Board of Peace: Justice or Domination

بورڈ آف پیس: انصاف یا غلبہ؟

معززصدرِاجلاس،قابلِ احترام معززمندوبین،دانشوروں اورعالمی برادری کے معززنمائندوں!
میں آج اس بین الاقوامی فورم پرایک ایسے موضوع پرگفتگوکیلئے کھڑاہوں جوبیک وقت امن،اقتدار،اخلاق اورتاریخ چاروں کا امتحان ہے۔ میری یہ گزارش محض کسی ایک ملک،کسی ایک خطے یاکسی ایک ادارے کے بارے میں نہیں، بلکہ عالمی نظام کی روح کے بارے میں ہے۔میں اپنی معروضات کو واضح،مربوط اورتاریخی تسلسل کے ساتھ پیش کروں گا،تاکہ گفتگوجذبات نہیں بلکہ شعورکی بنیادپرآگے بڑھے۔

تاریخِ عالم میں امن ہمیشہ ایک مقدس خواب رہاہے،مگراس خواب کی تعبیراکثرطاقت کے ہاتھوں مسخ ہوتی رہی ہے۔سلطنتِ روم سے لے کرجدیداقوامِ متحدہ تک،ہرعہدمیں امن کے نام پرایسے ادارے قائم ہوئے جوبظاہرانسانیت کے زخموں پرمرہم رکھنے آئے،مگررفتہ رفتہ خوداقتدار،غلبے اورمفادات کے استعارے بن گئے۔

حضراتِ اہلِ نظر!
قوموں کی زندگی میں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جومحض حال کاحصہ نہیں رہتے،بلکہ مستقبل کی سمت متعین کردیتے ہیں۔یہ وہ ساعتیں ہوتی ہیں جب تاریخ اپنے معمول کے بہاؤکوروک کرسوال کرتی ہے،کیاتم نے طاقت کوچنایاانصاف کو؟آج ہم ایسے ہی ایک نازک اورفیصلہ کن لمحے کے سامنے کھڑے ہیں، جہاں’امن‘کے نام پرایک نیاعالمی ادارہ بورڈآف پیس وجودمیں آیاہے،ایک ایساادارہ جسے غزہ میں جنگ بندی،تعمیرِنو اورعبوری حکمرانی کی نگرانی کافریضہ سونپاگیا،مگرجس کے خدوخال ابتداہی سے سوالات میں گھرے ہوئے ہیں۔یہ محض ایک ادارہ نہیں،بلکہ عالمی سیاست کی سمت متعین کرنے کی ایک کوشش ہے؛ایک ایساتجربہ جس میں امن،طاقت کے ترازو میں تولاجارہاہے۔اوردنیاتذبذب،امیداورخوف کے سنگم پرکھڑی ہے۔

امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کی جانب سے غزہ کی تعمیرِنواوراسرائیل وحماس کے مابین جنگ بندی کومستقل شکل دینے کیلئے جس ادارے کااعلان کیاگیا،وہ بظاہرامن کاپیامبراوردرحقیقت طاقت کے نئے بیانیے کامظہرہے۔ٹرمپ کے الفاظ میں،’بورڈآف پیس‘ کامقصد اسرائیل اورحماس کے درمیان جنگ بندی کومستقل بنانااورغزہ میں ایک عبوری حکومت کی نگرانی کرناہے۔’بورڈآف پیس‘کاقیام ایک ایسے دورمیں عمل میں آیاہے جب عالمی سیاست میں اخلاقی اصول پس منظرمیں اورمفادات پیش منظرمیں ہیں۔انڈیاکواس بورڈمیں شمولیت کی دعوت دینامحض سفارتی روایت نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے شطرنجی کھیل کی ایک چال ہے،جس میں ہرمہرہ اپنے وزن سے زیادہ بوجھ اٹھانے پرمجبورہے۔

ٹرمپ کے بیان کے مطابق، اس بورڈکامقصدنہ صرف جنگ بندی کی نگرانی بلکہ غزہ میں ایک عبوری حکومت کےقیام کی سرپرستی بھی ہے۔مگرسوال یہ ہے کہ کیاامن بندوق کی نالی سے نکل سکتاہے؟اورکیاوہ امن ،جوایک طاقتورصدرکی صوابدیدپرکھڑا ہو،دیرپاہوسکتاہے؟تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ جب بھی کسی طاقتورریاست نے کسی کمزورخطے میں عبوری نظم کااعلان کیا،تواس کے پیچھے نظم سے زیادہ اختیاراورنگرانی سے زیادہ تسلط پوشیدہ رہا۔عالمی تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہرامن کا اعلان لازماًامن پرمنتج نہیں ہوتا۔بظاہراس بورڈکامقصدنہ صرف جنگ بندی کی نگرانی بلکہ فلسطینی علاقے میں ایک عبوری حکومت کی سرپرستی بتایاگیاہے—اوریہی پہلو اسے محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی اورتاریخی مسئلہ بنادیتاہے۔غزہ،جوپہلے ہی محاصرے،بمباری اورانسانی المیوں کی علامت بن چکاہے،اب ایک نئے عالمی تجربے کی آماجگاہ بننے جارہاہے۔ سوال یہ نہیں کہ تعمیرِنوکی ضرورت ہے—سوال یہ ہے کہ کس کی نگرانی میں،کن شرائط پر،اورکس کے مفادمیں؟

صدرِ محترم!
امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے غزہ کی تعمیرِنواوراسرائیل وحماس کے درمیان جنگ بندی کومستقل بنانے کیلئے جس بورڈکااعلان کیا، وہ بظاہرانسانیت کاپیامبر ہے،مگرباطن میں اقتدارکی وہی پرانی خواہش موجزن ہے جوتاریخ کے ہرسامراجی دورمیں نظرآتی ہے۔یہ سوال بے محل نہیں کہ کیاامن وہ شے ہے جسے طاقتورعطاکرے؟یاامن وہ امانت ہے جوانصاف کے بغیرقائم ہی نہیں رہ سکتی؟

مودی ان رہنماؤں میں شامل تھاجسے اس بورڈکی دعوت دی گئی،یہ دعوت ایک رسمی اقدام نہیں تھی بلکہ انڈیا کے خطے میں آبادی کے لحاظ سے ایک بڑے ملک کی حیثیت سے ذمہ داری عائد کرنے کی کوشش بھی تھی۔انڈیاکوبورڈآف پیس میں شمولیت کی دعوت دینامحض سفارتی آداب نہیں،بلکہ ایک بڑاسیاسی امتحان ہے۔مودی کوبورڈآف پیس میں شمولیت کی دعوت دینامحض رسمی اقدام بھی نہیں تھا۔یہ دراصل انڈیا کوایک ایسے موڑپرلاکھڑاکرنے کی کوشش تھی جہاں ہرراستہ کسی نہ کسی قیمت کاتقاضاکرتاہے مگرجب ڈیوس میں’بورڈآف پیس‘کاباضابطہ آغازہواتوانڈیاکی غیرموجودگی نے کئی سوالات کوجنم دیا۔یہ خاموشی سفارتی حکمتِ عملی تھی یا فکری تذبذب؟اوراس غیرموجودگی نے خودایک سفارتی بیان کی حیثیت اختیارکرلی ہے۔انڈیا،جوخودکوایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کے طورپرپیش کرتاہے،اس مرحلے پرفیصلہ کرنے سے گریزاں دکھائی دیتا ہے۔شایددہلی کے ایوانوں میں یہ سوال گردش کررہاہے کہ یہ بورڈ امن کی شمع ہے یاامریکی مفادات کاچراغ؟

جب ڈیوس میں بورڈ آف پیس کے باضابطہ آغازپرانڈیاکی غیرموجودگی خودایک سیاسی بیان بن گئی۔دہلی کی اس خاموشی میں کئی آوازیں چھپی تھیں۔ایک آوازمفادات کی اور دوسری اس خوف کی کہ کہیں فیصلہ نہ کرنے کافیصلہ بھی نقصان دہ ثابت نہ ہو۔تاہم یہ وہی علامتی تذبذب ہے جوقوموں کے ذہنی انتشار کی چغلی کھاتاہے۔مودی کانام دعوت نامے میں شامل تھا،مگرڈیوس میں بورڈکے باضابطہ آغازپرانڈیاکی غیرموجودگی نے خاموشی سے بہت کچھ کہہ دیا۔یہ خاموشی شایداس احساسِ ندامت کااظہارہے کہ ہردعوت عزت نہیں ہوتی،اورہرپلیٹ فارم غیرجانبدارنہیں ہوتا۔

