Between Noise and Silence: The New Global Language of Power

شوراورسکوت کے درمیان:طاقت کی نئی عالمی زبان

بین الاقوامی سیاست کے موجودہ مرحلے پرطاقت کااستعمال صرف عسکری یامعاشی دباؤتک محدودنہیں رہا،بلکہ خاموشی،تاخیراور ردِعمل سے اجتناب بھی پالیسی کے مؤثرہتھیاربن چکے ہیں ۔ عالمی سیاست ہمیشہ محض بیانات،معاہدات یاجنگی محاذوں کاکھیل نہیں رہی؛یہ خاموشیوں،توقفات اورنظرنہ آنے والے فیصلوں کی تاریخ بھی ہے۔2026کے آغازمیں یہی خاموشی ایک بارپھرعالمی طاقتوں کے بیچ سب سے بلندآوازبن کرابھری ہے۔جوامریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جارحانہ خارجہ حکمتِ عملی اورروسی صدرپوتن کی غیر معمولی خاموشی اسی بدلتے ہوئے عالمی سیاسی مزاج کی نمائندگی کرتی ہے۔ٹرمپ کی جارحانہ خارجہ پالیسی اورپوتن کی غیر معمولی خاموشی،بظاہرتضادمعلوم ہوتی ہے،مگر درحقیقت یہ اسی نئی عالمی سیاست کی علامت ہے جس میں طاقت کااظہاراور ضبط ، دونوں یکساں ہتھیاربن چکے ہیں۔یہ باب اسی خاموشی کوبطورپالیسی سمجھنے کی کوشش ہے۔

عالمی سیاست میں طاقت کااظہارہمیشہ ردِعمل کوجنم دیتاآیاہے۔تسیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی امریکی طاقت نے جارحانہ انداز میں اپنے پنجے پھیلائے، ماسکوکی جانب سے جواب تلوار کی جھنکاربن کرابھرا۔ماضی میں امریکی طاقت کے جارحانہ مظاہرے ماسکوکی فوری اورسخت مزاحمت کوجنم دیتے تھے۔ امریکی طاقت کے جارحانہ مظاہرے خواہ مشرقِ وسطیٰ ہویا لاطینی امریکا—ماسکوکی جانب سے فوری اورشدیدردِعمل کاسبب بنتے رہے۔سردجنگ کے دور سے لے کرعراق اورشام تک،روس نے ہمیشہ بیانیے اورسفارت دونوں محاذوں پرجواب دیامگر 2026 کے اوائل میں عالمی منظرنامہ ایک عجیب سکوت کی چادراوڑھے دکھائی دیتاہے۔ وینزویلامیں حکومت کی تبدیلی،ایک روسی پرچم بردارتیل بردارجہازپرقبضہ،اورگرین لینڈسے متعلق جارحانہ بیانات۔یہ اقدامات اس بات کی علامت ہیں کہ امریکااب عالمی نظام کوقانونی اصولوں کے بجائے طاقت کے توازن کی بنیادپرترتیب دیناچاہتاہے۔

مگرٹرمپ کے غیرمعمولی اقدامات کے باوجودروسی خاموشی ایک نئے سیاسی مزاج کی نشان دہی کرتی ہے،جوجذبات کی بجائے مفادات کومرکزِنگاہ بناتا ہے۔ ٹرمپ کی یلغار،وینزویلامیں گرفتاری کاجشن،روسی پرچم بردارجہازپرقبضہ،اورگرین لینڈپرقبضے کی للکار—سب کچھ ہوا،مگرکریملن کی زبان خاموش رہی، جیسے وقت نے خودکوتھام لیاہو۔ان تمام واقعات پرمکمل روسی خاموشی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ماسکو اب ردعمل کی سیاست سے نکل کرمفادکی سیاست میں داخل ہوچکاہے۔

ماضی کے برعکس،ماسکونے نہ فوری مذمت کی اورنہ عسکری دھمکی دی۔یہ خاموشی کسی کمزوری کااظہارنہیں بلکہ ایک سوچا سمجھاپالیسی فیصلہ ہے،جس کا مقصد بڑے اسٹریٹیجک اہداف کو وقتی جذبات پرقربان نہ کرناہے۔روس،جوبرسوں مغربی مداخلت کو ’’حکومتوں کی تبدیلی کی سازش‘‘کہہ کرردکرتا رہا، آج خودضبط وتحمل اوربرداشت کاپیکربنادکھائی دیتاہے۔پوتن کی خاموشی محض اتفاق نہیں،بلکہ ایک سوچاسمجھاتوقف ہے۔پوتن کی عوامی منظرنامے سے غیرموجودگی اورکسی باضابطہ بیان سے اجتناب اس بات کااشارہ ہے کہ کریملن اب بیانات کے بجائے پسِ پردہ حکمت عملی پریقین رکھتاہے۔

پوتن کی جانب سے عوامی منظرنامے سے وقتی غیبت،سیاسی بے خبری نہیں بلکہ دانستہ حکمت عملی ہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ پوتن کی خاموشی اکثربڑے فیصلوں کاپیش خیمہ بنتی ہے۔آرتھوڈوکس کرسمس کی تقریب کے بعدان کامنظرسے اوجھل رہنادراصل اس امر کی علامت ہے کہ فیصلہ بیانات میں نہیں،سفارتی کمروں میں ہورہاہے۔

پوتن کی عوامی منظرنامے سے عارضی غیرحاضری روسی طرزِقیادت کی ایک مستقل علامت رہی ہے۔تاریخی طورپر،پوتن کی خاموشی اکثربڑے فیصلوں، طویل المدت حکمت عملی اورسفارتی موڑسے پہلے دیکھی گئی ہے۔ترجمانِ کریملن دمتری پیسکوف اور سرکاری نشریاتی اداروں کی خاموشی محض تعطیلاتی سستی نہیں بلکہ ایک شعوری سفارتی حکمت ہے۔یوکرین پرواشنگٹن سے جاری مذاکرات وجودی نوعیت اختیارکرکے ایسے نازک مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں جہاں ایک سخت جملہ بھی کئی مہینوں کی محنت ضائع کرسکتاہے۔

ترجمانِ کریملن دمتری پیسکوف کی خاموشی اورسرکاری ٹیلی ویژن کی تعطیلاتی خاموشی دراصل اس نازک مکالمے کی محافظ ہے جوواشنگٹن اورماسکوکے درمیان یوکرین پرجاری ہے۔روس اس لمحے کسی ایسی چنگاری سے گریزاں ہے جوسفارتی دھاگے کوجلا دے۔اس مرحلے پرکسی بھی امریکی اقدام پرسخت ردعمل،اس مکالمے کوسبوتاژکرسکتاتھا۔کریملن کی خاموشی دراصل اسی نازک توازن کوبرقراررکھنے کی کوشش ہے۔

ٹرمپ نے2026کاآغازطاقت کے ایسے اعلان سے کیاجوبیسویں صدی کی سامراجی نفسیات کی بازگشت معلوم ہوتاہے۔نکولس مادورو کی گرفتاری اور نیویارک منتقلی محض ایک قانونی کارروائی نہیں،دراصل یہ پیغام تھاکہ امریکااب سفارت نہیں، گرفت کوترجیح دے رہاہے بلکہ عالمی سیاست میں طاقت کے نئے اصول کااعلان تھا۔ٹرمپ نے نئے سال کاآغازطاقت کے بے باک اعلان سے کیا۔نکولس مادوروکی گرفتاری اورنیویارک منتقلی،گویامونروڈاکٹرائن کی نئی تفسیرتھی—کہ طاقت ہی قانون ہے۔

ٹرمپ نے واضح کردیاکہ اب بین الاقوامی قانون کی تعبیرطاقت کے ہاتھ میں ہے—وہی تصورجسے کبھی روس مغربی سامراجیت کہہ کرردکرتاتھا۔روسی خارجہ پالیسی میں یوکرین محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ روسی خارجہ پالیسی کی مرکزی ترجیح بن چکی ہے۔قومی سلامتی،تاریخی شناخت،اورسابق سوویت دائرۂ اثرکابنیادی ستون ہے۔ماسکواس مسئلے پرکسی بھی قیمت پر امریکی مخالفت کوبڑھانانہیں چاہتا۔

روسی سرکاری میڈیامیں ابھرتاہوابیانیہ اس امرکی عکاسی کرتاہے کہ ماسکواس امریکی جارحیت کواپنے لیے سفارتی نظیرکے طور پردیکھ رہاہے۔ان کے مطابق اگرامریکااپنے خطے میں طاقت کا بے محابااستعمال کرتاہے،اپنے خطے میں جبرسے بالادستی قائم کرتا ہے توروس کوبھی اپنے ہمسایہ علاقوں میں اسی منطق کوبروئے کارلانے کااخلاقی وسیاسی جوازمل جاتاہے اورروس کوبھی اپنے دائرۂ اثرمیں یہی حق حاصل ہوجاتاہے۔۔تاہم پوٹن کی خاموشی کی وجہ صرف یہ ہے کہ یوکرین سے متعلق مذاکرات ایک نازک مرحلے میں ہیں۔اس تناظرمیں،وینزویلایابحری واقعات پرسخت ردِعمل ان مذاکرات کوسبوتاژکرسکتاتھا —جس سے روس کوبراہِ راست نقصان پہنچتا۔ان اقدامات کوامریکی قومی سلامتی کی نئی حکمت عملی کاعملی اظہارقراردیاگیا،جس میں عالمی طاقتوں کے مابین اثرورسوخ کی حدبندی کوتسلیم کیاگیاہے—ایک ایسانظریہ جسے روس برسوں سے پیش کرتاآرہاتھا۔

امریکی قومی سلامتی حکمت عملی اورروسی تائیدکی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ امریکی قومی سلامتی کی نئی دستاویز،جو خطوں میں اثرورسوخ کوتسلیم کرتی ہے، روس کے دیرینہ مؤقف سے ہم آہنگ ہے۔یہی وجہ ہے کہ روس نے اس پرتنقید کی بجائے خاموش تائیداختیارکی۔دوسری طرف ٹرمپ ڈاکٹرائن نے نکولس مادوروکی گرفتاری سے یہ پیغام دیاہے کہ بین الاقوامی نظام میں حق،طاقت سے مشروط ہے۔اس عمل کوامریکی قومی سلامتی کی نئی حکمت عملی کاعملی مظہر کہاگیا—وہی حکمت عملی جسے روسی حکام نے خطوں کی سیاست کی بحالی کے سبب سراہا تھااوریہ اصول روسی سوچ سے متصادم نہیں،مگراس کے اطلاق کااختیارروس اپنے مفادات کے تابع رکھناچاہتاہے۔

فیودورلوکیانوف کے مطابق ٹرمپ ڈاکٹرائن نے واضح کردیاہے کہ عالمی سیاست کودوبارہ’’خطوں کی سیاست‘‘کی طرف موڑدیاگیا ہے اورعالمی سیاست ایک بارپھرخطوں کے گردمنظم ہورہی ہے۔یہ بیان اس حقیقت کوآشکارکرتاہے کہ سردجنگ کے بعدقائم ہونے والالبرل عالمی نظام اب تحلیل کے مرحلے میں داخل ہوچکاہے۔یہ بیان محض تجزیہ نہیں بلکہ آنے والے عالمی تصادم کی پیش گوئی ہے۔روسی سرکاری میڈیامیں اس امریکی اقدام کوایک’’نظیر‘‘کے طور پر پیش کیاگیاہے،ایک ایسی نظیرجوروس کومستقبل میں اپنے خطے میں زیادہ سخت اقدامات کااخلاقی جوازفراہم کرسکتی ہے۔

یوگینی پوپوف جیسے تجزیہ کاروں کے نزدیک عالمی انتشارروس کیلئےدباؤکم کرنے اورسفارتی گنجائش بڑھانے کاموقع فراہم کر رہاہے۔طاقتوروں کی باہمی کشمکش میں درمیانی طاقتیں ہمیشہ نئے راستے تلاش کرتی ہیں۔بادی النظرمیں امریکی قومی سلامتی کی نئی دستاویزاورحکمت عملی،جوخطوں میں اثرورسوخ کوتسلیم کرتی ہے،روسی مؤقف سے جزوی مطابقت اورہم آہنگی رکھتی ہے ۔ یہی ہم آہنگی روسی خاموشی کی ایک بڑی وجہ ہے۔

یوگینی پوپوف نے اس صورتِ حال کووقتی طورپرناخوشگوارمگرطویل المدت طورپرسودمندقراردیاہے۔یہ وقتی ناخوشگواری طویل المدت فائدے میں ڈھل سکتی ہے۔ان کے نزدیک عالمی انتشارروس کیلئےسفارتی دباؤکم کرنے اورنئے مواقع تلاش کرنے کاموقع فراہم کررہاہے اوریہ عالمی انتشارروس کیلئےسانس لینے کی گنجائش پیداکررہاہے۔

بعض روس نوازحلقے امریکی مداخلت پرناپسندیدگی کے باوجود نیم دلانہ تحسین کے ساتھ اس کی افادیت تسلیم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔دراصل یہ سوچ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ روس خودیوکرین میں اسی تصورِطاقت کااسیرہوچکاہے کیونکہ یہی طرزِعمل روس یوکرین میں اپناناچاہتاتھا—یوکرین میں روسی کارروائی بھی اسی تصورِطاقت پرمبنی تھی— فرق صرف یہ ہے کہ وہاں معاملہ ایک طویل جنگ میں بدل گیا۔ادھردوسری طرف عالمی سطح پرامریکی جارحیت نے یورپ اورامریکاکے درمیان خلیج کوگہراکیاہے۔ یہ صورتحال روس کیلئےسفارتی دباؤکم کرنے اورنئی گنجائش پیداکرنے کاموقع فراہم کرتی ہے۔

مارگریٹاسمونیان کاحسدایک ذاتی تاثرنہیں بلکہ ریاستی کمزوری کاعلامتی اظہاراوراعترافِ شکست ہے۔وینزویلامیں دہائیوں پرمحیط روسی سرمایہ کاری،جوکبھی اس کے عالمی اثرورسوخ کی علامت تھی،اب ایک شکستہ خواب بن چکی ہے اوریوکرین جنگ کے باعث کمزوراورپس منظرمیں چلی گئی ہے۔مادوروکی گرفتاری نے اس زوال کوباضابطہ شکل دے دی—جسے ماسکوحقیقت پسندی سے قبول کررہاہے۔

ہانانوٹے کے مطابق روس اس وقت ٹرمپ کوناراض کرنے کامتحمل نہیں ہوسکتااورنہ ہی ٹرمپ کوبراہِ راست چیلنج کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ٹرمپ کو ناراض نہ کرنے کی حکمت یہ ہے کہ اس کی توجہ بڑے مسئلےیوکرین پرمرکوزہے۔یوکرین کے مسئلے پر امریکی رویہ روس کیلئےفیصلہ کن حیثیت رکھتاہے۔ جہاں امریکی غیرجانبداری—یانرم رویہ—یوکرین کے محاذپرروس کیلئےقیمتی اثاثہ ہے۔

ماسکوکی اولین ترجیح یہ رہی ہے کہ ٹرمپ کویوکرین پریاتواپناہم نوابنایاجائے یاامریکاکم ازکم یوکرین کے معاملے میں روس مخالف اتحادکاقائدنہ بنے۔اوراسے روس مخالف اتحادسے الگ رکھا جائے—اب تک یہ حکمت عملی بڑی حد تک کامیاب رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ روسی پرچم برداربحری جہازماریناراپرقبضے پر روس نے عسکری جواب نہیں دیاتاہم بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر اعتراض کیا۔یہ رویہ روسی خارجہ پالیسی میں قانونی بیانیے کی واپسی کی علامت ہے۔اگرچہ روسی بحری اثاثے علاقے میں موجود تھے،مگرطاقت کے استعمال سے اجتناب اورگریزکیاگیاجوکشیدگی کومحدودرکھنے کی حکمت عملی کاحصہ ہے۔

لوکیانوف کے نزدیک وینزویلاجیسے معاملات ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔اصل مسئلہ یوکرین ہے،جوروس کیلئےجغرافیائی ہی نہیں بلکہ تاریخی اورتہذیبی اہمیت بھی رکھتاہے۔لوکیانوف کے مطابق،وینزویلاسیاسی طورپراہم ضرورہے،مگریوکرین روس کیلئےتاریخی، تہذیبی اوراسٹریٹیجک مسئلہ ہے—جہاں سمجھوتے کی گنجائش کم ہے۔

سخت گیرقوم پرست آوازوں نے فوجی ردِعمل کامطالبہ کیا،مگرکریملن نے انہیں پالیسی کی سطح پرقبول نہیں کیا۔یہ ریاست اورجذبات کے فرق کوواضح کرتا ہے۔روس کانیاعبوری انتظامیہ کو قبول کرنااس حقیقت کوظاہرکرتاہے کہ ماسکواس وقت نظریاتی بحث سے زیادہ استحکام کاخواہاں ہے۔روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے نئی عبوری حکومت کاخیرمقدم اس بات کی علامت ہے کہ ماسکو اس مرحلے پراستحکام کوترجیح دیتاہے،خواہ وہ بیرونی دباؤکے نتیجے میں ہی کیوں نہ حاصل ہو۔روسی وزارتِ خارجہ نے نئی عبوری حکومت کاخیرمقدم کرکے یہ پیغام بھی دیاکہ استحکام،چاہے دباؤمیں ہو،انتشارسے بہترہے۔

ماریناراجہازپرقبضے پرروس کاردعمل محتاط رہا—نہ دھمکی،نہ للکار،صرف سمندری قانون کی یاددہانی پراپنامؤقف بیان کیا۔ ماسکونے عسکری کی بجائے قانونی زبان اختیارکی۔ردعمل محتاط اورقانونی دائرے میں رہا،جس سے ظاہرہوتاہے کہ روس تصادم کے بجائے قانونی مؤقف کوترجیح دے رہاہے۔اگرچہ عسکری جواب ممکن تھا،مگرروس نے نہ ٹینکرکی واپسی کامطالبہ کیااورنہ کسی جوابی کارروائی کاعندیہ دیا،حالانکہ علاقے میں اس کی بحری موجودگی موجودتھی مگراس نے طاقت کے استعمال سے گریزکیااورتحمل کوترجیح دی،جوسفارتی پختگی کی علامت ہے۔ٹرمپ کی ضدنے یورپی اتحاد کی کمزوری کونمایاں کیا،ایک ایسی کمزوری جس سے روس سفارتی سطح پرفائدہ اٹھا سکتاہے۔

قطب شمالی روس کیلئےتوانائی،عسکری موجودگی اورعالمی قیادت تینوں حوالوں سے فیصلہ کن خطہ ہے۔گرین لینڈپرامریکی نظریں ہوں یاڈنمارک کی ملکیت، روس نے اسے فی الحال گرین لینڈ کے معاملے کوامریکا–ڈنمارک کادوطرفہ مسئلہ قراردے کرخودکوبراہِ راست تنازع اورتصادم سے دوررکھاہے۔گرین لینڈپرروس کامحتاط مؤقف دراصل براہِ راست تصادم سے بچنے کی کوشش ہے۔

سخت گیرآوازیں ہمیشہ موجود رہتی ہیں،مگرریاستی پالیسی جذبات نہیں،مفادات سے تشکیل پاتی ہے۔سخت گیرحلقوں نے اس ضبط کو کمزوری قراردیا۔الیکسی ژوراولیوف کے بیانات جذبات کی ترجمانی توکرتے ہیں،مگرریاستی حکمت عملی کابدل نہیں۔الیکسی ژور اولیوف جیسے سیاستدانوں کے بیانات عوامی جذبات کی عکاسی توکرتے ہیں،مگرریاستی پالیسی ان جذبات سے بلندہوکر تشکیل پاتی ہے۔اس موقع پرروسی حکام کے طنزیہ بیانات سخت ردِعمل کے بغیرپیغام پہنچانے کامؤثرذریعہ بنے۔یہ جدیدسفارت کاری کاایک نرم مگرمؤثرحربہ ہے۔

قوم پرست جماعتوں نے اس اقدام کوبحری قذاقی اوراعلانِ جنگ کے مترادف قراردیا،مگرکریملن نے اس بیانیے کوسرکاری سطح پر ان جنگی الفاظ کوقبول کرنے سے گریزکیا۔ قوم پرست بیانات کوسرکاری سطح پرقبول نہ کرنااس بات کاثبوت ہے کہ کریملن جنگی بیانیے سے فی الحال دوررہناچاہتاہے۔روس اس اصول کواصولی طورپرمانتاہے،مگرصرف وہاں تک جہاں وہ اس کے اسٹریٹیجک مفادات سے متصادم نہ ہو۔

ٹرمپ کی ضدپرروس نوازحلقوں کی مسکراہٹ دراصل یورپی کمزوری پرطنزہے۔ٹرمپ کی گرین لینڈپرضدروس نوازحلقوں میں خوشی کاباعث بنی،کیونکہ اسے یورپی کمزوری اورمغربی اتحادمیں دراڑکی علامت سمجھاگیا۔ٹرمپ کی ضدکوروس نوازحلقے یورپی اتحادکی کمزوری کی علامت کے طورپردیکھتے ہیں۔ اگر امریکاگرین لینڈمیں مستقل عسکری ڈھانچہ قائم کرتاہے توروسی خاموشی برقرار نہیں رہے گی۔

کیریل دمترییف کاطنزیہ تبصرہ جدیدسفارت کاری کی ایک نرم مگرگہری ضرب ہے جویورپی یونین کے دوہرے معیارکاآئینہ اور سفارتی وارتھا،جوبغیرگولی چلائے اثرچھوڑگیا۔روس میں تعطیلات کے اختتام پرصدرپوتن کی جانب سے ایک جامع مؤقف متوقع ہے، جواس خاموشی کوباضابطہ حکمتِ عملی میں ڈھال سکتاہے۔

روس طاقت کے اصول کومانتاہے،مگرصرف وہاں تک جہاں وہ اس کے مفادسے ہم آہنگ ہو۔جس کی طاقت،اسی کااختیارکااصول روسی سوچ سے ہم آہنگ ضرورہے،یہ فلسفہ روس کومرغوب توہے،مگراگریہی اصول روسی مفادات سے ٹکرائے تووہ قابلِ قبول نہیں رہتا۔خصوصاًگرین لینڈکے تناظرمیں امریکی موجودگی اس کے مفادسے متصادم ہوسکتی ہے۔روس قلیل المدت تنازعات پر ردِعمل کم کررہاہے،طویل المدت اسٹریجک اہداف کوفوقیت دی جارہی ہے اورخاموشی ایک فعال پالیسی بن چکی ہے۔قطب شمالی روس کیلئےعسکری،معاشی اورعلامتی اہمیت رکھتاہے۔پوتن اسے روسی عالمی قیادت کے استحکام کاستون قراردے چکے ہیں۔قطب شمالی روس کیلئےمحض جغرافیہ نہیں،مستقبل کی قیادت کاستون ہے۔

قطب شمالی روس کیلئےآنے والی دہائیوں کی معاشی اورعسکری سیاست کامرکزہے اورمستقبل کی جنگ کاپیش خیمہ بھی بن سکتی ہے۔یہ طرزِعمل عالمی نظام کوایک نئے توازن کی طرف لے جارہاہے جہاں طاقت،خاموشی اورموقع پرستی ایک دوسرے میں مدغم ہوچکے ہیں۔

ہانانوٹے کے مطابق یورپ اورامریکاکے بیچ خلیج روس کیلئےفائدہ مندہے،مگرامریکی عسکری کی موجودگی کی توسیع ناقابلِ قبول ہے۔ہانانوٹے کے مطابق امریکا اوریورپ کے درمیان خلیج روس کیلئےفائدہ مندہے،مگراگرامریکاگرین لینڈمیں عسکری ڈھانچہ مضبوط کرتاہے تویہ روس کیلئےخطرے کی گھنٹی ہوگی اورروس کی خاموشی برقرارنہیں رہے گی۔درمیانی طاقتوں کیلئےیہ ایک واضح سبق ہے کہ ہرجارحیت کاجواب فوری مزاحمت نہیں،بعض اوقات انتظارزیادہ سودمندہوتاہے۔

تعطیلات کے اختتام پرپوتن کی تقریرکاانتظارہے،پوتن کی جانب سے کسی جامع بیان اورشایدسب سے گہری تقریرکی توقع ہے،مگر فی الحال خاموشی ہی روس کاسب سے مؤثربیانیہ اوربلیغ سفارت کاری ہے—کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ بعض اوقات خاموشی،سب سے بلندآوازہوتی ہے۔ٹرمپ کی خارجہ پالیسی اعلان میں ہے،پوتن کی حکمتِ عملی انتظارمیں۔اورموجودہ عالمی سیاست میں،خاموشی اب کمزوری نہیں بلکہ ایک مکمل پالیسی ہے۔

یوں محسوس ہوتاہے کہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی،شورمیں لپٹی ہوئی ہے،اورپوتن کی حکمت عملی سکوت میں۔تاریخ اکثرگواہی دیتی ہے کہ بعض اوقات خاموشی ،توپ کے گولے سے زیادہ بھاری ہوتی ہے—اوریہی وہ لمحہ ہے جہاں سیاست،تاریخ بننے کے دہانے پر کھڑی ہے۔ٹرمپ کی خارجہ پالیسی شورمیں لپٹی ہے،پوتن کی حکمتِ عملی سکوت میں۔ایک طاقت کو شور میں ڈھونڈتاہے،دوسرا سکوت میں،اورتاریخ نہ صرف اکثراسی سکوت کویادرکھتی ہے بلکہ تاریخ اکثرفیصلہ اسی سکوت کے حق میں دیتی ہے—کیونکہ بعض اوقات خاموشی،سب سے بڑی للکارہوتی ہے۔

یہ باب اس نتیجے پرپہنچتاہے کہ روسی خاموشی وقتی مجبوری نہیں بلکہ ایک منظم اسٹریٹیجک انتخاب ہے—جوعالمی طاقت کی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز کر رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں