شناخت کانگہبان تھا۔جب وہ گرایاگیاتولداخ،جموں،کشمیرسبھی بے لباس ہوگئے۔آرٹیکل370کاخاتمہ دراصل ریاستی خودی کی موت تھی۔اب زمین بکتی ہے،خواب بیچے جاتے ہیں،اورانسانی شناخت نیلام یاگروی رکھ دی گئیں ہیں۔
پھونسوک ستوبدن کاانتباہ گونجتاہے:یہ نہ بھولو،لداخ چین کی سرحد پرہے۔پھونسوک کاانتباہ محض تجزیہ نہیں،ایک فکری وجغرافیائی خطرے کی گھنٹی ہے۔وہ یاددلاتے ہیں کہ لداخ چین کی سرحدپرہے—اورجوسرحدی نگہبان ہیں،اُنہیں ناراض کرکے کوئی ریاست محفوظ نہیں رہ سکتی۔سرحدی عوام کوناراض کرناگویاآنکھوں پرپٹی باندھ کرجنگ میں کودناہے۔یہاں اگروفاداری ٹوٹی،توبرفانی پہاڑ گواہ ہوں گے کہ وفاکوزبردستی نہیں خریداجاسکتا۔
جب کسی علاقے کے فیصلے اُس کے لوگوں کے بغیرکیے جائیں،توحکومت نہیں،استبدادجنم لیتاہے۔غیرمقامی افسران کے ہاتھوں لداخ کانظم ونسق سپرد کرناگویاکسی اجنبی کواپنے گھرکی چابیاں دیناہے،دوردرازکے افسران کولداخ کی تقدیرپرمسلط کرناایسے ہی ہے جیسے کسی اجنبی کوگھرکاسربراہ بنادیاجائے۔ جمہوریت کے نام پرغلامی کانیاباب رقم کردیاگیاہے۔غیرمقامی حاکمیت پراعتمادنہیں کیا جاسکتا،اورنہ ہی یہ لداخ کی مجبوری کی علامت ہے۔
شیڈول6اب محض ایک سیاسی نعرہ نہیں رہا؛یہ دلوں کاعہداورعقیدہ بن چکاہے۔لداخ کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہماری زمین پرفیصلے دہلی نہیں،لیہہ کرے ۔لداخ کے عوام دہلی سے نہیں،اپنے حقِ خودارادیت سے جڑے ہیں۔یہ مطالبہ مرکزگریزنہیں،مرکزسے انصاف کی طلب ہے۔1949ءکی آئینی شقیں جن کاتعلق شمال مشرق سے تھا،اب لداخ کیلئےبھی امیدبن گئی ہیں اوریہی آئینی اصول اب لداخ کیلئےرہنمائی کا چراغ ہیں۔عوام چاہتے ہیں کہ قانون اُن کے ہاتھ میں ہو،اورفطرت اُن کی محافظ۔یہاں کے لوگ وہی خوداختیاری چاہتے ہیں جوآسام اور میگھالیہ کوملی—یعنی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ قانون سازی۔وہ کہتے ہیں:ہمارے پہاڑہمارے قانون کے تابع رہیں۔
شیڈول6کی رعایتیں آئینی خودی کی روح ہیں۔آرٹیکل371کاوعدہ دہلی نے کیا،مگریقین دلانے کے باوجودمودی حکومت نے اعتمادپارہ پارہ کردیا۔ آرٹیکل 371کے وعدے ادھورے رہے، اسی لیے یقین بغاوت میں بدل گیا۔یہی وجہ ہے کہ اب رعایت نہیں،ضمانت مانگی جا رہی ہے۔لداخ کی بغاوت دراصل اُس یقین کی تلاش ہے جوسیاست نے چھین لیا۔اب لداخ کامطالبہ رعایت نہیں،یقین کی بحالی ہے۔
جب اندرکی بغاوت کودبایانہ جاسکے توبیرونی دشمن تراشے جاتے ہیں۔مودی حکومت جب اندرونی محاذہارتی ہے توبیرونی دشمنوں کے سائے بڑھادیتی ہے۔ مودی کی زبان سے پاکستان کوگھن گرج دراصل داخلی ناکامی کی گونج ہے۔پاکستان سے جنگ کی دہمکیاں سیاسی کمزوری کالبادہ ہیں۔جنگ کاشور،امن کی قبروں پربجایاجانے والاطبلہ ہے۔
پاکستانی فوج کی جوابی للکارخطے کی فضاکوپھرسے بارودآلودکرنے سے گریزکامشورہ دیتے ہوئے متنبہ کررہی ہے۔اب اگرآگ لگی تووہ صرف سرحدوں پرنہیں،دوردرازکاکوئی بھی کونہ محفوظ نہیں رہے گااوربقول مودی کے دل میں بھڑکنی والی آگ جواس کی روح پرقرض ہے،لیکن مودی یادرکھے کہ اب آگ دلوں میں ایسی بھڑکے گی کہ دھڑکنیں اپناراستہ بھول جائیں گی۔لداخ کے برف زاروں اور کشمیرکے چناروں سے لے کرغزہ کی گلیوں تک طاقت کے ہاتھوں روندے ہوئے انسانیت کے زخم ایک جیسے ہیں،مودی اوراس کا وزیردفاع اورجنرل چوہان ، سب نے برف زاروں کے اس خطے میں اب بارودکی بُوگھول دی ہے اورامن کاجسم زخمی کردیاہے لیکن یادرکھیں کہ اب یہ وہی مئی والاپاکستان نہیں ہوگاکہ اپنے مربی اورآقاکے درپر دہائی دیکرسیزفائرکروالیا تھابلکہ اب یہ نوبت نہیں آئے گی اوردنیامیں فقط واحد ہندوریاست کانام ونشان مٹ جائے گامگردرجنوں مسلم ممالک اس دنیاکے نقشے پرمزیدابھریں گے۔
سوال اب یہی ہے:کیامودی اپنی اقتدارکی بقاکیلئےجنگ کی بازی کھیل سکتاہے؟جب حکمران اپنے عوام کے خلاف صف آراہوجائے تو پھردشمن سرحدپار نہیں ، محل کے اندرہوتاہے۔جب حکمران عوام کی آوازدبانے لگیں،توقومیں یاتوٹوٹ جاتی ہیں یاجاگ اٹھتی ہیں۔عالمی طاقتیں اس تماشے کودیکھ رہی ہیں، مگرشایدبھول گئیں کہ برف جب پگھلتی ہے توسیلاب بن جاتی ہے۔اورکشمیر،لداخ سمیت دودرجن سے زائدتحریکیں—لگتاہے جاگ چکی ہیں۔مودی کو برسوں پرانے دوست سوویت یونین کانقشہ بھی ذہن میں رکھناہوگا۔
یہ لداخ کے احتجاج کی وہ ادبی تفسیرہے جومحض واقعات کابیان نہیں بلکہ ضمیرکی بیداری کی داستان ہے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ظلم کے نیچے دبنے والا انسان کبھی ہمیشہ خاموش نہیں رہتا۔برف دیرسے پگھلتی ہے،مگرجب پگھلتی ہے،تو سیلاب بولتاہے اورلداخ کا یہ سیلاب شایدنئی تاریخ لکھنے والاہے۔
لداخ کی داستان محض ایک خطے کی بغاوت نہیں،بلکہ ایک ملک کے بکھرتے ضمیرکی بازگشت ہے۔یہ صرف برف پگھلنے کامنظر نہیں،بلکہ اقتدارکے غرورکے ٹوٹنے کی آوازہے۔ہندوستان،جوکبھی جمہوریت کااستعارہ سمجھاجاتاتھا،آج اپنی ہی جمہوری سانسوں پر بندوق تانے کھڑاہے۔آج مودی کے بھارت میں کسان دہلی کی سڑکوں پرمررہاہے،طلبہ یونیورسٹیوں میں قیدہیں،اقلیتیں خوف کے سائے میں سانس لے رہی ہیں،اورلداخ کے پہاڑ،جوکبھی امن کے محافظ تھے،اب انقلاب کے قاصدبن گئے ہیں۔
مودی کاہندوستان اب ایک نئی تقسیم کے دہانے پرکھڑاہے—نہ مذہب کی بنیادپر،نہ زبان کی،بلکہ انصاف اورناانصافی کی بنیادپر۔ایک طرف وہ طبقہ ہے جو اقتدارکے طلسم میں مبتلا ہے،اوردوسری طرف وہ عوام جوبھوک،بے بسی،اوروعدہ خلافی کے بوجھ تلے کراہ رہے ہیں۔ان حالات میں جب مودی پاکستان کوجنگ کی دھمکیاں دیتاہے،تویہ دراصل اندرونی شکست کے پردے پرلٹکایاگیاجنگی پردہ ہے۔قومیں جب اپنے شہریوں کی آوازیں نہ سن سکیں،تووہ دشمن کی سرحدوں پرنعرے لگانے لگتی ہیں۔مگرلداخ کی برفانی ہوائیں دہلی کی گرم تقریروں سے متاثرنہیں ہوں گی۔
یہ بغاوت کوئی آنی جانی طغیانی نہیں—یہ فطرت کی طرف سے ایک پیغام ہے کہ جب زمین کواس کے لوگوں سے چھیناجائے،جب ثقافت کوبازارمیں بیچا جائے ،اورجب وعدوں کوگولیوں میں بدل دیاجائے،تو برف بھی سیلاب بن جاتی ہے۔لداخ اب بول اٹھاہے،شایدجلد ہی ہندوستان کے دوسرے خطے بھی اپنی اپنی خاموشی توڑدیں گے۔تاریخ کی مٹی اب پھرایک کہانی لکھنے کوہے اوراس کہانی کا عنوان شایدیہی ہو”مودی کاہندوستان—جبرسے بغاوت تک”