غزہ،جوپہلے ہی تاریخ کے سب سے طویل محاصروں،بے مثال تباہی اورانسانی کرب کی علامت بن چکاہے،اب ایک نئے عالمی تجربے کی تجربہ گاہ بنایاجارہا ہے۔تعمیرِنوکی بات ضرورکی جارہی ہے،مگریہ واضح نہیں کہ یہ تعمیراینٹوں کی ہوگی یااختیارکی؟ اورعبوری حکومت،اگرقائم ہوئی،تووہ عوام کی نمائندہ ہوگی یاعالمی طاقتوں کی نگرانی میں چلنے والاایک انتظامی سایہ؟

پاکستان،ترکی،سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات جیسے ممالک کابورڈآف پیس میں شامل ہوناایک طرف تواس امیدکی علامت ہے کہ شایداس پلیٹ فارم کے ذریعے انسانی المیے میں کچھ کمی آئے،مگردوسری طرف یہ حقیقت بھی عیاں ہوتی ہے کہ عالمی سیاست میں شمولیت اکثراختیارکانہیں،بقاکاسوال بن جاتی ہے۔علاوہ ازیں پاکستان،ترکی،سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات جیسے ممالک کا اس بورڈ میں شامل ہونایہ بھی ظاہر کرتاہے کہ عالمی سیاست میں اصولوں سے زیادہ جغرافیہ اورمعیشت بولتی ہے۔ٹرمپ کے مطابق 59ممالک نے دستخط کیے،مگرتقریب میں محض19ممالک کی موجودگی اس حقیقت کوبے نقاب کرتی ہے کہ بہت سے دستخط خوف ،دباؤیامصلحت کے قلم سے کیے گئے ہیں یعنی اس امرکی شہادت ہے کہ بہت سے ممالک نے کاغذپرشمولیت اختیارکی،مگر دل سے نہیں۔یہ فرق ہمیں بتاتاہے کہ عالمی سیاست میں تحریری رضامندی اورعملی شمولیت ہمیشہ ہم معنی نہیں ہوتیں۔

ٹرمپ نے اس موقع پرکہا”آپ دنیاکے سب سے طاقتورلوگ ہیں”دراصل ایک نئے عالمی فلسفے کی ترجمانی کرتاہے۔ٹرمپ کایہ جملہ محض خطاب نہیں، بلکہ ایک نظریہ ہے۔طاقت کی وہ نئی لغت ہے جس میں اخلاق،قانون اورانصاف ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔جہاں طاقت کامعیاراخلاق نہیں بلکہ اثرورسوخ ہے۔ایسی طاقت جس کا تعلق نہ اخلاق سے ہے،نہ قانون سے،بلکہ محض قربت اوروفاداری سے ہے۔یہ وہ طاقت ہے جواداروں کوکمزوراورافرادکومضبوط کرتی ہے۔یہ جملہ محض تحسین نہیں،بلکہ طاقت کی ایک نئی تعریف ہے،ایسی طاقت جوقانون سے نہیں بلکہ اثرورسوخ سے جنم لیتی ہے،اورایسی قوت جو اداروں سے نہیں بلکہ شخصیات سے وابستہ ہوتی ہے۔آذربائیجان،پیراگوئے اورہنگری جیسے ممالک کوایک ہی سانس میں دنیاکے طاقتورلوگوں کی صف میں کھڑاکرنا،اس حقیقت کوآشکارکرتاہے کہ طاقت اب اصولوں کی نہیں،صف بندی کی مرہونِ منت ہے۔جہاں چھوٹے ممالک بھی بڑی طاقتوں کے سائے میں خودکومحفوظ سمجھنے لگے ہیں۔

آج انڈیامیں اس سوال پرسنجیدہ بحث جاری ہے کہ آیااسے بورڈآف پیس میں شامل ہوناچاہیے یانہیں۔کئی سابق سفارتکاراس کی مخالفت کررہے ہیں،اس بنیادپرکہ یہ بورڈ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد2803 سے متصادم ہے،جوغزہ کی عبوری انتظامیہ کیلئے پہلے ہی ایک واضح،مدت بنداورجواب دہ فریم ورک فراہم کرچکی ہے۔اس قراردادکی مدت،رپورٹنگ کی شرائط اوروقتی حیثیت اس بات کی ضمانت ہیں کہ یہ بندوبست مستقل عالمی ماڈل نہ بنے۔

بورڈآف پیس اس قراردادکے بالمقابل ایک ایساادارہ ہے جس کی نہ مدت مقررہے،نہ جواب دہی کاواضح نظام۔اس کے برعکس بورڈ آف پیس غیرمعینہ مدت کاحامل ہے۔براہِ راست سلامتی کونسل کوجواب دہ نہیں اوراس کے اختیارات ایک فردکے گردمرکوزہیں۔یہ فرق محض انتظامی نہیں بلکہ فلسفیانہ ہے—یہ قانون کی بالادستی اورشخصی اقتدارکے درمیان فرق ہے۔انڈیاکی یہ خاموشی نہ مکمل انکارہے،نہ واضح قبولیت۔یہ اس کشمکش کی علامت ہے جس میں ایک متعصب ہندتواطاقت یہ سوچ رہی ہے کہ شامل ہوکراصول قربان کیے جائیں؟یاالگ رہ کراثرورسوخ کھودیاجائے؟یہی وہ مخمصہ ہے جسے تاریخ بارباردہراتی ہے،اورجس میں قوموں کاقدناپا جاتاہے۔تاہم انڈیاکی خاموشی کی زبان تذبذب کاکھلااظہارہے۔

پاکستان،ترکی،سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات کی شمولیت اس حقیقت کی غمازہے کہ عالمی سیاست میں فیصلے ہمیشہ اصولوں کی بنیادپرنہیں ہوتے۔کچھ ممالک نے اس بورڈکوامیدکے طورپردیکھا،کچھ نے خوف کے تحت قبول کیا،اورکچھ نے محض سیاسی مصلحت کے تقاضے پورے کیے۔

سلامتی کونسل کی قراردادکے تحت قائم نظام کی مدت31دسمبر2027تک ہے اوراسے ہرچھ ماہ بعدرپورٹ پیش کرنالازم ہے۔اس کے برعکس،بورڈآف پیس کی نہ کوئی مقررہ مدت ہے اورنہ اس کادائرۂ اختیارغزہ تک محدود دکھائی دیتاہے۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں تشویش جنم لیتی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جو ادارے مدت کے بغیرقائم کیے گئے،وہ جلدیابدیراقتدارکے قلعے بن گئے۔بورڈآف پیس کی غیرمعینہ حیثیت اسے ایک ایسے تجربے میں بدل دیتی ہے جس کاانجام پیش گوئی سے باہرہے۔یہ ادارہ،اپنی ساخت میں،اقوامِ متحدہ سے زیادہ ایک نجی کلب کاتاثردیتاہے،جہاں شمولیت،اخراجات اوراثرورسوخ سب ایک ہی مرکزسے پھوٹتے ہیں۔

یہ بورڈ،جس کی کوئی معیادمقررنہیں،محض شراکت داری نہیں بلکہ نجی کلب کاتاثردیتاہے۔تنخواہیں،اخراجات اورمستقل رکنیت سب ٹرمپ کی صوابدیدسے جڑے ہیں۔یہ صورتحال امریکی صدارت کوعالمی سیاست میں غیرمعمولی تقویت دیتی ہے،اوریہی امردنیابھر میں تشویش کاسبب بن رہاہے۔

بورڈکے حامی انڈین سفارتکاروں کامؤقف ہے کہ انڈیاکی شرکت گلوبل ساؤتھ کے خدشات کوتقویت دے گی مگرناقدین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگرفیصلہ سازی کامرکزواشنگٹن میں ہو،تودہلی کی آوازکہاں تک سنی جائے گی؟اندیشہ یہ ہے کہ انڈیاکی موجودگی محض اسرائیلی موقف کی نرم توثیق بن کرنہ رہ جائے ۔بورڈآف پیس کے چارٹرمیں ٹرمپ کوجوغیرمعمولی اختیارات دیے گئے ہیں—ویٹو، تقرری،برطرفی،تحلیل اورجانشینی—وہ کسی بھی جمہوری یاکثیرالقومی ادارے کے تصورسے مطابقت نہیں رکھتے۔یہ اختیارات ادارے کونہیں،شخص کومضبوط کرتے ہیں۔جہاں چیئرمین مطلق العنان حیثیت کاحامل نظرآتا ہے ۔

اقوامِ متحدہ کے بعض عہدیداریہ عندیہ دے چکے ہیں کہ بورڈآف پیس کاماڈل دیگرتنازعات پربھی لاگوکیاجاسکتا ہے۔اسی وجہ سے بہت سے حلقے اسے اقوامِ متحدہ کے متبادل کے طورپردیکھ رہے ہیں—اوریہ تصورعالمی نظام کیلئے ایک گہرا سوال بن چکاہے۔اقوامِ متحدہ کے بعض عہدیداروں کایہ اشارہ کہ یہ ماڈل دیگر تنازعات میں بھی استعمال ہوسکتاہے،اس خدشے کوتقویت دیتاہے کہ ’بورڈآف پیس ‘ایک متوازی عالمی نظام کی بنیاد رکھ رہاہے۔خودٹرمپ کے بیانات اس بورڈکے کردارپرشکوک کومزیدگہراکرتے ہیں۔ایگزیکٹوبورڈکے ارکان میں ٹرمپ کے ذاتی دوست،سابق برطانوی وزیرِاعظم،داماد،اورامریکی کارپوریٹ دنیاکے نمائندے شامل ہیں۔ یہ فہرست غیر جانبداری سے زیادہ قربت کاپتہ دیتی ہے اور ٹرمپ سے وفاداری کادائرہ کارمضبوط نظرآتاہے۔

اقوامِ متحدہ،اپنی تمام کمزوریوں کے باوجود،ایک اصول کی نمائندہ ہے۔یہ اصول کہ دنیاصرف طاقت سے نہیں،بلکہ قانون سے چلنی چاہیے۔سلامتی کونسل کی قرارداد2803،جس میں غزہ کی عبوری نگرانی کیلئے واضح مدت اورجواب دہی کانظام موجودہے،اسی اصول کی مثال ہے۔بورڈکے حامی انڈین سفارت کاروں کاکہناہے کہ یہ ادارہ اقوامِ متحدہ کوچیلنج نہیں کررہا،کیونکہ اس کی نمائندگی محدودہے۔وہ اسے جی20کے متوازی ایک فورم قراردیتے ہیں،مگرتاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ آج کے محدودفورم کل کے فیصلہ کن مراکزبن جایاکرتے ہیں۔

پاکستان کامؤقف بظاہرواضح ہے:جنگ بندی،انسانی امداداورتعمیرِنومگرچارٹرکی مبہم شرائط—خصوصاًرکنیت کی مدت اورمالی اختیارات—یہ سوال اٹھاتی ہیں کہ آیایہ شمولیت وقتی ہے یاطویل المدت وابستگی۔انڈیاکیلئے یہ شمولیت ایک خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اگربورڈآف پیس نے مستقبل میں کشمیرجیسے تنازعات پرتوجہ دی،تودہلی کیلئے اس فورم سے الگ رہنامشکل ہوجائے گا۔

بورڈآف پیس نہ تواس قراردادکاپابندہے،نہ کسی واضح عالمی فورم کوجواب دہ،یہی وجہ ہے کہ اسے اقوامِ متحدہ کامتبادل یاکم ازکم اس کے اختیارکوچیلنج کرنے کی کوشش سمجھاجارہاہے۔یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ انڈیاکی شرکت گلوبل ساؤتھ کے خدشات کو تقویت دے گی۔مگرناقدین کاخیال ہے کہ اگرفیصلہ سازی کامحورایک طاقتورملک ہو،تودیگرممالک کی موجودگی محض علامتی رہ جاتی ہے—اوریہی خدشہ انڈیاکے حوالے سے ظاہرکیا جا رہاہے۔

بورڈآف پیس کاقیام اس پس منظرمیں ہورہاہے جب امریکانیٹوکوغیرمؤثرقراردے رہاہے۔اقوامِ متحدہ کے درجنوں اداروں سے علیحدگی اختیارکرچکاہے اوراپنی خارجہ پالیسی کوطاقت،دباؤاورسودے بازی کی بنیادپراستوار کررہا ہے۔یہ سب مل کرایک ایسے سامراجی وژن کی تشکیل کرتے ہیں جس میں امن، اقتدارکاتابع بن جاتاہے۔

حضرات!
تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جوادارے مدت اوراحتساب کے بغیرقائم ہوتے ہیں،وہ جلدیابدیرطاقت کے قلعے بن جاتے ہیں۔بورڈآف پیس کی غیرمعینہ حیثیت اسے ایک ایسے ادارے میں بدل دیتی ہے جوامن کی بجائے اثرورسوخ کودوام دے سکتاہے۔ایک سابق سفارتکارکے بقول،چونکہ بورڈکے چیئرمین خودصدرٹرمپ ہیں،اس لیے ان کے لین دین پرمبنی طرزِسیاست میں غیرجانب دار انصاف کی توقع رکھنامشکل ہے۔یہ بھی واضح نہیں کہ آیااس بورڈمیں تمام ممالک کی حیثیت یکساں ہوگی یانہیں۔ایک سینئرسفارتکار کے مطابق،ٹرمپ کے لین دین پرمبنی رویے میں انصاف کی امیدرکھناسادہ لوحی ہے۔اس بورڈمیں رکنیت،جس کے اختیارات غیر واضح اورمستقبل غیریقینی ہیں،انڈیاکیلئے خطرناک ہوسکتی ہے۔

یہ دلیل دی جاتی ہے کہ انڈیاکی موجودگی گلوبل ساؤتھ کے خدشات کوتقویت دے گی،مگرسوال یہ ہے کہ کیاوہ آوازواقعی سنی جائے گی؟ناقدین کاکہنا ہے کہ انڈیادرپردہ اسرائیلی مؤقف کاترجمان بن سکتاہے،جواس کی غیرجانبداری پرسوالیہ نشان ہوگا۔یہ اندیشہ محض سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی بھی ہے،کیونکہ فلسطین کامسئلہ صرف جغرافیہ نہیں،بلکہ انصاف کاسوال ہے۔اگرانڈیااس بورڈمیں شامل نہیں ہوتا،تب بھی اس کے اثرات سے وہ محفوظ نہیں رہے گا۔ کیونکہ مغربی ایشیاکااستحکام انڈین توانائی،تارکینِ وطن اورتجارتی راستوں کیلئے ناگزیرہے۔

بورڈآف پیس‘ایک ایسے وقت میں وجودمیں آیاہے جب امریکااقوامِ متحدہ سے کنارہ کشی اختیارکررہاہے اوراقوامِ متحدہ کے متعدد اداروں سے دستبردارہو رہاہے۔یہ ادارہ ایک یک قطبی عالمی نظام کومضبوط کرسکتاہے، جس کے برعکس بظاہرانڈیاکثیرقطبی دنیاکا داعی ہے لیکن اندرونِ خانہ امریکاکے مفادات کیلئے شب وروزکام بھی کررہاہے۔انڈین میڈیامیں یہ سوال اٹھایاگیاہے کہ کیارکن ممالک بورڈکے چیئرمین کے فیصلوں کوچیلنج کر سکیں گے؟یایہ ادارہ دعوت، سرمایہ اورذاتی اثرورسوخ پرمبنی ایک ماڈل ہوگا؟اگرنہیں،تو یہ ادارہ محض ایک فردکی خواہشات کاعکس بن جائے گا۔بورڈآف پیس کے چارٹرمیں صدر ٹرمپ کوجواختیارات دیے گئے ہیں ،وہ کسی جمہوری ادارے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ویٹو،تقرری،برطرفی،تحلیل اورجانشینی،یہ سب اختیارات ادارے کونہیں،فردکومرکز بناتے ہیں،جس کی بناءپرچیئرمین ٹرمپ مطلق العنان حیثیت کے طورپراپنے ہرحکم کولاگوکرنے کی پوزیشن میں ہے۔

بورڈآف پیس کے ایگزیکٹوبورڈمیں شامل افراداکثریاتوامریکی شہری ہیں یاٹرمپ کے قریبی سمجھے جاتے ہیں۔ایگزیکٹوبورڈکے ارکان کاپس منظراس بات کی شہادت دیتاہے کہ یہ ادارہ قابلیت سے زیادہ قربت پرقائم ہے ۔یہ ایک ایسادائرہ ہے جہاں فیصلے عوام کیلئے نہیں،بلکہ طاقت کے تسلسل کیلئے ہوتے ہیں۔یہ ترکیب غیرجانبداری پرسنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔

پاکستان نے بورڈ آف پیس میں شمولیت کوجنگ بندی،انسانی امداداورغزہ کی تعمیرِنوسے جوڑاہے۔یہ نیت اپنی جگہ قابلِ فہم ہے،مگر رکنیت کی مدت اورمالی شرائط کے ابہام نے کئی سوالات کوجنم دیاہے۔چارٹرکی مبہم شرائط یہ سوال اٹھاتی ہیں کہ کیانیک نیتی،غیر واضح نظام میں محفوظ رہ سکتی ہے؟کئی ممالک نے اسے اپنی اہمیت کے اعتراف یاامریکی دباؤکے تحت قبول کیاہے۔ماہرینِ خارجہ امورکے مطابق،بورڈکے چارٹرمیں یہ واضح نہیں کہ رکن ممالک کن شرائط کے پابندہوں گے،چارٹرکی تشریح کااختیارکس کے پاس ہوگااوراختلاف کی صورت میں کیاراستہ اختیارکیاجائے گا۔

یواے ای،سعودی عرب،اسرائیل اورترکی کی شمولیت انڈیاپردباؤبڑھاسکتی ہے،مگرتاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ دباؤمیں لیاگیافیصلہ اکثر پائیدارنہیں ہوتا۔ انڈیا کیلئے سب سے بڑاخدشہ یہ ہے کہ اگربورڈآف پیس نے مستقبل میں کشمیرجیسے تنازعات کواپنے دائرے میں لیا، توانڈیاکی دیرینہ پالیسی—تیسرے فریق کی عدم مداخلت—خطرے میں پڑسکتی ہے۔

یہ بورڈایک ایسے وقت میں وجودمیں آیاہے جب امریکانیٹوسے غیرمطمئن،اوراقوامِ متحدہ کے کئی اداروں سے دستبرداری خارجہ پالیسی کو سودے بازی میں بدل چکی ہے،یہ سب ایک سامراجی ذہنیت کی نشانیاں ہیں۔انڈیاکے معتبراخباردی ہندوکے مطابق،نہ اصول اورنہ عملی تقاضے اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ ایسافیصلہ عجلت میں کیاجائے،انڈیاکوخوف یاناراضگی کے ڈرسے فیصلہ نہیں کرناچاہیے۔

ادھرلیک شدہ چارٹرکے مطابق،بعدکی ترامیم میں غزہ کاذکرتک ختم کردیاگیااوربورڈکودیگرتنازعات تک پھیلانے کی تجویزشامل کی گئی—جواقوامِ متحدہ کے متبادل کاتاثرمضبوط کرتی ہے۔پاکستان کااس بورڈمیں شامل ہونا انڈیا کیلئے ایک واضح اشارہ ہے،خصوصاً اس صورت میں اگرمستقبل میں کشمیرجیسے تنازعات کوبھی اس فورم پرلایاگیا۔خصوصاًکشمیرکے تناظرمیں،جہاں ٹرمپ ثالثی کی خواہش ظاہرکرچکے ہیں۔یہاں سوال امن کانہیں،اطاعت کابنتاجا رہا ہے۔امن اگرسوال کرنے کی آزادی چھین لے،تووہ امن نہیں،ظلم ہے۔

حضرات!ٹرمپ کی جانب سے نیٹواوراقوامِ متحدہ کے اداروں سے دستبرداری عالمی نظام کوعدم استحکام سے دوچارکررہی ہے۔ قومیں فیصلوں سے پہچانی جاتی ہیں،اورادارے اپنے انجام سے۔بورڈ آف پیس بھی تاریخ کے کٹہرے میں کھڑاہوگا،جہاں اس سے پوچھا جائے گاکہ کیاتم نے امن کو مضبوط کیا،یاطاقت کو؟یہ پس منظربورڈ آف پیس کی نوعیت کومزیدحساس بنادیتاہے۔

ٹرمپ نے کینیڈاکی دعوت منسوخ کرنے کی وجہ واضح نہیں کی،مگریہ حقیقت سامنے ہے کہ مارک کارنی نے چندروزقبل امریکی زیرِ قیادت عالمی نظام پر تنقیدکی تھی—اوریہی تنقید شایدناپسندکی گئی۔کارنی کی دعوت کی منسوخی شایدڈیوس میں امریکی زیر قیادت نظام پرکی گئی ان کی تنقیدکاردعمل تھی۔یہ سوال آنے والی نسلیں ہم سے پوچھیں گی کہ جب امن کوطاقت کے تابع کیاجارہاتھا، تم کہاں کھڑے تھے؟مارک کارنی کی دعوت کی منسوخی اس بات کی علامت ہے کہ بورڈآف پیس اختلافِ رائے کوبرداشت کرنے کیلئے تیارنہیں۔یہ واقعہ ادارے کے مزاج کوعیاں کرتاہے—یہاں شمولیت اطاعت کے بغیرممکن نہیں۔یہ ادارہ ہم آوازچاہتاہے ، ہم خیال نہیں۔یہ وقت ہے کہ دنیافیصلہ کرے،اصول کی سیاست یامصلحت کی سیاست۔دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔

چارٹرکے مطابق،ٹرمپ کوفیصلے ویٹوکرنے،ارکان کی تقرری وبرطرفی،حتیٰ کہ پورے بورڈکوتحلیل کرنے اورجانشین نامزدکرنے کے اختیارات حاصل ہیں—جوکسی بھی کثیرالقومی ادارے میں غیرمعمولی اورجمہوری ادارے کیلئے خطرناک مثال ہیں۔جہاں انصاف نہیں،وہاں امن محض وقفہ ہوتاہے۔بورڈ آف پیس اگرانصاف کومرکزنہ بنائے،تووہ محض ایک وقفہ فراہم کرے گا—پائیدارحل نہیں۔یہ بورڈایک ایسے سامراجی وژن کے تحت قائم ہورہاہے جہاں طاقت،قبضہ اورغلبہ خارجہ پالیسی کے اوزاربن چکے ہیں اورامریکی خارجہ پالیسی میں طاقت،غلبے اوروسائل پرکنٹرول کاتصورنمایاں ہوچکاہے۔یہ صرف انڈیایاپاکستان کامسئلہ نہیں،یہ عالمی ضمیرکا امتحان ہے۔کیادنیا اداروں کوافرادکے تابع کردے گی،یاافرادکوقانون کے؟

بورڈآف پیس‘بظاہرامن کااستعارہ ہے،مگراس کے باطن میں طاقت کی وہی پرانی سیاست سانس لے رہی ہے جس نے دنیاکوبارہازخم دیے ہیں۔تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ امن وہی پائیدارہوتاہے جوانصاف کی بنیاد پرقائم ہو،نہ کہ طاقت کے سائے میں۔اب سوال یہ ہے کہ تاریخ کس کے حق میں فیصلہ دے گی ؟ تاریخ ہمیں بارباریہ سبق دیتی ہے کہ وہی ادارے دیرپاہوتے ہیں جوقانون کے تابع ہوں،نہ کہ افرادکے۔انڈیاہویا پاکستان،گلوبل ساؤتھ ہویامغربی دنیا—یہ فیصلہ سب کوکرناہے کہ وہ امن کواصول کی بنیاد پرچاہتے ہیں یاطاقت کی نگرانی میں۔

آخرمیں،میں یہی عرض کروں گاکہ امن کوئی عطیہ نہیں،کوئی معاہدہ نہیں،کوئی بورڈنہیں،امن ایک اخلاقی عہد ہے۔اورجب تک یہ عہدانصاف،شفافیت اورجواب دہی کے بغیرقائم کیاجائے گا،تاریخ اسے قبول نہیں کرے گی۔امن کوئی ادارہ نہیں،کوئی بورڈ نہیں،کوئی قراردادنہیں،امن ایک اخلاقی عہد ہے ،جوانصاف،شفافیت اورجواب دہی کے بغیرقائم نہیں رہ سکتا۔اگربورڈآف پیس ان اصولوں کامحافظ بنے،توتاریخ اسے خوش آمدیدکہے گی؛اوراگریہ طاقت کے تسلسل کاذریعہ بنا،تو تاریخ اسے بھی اپنے کٹہرے میں کھڑاکرے گی۔ فیصلہ آج نہیں،مگرفیصلہ ہوگا—اوروہ فیصلہ تاریخ کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں