Dreams rising from the dust: The alliance between Iran and Pakistan

خاک سے اٹھتے خواب: ایران و پاکستان کا اتحاد

کبھی کبھی تاریخ آہیں بھرتی ہے اوراس آہ میں،وقت کے ساحلوں پرلمبااورگہراایک دکھ رہتاہے جس میں اتناوسیع،اتناسب استعمال ہوتا ہےکہ سب سے زیادہ فصیح زبان والے بھی خاموش ہوجاتے ہیں۔یہ وہ آہ تھی جوایران کے جنوبی ساحل سے اٹھی تھی،جہاں شہید رجائی بندرگاہ،جوکبھی تجارت اورقومیت کاقابل فخرسپاہی تھا،شعلے اوردھوئیں کے ستون کے نیچے گرگیا۔اس کاآغازسائرن سے نہیں ہوا،بلکہ غفلت کی خاموش آوازسے ہواایک چنگاری،نظرنہ آنے والی،بے خوف،ذخیرہ شدہ آگ کے دل میں بسی ہوئی ہے۔سوڈیم پرکلوریٹ،ایک نام جوشاید صرف جنگ میں تجارت کرنے والوں کیلئے جاناجاتا ہے ،انتظارمیں بیٹھے تھے۔ جب بیدارہواتواس نے سرگوشی نہیں کی بلکہ یہ گرجا۔

اس کے بعدآسمان تاریک ہوگیا۔زمین،ایک بارسمندرکی ہواکواس نے چوما،پھرآگ تھوکنے لگی اوراس غیظ وغضب کے درمیان،ایک قوم کھڑی رہی، اس کی سانسیں غم اورکفرکے درمیان پھنس گئی،اس کی روح اپنے ہاتھ کی حماقت سے جھلس گئی۔ایک لمحے میں چالیس سے زیادہ جانیں لے لی گئیں ایک ہزار سے زائدزخمی ہوگئے جن میں درجنوں عمربھرکیلئے معذور ہو گئے،وہ مردجنہوں نے مرنے کیلئے نہیں بلکہ اپنے خاندانوں کاپیٹ پالنے کیلئے کام کررہے تھے۔ وہ عورتیں جو آسمان کو خوف سے دیکھتی تھیں،اب ان کے بچوں کے خواب دھواں بن گئے ہیں۔پھربھی،حقیقی تباہی تعداد میں نہیں ہے،بلکہ اس کے بعدہونے والی خاموشی میں ہے۔باپ کی خالی کرسی پر،ایک غم زدہ بندرگاہ کے اوپرسیاہ آسمان میں ان کا سب کچھ لٹ گیا۔ اس علم میں کہ یہ درد ٹالنے کے قابل تھاکہ حکمت کوپناہ دی گئی،وہ فرض ٹل گیا۔

ہم جانتے ہیں کہ دنیاکے افق پرکبھی کبھارایسے واقعات ظہورپذیرہوتے ہیں جونہ صرف انسانی جانوں کی ارزانی کانوحہ بن جاتے ہیں،بلکہ تہذیبوں کے جگرچاک کرتے ہوئے بین الاقوامی منظر نامے پرگہرے ارتعاشات بھی پیداکرتے ہیں۔ایران کی شہیدرجائی بندرگاہ پرحالیہ ہولناک دھماکہ بھی انہی سیاہ ابواب میں رقم ہوا،جس نے سوالات کے نئے بھنورمیں قوم کوڈال دیاہے۔فضاؤں میں دھواں بکھرتاہے،زمین پرتپتی چنگاریاں برس رہی ہیں،اورایک قوم اپنے زخمی خوابوں کے ساتھ حیرت و استعجاب اورحسرت میں گم ہے۔ایران کی عظیم تجارتی بندرگاہ شہید رجائی پرہونے والادھماکہ صرف ایک معمولی حادثہ نہیں،بلکہ ایک تہذیبی نقیب ہے،جوتدبرسے محروم حکمرانی کے نقائص کوعیاں کرتاہے۔بندرعباس کے ساحلوں پرگونجتی یہ قیامت،جس میں چالیس سے زائدجانیں نذرہوئیں اورہزاروں زخمیوں کاخون رائیگاں بہا،اس امرکی غمازی کرتی ہے کہ سائنس،طاقت اورترقی کی دوڑمیں انسانیت کوکس بے دردی سے قربان کردیاگیا ہے ۔

ایران کی سب سے بڑی تجارتی بندرگاہ،شہیدرجائی،ایک خوفناک دھماکے کی لپیٹ میں آگئی،جس میں چالیس سے زائدافراد جاں بحق اورایک ہزارسے زیادہ زخمی ہوئے۔ابتدائی تحقیق کے مطابق،یہ سانحہ بندرگاہ پرذخیرہ شدہ بیلسٹک میزائلوں کے ٹھوس ایندھن،خاص طورپرسوڈیم پرکلوریٹ،کی نامناسب سنبھال کے نتیجے میں پیش آیا۔یہ واقعہ نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع ہے بلکہ ایران کی معیشت اوربین الاقوامی وقار کیلئےایک کاری ضرب بھی ہے۔

