بین الاقوامی تعلقات میں اس وقت پاکستان کاکردارکئی زاویوں سے عالمی توجہ کامرکزبنتاجارہاہے،خصوصاًحالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظرمیں پاکستان کی چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی دفاعی شراکت داری،اسٹریٹجک مفادات،دفاعی وابستگی اوربھارتی مہم جوئیوں کے خلاف عملی ردعمل،ایک نیاعالمی منظرنامہ تخلیق کررہاہے۔اس وقت دنیابھرمیں بالعموم اورمغربی میڈیابالخصوص پاکستان کے چینی اسلحہ پرانحصار،حالیہ پاک-بھارت کشیدگی،اوراس کے عالمی اثرات کے بارے میں بہت کچھ لکھاجارہاہے۔
پاکستان اورچین کے دفاعی تعلقات محض عسکری لین دین تک محدودنہیں بلکہ یہ ایک اسٹریٹجک اتحادکی شکل اختیارکرچکے ہیں۔ پاکستان نے ماضی میں امریکااورمغرب سے ہتھیار حاصل کیے،لیکن2000ءکے بعدسے چین دفاعی شراکت کاسب سے بڑاذریعہ بن چکاہے اورپاکستان کاچینی دفاعی سازو سامان پرانحصارمیں کافی اضافہ ہوگیاہے۔چینی ہتھیارنسبتاًکم لاگت،جدید ٹیکنالوجی اورسیاسی لچک کے ساتھ فراہم کیے جاتے ہیں،جومغربی ممالک کے مقابلے میں پاکستان کیلئے زیادہ موزوں ہیں۔پاکستان کی مسلح افواج کی جدیدکاری میں چین کاکردارروزافزوں ہے۔
حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں8مئی کوپاکستانی فضائیہ نے بھارتی آپریشن سندورکے جواب میں ایک لائیوجنگی مظاہرہ میں6بھارتی طیارے(3ریفال سمیت ) مارگرائے۔ان حملوں میں چینی ہتھیاروں کی مؤثریت نے عالمی سطح پرتوجہ حاصل کی۔ایوک چنگدوائیر کرافٹ کارپوریشن اورنورینکوجیسی کمپنیوں نے عالمی سرمایہ کاروں کوفوری متوجہ بھی کیاہے۔چینی دفاعی کمپنیوں کے اسٹاکس میں صرف48گھنٹوں میں36٪اضافہ ہوا۔یہ ایک طرح کا”لائیوڈیفنس ایکسپو”تھا،جس میں چین کے ہتھیاروں نے دنیابھرکے تجزیہ کاروں کومتاثرکیااوردفاعی مارکیٹ میں مغرب کوسنجیدہ مقابلہ ملا۔
یہی وجہ ہے کہ اہم چینی دفاعی مصنوعات میں پاکستانی دفاعی اداروں کااشتراک بھی حیران کن طورپراب سامنے آرہاہے جس میں کئی مشترکہ منصوبوں میں جے ایف17تھنڈر(اب بلاک 3کی طرف پیش قدمی)،جے10سی(ہائی اینڈلڑاکاطیارے)،پی ایل-15ایئرٹوایئر میزائل،ڈرونز(مثلاًونگ لونگ سیریز)کی کارکردگی نے مغربی ممالک اورامریکاسمیت جدید اسلحہ سازی بنانے والے اداروں کو ورطہ حیرت میں مبتلاکردیاہے۔چینی ہتھیارنسبتاًکم لاگت، جدیدٹیکنالوجی اورسیاسی لچک کے ساتھ فراہم کیے جاتے ہیں،جومغربی ممالک کے مقابلے میں پاکستان کیلئے زیادہ موزوں ہیں۔
جے ایف-17تھنڈرپاکستان ائیرفورس کابنیادی لڑاکاطیارہ جسے چین کے ساتھ مل کرتیارکیاگیا۔یہ طیارہ جدید ریڈار،میزائل سسٹم،اور ایویونکس چین سے حاصل کیاگیاجدید ترین4.5جنریشن طیارہ جورافیل کے ہم پلہ تصور سے لیس ہے،اور(بلاک1سے بلاک3 تک)مسلسل ارتقاپذیرہے۔جے10سی کیاجاتاہے۔اس کی شمولیت نے بھارتی فضائیہ کے توازن کوچیلنج کیا۔جدیدپی ایل 15میزائل،بی وی آر(بی یانڈویژول رینج)ائیرٹوائیرمیزائل جو200کلومیٹرفاصلے تک ہدف کونشانہ بناسکتاہے۔پاکستان نے انٹیلی جنس،نگرانی اورٹارگٹڈ حملوں کیلئے چین سے ونگ لونگ ٹو ڈرون حاصل کئے جبکہ دیگرپاکستانی ساخت کے بھی ڈرون استعمال کئے۔
چینی اسلحہ سازادارہ”نارینکو”جوٹینک،توپ،اورفضائی دفاعی نظام بھی فراہم کرتاہے،کے ساتھ پاکستانی اسلحہ سازاداروں کااشتراک بھی جاری ہے۔جس کے نتیجہ میں پاکستان،چین کے ساتھ دفاعی شراکت داری کوصرف خریداری تک محدودنہیں رکھ رہا بلکہ مقامی پیداواراورمشترکہ تحقیق کے میدان میں بھی تعاون بڑھارہاہے ۔
یہ تنازع صرف بھارت اورپاکستان کے درمیان نہیں بلکہ ایک غیررسمی جنگ بھی تھی۔اس کشیدگی میں پاکستان-چین اتحادبمقابلہ بھارت-اسرائیل-امریکااتحادمیں پاک چین اورمغربی ٹیکنالوجی کی براہِ راست جنگ کی جھلک دنیاکونمایاں نظرآئی۔بھارت نے فرانسیسی رافیل طیارے استعمال کیے، جنہیں “گیم چینجر”قراردیاجاتاتھاجبکہ پاکستان کی جانب سے چینی ساختہ جے 10سی،جے ایف 17تھنڈر،پی ایل15میزائل اورمکمل پاکستانی ساختہ الفتح میزائل کی مؤثرکارکردگی نے مغربی اسلحہ سازوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی۔پاکستان کی فضائیہ نے رافیل طیارے کوکامیابی سے نشانہ بناکرمغرب کو حیران کردیا۔یہ جنگ صرف عسکری نہیں تھی بلکہ ٹیکنالوجی کاٹیسٹ کیس بھی بن گئی۔
مغرب کی پریشانی اس بات سے دوگناہوگئی کہ اسرائیلی ہاروپ ڈرونزکے باوجود بھارت کوشکست ہوئی۔عالمی دفاعی تجزیہ نگاروں اورسوشل میڈیاپریہ تاثرپختہ ہواکہ چینی دفاعی سازوسامان قابلِ بھروسہ،مؤثراورکم لاگت متبادل ہے۔یہ ایک عسکری کے ساتھ ساتھ مارکیٹنگ جیت بھی تھی—جس نے دنیابھرمیں چینی دفاعی صنعت کیلئےنئے دروازے کھول دیے۔
تاہم یہاں یہ امریکاکی مداخلت کے ساتھ ساتھ چین،امریکاکے درمیان خاموش تجارتی معاہدہ جیسی اہم پیش رفت کوبھی غورسے دیکھناہوگا۔ابتداءمیں امریکانے اس تنازع سے خودکوعلیحدہ رکھامگرجیسے ہی پاکستان کی کامیاب کارروائی اورچین کی دفاعی ٹیکنالوجی منظرِعام پرآئی،امریکانے فوری سیزفائرکا مطالبہ کردیا۔پاکستان کے مؤثرجواب کے فوری بعدٹرمپ نے سیزفائر کا اعلان کرکے”ایٹمی جنگ”کوٹالنے کادعویٰ کیامگرپسِ پردہ جنیوامیں چین-امریکا تجارتی مذاکرات مکمل ہوچکے تھے۔صدرٹرمپ نے ایک بیان میں”ایٹمی جنگ سے بچاؤ”کوجوازبناکرکشیدگی کے خاتمے کااعلان کیا۔
اس کے فوراًبعدجنیوامیں چین اورامریکاکے درمیان ایک خفیہ تجارتی میٹنگ ہوئی۔چین اورامریکانے اپنے ٹیرف میں بڑی کمی کا اعلان کیا۔دونوں ممالک نے تجارتی پابندیاں ختم کیں، جس سے عالمی معیشت میں بہتری آئی۔عالمی دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق حالیہ پاک بھارت جنگ میں پاکستان نے چین کیلئے ایک لائیوڈیفنس مارکیٹنگ کی،جس کے اثرات نے عالمی معیشت کومتاثرکیاہے۔ پاکستان اورچین کے فوجی اشتراک نے یہ ثابت کیاکہ امریکاکوخدشہ تھاکہ اگرپاکستان اورچین مل کرمیدانِ جنگ میں مغرب کو شکست دیتے رہے،توعالمی اسلحہ مارکیٹ اورسیاسی ساکھ متاثرہوگی۔اس لئے اس جنگ کوہر حالت میں روکناصرف بھارت اور اسرائیل کیلئے ہی نہیں بلکہ امریکااورمغرب کے تمام اسلحہ سازاداروں کیلئے انتہائی اہم ہے اورادھرپاکستان اورچین نے بھی یہ فیصلہ کرلیا کہ وہ اپنے مقاصدمیں کامیاب ہوگئے ہیں۔
دراصل چین کی گزشتہ چالیس سالہ حکمت عملی خاموش فوجی طاقت کی تیاری تھی،اورپاکستان اس قوت کاسب سے بڑامظہراور مستفیداتحادی ہے۔یہ اشتراک دنیاکیلئےایک پیغام بھی ہے کہ جنگیں صرف میدان میں نہیں جیتی جاتیں،وہ تیاری،سٹریٹجی،اوراتحاد سے جیتی جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے ہاتھوں رافیل کی تباہی کے بعدبھارت تواب تک خاموش ہے لیکن رافیل کمپنی کے سربراہ کواپنے ان طیاروں کی تباہی کوتسلیم کرتے ہوئے ندامت کے ساتھ اپنی کمپنی کی ساکھ بچانے کیلئے یہ بیان دیناپڑگیاکہ ہم “جہازفروخت کرتے ہیں لیکن لڑنے کیلئے حوصلہ نہیں!”
بھارت نے اسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون کونہ صرف بڑھایا بلکہ عملی طورپر اسرائیلی اسلحے کے ساتھ ساتھ استعمال بھی کیا۔ خاص طورپرخودکش ہاروپ کامی کازڈرونزکوپاکستانی اہداف پر استعمال کیاگیا۔اسرائیلی ڈرونزکے استعمال نے پاکستان،کشمیراور دیگرمسلم خطوں میں شدیدردعمل کوجنم دیا۔یہودوہنود اتحادکے مقابلے میں مسلم جذبات میں بھی بیداری پیداہوگئی۔پاکستان میں پہلے ہی غزہ میں معصوم افرادکی بے رحمانہ شہادتوں پربہت ہی غم وغصہ پایاجاتا ہے اوراب بھارت نے اسرائیلی ڈرونزاوردفاعی ٹیکنالوجی کے استعمال پرپاکستان میں اسرائیل کے خلاف مزیداشتعال پیداہوگیااوراب بھارت نے اسرائیلی ڈرونزاوردفاعی ٹیکنالوجی کے استعمال پرپاکستان میں اسرائیل کے خلاف مزیداشتعال نے پاکستانی افواج پردباؤبڑھادیااورعوام کابے پناہ اعتماداپنی افواج کے ساتھ بڑھ گیا۔عوامی سطح پریہ سوالات اٹھنے لگے کہ کیاہندویہودی اتحادمسلم دنیاکودبانے کی نئی کوشش ہے؟
پاکستان نے عندیہ دیاکہ اگربھارت اسرائیلی مددسے پاکستان کونشانہ بناتاہے توپاکستان کوبھی اسرائیل کے خلاف اقدام کاحق حاصل ہے۔پاکستان کی طرف سے اسرائیل پرممکنہ ردعمل کی بات نے امریکاکومزیدپریشان کردیایہ وہ اہم نکتہ اورنازک صورتحال امریکا، اس کے مغربی اتحادی اوراسرائیل کیلئے ناپسندیدہ تھی،کیونکہ پاکستان کی جوابی پوزیشن ایک ایٹمی ملک کی حیثیت سے غیر معمولی خطرہ بن سکتی تھی۔یہی وہ”ریڈلائن”تھی جس سے امریکانے پیچھے ہٹنے کافیصلہ کیا۔
اگرہم مستقبل کے منظرنامہ پرنگاہ دوڑائیں توسوال پیداہوتاہے کیااس جنگی کامیابی کے بعدپاکستان چینی ٹیکنالوجی پرمزیدانحصار کرے گا؟جی ہاں، مستقبل میں پاکستان کاجھکاؤمزیدچین کی طرف ہوگا،اوریہ صرف ایک”حلیف”نہیں بلکہ”شریک”بننے کی طرف بڑھ رہاہے۔موجودہ صورتحال اور کامیاب مظاہروں کے بعد،پاکستان کیلئے چینی دفاعی تعاون میں مزیدگہرائی ممکن ہے۔جے-31 (اسٹیلتھ فائٹر)جیسے پراجیکٹس میں شمولیت لازم ہوگئی ہے۔دفاعی پیداوارمیں خودکفالت کیلئے چین کی ٹیکنالوجی کاحصول پاکستان کے دفاعی اداروں کی ترجیح بن چکاہے۔
مزیدبرآں جے ایف17تھنڈرکی اگلی جنریشن جے ایف20یابلاک4کی مشترکہ تیاری متوقع ہے۔پاکستان کیلئے ممکنہ اگلاہدف جے31 سٹیلتھ فائٹر گیری فالکن ہے جوکسی بھی جدیدطیارے کے مقابلے کاہے۔پاکستان اپنے دفاعی اداروں پی اے ٹی،ایچ آئی ٹی،این آرٹی سی کوچینی معاونت سے خودکفیل بنارہا ہے۔چین اورپاکستان کی مشترکہ دفاعی تربیت،جنگی مشقوں کیلئے شاہین سیریزاورسائبرڈیفنس میں تعاون بڑھ رہاہے۔پاک چین تعاون کے نتیجے میں پاکستان کامستقبل نہ صرف چین کی عسکری مددپرقائم ہوگابلکہ وہ خودبھی خطے میں ایک دفاعی مرکزبننے کی طرف گامزن ہے۔
آئیے اب دیکھتے ہیں کہ چین نے اس مقام پرپہنچنے کیلئے آخرکن اصولوں کادامن مضبوطی سے تھاماہے کہ آج اس نے عالمی طور پرخودکوناقابل تسخیرمنوالیا ہے۔چین نے اپنی معاشی ترقی کیلئے جنگ سے گریزکے اصول کواپنایاہواہے۔چین کاکہناہے کہ جنگ سے گریزکریں لیکن فیصلہ کن طورپرجیتنے کیلئےتیار رہیں ۔چین کی گزشتہ چاردہائیوں کی پالیسی میں فوجی جارحیت کی بجائے سفارتی دباؤ،معیشت،اورتزویراتی پوزیشننگ پرتوجہ رہی ہے۔چین کے عسکری مفکر”سن زو”کی کتاب”آرٹ آف وار”میں جنگ کابنیادی اصول یہ بتایاگیاہے کہ سب سے اعلیٰ جنگ وہ ہے جولڑی ہی نہ جائے اوردشمن بغیرتلوار اٹھائے ہارمان لے۔چین ہمیشہ ایسے حالات پیداکرتاہے کہ دشمن حملہ کرنے سے پہلے ہی خوفزدہ ہوجائے یاخودہی پیچھے ہٹ جائے۔چین نے اسی اصول پرعمل کرتے ہوئے سفارتی،معاشی اورتکنیکی میدان میں اپنی طاقت کواستعمال کیااورفوجی محاذپرخودکومحتاط مگرمکمل تیاررکھا۔
چین کی خاموش ترقی،دھماکہ خیزنتائج پالیسی کی حامل رہی ہے۔چین کامانناہے کہ جنگ نہ کرو،مگر اگروقت آئے تودشمن کو سنبھلنے کاموقع نہ دو۔حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں پاکستان نے سی چینی پالیسی پرعمل کیاہے۔چینی پالیسی کاتاریخی پس منظریہ ہے کہ چین نے آخری بڑی جنگ1979ءمیں ویتنام کے ساتھ لڑی۔اس کے بعد40برس سے زائد عرصے تک چین نے کسی براہ راست جنگ میں حصہ نہیں لیامگراس عدمِ شمولیت کوکمزوری یاسستی سمجھناایک بہت بڑی غلطی ہوگی۔
چین نے”غیرروایتی جنگی حکمت عملی”کواپنایا۔سائبروارفیئراورڈرون ٹیکنالوجی کی ترقی میں مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کرکے اس کے بہترین نتائج کودنیاسے منوایاہے۔بحری طاقت میں اضافہ کرتے ہوئے خاص طورپرجنوبی بحیرہ چین میں،چین کے جنگی بیڑے دنیاکے سب سے بڑے بیڑوں میں شامل ہوچکے ہیں۔چین کی جنگی حکمت عملی یہ ہے کہ دشمن کواپنے خطے میں داخل ہی نہ ہونے دیاجائے جس کیلئے اس نے جدیداینٹی ایکسیس ایریل ڈینائل اے2اوراے ڈی سسٹم کومتحرک کررکھاہے۔
چین کی پالیسی کادوسراحصہ یہ ہے کہ:
٭ اگرجنگ ناگزیرہوتوپہل چین کرے گا،اوراس جنگ کااہم پہلویہ ہوگاکہ اگرجنگ ہوتودشمن کو سنبھلنے نہ دو۔
٭ اس کی عملی حکمت عملی یہ ہوگی کہ پہلاواراتناکاری ہوکہ دشمن کوردعمل کاوقت نہ ملے۔
٭ الیکٹرانک جنگ سے دشمن کی مواصلاتی صلاحیت تباہ کردیاجائے۔
٭ سِپریسِی اورسرپرائزاٹیک حملے سے پہلے حریف کواندھیرے میں رکھنااوربعد ازاں ملٹی ڈومین وارفیئرمیں زمین،فضا،سمندر،سائبر اورخلامیں بیک وقت حملہ کرکے اپنی برتری قائم کرلی جائے۔
اس کی عملی مثال اور ماڈل یہ ہو گا کہ:
٭ چین کے اے ٹو،اے ڈی،اینٹی ایکسیس۔ایریاڈینائل میزائل یہ یقینی بنائیں گے کہ اگرامریکایااس کے اتحادی چین کے قریب آئیں توانہیں بڑھ کرچینی حدودمیں داخل ہونے سے پہلے نہ صرف روک دیاجائے بلکہ پہلے ہی مرحلے میں تباہ کردیاجائے۔
٭ چین نے کھلم کھلاجنگ چھیڑنے کی بجائے سایہ داردفاعی ترقی کی راہ اپنائی ہے جس کیلئے بنیادی اقدامت کے طورپرجے20اور جے31جدید ترین سٹیلٹھ جنگی طیارے،ڈی ایف17ہائپرسونک میزائل تیارکئے ہیں جنہیں روکناموجودہ کسی بھی دفاعی سسٹمزکیلئے روکنامشکل ہے۔
٭ سائبرواسپیس فورسزکی تشکیل،جن کاہدف دشمن کے انفراسٹرکچرکوابتدائی مرحلے میں مفلوج کرناہے۔
٭ بیلٹ اینڈروڈکے ذریعے عالمی سطح پراسٹریٹجک بندرگاہوں اورتنصیبات تک رسائی تاکہ بیک وقت ان کا استعمال فوری ممکن ہو اوردشمن کابروقت مضبوط محاصرہ کیاجاسکے۔
چینی قیادت جانتی ہے کہ ایک براہِ راست جنگ کے نتائج معاشی اورسیاسی طورپرنقصان دہ ہوسکتے ہیں—خاص طورپرامریکا کے ساتھ،اس لیے سائبروار اورپراکسی وارکوترجیح دی جاتی ہے۔اس لئے اقتصادی دباؤاورڈیجیٹل اثرورسوخ کو(مثلاًافریقااورلاطینی امریکامیں)جنگی ہتھیارکے طورپراستعمال کیاجاتا ہے۔
پاکستان کے ساتھ چین کااتحاد—اسی پالیسی کامظہرہے کہ پاکستان کوجدیدہتھیارفراہم کرکے چین نے ایک ایساپراکسی اسٹریٹجک شراکت دارحاصل کر لیا ہے جوجنوبی ایشیامیں میدانی جنگ کابوجھ اٹھاسکتاہے۔یہ اس بات کاثبوت ہے کہ چین خودجنگ سے گریز کرتاہے،مگراگراس کامفادخطرے میں ہوتووہ اتنے مضبوط اتحادی تیارکرتاہے کہ جنگ میدان میں نہیں،دماغ میں جیتی جائے۔
چین کی پالیسی ایک مثالی تزویراتی حکمت عملی ہے،جوبتاتی ہے کہ طاقت کااصل کمال یہ نہیں کہ تم لڑو،بلکہ یہ ہے کہ تمہارا وجودہی اتنامؤثرہوجائے کہ دشمن لڑنے سے پہلے ہارمان لے۔پاکستان کواس ماڈل سے سیکھ کراپنے عسکری،اقتصادی اورتکنیکی میدانوں میں بھی وہی جامعیت اوربیداری پیداکرنی چاہیے۔
چین کی چاردہائیوں پرمحیط دفاعی پالیسی کواگرایک جملے میں سمیٹاجائے تو وہ یہی ہوگا:جنگ نہ کرو،مگراگروقت آئے تودشمن کوسنبھلنے کاموقع نہ دو۔یہ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ چین کی عسکری فکر،خارجہ پالیسی،اورفوجی تیاریوں کی گہرائی پرمبنی ایک مکمل فلسفہ ہے۔چین نے1979ءکے بعدسے کسی بڑی جنگ میں عملی طورپرحصہ نہیں لیالیکن اس نے دفاعی لحاظ سے اپنے آپ کونہایت مستعد،متحرک اورسائنسی بنیادوں پرجدیدترین صلاحیتوں سے لیس کیاہے۔
اس حالیہ پاک بھارت جنگ میں ترکی نے ہمیشہ کی طرح پورے اخلاص کے ساتھ پاکستان کی مدد کااعلان کرتے ہوئے نہ صرف حوصلہ افزائی کی بلکہ کشیدگی سے پہلے اس کی پاک نیوی کے ساتھ مشترکہ مشقوں نے بھارت اوراس کے اتحادیوں کویہ پیغام پہنچادیاتھاکہ اگراس نے سمندرکی طرف سے کوئی غلطی کی تواس کوناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتاہے۔یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنے بحری بیڑے کی حرکت کااعلان توکیالیکن اپنی سرحدوں کے اندربھی بہت پیچھے رہاکیونکہ وہ سمجھتاتھاکہ اگراس نے مزیدغلطی کی توپاکستان نیوی کے اپنے میزائل اس قدرسرعت کے ساتھ دشمن کاتعاقب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ بحری بیڑے کے ساتھ اس پرلدے جنگی جہازبھی غرق ہوجائیں گے۔
یادرہے کہ ترکی کی ابھرتی ہوئی دفاعی صنعت اب اپنے تیارکردہ”بیراکٹارٹی بی2″ترک ڈرونز،میزائل نظام اورآبدوزٹیکنالوجی اب صرف ترکی کیلئے نہیں بلکہ قطر،آذربائیجان اوردیگرمسلم ممالک کیلئے بھی قابل بھروسہ آپشن بن چکی ہیں۔ پاکستان-چین تعاون کی وسعت کایہ عالم ہے کہ پاکستان کوچین سے ملنے والی دفاعی مدد نہ صرف بھارت کیلئے توازن کاباعث ہے بلکہ یہ سعودی عرب، مصر اورنائجیریاجیسے ممالک کیلئےبھی ایک مثال بنتی جارہی ہے۔
اس کے ساتھ ہی ایران کی عسکری خودانحصاری کایہ عالم ہے کہ اس نے مغربی پابندیوں کے باوجودمیزائل ٹیکنالوجی،ڈرونز،اور سمندری دفاع میں قابلِ ذکرترقی کی ہے۔اس کی ٹیکنالوجی یمن اورحزب اللہ جیسے اتحادی گروہوں تک بھی پہنچ چکی ہے۔یہ الگ بات ہے کہ مسلم نااتفاقی کی بناءپرایران اس وقت امریکی حصارسے نکلنے کیلئے پوری کوششیں کررہاہے۔
ترکی-پاکستان دفاعی معاہدے، قطر-ترکی اتحاد،ایران-عراق مشترکہ دفاعی فورمز،اورسعودی عرب کاپاکستان اوراردن سے تربیتی تعاون،ایک نئے اسلامی دفاعی بلاک کی جھلک دیتے ہیں اورمسلم ممالک میں باہمی دفاعی تعاون اس بات کامنتظرہے کہ خطے کے اسلامی ممالک کے قائدین سرجوڑکربیٹھیں ۔جب اسرائیل بھارت کوہتھیارفراہم کرتاہے تواس کابراہِ راست ردعمل اسلامی دنیامیں بڑھتے ہوئے اتحاداورہتھیاروں کی خودکفالت کی صورت میں سامنے آرہاہے۔اسرائیل اوربھارت کے دفاعی معاہدے اوراسلامی ردِعمل کے طورپرسامنے آنے کے قوی امکان اب پہلے سے کہیں زیادہ نظرآرہے ہیں۔
اسلامی دنیامیں عسکری توازن اب مغرب یاروس پرمکمل انحصارسے نکل کرایک باہمی،مشرقی اورخودمختاردفاعی ڈھانچے کی جانب بڑھ رہاہے۔یہ نہ صرف علاقائی طاقتوں کومضبوط کررہاہے بلکہ امت مسلمہ کوعالمی سطح پرنئے مقام کی طرف لے جارہا ہے۔اسلامی دنیا،جوکبھی ہتھیاروں اورعسکری ٹیکنالوجی میں مغرب کی محتاج رہی،اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ حالیہ برسوں میں چین،ترکی،ایران اورپاکستان جیسے ممالک کی ابھرتی ہوئی دفاعی خود کفالت اورباہمی تعاون،اسلحہ جاتی توازن میں بڑی تبدیلیوں کاپیش خیمہ بن چکاہے۔
پاکستان نے ایک جنگی مہم کے ذریعے اپنے دفاعی صلاحیتوں کوثابت کیا۔چین کوعالمی سطح پربرتری دلائی جس نے امریکاو مغرب کوایک خاموش پیغام دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان—تمام سیاسی انتشار،اقتصادی دباؤ،اورعالمی میڈیاکے تعصبات کے باوجود اب بھی اہم ہے،اورہمیشہ اہم رہے گا۔اس لئے ضروری ہے:
٭پاکستان کوچین کے ساتھ دفاعی تعاون کومزیدمستحکم کرناچاہیے۔
٭اسرائیلی دفاعی شراکت داریوں کاتجزیہ اورمتبادل بناناوقت کی ضرورت ہے۔
٭چین-پاکستان عسکری تربیت وپیداوارمیں مشترکہ ادارے قائم کیے جائیں۔
٭مغرب کو پیغام دیا جائے کہ پاکستان، خطے کی سلامتی اور توازن کا کلیدی ستون ہے اور عالمی امن کیلئے بہت اہم ہے اور آئندہ بھی ہمیشہ اہم رہے گا۔





