جب قومیں تاریخ کے دریامیں اپنی کشتی کوبہاؤکے سہارے چھوڑدیتی ہیں،توکوئی بھی لہرانہیں غرق کرسکتی ہے۔اورجب قوموں کے افق پربادل صرف برسے نہیں،گرجنے بھی لگیں، تو اہلِ دانش کوخواب سے جاگ جاناچاہیے۔ہم جس برِصغیرمیں سانس لیتے ہیں،وہ صرف جغرافیہ نہیں،تہذیبوں کامرکب ہے—جہاں تاریخ دشمنوں کوبھی دوست بنانے کی تعلیم دیتی ہے اورجہاں دوستی کودشمنی میں بدلنےکیلئےفقط چندسیاسی کوتاہیاں کافی ہوتی ہیں۔آج بھارت کے خلاف جوفصیلِ خطرہ مشرق،مغرب اورشمال سے بلندہورہی ہے،وہ دراصل کئی دہائیوں کی غیرتدبرانہ پالیسیوں کاخمیازہ ہے۔
تاریخ کے صفحات پروہ قومیں سنہری حرفوں سے لکھی جاتی ہیں جووقت کی نزاکتوں کوتقدیرکے سپردکرنے کی بجائے،تدبیرکے ذریعے حالات کارخ موڑنے کاہنررکھتی ہیں۔اگرچہ تقدیرایک ازلی قوت ہے،مگرتدبیرانسان کاوہ شعورہے جس کے ذریعے وہ نہ صرف اپنے حال کوسنوارتاہے بلکہ مستقبل کی سمت متعین کرتاہے۔تقدیرپرایمان ایک روحانی تسکین ضرورہے،مگر اگر اسے عمل کی نفی،کوشش کی توہین،یاذمہ داری سے فرارکاجوازبنالیاجائے،تویہی عقیدہ زوال کازینہ بن جاتاہے۔برِصغیرکی تاریخ میں بہت سی مسلم ریاستیں محض اس لیے مٹ گئیں کہ اُن کے سلاطین نے حالات کو”قسمت کالکھا”سمجھ کرہاتھ پرہاتھ دھرے بیٹھنے کوکافی جانامگر تقدیراُس وقت ایک روشن باب بن جاتی ہے جب اُسے تدبیرکی مشعل سے پڑھاجائے۔
تدبیرمحض ایک لفظ نہیں،یہ وہ شعوری کاوش ہے جس کے بغیراقوام کی کشتیاں وقت کے طوفانوں میں بھٹک جاتی ہیں۔یہ وہ ہنرہے جودشمن کے ارادوں کوپہلے ہی بھانپ لیتاہے اور ایسی راہیں نکالتاہے جن پرچل کرقومیں نہ صرف محفوظ رہتی ہیں بلکہ ترقی کے زینے طے کرتی ہیں۔
حال ہی میں جنرل انیل چوہان کی تشویش،راہول بیدی کی خبروں میں چھپی ہزیمت،اوربنگلہ دیش وچین کابڑھتاہواعسکری وسیاسی گٹھ جوڑ—یہ سب کچھ تقدیرنہیں،تدبیرکاتقاضاکررہے ہیں۔اب فیصلہ بھارت کے پالیسی سازوں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ ان خبروں کو”نصیب کالکھا”سمجھ کربھلادیں یاانہیں مستقبل کی روشنی میں بدلنے کامنصوبہ بنائیں لیکن مودی کی سازشی ذہنیت سے بالکل امیدنہیں ۔
تدبیرصرف توپ وتفنگ کے ہنرکانام نہیں،یہ قوموں کی اندرونی وحدت،سیاسی بلوغت،سفارتی مہارت،تعلیمی بیداری اورعوامی شعور کامجموعہ ہے۔جب تک قومیں اپنی داخلی سمت کو درست نہیں کرتیں،بیرونی خطرات کے سامنے بندباندھناممکن نہیں ہوتا۔تاریخ نے سکھایاہے کہ دشمن کے مقابلے میں صرف ہتھیارنہیں،کرداربھی اہم ہوتاہے۔جوقوم اپنے فکری محاذپرکمزورہو،وہ کسی بھی محاذپر پائیدارفتح حاصل نہیں کرسکتی۔
تقدیرکامفہوم اگربےعملی کاجوازبن جائے،توتدبیراپنی آنکھیں بندکرلیتی ہے،اورقومیں تقدیرکوبددعاسمجھنے لگتی ہیں۔اب بھارت کے سامنے دوراہیں ہیں،تقدیرکاسہارالے کرخاموشی سے بکھرتے حالات کوتکتارہے،یاتدبیرکے ساتھ ایک نیابیانیہ،نئی حکمتِ عملی،اور ایک مضبوط قومی وحدت تشکیل دے۔یادرہے کہ قومیں جب تدبیرسے منہ موڑتی ہیں،توتقدیران کے ہاتھ سے وقت کی لگام چھین لیتی ہے۔وقت کاتقاضاہے کہ ہم تقدیرکارونارونے کی بجائے،تدبیرکی مشعل تھامیں کیونکہ اندھیری راتوں میں راستہ تلاش کرنے والوں کیلئےستارے بھی حرکت میں آجاتے ہیں۔
آج، بھارت جس صورتِ حال سے دوچارہے،وہ صرف جغرافیائی نہیں،بلکہ تہذیبی،عسکری اورفکری محاصرے کی ایک نئی داستان ہے۔ایک ایسی داستان جومحض عسکری خطوط پرنہیں لکھی جارہی،بلکہ اس کے پس منظرمیں سیاسی ناپختگی،سفارتی بےبسی، علاقائی لاپرواہی،اورداخلی انتشارکی وہ گہری لہریں رواں ہیں،جن کی آوازنہ صرف سرحدوں سے پرے گونج رہی ہے بلکہ خودملک کے اندربھی اضطراب کاباعث بن رہی ہے۔یہ مکارانہ سازش کی داستان صرف سرحدوں پرنہیں لکھی جارہی،بلکہ سیٹلائٹ کے مداروں،سفارتی ڈرائنگ رومز،اورافواج کے نچلے کیمپوں تک پھیل چکی ہے۔
جنرل انیل چوہان کی تشویش محض ایک عسکری کمانڈرکی اضطرابی کیفیت نہیں بلکہ یہ اُس اندیشے کی بازگشت ہے جسے تاریخ کئی باردہراچکی ہے—جب اقوام نے خطرے کوآنکھوں سے نہیں،دل سے دیکھاتوفتوحات ہاتھ سے چھن گئیں۔چین،پاکستان اوراب بنگلہ دیش کاابھرتاہوامثلثی اتحاد،بھارت کیلئےاُس چکرویوہ کی مانندہوتاجارہاہے،جس میں پھنس کرابھیمنیوکی طرح نکلنے کی کوئی سبیل دکھائی نہیں دیتی یعنی شمال میں چین،مغرب میں پاکستان، اوراب مشرق میں بنگلہ دیش کے مشترکہ اتحادنے انڈیاکی رات کی نیندیں بھی حرام کردی ہیں۔
کل تک مودی جنہیں اپنے جگر کاٹکڑاکہتاتھا،وہی اگرخنجرلیے سامنے آکھڑاہوتودل پرلگنے والے زخم زبان سے بیان نہیں کیے جا سکتے۔بنگلہ دیش،جو جغرافیائی لحاظ سے’انڈیالاکڈ‘ہے،جس کی94فیصدسرحدبھارت سے منسلک ہے،اب اسی بھارت کے خلاف صف بندی کرتادکھائی دے رہاہے۔جس ملک کوانڈیانے تجارت،ٹرانزٹ،پانی اوروفاکی راہوں پرہم رکاب کیا ،وہی اب اس کے دشمنوں کی صف میں کھڑاہوتویہ محض سیاسی موڑنہیں،تہذیبی سانحہ ہے۔4,367کلومیٹرکی طویل سرحدکااگردشمنی کے ارادے سے استعمال ہو،توصرف بندوق نہیں ،بستیوں تک ہلنے لگتی ہیں۔جوسرحدیں کبھی اشتراک اورتعاون کااستعارہ تھیں،وہی اب اندیشوں کی خاردارباڑمیں بدل رہی ہیں۔
یادرہے کہ بنگلہ دیش،جسے کبھی بھارت کی اسٹریٹجک فتح کامظہرسمجھاگیا،آج چین اورپاکستان کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ دیے کھڑاہے۔ کیایہ بنگلہ دیش کابدلتامزاج مشرق سے اٹھتاہواخطرہ، صرف معاشی مجبوریوں کانتیجہ ہے؟یاپھربھارت کی غیردوستانہ رویے نے اسے نئی پناہ گاہوں کی تلاش پرمجبور کیاہے؟
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بنگلہ دیش کی94فیصدسرحدبھارت سے منسلک ہے۔ایسے میں اس کی طرف سے سردمہری کا اظہار،یابھارت مخالف بیانیے کی قبولیت،محض سفارتی ناکامی نہیں بلکہ ایک تہذیبی زوال کاپتہ دیتی ہے۔جب رشتے اعتمادکے بغیر قائم ہوں توسرحدیں صرف فاصلے نہیں بڑھاتیں،فاصلے دلوں میں اُترجاتے ہیں۔
آج دنیاایک نئے جغرافیائی شطرنج پرکھڑی ہے۔چین،پاکستان اوربنگلہ دیش کامجوزہ اتحاد صرف عسکری اتحادنہیں،بلکہ عالمی تناظر میں ایشیامیں ابھرتاہوا ایک ایسانیاکھیل ہے جوسیاسی ، اقتصادی اورتہذیبی محاذپرایک گہری چال بھی ثابت ہوسکتاہے۔بھارت اگراس حقیقت سے غافل رہا،توصرف بھارتی سرحدیں نہیں ٹوٹیں گی،تاریخ کے صفحات سے بھی بھارت کا وقارمحوہوسکتاہے۔
چین کے ساتھ سرحدی جھڑپیں،درحقیقت ایک طویل المدت منصوبہ بندی کاحصہ ہیں۔چین نہ صرف لداخ کے پہاڑوں میں موجودہے، بلکہ بنگلہ دیش، نیپال،سری لنکااورپاکستان کے ساتھ اپنے رشتوں کوایک اسٹریٹجک نیٹ ورک میں تبدیل کررہاہے۔بھارت جسے اپنی جغرافیائی برتری سمجھتاتھا،آج وہی اس کے گردتنگ ہوتادائرہ بن چکاہے۔
چین کااقتصادی دباؤ،عسکری برتری،اورپاکستان وبنگلہ دیش جیسے ممالک کے ساتھ ہم آہنگی،ایک نئی سردجنگ کاپیش خیمہ بن رہی ہے—جس میں بھارت باوجوداپنی فوجی تیاریوں کے خودکوتنہامحسوس کررہاہے۔مودی اقتدارکی لالچ اورانتخابی مہم کیلئے ایک مرتبہ پھرجنگی ماحول پیداکرنے کی کوشش کرے گااور یہی وہ موقع ہوگاجب امریکابہادرانڈیاکی مجبوری کوکیش کرواتے ہوئے مودی کو سیاسی خودکشی پرمجبورکردے گا۔
انڈین نائب آرمی چیف کی شکایت—کہ پاکستان کوچین سے انڈیاکی”لائیو”معلومات دستیاب تھیں—ایک ایساانکشاف ہے جوعسکری اخلاقیات کے پردے چاک کرتاہے۔اگردشمن کو ہمارے لشکرکی حرکات وسکنات لمحہ بہ لمحہ معلوم ہوں،تویہ نہ صرف بھارتی دفاعی پالیسی کی شکست ہے،بلکہ ہندومہاشے کی سفارتی تنہائی کابھی اعلان ہے۔
پاکستان نے حسبِ روایت اس الزام کومستردکیاہے،اورعالمی دفاعی تجزیہ نگاروں کابھی یہ مانناہے کہ چین کے مشورے تومیسرہو سکتے ہیں لیکن جنگ میں شرکت کیلئے پاکستانی افواج کی باکمال مہارت نے ایک عالم کومبہوت کرکے رکھ دیاہے۔لیکن سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ اتنی گہرائی تک انٹیلیجنس کی رسائی ممکن کیسے ہوئی؟کیایہ داخلی دراڑوں کانتیجہ ہے یاٹیکنالوجی کے محاذپر ہماراپسماندہ پن؟اس کیلئے بھی ساراکریڈٹ پاکستان کے ان سپوتوں کوجاتاہے کہ ان کی شب وروزمحنت کانتیجہ اس حالیہ جنگ میں سب نے دیکھ لیاکہ ایک ہی وارمیں انڈیاکے70٪ گرڈبیکارکرکے”شائننگ انڈیا”کوایک لمحے میں تاریک کر دیا ۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیوں جنرل انیل چوہان جیسے حساس منصب پربیٹھے شخص کوٹی وی پراعترافِ شکست کالہجہ اپناناپڑا؟اگر الزام بے بنیادہوتاتواسے عالمی میڈیاکی زینت بنانے سے روکا کیوں نہ گیا؟راہول بیدی کے مطابق پاکستان کوجوکچھ چین سے مل رہا ہے—دفاعی سازوسامان،سیٹلائٹ سے حاصل شدہ تصاویر،انٹیلیجنس کی پوشیدہ لہریں—وہ سب کچھ اس خطرے کی صورت گری کر رہاہے،جواب بھارت کے تینوں محاذوں پرسایہ فگن ہے لیکن کیاوجہ ہے کہ یہ اعتراف اس قدرتاخیرسے کیوں سامنے آرہے ہیں؟کیایا بھارتی فوج کے شکست خوردہ مورال کوچھپانے کی کوشش تونہیں ہورہی؟
پاکستانی فضائیہ نے جس ہروپ ڈرون کومارگرایا،وہ محض ایک پرزہ نہیں،بلکہ ٹیکنالوجی کی وہ شطرنج ہے جس میں صرف چال نظرنہیں آتی،صرف نتیجہ دکھائی دیتاہے۔یہ ڈرون دشمن کے ریڈارکودھوکہ دے کرہدف تک خاموشی سے پہنچنے والاایک مہلک ہتھیارہے اورجس کے متعلق اسرائیل نے یہ دعویٰ کیاتھاکہ اس ڈرون کودنیاکی کوئی ٹیکنالوجی بشمول امریکابھی ناکام کرنے کی سکت نہیں رکھتااورچندڈرون ہی پاکستان کے سارے دفاعی نطام کوپل بھرمیں مفلوج کرسکتے ہیں۔بھارت نے اسرائیل کے اس دعوے کوتکنیکی طورپراپنے ہاں آزمائشی استعمال کے بعدتکبراورفتح کے گھمنڈمیں ان کواستعمال کرنے کیلئے اسرائیلی آپریٹرزکواپنے ہاں بلاکراس جنگ میں شریک کرلیالیکن اگربھارت کے دفاعی نظام اس کے وجودکوبھی نہ پہچان پائیں،تویہ صرف تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کی گھنٹی ہے۔
شیطانی مثلث(امریکا،اسرائیل،انڈیا)کامانناہے کہ اسرائیلی ہاروپ،جنگ کاوہ خاموش کردارہے جونہ صرف معلومات لاتاہے بلکہ خودہدف بھی بناتاہے ۔ اسرائیل کایہ بھی دعویٰ تھاکہ پاکستان کیلئے صرف چندہاروپ ڈرون ہی کافی ہیں لیکن پاکستان نے نہ صرف79ہاروپ ڈرون کاتباہ کیابلکہ چندڈرونزکوجام کرکے زمین پربحفاظت اتاربھی لیاجس کے بعداسرائیل جو کبھی اس ڈرون کی ٹیکنالوجی کوشئیرکرنے کیلئے تیارنہیں تھا،اب وہ تمام تکنیکی معلومات طشت ازبام ہوچکی ہیں اوریہ ہی اسرائیل کی ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی شکست ہے کیونکہ اس نے اپنے ان ڈرونزکوکامی کازکانام دے رکھاتھاکہ دشمن کے ہاتھ آنے سے پہلے یہ خودکوتباہ کرلینے کی صلاحیت رکھتاہے۔
پاکستان برسوں سے عسکری محاذپربھارت کوآزماتاآرہاہے،لیکن اب جوفرق آیاہے،وہ ہے چین کے ساتھ مشترکہ ٹیکنیکل شراکت اور جدیدجنگی حکمت عملی کی پشت پناہی،جدیدٹیکنالوجی اورمتحدہ محاذ۔ہاروپ ڈرونزہوں یابراہموس میزائل کاجواب،پاکستان اب محض جوابی کاروائی نہیں کررہا،وہ منصوبہ بندی کے ساتھ چالیں چل رہاہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں بھارت کی داخلی سیاست،بیرونی پالیسی کو کمزورکررہی ہے۔قومی اتحادکے بغیر،کوئی بھی دشمن کمزورنہیں پڑتا،بلکہ مضبوط ہوجاتاہے۔
سوال یہ بھی ہے کہ بھارت کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کوپاکستان کیوں نہ روک پایا؟اگرچہ میزائل ہدف سے بھٹک گئے،مگر ان کاسفرخطرناک سوالات چھوڑگیا۔پاکستان نے دعویٰ کیاکہ اس نے انڈین براہموس میزائل کوہدف سے بھٹکایا،لیکن کیایہ سچ ہے یا فقط ایک تکنیکی حادثے کادعویٰ؟ رفتار میں برق،مگرنگاہ سے اندھے—کیاتیزرفتارمیزائلوں کواندھاکیاجاسکتاہے؟جدیدجنگی سافٹ ویئر میں اس امکان کی گنجائش ضرورہے،مگرحقیقت بہرحال میدانِ جنگ طے کرتاہے۔
اس تمام کاروائی کے بعدسوال یہ ہے کہ کیا روایتی دفاع اب کافی ہے؟اورپھرسوال یہ بھی ہے کہ بھارت کی جانب سے داغے گئے کچھ میزائلوں کوپاکستان کیوں نہ روک پایا؟اوریہی معاملہ انڈیا کے ساتھ بھی پیش آیا۔کیاوجہ تھی کہ انڈیاجس کی پشت پرامریکااوریورپی ممالک کے سول ایٹمی ٹیکنالوجی کے معاہدے اپنی پوری طاقت کے ساتھ ہم پلہ تھے اوران سب طاقتوں کا تعاون بھی بھارت کوپاکستان کے ان آہنی پرندوں کے نشانے سے بچانہ سکے،بلکہ دشمن کے دل میں پیوست ہوکرانہوں نے تاریخ میں اپنانام لکھوایا۔اسرائیلی ڈرون کے21کے قریب ہاروپ ڈرونزآپریٹرزآدم پوربیس پرپاکستان پرحملے کرنے میں مصروف تھے لیکن پاکستان نے خودپرشدیددباؤکے باوجودجب جواب دیاتوآدم پوربیس کے پرخچے اڑگئے اورانڈیانے جب رات کے اندھیرے میں18اسرائیلیوں کے تابوت تل ابیب پہنچائے تواسراائیل کے ہاں کہرام مچ گیالیکن مودی کی ڈھٹائی اپنی جگہ پراب بھی قائم ہے کہ وہ اعترافِ شکست کی بجائے اپنے سندورآپریشن کوجاری رکھنے کی دہمکیاں دے رہاہے۔
مودی حکومت پریہ الزام لگایاجارہاہے کہ اس نے قومی نقصان کوچھپانے کی دانستہ کوشش کی۔انڈین دفاعی اتاشی کایہ اعتراف—کہ “چندطیارے کھوئے گئے”—محض عسکری اعدادوشمار کاانکشاف نہیں بلکہ سیاسی ننگاپن ہے۔اگربلومبرگ ٹی وی پرنقصانات کا اعتراف ممکن ہے،تواپنے ملک میں سچ کیوں چھپایا گیا؟خودانڈین عوام مودی سے سوال کررہی ہے کہ اگرغیرملکی میڈیاجیسے بلومبرگ پرلب کشائی ممکن ہے،تودہلی کے ایوانوں میں خاموشی کیوں؟جہاں حکمت،سیاست پرغالب آتی ہے،وہاں رہنماؤں کوچاہیے کہ وہ قوم کوفقط جھوٹےفخرکی افیون سے نہ بہلائیں،بلکہ حقیقت کاآئینہ بھی دکھائیں۔کیونکہ شیشے کامحاذلکڑی کی ڈھال سے نہیں روکا جاسکتا۔یہی وہ نکتہ ہے جو مودی حکومت کے بیانیے کومشکوک بناتا ہے۔کیاقومی فخرکامطلب سچائی کودفن کرناہے؟ قومیں سچائی سے بنتی ہیں،پروپیگنڈے سے نہیں۔
پاکستانی جے10سی اورانڈین رافال کے درمیان متوقع ڈاگ فائٹ صرف ٹیکنالوجی کامقابلہ نہیں تھابلکہ عسکری نظریات اورقومی اعتمادکاامتحان بھی ثابت ہوا۔یہ”ڈاگ فائٹ”صرف دوجہازوں کی ٹکرنہیں،بلکہ دونظریات،دوریاستی فکر،اوردوعسکری ماڈلزکاتصادم تھا۔دنیاکی نظریں اس معرکے پراسی لیے تھیں کیونکہ جوجیتے گا،وہ صرف جنگ نہیں جیتے گا—وہ اگلی دہائی کاعسکری بیانیہ لکھے گا۔رفال کی قیمت،رفتاراوراسٹائل،بمقابلہ جے10سی کی سادگی،پاک چین کی مشترکہ کاوش اورمہارت—اس جنگ کی گواہی صرف آسمان نے نہیں دی بلکہ اس کے واضح اثرات زمین پربھی محسوس کئے گئے۔
انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے یہ اعتراف کیاکہ 9مئی کی رات امریکی نائب وزیرخارجہ نے وزیراعظم مودی سے کہاکہ اگرہم نے کچھ شرائط تسلیم نہیں کیں توپاکستان انڈیاپربہت بڑاحملہ کرے گا۔یہ بیان محض سفارتی چال نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی بدلتی ترجیحات کاعکس ہے۔سوال یہ ہے کہ امریکا کو اس حدتک تشویش کیوں ہوئی؟کیابرصغیرمیں کوئی نیاعسکری توازن بن رہا ہے؟یاپھر، بھارت کواس کی محدودحیثیت کاشعوردلایاجارہاہے؟
انڈیااورپاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی صرف توپوں اورٹینکوں کی گھن گرج نہیں تھی،بلکہ ایک ذہنی جنگ بھی تھی۔88گھنٹے پر محیط یہ تنازعہ سفارتی دباؤ،عسکری چالاکی،اورمیڈیاکے بیانیے کاایساامتزاج تھا،جوشایدآنے والے دنوں میں برصغیرکی سیاست کا رخ موڑدے گا۔انڈیا،پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی نے ایک مرتبہ پھرہمیں یہ یاددلایاہے کہ برصغیر کی تاریخ محض نصاب کی عبارت نہیں،بلکہ خون سے لکھی گئی تحریرہے۔ان88گھنٹوں میں جوکچھ گزرا،وہ محض واقعات نہیں،آئندہ کی تیاری کاپیش لفظ ہے۔
سناتھاکہ جوبادل گرجتے ہیں،وہ برستے نہیں ہیں لیکن کبھی کبھارگرج چمک کے ساتھ آنے والا طوفان زمینی حقائق کے ساتھ کئی عبرت کے اسباق بھی ساتھ لاتاہے۔یہ وقت بیداری کا ہے،تصادم سے پہلے تدبرکا۔اگربھارت اپنی داخلہ سیاست کی مصنوعی چمک میں بین الاقوامی سچائیوں کونظراندازکرتارہا ،تو آنے والاوقت شایداپنے ساتھ صرف سوال نہیں،پچھتاوے بھی لائے گا۔
یہ محض ابتدائیہ نہیں،ایک گھنٹی ہے،وہ گھنٹی جویاتوجاگنے کی صداہے،یا زوال کی آخری گونج۔ قومیں اپنی غلطیوں سے نہیں،اپنے غرورسے مٹتی ہیں۔آج اگربھارت کوتاریخ سے کوئی سبق سیکھناہے تووہ یہی ہوناچاہیے کہ تدبیرسے پہلے تقدیرکاانتظارتباہی کی طرف پہلاقدم ہوتاہے۔اگرہم نے تاریخ کونظر انداز کیا،توتاریخ ہمیں بھی نظراندازکردے گی۔