عالمی برادری نے تعزیتی پیغامات بھیجے اورامدادفراہم کی،لیکن سوال اب بھی برقرارہے کہ اس حساس موادکوعوامی مقام پرذخیرہ کرنے کی جسارت کیسے ہوئی۔اس حادثے نے ایران کے جوہری مذاکرات پربھی گہرے سائے ڈال دیے ہیں اور معیشت کی نازک ڈورکومزیدکمزورکردیاہے۔

ایران کی سب سے بڑی تجارتی شہیدرجائی بندرگاہ،جوخلیج فارس کے ساحل پرواقع ہے۔یہ ملک کی80%درآمدات اور برآمدات کامرکزہے،جس میں تیل،خوراک،اورصنعتی سامان شامل ہیں۔اس کی جغرافیائی پوزیشن اسے بین الاقوامی تجارت کیلئےاہم بناتی ہے۔شہیدرجائی بندرگاہ،بندرعباس کے پہلو میں،ہمیشہ سے ایران کے تجارتی بیڑے کامرکزی ستون رہی ہے۔

تاریخی طورپریہ خطہ،قدیم زمانے میں بندرسیران کے نام سے معروف،تجارتی قافلوں اورسمندری راستوں کاسنگم رہاہے۔ جدیددورمیں،1980کی دہائی میں،ایران-عراق جنگ کے دوران بھی یہ بندرگاہ ایرانی معیشت کی شہ رگ بنی رہی،جب دیگر راستے جنگ کی لپیٹ میں تھے۔ایران نے شہیدرجائی بندرگاہ کوجدیدخطوط پراستوارکرکے اسے عالمی تجارت کامرکز بنانے کاخواب دیکھامگرحالیہ دھماکہ اس خواب کی بنیادوں میں دراڑڈال گیاہے۔

دھماکاخطرناک کیمیائی موادکے ذخیرہ گاہ میں آگ لگنے کے بعدہوا،جس نے پورے علاقے کوتباہ کردیا۔ابتدائی رپورٹس میں اسے”حادثاتی” قراردیا گیا ، مگرتحقیقات جاری ہیں۔انتہائی المناک واقعہ میں ہلاکتیں زیادہ تربندرگاہ کے ملازمین،فائر فائٹرزاورقریبی رہائشیوں میں ہوئیں۔زخمیوں میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے،جس سے طبی سہولیات پردباؤبڑھ گیا ہے۔

یہ سانحہ ہمیں یاددلاتاہے کہ اقوام کی عظمت صرف عسکری قوت یااقتصادی ترقی سے نہیں بلکہ تہذیبی بلوغت،احتیاط اور دانشمندانہ حکمرانی سے مشروط ہوتی ہے۔شہیدرجائی کاحادثہ اس تلخ تاریخی حقیقت کوایک بارپھرآشکارکرتاہے کہ جب طاقت کے زعم میں حکمت اورتدبرقربان ہوجائیں توعظیم ترین تعمیرات بھی لمحوں میں مٹی کاڈھیربن سکتی ہیں۔

بین الاقوامی برادری نے تعزیتی بیانات بھیجے،فائرفائٹنگ جہازروانہ کیے گئے،مگرسوال اپنی جگہ قائم ہے:کیاصرف تعزیت کافی ہے جب عقل،دانش اوراحتیاط خودکشی پرآمادہ ہوں؟یہ سانحہ ہمیں یہ سبق دیتاہے کہ تہذیبیں صرف قوت کے بل پرزندہ نہیں رہتیں؛انہیں شعور،تدبراوراصولوں کے خمیرسے سینچاجاتاہے۔شہیدرجائی کے زخمی ساحل آج تاریخ سے یہی صدائیں دے رہے ہیں۔

ایرانی حکومت کاکہناہے کہ کیمیائی موادکی غلط ذخیرہ کاری سے آگ پھیلی،جودھماکے کاباعث بنی۔یہ موادصنعتی یافوجی مقاصد کیلئےاستعمال ہوتاہے۔ سوشل میڈیاپردعوے ہیں کہ چین سے درآمد شدہ راکٹ ایندھن بندرگاہ پرذخیرہ کیاگیاتھا،جو ایران کے فوجی اتحادوں کی طرف اشارہ کرتاہے۔ایرانی شہریوں نے سوشل میڈیاپرسوال اٹھائے ہیں کہ اتناخطرناک مواد آبادی کے قریب کیوں رکھاگیا؟ایرانی عوام حکومت کی شفافیت اورانتظامی کوتاہیوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔

اقتصادی بحران کاخطرہ پیداہوگیاہے کیونکہ اس حادثے کے بعدبندرگاہ کی عارضی بندش سے خوراک اورادویات کی سپلائی متاثرہوسکتی ہے،خاص طورپر چونکہ ایران پہلے ہی معاشی پابندیوں کے زیرِاثرہے۔تاہم ہنگامی اقدامات کااعلان کرتے ہوئے فائرفائٹرزاورریسکیوٹیموں کوفوری طورپرتعینات کیاگیا ہے ،مگرآگ کے پھیلاؤکی رفتارنے صورتحال کو کنٹرول سے باہرکردیاہے۔

بین الاقوامی انٹیلی جنس اداروں،بالخصوص ایمبری انٹیلی جنس کے انکشافات نے اس حادثے کومحض ایک تکنیکی غفلت کا نتیجہ ماننے سے انکارکیاہے۔ان کے مطابق،حادثے سے قبل وہاں وہ مخصوص کنٹینرزموجودتھے جن میں بیلسٹک میزائلوں کیلئےاستعمال ہونے والاٹھوس راکٹ ایندھن ذخیرہ کیاگیاتھا ۔ یہ”سوڈیم پرکلوریٹ”پرمبنی مواد،جوکہ انتہائی آتش گیرہے، دراصل مارچ2025میں ایران کے پرچم بردارایک جہازکے ذریعے اتاراگیاتھا۔یہ انکشاف اس سانحے کومحض مقامی غفلت کانہیں بلکہ بین الاقوامی سیاست اوراسلحہ کی دوڑکے خطرناک باب کاحصہ بناتاہے۔وہ مثل بےساختہ ذہن میں آتی ہے کہ:
جوآگ لگائے گااپنے آشیانے کو
اُسی کی دہکتی چتاہوگی سامان عبرت

ایمبری انٹیلیجنس کی رپورٹ کے مطابق بندرگاہ پربیلسٹک میزائلوں کیلئےمخصوص ٹھوس راکٹ ایندھن کاذخیرہ تھا،جسے نہایت غیرمحتاط اندازمیں رکھاگیا۔سوڈیم پرکلوریٹ،جوآتش کاایساناچ دکھاسکتاہے کہ آسمان کے چراغ بھی جھرجھری لے لیں،وہاں پڑاسلگتارہااورآخرکاراپنی ہلاکت خیزطبعیت کامظاہرہ کرگیا۔یوں محسوس ہوتاہے جیسے وقت کے صفحے پرایک بارپھروہی کہانی لکھی جارہی ہے جس میں غرورِطاقت کاانجام عبرت کاسامان بن جاتاہے۔ محاورہ ہے: جنہیں چاہے ہوائے دہر،بنادے خاک کاذرہ۔
جنوبی ایران کے ساحلوں پرواقع شہربندرعباس کی یہ بندرگاہ،جوایرانی معیشت کادھڑکتاہوادل تصورکی جاتی ہے،وہاں یہ ہنگامہ خیزلمحے میں،آتش وآہن کی لپیٹ میں آگئی۔دھماکہ،جیساکہ ابتدائی تحقیقات سے مترشح ہوتاہے،بندرگاہ کے اس گوشے میں برپاہواجہاں خطرناک کیمیائی موادکاذخیرہ موجودتھا۔المیہ یہ ہے کہ اس موادکی حفاظت میں وہ احتیاطی تدابیر روانہیں رکھی گئیں جوایک باشعوراورسائنسی ترقی یافتہ قوم سے متوقع تھیں۔

کیاایران بندرگاہ کوفوجی مقاصدکیلئےاستعمال کررہاتھا؟اگرہاں،تویہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے۔ خطرناک موادکومحفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنے کیلئےبین الاقوامی معیارات موجودہیں۔ایران نے ان پرعمل کیوں نہیں کیا؟انتظامی کوتاہیوں کاجواب بھی دیناہوگا۔سوال یہ بھی ہے کہ کیاحادثے کوایران کی داخلی سیاست یابیرونی دباؤکیلئے استعمال کیاجاسکتاہے؟مثال کے طورپر،اصلاح پسندوں اورقدامت پسندوں کے درمیان تناؤکی خیلج بھی دن بدن بڑھ رہی ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بقول شاعر”یہی اندازہیں قیصروں کے،یہی اطوارچلے آتے ہیں۔”

شہیدرجائی بندرگاہ نہ صرف ایران کی سب سے بڑی تجارتی بندرگاہ ہے بلکہ یہ ملک کی80 فیصد درآمدات کاذمہ دار مرکزہے۔اس بندرگاہ کی عارضی بندش نے فوری طورپرغذائی قلت اوررسد میں رکاوٹوں کے خدشات کو جنم دیاہے۔یوں یہ دھماکہ ایک انسانی المیہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شدیدمعاشی بحران کاپیش خیمہ بھی ثابت ہوسکتاہے۔معیشت جوجوپہلے ہی عالمی پابندیوں کے بوجھ تلے کراہ رہی ہے،اب اندرونی زخموں سے بھی چورچورہونے لگی ہے۔یہ سانحہ اس وقت پیش آیاجب ایران اورامریکاکے نمائندے عمان میں ایران کے جوہری پروگرام پراہم مذاکرات میں مصروف تھے کہ جوہری مذاکرات پرپڑنے والے سائے نے ساری دنیاکی توجہ اس کی طرف مبذول کردی ہے۔

ایران نے مذاکرات میں کچھ لچک تودکھائی ہے،جیسے کہ بعض پابندیوں کوتسلیم کرنے کاعندیہ،مگریورینیم افزودگی پر اپنے حق سے دستبرداری سے انکارواضح طورپرخطے میں تناؤکوبرقراررکھنے کااعلان ہے۔ایران کایہ اصرارکہ اس کا جوہری پروگرام صرف”شہری مقاصد”کیلئےہے،اب مزیدسخت جانچ کی کسوٹی پرپرکھاجائے گا۔

پھرعالمی مذاکرات پراس کاسیاہ سایہ،ایران کی سیاسی چالوں کوبھی بے نقاب کرتاہے۔کیاکوئی سنجیدہ ریاست اپنے جوہری موقف کی سچائی ثابت کرنے کے دوران ایسی شرمناک غفلت کی متحمل ہوسکتی ہے؟آج جب دنیا کی نظریں ایران پرجمی ہوئی ہیں،شہید رجائی کے زخمی ساحل گواہی دے رہے ہیں کہ جہاں عقل وحکمت کے چراغ بجھ جائیں،وہاں صرف ملبے کی فصل اُگتی ہے۔یہ واقعہ مذاکرات پرسوالیہ نشان لگاسکتاہے،خاص طورپراگریہ ثابت ہوکہ ایران میزائل ٹیکنالوجی پرکام کررہاہے،جو مغربی ممالک کیلئےتشویش کاباعث ہے۔ایران کااصرارہے کہ اس کاجوہری پروگرام پرامن ہے،مگرمغرب کوشبہ ہے کہ یہ ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت رکھتاہے۔

ہرقوم کی ترقی کی بنیادیں احتیاط اوردانش پررکھی جاتی ہیں،اورجب اقتدارکی مسندپر تغافل کی دھول جم جائے توسلطنتوں کے ستون لرزنے لگتے ہیں۔شہید رجائی بندرگاہ کادہماکہ اسی تغافل کی ایک المناک تمثیل ہے۔ایران،جواپنے جوہری پروگرام پرعالمی برادری سے دادودہش کامتقاضی ہے،اپنے داخلی نظم وضبط میں ایسی بھیانک لغزش کا مظاہرہ کرے،توسوال یہ پیدا ہوتاہ ے کہ”جواپنے گھرکونہ سنبھال سکے،وہ عالم کوکیا سنوارے گا؟

بیلسٹک میزائلوں کے ایندھن کی کھیپ کوعام تجارتی بندرگاہ پررکھ کرگویاحکمرانوں نے خوداپنے خوابوں کے جسم پرآگ کالباس چڑھادیا۔یہ اقدام محض ایک انتظامی غلطی نہیں،بلکہ ایک فکری افلاس کااعلان ہے۔اس حادثے نے ایرانی معیشت کی شہ رگ کوشدیدضرب پہنچائی ہے۔بندرگاہ کی بندش کا مطلب غذائی رسدمیں تعطل اوراقتصادی زندگی کازوال ہے۔

ایرانی قوم کے دل میں یہ سوال انگاروں کی طرح دہک رہاہے کہ آخراتنی خطرناک نوعیت کے موادکوتجارتی بندرگاہ جیسے عوامی مقام پربغیرکسی حفاظتی انتظامات کے کیوں رکھاگیا؟کیایہ محض ایک افسوسناک غفلت تھی یاکسی گہری سیاسی حکمت عملی کانتیجہ؟ایران میں عوامی سطح پراٹھنے والے یہ سوالات گویااپنے حاکموں سے یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ
ہم نے ماناکہ تغافل نہ کروگے لیکن
خاک ہوجائیں گے ہم،تم کوخبرہونے تک

شہیدرجائی بندرگاہ پرہونے والایہ حادثہ محض ایک صنعتی غفلت کاشاخسانہ نہیں،بلکہ ایک بڑی تہذیبی علامت ہے—ایک ایسی قوم کی جواپنے سائنسی وعسکری خوابوں میں اپنے انسانی تقاضوں کوفراموش کربیٹھی ہے۔یہ واقعہ عالمی برادری کیلئےبھی ایک تلخ یاددہانی ہے کہ علم وطاقت کے زعم میں تغافل،کسی بھی تہذیب کولمحوں میں مٹی میں ملاسکتاہے۔سوال یہ ہے کہ کیااس موقع پریہ ناگہانی حملہ ایک تہذیبی زوال ہے یاپھرایک سیاسی چال؟

شہیدرجائی کاالمیہ،احتیاط کی کوتاہی یااقتدارکاتغافل؟جب قومیں اپنی داخلی کمزوریوں پرپردہ ڈالنے لگیں اورعسکری قوت کے خوابوں میں احتیاط وحکمت کوبھلادیں،توایسے المناک حادثات ان کامقدربن جاتے ہیں۔شہیدرجائی بندرگاہ پرہونے والا دھماکہ صرف ایک صنعتی حادثہ نہیں بلکہ حکومتی عدم تدبرکی ایک تلخ علامت ہے۔بیلسٹک میزائلوں کے ایندھن جیسےحساس موادکا عوامی تجارتی بندرگاہ پرذخیرہ نہ صرف عقل ودانش سے انحراف تھابلکہ ریاستی اداروں کی غفلت کاکھلا اظہاربھی ہے۔

اس واقعے نے ایران کی معیشت کولرزادیاہے اورعالمی سطح پرایک سنگین تاثرچھوڑاہے کہ ایک جوہری طاقت کاخواہاں ملک اپنی بنیادی حفاظت کے اصولوں سے بھی ناآشناہے۔یہ لمحہ ایران کیلئےایک موقع ہے کہ وہ اپنی داخلی ترجیحات اورحکمرانی کے اندازپرازسرنوغورکرے،وگرنہ آنے والے دنوں میں اسے مزیدسنگین بحرانوں کاسامناکرناپڑسکتاہے۔یاد رہے کہ بندرگاہ کی بندش سے درآمدات میں 50% تک کمی کاتخمینہ لگایاجارہاہے،جس سے اشیاءکی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتاہے۔ایران گندم،چاول اوردالیں درآمدکرتاہے۔بندرگاہ کے بغیر،ذخائرصرف اگلے دوسے تین ہفتے تک چل سکتے ہیں۔ خوراک کی قلت کابھی شدیدسامناکرناپڑے گا۔اگربندرگاہ کی مرمت میں ہفتوں لگتے ہیں،تومعیشت کواربوں ڈالرکانقصان ہو سکتاہے۔

روسی صدرپوتن نے فوری طورپرخصوصی فضائی فائرفائٹنگ طیارے اورسسٹم ایران روانہ کرنے کاحکم دیا،جودونوں ممالک کے فوجی اتحادکوظاہرکرتا ہے ۔ یہ اقدام ایران-روس تعلقات کومزید مضبوط کرسکتاہے۔جبکہ چین نے اپنے شہریوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی،مگرواقعے کو”اندونی معاملہ” قرار دیکر سیاسی تبصروں سے گریزکیا۔چین کی وزارتِ خارجہ نے اپنے متاثرہ شہریوں کی خیریت کی اطلاع دی۔سعودی عرب،متحدہ عرب امارات،پاکستان، ترکی، جیسے ممالک نے تعزیتی پیغامات بھیجے،جوخطے میں تناؤکے باوجودانسانی ہمدردی کی عکاسی کرتے ہیں۔اقوامِ متحدہ اورکئی اہم ممالک نے تعزیتی پیغامات بھیجے ہیں۔یہ بین الاقوامی یکجہتی اپنی جگہ،مگر پسِ پردہ سفارتی چالیں اورجوہری مذاکرات کی حساس فضااس واقعے سے یکسرمتأثرہوچکی ہے۔

تاریخ کے صفحات پرکچھ مقامات اپنے کرداراورعظمت سے چمکتے ہیں۔بندرعباس کے دامن میں پھیلی شہیدرجائی بندرگاہ بھی انہی میں سے ایک ہے،جس نے صدیوں پرانی تجارتی روایات کابوجھ اپنے کاندھوں پراٹھارکھاتھا۔اس خطے میں قافلے آتے تھے،بادبان لہراتے تھے،اوردنیاکے کناروں سے سوداگروں کے قافلے اترتے تھے۔ایران نے جدیددنیامیں اسی روایت کوزندہ رکھنے کی کوشش کی جب1980کی دہائی میں شہیدرجائی بندرگاہ کوجدیدخطوط پراستوارکیاگیامگروقت کاجبر دیکھیے کہ یہی بندرگاہ آج اپنی ویرانی پرنوحہ کناں ہے۔

سوڈیم پرکلوریٹ جیسے خطرناک کیمیائی ایندھن کے ذخیرے نے اس مقدس تجارتی گہوارے کوخاکسترکردیا۔کیاہم بھول گئے کہ تہذیبیں مضبوط قلعے یا عسکری ہتھیاروں سے نہیں،بلکہ حکمت اوراحتیاط سے قائم رہتی ہیں؟ماضی کے عبرت انگیزمناظریاددلاتے ہیں کہ جب بغدادکی گلیوں میں خون کی ندیاں بہیں یاغرناطہ کے بام ودرپرشکستہ پرچم لہرایا،تویہ صرف عسکری شکست نہ تھی؛بلکہ تدبرکی،بصیرت کی اورسچائی کی شکست تھی۔

شہیدرجائی کاالمیہ ہمیں دوبارہ اسی تاریخ کی طرف متوجہ کررہاہے۔یہ وقت ہے کہ ایران اپنی داخلی کمزوریوں پرنگاہ کرے،ورنہ قافلے چھٹتے دیرنہیں لگتی اوروقت کی گردمیں عظمت کے آثارمٹ جاتے ہیں۔
رہتی دنیاتک ہوگا،وقت کایہ بے رحم سبق
عقل نہ ہوپاس توعلم بھی وبال بن جاتاہے

اے اہلِ ایران!اے صحراؤں اورسمندروں کے وارثو!
آج جب شہیدرجائی کی سرزمین پرراکھ کے انبارہیں،جب فلک زاروں پردھویں کی پرچھائیاں ناچ رہی ہیں،اورجب سمندرکی ماتم میں شریک خاموش موجیں سوال کرتی ہیں کہ کیایہ وہی خواب تھاجوتم نے اپنے اجدادکی قربانیوں سے سینچاتھا؟

اے کاروانِ عباس علمدار کےسپاہیو!
جب بندرعباس کے ساحل پرآگ کے شعلے بلندہوئے،تومحض چالیس جنازے نہیں اٹھے،ہزارزخمی نہیں تڑپے،بلکہ ایک قوم کی ساکھ،اس کی حکمت،اس کاوقار،راکھ کے طوفان میں بکھر گیا۔آپ نے راکٹوں کے ایندھن کوخزانے کی طرح جمع کیا،مگرعقل کے چراغ بجھادیے۔آپ نے آسمانوں کوچھونے کے خواب دیکھے،مگرزمین پربکھرتی احتیاط کونظراندازکر دیا۔کیاآپ نے یہ سوچاتھاکہ سوڈیم پرکلوریٹ کی مہلک سانسوں میں تمہارااپناوجودبھسم ہوجائے گا؟کیاکبھی یہ نہیں سوچاکہ دشمن کی کھلی آنکھیں یہ سب کچھ دیکھ رہی تھیں اورموقع ملتے ہی انہوں نے وہ کام کردکھایاجس نے آپ کے ہاں ماتم اور سوگواری کاموسم برپاکردیاہے۔

اے ملتِ ایران!تمہیں معلوم ہوناچاہیے کہ قومیں توپوں اورمیزائلوں سے نہیں،عقل وتدبرکی شمشیروں سے سرخروہوتی ہیں۔ تاریخ کی عدالت میں طاقت کے دیوتاپاش پاش ہوچکے ہیں، اور صرف وہی قومیں بچی ہیں جودانش کے خیمے میں پناہ گزیں رہیں۔

یادرکھو:جب غرورکے تخت پرتدبرقربان ہوتاہے،تواقتدارکے ستون ریت کی دیواربن جاتے ہیں۔جب احتیاط کی تلوارکندہو جائے،تودشمن کی ضرورت نہیں رہتی،تب اندرسے بوسیدگی موت کی دستک دیتی ہے۔آج دنیادیکھ رہی ہے،آج عمان کے دریاؤں کے کنارے مذاکرات ہورہے ہیں،مگرشہیدرجائی کے ملبے سے اٹھتی راکھ ان مذاکرات پرمشکوک سایہ ڈال رہی ہے۔

اے اہلِ ایران اب بھی وقت ہے،آج کے دکھ کوکل کی دانش میں بدل لو۔آج کی راکھ سے ایک نئی بصیرت کی شمع جلالوکہ وقت کاسمندرمنتظرنہیں ہوتا، اور قومیں جولمحے گنوادیتی ہیں،صدیوں کے اندھیروں میں گم ہوجاتی ہیں۔

میں صدقِ دل سے تمہیں بلاتاہوں کہ اٹھو:خودکوتعمیرکروتاکہ دنیاگواہی دے کہ ایران پھراٹھاہے،عقل کے،تدبرکے،حکمت کے پروں پرسوارہوکر۔

اے فرزندانِ خاکِ ایران!اے وہ لوگو،جو کہن سال تہذیبوں کے وارث ہو،جن کے خون میں تختِ جمشیدکی عظمت ہے،جن کے خوابوں میں قادسیہ کی تپش ہے،اورجن کی سانسوں میں بحرِعمان کی ہواکاغروربساہے۔آج میں تم سے اس لمحے مخاطب ہوں جب شہیدرجائی کی بندرگاہ پرامیدوں کے چراغ بجھ چکے ہیں،جب خاکسترہو چکی تجارت کی وہ عظیم روایت جوصدیوں سے تمہاری معیشت کی روح تھی،جب دھماکوں کی گونج نے تمہیں تمہارے غرور،تمہاری غفلت،تمہاری نادانی کانوحہ سنایاہے۔

تم نے دیکھاکہ کیساہلاکت خیزکھیل کھیلاگیا،جہاں راکٹوں کاایندھن تھا،جہاں سوڈیم پرکلوریٹ کی مہلک سانسیں تھیں،وہاں احتیاط کے حصارنہ تھے،عقل کے قلعے منہدم تھے،دانش کی باریک دیواریں ریزہ ریزہ ہوگئیں۔آج جب ہم سب ملبے پرکھڑے ہیں تویہ ملبہ محض دھاتوں اورپتھروں کانہیں،یہ ہماری دانش کاملبہ ہے،ہماری تدبیرکاجنازہ ہے،ہماری قیادت کی بصیرت کاماتم ہے۔

اے ملتِ ایران!یادرکھو!تاریخ بڑی بے رحم ہے،وہ اُن قوموں کوبھول جاتی ہے جواپنی غلطیوں سے سبق نہ سیکھیں،اوروہ اُنہیں امرکردیتی ہے جوماضی کی راکھ سے مستقبل کاقصرتعمیرکریں۔ہمیں یہ مان لیناچاہیے کہ ہم طاقت کے جنون میں ہوش کھوبیٹھے،ہم نے ترقی کے سفرمیں احتیاط کاچراغ گرادیا،ہم نے طاقت کوعقل سے آزادکردیا،اوریہی وہ لمحہ تھاجب زوال نے ہمارادروازہ کھٹکھٹایا۔

آج میں تمہیں دعوت دیتاہوں آؤ،شہیدرجائی کی ویران سرزمین پرایک نیاعہداٹھاؤ۔ایساعہدجوعقل کاہو،تدبرکاہو،اصول کاہو،ہمیں راکٹوں سے زیادہ دانش کے میزائل چاہیے،ہمیں ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ علم کااسلحہ چاہیے،ہمیں بندرگاہوں میں ایندھن سے زیادہ تدبرکے گودام چاہیے۔

آج وقت نے ہمیں ایک بارپھرایک فیصلہ کن موڑپرلاکھڑاکیاہے۔اس نازک اورحساس دورمیں جب ہماری سرزمینوں پر خطرات منڈلارہے ہیں،اب وقت آچکاہے کہ ایران اورپاکستان، دو برادراسلامی ممالک،اپنے تاریخی،ثقافتی اورمذہبی رشتوں کوایک مضبوط اورمتحرک اتحادمیں ڈھالیں۔جب دریا سوکھنے لگیں،جب بچوں کی پیاس بجھانے والے چشمے دشمنی کی آگ میں جھلس جائیں،اورجب آسمان پربارودکے بادل چھاجائیں—تب انسان اپنے بھائی کو پکارنے لگتاہے۔

پاکستان اس وقت آبی جارحیت کاسامناکررہاہے،جہاں بھارتی حکومت،مودی کی قیادت میں،سندھ طاس معاہدے کوختم کرنے کی دھمکیاں دے رہی ہے ۔ یہ عمل صرف پاکستان کی سلامتی ہی نہیں،بلکہ پورے خطے کے امن کوخطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔دوسری جانب اسرائیل،جوبھارت کاقریبی حلیف ہے،اسی جارحانہ سوچ کوعالمی سطح پرپھیلارہاہے—نہ صرف غزہ میں بےگناہوں کاخون بہارہاہے بلکہ اب انڈیاکے ہزاروں افرادکوجنگ کاحصہ بنا کراس ظلم میں شریک ہوچکاہے۔

پاکستان پرمودی کی آبی جارحیت ایک خاموش جنگ ہے—پانی کوہتھیاربناکرہماری دھرتی کی سانسیں روکنے کی کوشش ہورہی ہے۔یہ وہی مودی ہے جس کے اشارے پرہزاروں بھارتی جنگجوغزہ میں معصوموں کاخون بہارہے ہیں۔ اوراسی مودی کے پیچھے اسرائیل کھڑاہے—وہی اسرائیل جوبرسوں سے ایران کی سرحدوں پرزہربورہا ہے،جوتہران کو تنہاکرنے کے خواب دیکھ رہاہے۔ایران بھی ایک عرصے سے صیہونی جارحیت کے خلاف مدافعت کی علامت بناہواہے۔ہمیں یادرکھناچاہیے کہ ہمارادشمن ایک ہے—وہ جوہمارے درمیان تفرقہ پیداکرناچاہتا ہے ،جوہمارے وسائل پرقبضہ اورہماری خودمختاری کوچیلنج کرتاہے۔یہ وقت ہے کہ ہم ایک صف میں کھڑے ہوں،اپنی مشترکہ اقدار ،سلامتی اورمستقبل کیلئےایک آوازبنیں۔ایران اورپاکستان کا اتحادنہ صرف دشمنوں کے عزائم کوناکام بنائے گا،بلکہ پوری امتِ مسلمہ کیلئےامیداور استقامت کی علامت بنے گا۔

مگرکیادشمن ہمیں بھول گیا؟کیاوہ بھول گیاکہ کربلاسے ہمیں صبر،غیرت اورمزاحمت ورثے میں ملی ہے؟کیاوہ بھول گیاکہ اسلام آباداور تہران،لاہوراور شیرازکارشتہ فقط زبان کانہیں،دلوں کاہے؟جب فلسطین جلتاہے توایران اورپاکستان کے دل سے آہیں نکلتی ہیں،اورجب کشمیرسسکتاہے توپاکستان کے بچے بھی نعرۂ حریت بلندکرتے ہیں۔
خاکسترسے قصراٹھائیں گے،
زخموں سے چراغ جلائیں گے،

اے ایران!اے سرزمینِ حُسینؑ
اے پاکستان!اے ارضِ شہداء!
اٹھو:غفلت کی زنجیریں توڑدو،خوف کی دیواریں گرادو،فرسودہ سوچوں کی بیڑیاں کاٹ دو،وقت کے سمندرپرایک نیاسفینہ تراشو،ایساسفینہ جواصولوں کی بادبانی سے چلے،ایساسفینہ جسے حکمت کی ہوادھکے دے۔آج شہیدرجائی ہم سے مطالبہ کر رہاہے کہ ہم صرف مرثیہ نہ کہیں،صرف ماتم نہ کریں،بلکہ نئی زندگی کی قندیل جلائیں،اوردنیاکودکھائیں کہ ایران،ہزارزخم کھاکربھی،اپنے زخموں سے چراغ بناناجانتاہے۔ خداکی قسم!اگرہم نے آج کے اس المیے کوبصیرت میں ڈھال لیا،توکل شہید رجائی کی راکھ سے ایک نیاایران جنم لے گا، ایساایران جس کے دریا،پہاڑاور ریگزارگواہی دیں گے کہ ایرانی قوم اپنے خوابوں کی قیمت جانتی ہے،اورانہیں تعمیرکرنے کاہنربھی۔

اب وقت ہے کہ ہم اپنے اختلافات بھول کر،اپنی دشمنیوں کودفن کرکے،ایک نئی صبح کی بنیادرکھیں۔ایک ایسی صبح جہاں ایران اورپاکستان،ظلم کے خلاف ایک دیوارہوں۔جہاں ہماری یکجہتی دشمن کے ایوانوں کوہلادے۔جہاں مائیں اپنے بیٹوں کو کوشیربننے کادرس ایران وپاکستان کے اتحادکی کہانی سُناکردیں۔

آئیں،ہاتھ میں ہاتھ ڈال کردشمن کوبتادیں،ہم نہ پانی چھیننے دیں گے،نہ ایمان۔نہ غزہ تنہاہے،نہ کشمیر۔ہم ایک ہیں،اورایک رہیں گے—ایک جسم،ایک آواز ،ایک عزم۔آئیے،مل کر ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں،اوردنیاکوبتادیں کہ برادرقومیں جب ایک ہوجائیں توکوئی طاقت انہیں جھکانہیں سکتی۔وقت آگیاہے کہ ہم یکجاہوں۔ایران وپاکستان—خون سے سینچاہوارشتہ،جو اب فولادبننے جارہاہے۔دوستی نہیں،برادری ہے—اوربرادری کبھی جھکتی نہیں۔۔ ۔ خداہمیں بصیرت دے،استقامت دے،اور کامیابی دے۔عربی کا ایک قطعہ یاد آ گیا،اس کاترجمہ حاضرہے:
راکھ کے نیچے خوابوں کی کرنیں ہیں،
ویران فضاؤں میں امیدوں کی گھنگھنیاں ہیں۔
جہاں آگ بھڑکی،وہیں روشنی پھوٹے گی،
جہاں زخم اُبھرا،وہیں قوت جھلکے گی۔
ہم وہ قوم ہیں جوخاک سے دستاربناتی ہے،
اندھیروں سے صبحوں کی نویدلاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں