An Age on Trial

عہدِ آزمائش

یہ وہ عہدہے جس میں تاریخ اپنی رفتارتیزکرچکی ہے،ایسامحسوس ہوتاہے جیسے صدیوں کے واقعات برسوں میں اوربرسوں کے فیصلے لمحوں میں سمٹ آئے ہوں۔بظاہریہ زمانہ ترقی، جمہوریت ،انسانی حقوق اورعالمی ہم آہنگی کےسنہرے نعروں سے مزین ہے، مگراس کے پس منظرمیں ایک ایسی خاموش کشمکش جاری ہے جوتہذیبوں،معیشتوں اورنظریات کواندرہی اندرکھوکھلی کر رہی ہے۔یہ تضادہی اس دورکاسب سے بڑاالمیہ ہے کہ روشنی کے دعووں کے درمیان اندھیرے اپنی جڑیں مزیدگہری کررہے ہیں۔

یہ وہ زمانہ ہے جہاں تاریخ صرف لکھی نہیں جارہی بلکہ جلتی ہوئی سطروں میں رقم ہورہی ہے۔یہ وہ عہدہے جس میں انسان نے چاند کوتسخیرتوکرلیا،مگرزمین پرامن کومحفوظ نہ رکھ سکا۔بظاہر ترقی،جمہوریت اورعالمی یکجہتی کے خوشنمانعروں سے مزین یہ دور درحقیقت ایک ایسے اضطراب کی تصویرہے جس کے پس منظرمیں طاقت،مفاداورتسلط کی ایک بے رحم کشمکش جاری ہے ۔اگرتاریخ کوایک زندہ وجودتصورکیاجائے توموجودہ زمانہ اس کی دھڑکنوں میں تیزی،اس کی سانسوں میں بے چینی اوراس کی آنکھوں میں ایک انجاناخوف لیے ہوئے ہے۔عالمی سیاست اب محض اصولوں،معاہدوں اورسفارتی آداب کاکھیل نہیں رہی بلکہ یہ ایک ایسامیدانِ کارزاربن چکی ہے جہاں طاقت،مفاداوربرتری کی جنگ کھلے عام لڑی جارہی ہے۔یہاں الفاظ ہتھیار ہیں،بیانیے محاذہیں،اوراطلاعات ایک ایسی طاقت بن چکی ہیں جوحقیقت کوبھی اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھال سکتی ہے۔

آج کی دنیاایک ایسے موڑپرکھڑی ہے جہاں فیصلے صرف ایوانوں میں نہیں بلکہ میدانوں،منڈیوں اورمیڈیا کے پردوں کے پیچھے ہوتے ہیں۔یہاں سچ کوبیانیے میں ڈھالاجاتاہے اورجھوٹ کوحکمتِ عملی کانام دیاجاتاہے۔تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جب بھی طاقت نے اخلاقیات کوپسِ پشت ڈالا،انسانیت نے اس کی قیمت اپنے خون سے اداکی۔یہ تحریراسی پیچیدہ اور پُراسرار عالمی منظرنامے کوسمجھنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔اس میں نہ صرف حالیہ سیاسی واقعات کی تہہ تک پہنچنے کی سعی کی گئی ہے بلکہ ان پوشیدہ قوتوں،عزائم اورحکمتِ عملیوں کوبھی بے نقاب کرنے کی کوشش کی گئی ہے جوبظاہرنظرنہیں آتیں مگرعالمی فیصلوں پرگہرا اثرڈالتی ہیں۔یہ محض معلومات کاانبارنہیں بلکہ ایک فکری سفرہے—ایساسفرجو قاری کوحالات کے ظاہری خدوخال سے آگے لے جاکر ان کے پسِ پردہ حقائق سے روشناس کراتاہے۔

زیرِنظر تحریراسی کربناک حقیقت کی عکاس ہے—یہ محض ایک سیاسی تجزیہ نہیں بلکہ ایک فکری صدائے احتجاج ہے،ایک ایساآئینہ جس میں ہم اپنے عہدکی اصل صورت دیکھ سکتے ہیں۔یہ تحریر قاری کوصرف حالات سے آگاہ نہیں کرتی بلکہ اسے سوچنے،پرکھنے اورسوال اٹھانے کی دعوت دیتی ہے کیونکہ یہ وقت خاموش رہنے کانہیں،سمجھنے اورسمجھانے کاہے۔یہ تحریر یک سوال بھی ہے اور ایک انتباہ بھی۔ وال اس لیے کہ کیا اقعی ہم اس دنیا و ویسا ی دیکھ رہے ہیں جیساہمیں دکھایاجارہاہے؟اورانتباہ اس لیے کہ اگرہم نے اپنے عہدکوسمجھنے میں کوتاہی کی،توہم نہ صرف حال بلکہ مستقبل سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

یہ عہدِآشوب،جس میں سیاست اپنی معنوی روح کھوکرمحض قوت کے کھیل میں ڈھل چکی ہے،تاریخ کے اُن نازک موڑوں میں سے ایک معلوم ہوتاہے جہاں واقعات محض واقعات نہیں رہتے بلکہ آنے والے زمانوں کے مقدرات کاپیش خیمہ بن جاتے ہیں۔یہ زمانہ جس میں ہم سانس لے رہے ہیں،بظاہرترقی، جمہوریت اورعالمی ہم آہنگی کازمانہ کہلاتاہے،مگراس کے باطن میں ایک ایسااضطراب موجزن ہے جو تہذیبوں کے تصادم،طاقت کی کشمکش اورمفادات کی جنگ سے عبارت ہے۔اگرتاریخ کوایک دریاتصورکیاجائے توموجودہ عہداس کے اُس موڑپرواقع ہے جہاں پانی کی سطح پُرسکون دکھائی دیتی ہےمگرنیچے بھنوراپنی پوری شدت کے ساتھ گردش کررہے ہوتے ہیں۔

زیرِنظرموجودہ عالمی سیاسی افراتفری کے تناظرمیں ایک ایسی فکری وتحقیقی گزارش پیش کی جارہی ہے جونہ صرف معاصرسیاست کی پرتیں کھولتی ہے بلکہ اس کے پسِ پردہ کارفرما قوتوں، عزائم اورخطرات کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔بلکہ اس تحریرمیں ادبی وقار، فکری گہرائی اورتہذیبی لطافت کے ساتھ ایک ایسا اسلوب اختیارکیاگیاہے جوقاری کومحض معلومات نہیں بلکہ شعور بھی عطا کرے گا۔

یہ زیادہ پرانی بات نہیں کہ جب عالمی سیاست کے افق پرٹرمپ کے پہلے دورِصدارت کاسورج طلوع ہواتواس کے ساتھ ہی ایک اضطراب انگیزفضابھی پیدا ہوئی۔ٹرمپ کاپہلادورِ صدارت محض ایک جمہوری انتخاب کانتیجہ نہیں تھابلکہ یہ عالمی طاقتوں کے توازن میں ایک نمایاں تبدیلی کاآغازتھا۔راقم نے اسی زمانے میں اپنے مضامین میں یہ خدشہ ظاہرکیاتھاکہ یہ دورمحض ایک سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسے طوفان کاپیش خیمہ ہے جس کے بطن میں عالمی جنگ کے آثارپوشیدہ ہیں۔اس دورمیں امریکی خارجہ پالیسی نے روایتی سفارتکاری کوپسِ پشت ڈال کرجارحانہ اندازاختیارکیا۔

ٹرمپ کی جنگجویانہ پالیسیوں میں وہ جنون نمایاں تھاجوعقل وتدبرکے بجائے قوت وتصادم کوترجیح دیتاہے۔اس کے ساتھ اسرائیل کا مفاداتی کردار،اورخاص طورپرٹرمپ کے یہودی نژا داماد کی قربت،ایک ایسی مثلث کی تشکیل کررہاتھاجس کے زاویے عالمِ اسلام کی سمت متعین تھے۔ایران کے ساتھ کشیدگی، مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کی غیرمشروط حمایت،اورعالمی اداروں کی تضحیک—یہ سب اس بات کی علامت تھے کہ دنیاایک نئے طرزِحکمرانی کی طرف بڑھ رہی ہے۔یہی وہ لمحہ تھاجب ایک صاحبِ نظر کیلئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھاکہ اگراس روش کونہ روکاگیاتویہ دنیاکوایک بڑے تصادم کی طرف لے جاسکتی ہے۔ ایران کواس کھیل کانقطۂ آغازقراردینا اورپھرسنی ممالک کومسلکی کشمکش میں الجھادینا—یہ سب ایک ایسے شطرنجی کھیل کی چالیں تھیں جن کامقصد مسلم دنیاکواندرسے کمزورکرناتھا۔

جب یہ خیالات منظرِعام پرآئے تومغربی دنیا،خصوصاًامریکی قارئین کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔ان کے نزدیک یہ تجزیہ محض ایک مبالغہ تھا۔جب اس تجزیے کوپیش کیاگیاتو مغربی قارئین نے اسے محض ایک سازشی نظریہ قراردیا۔ان کے نزدیک ٹرمپ ایک غیرروایتی مگرمؤثر لیڈرتھا۔یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ مغربی دنیااکثراپنی پالیسیوں کوجمہوریت،امن اورترقی کے لبادے میں پیش کرتی ہے،جبکہ مشرقی دنیاان پالیسیوں کے اثرات کواپنی سرزمین پرمحسوس کرتی ہے۔یہی فرق ادراک،اختلافِ رائے کوجنم دیتاہے۔

انہوں نے یہ سوال اٹھایاکہ جب پاکستان جیساملک ٹرمپ کونوبل امن انعام کیلئے نامزدکررہاہے اوراس کے وزیراعظم اسے جنوبی ایشیا کوایٹمی جنگ سے بچانے والا قراردے رہے ہیں،تو پھریہ اندیشہ کیوں؟یہ سوال درحقیقت اس فکری خلیج کی نشاندہی کرتاہے جومغربی بیانیے اورمشرقی مشاہدے کے درمیان حائل ہے۔

تاریخ کاایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ جلدیابدیراپنے فیصلے سناتی ہے۔ٹرمپ نے غزہ میں جاری مظالم کوروکنے کی بجائے اسرائیل کی پشت پناہی کی،اوریوں یہ حقیقت آشکارہوگئی کہ وہ اورنیتن یاہو ایک ہی سکے کے دورخ ہیں۔جب غزہ میں مظالم اپنے عروج پرپہنچے اورعالمی ضمیرخاموش تماشائی بنارہا،تویہ واضح ہوگیا کہ انسانی حقوق کانعرہ محض ایک سیاسی ہتھیارہے۔ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کی کھلی حمایت نے اس حقیقت کومزیدعیاں کردیاکہ عالمی سیاست میں اخلاقیات کی کوئی مستقل حیثیت نہیں—یہ محض مفادات کے تابع ہوتی ہے۔جب ایران پرممکنہ حملے کی بازگشت سنائی دینے لگی،اورمشرقِ وسطیٰ ایک بارپھر بارودکے ڈھیرپربیٹھانظرآیا۔توامریکی جمہوریت کا حوالہ دے کریہ کہاگیاکہ صدرتنہاجنگ نہیں چھیڑسکتا،مگر عملی سیاست نے اس مفروضے کوبھی چیلنج کردیا اورٹرمپ نے ان تمام جمہوری اقدارکوملیامیٹ کرنے میں لمحہ بھرتاخیرنہیں کی۔

ٹرمپ کے دوسرے دورمیں جوٹیم تشکیل دی گئی،وہ اس بات کی غمازتھی کہ اب پالیسی سازی میں اعتدال کی بجائے شدت پسندی کو ترجیح دی جائے گی اوراس جنونی ٹیم نے اس خدشے کوحقیقت کاروپ دے دیا۔کانگریس جیسے ادارے،جوجمہوریت کی علامت سمجھے جاتے ہیں،عملی طورپربے اثرہوتے دکھائی دیے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے نزدیک جنگ محض ایک آپشن نہیں بلکہ ایک حکمتِ عملی تھی۔کانگریس کی منظوری کے بغیر جنگ کاآغازاس بات کاثبوت تھاکہ ادارے بھی بعض اوقات شخصیات کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں۔دوہفتوں سے زائدجاری رہنے والی جنگ اس بات کااعلان تھی کہ دنیاایک نئے دورِ تصادم میں داخل ہوچکی ہے۔یہ ایک خطرناک رجحان ہے کیونکہ جب ادارے کمزورہوجائیں توفیصلے جذبات اورمفادات کے تابع ہوجاتے ہیں۔

اس جنگی فضامیں کچھ شخصیات کاکردارخاص طورپرنمایاں ہے۔امریکی وزیر دفاع اورنیشنل انٹیلی جنس کی سربراہ،دونوں سابق فوجی ،ایک ایسی سوچ کے نمائندہ ہیں جس میں مذہبی تعصب اور عسکریت پسندی کاامتزاج پایاجاتاہے۔امریکی قیادت میں شامل بعض شخصیات کے بیانات اورنظریات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ جنگ محض جغرافیائی یامعاشی نہیں بلکہ نظریاتی بھی ہے۔مسجد اقصیٰ کے حوالے سے خطرناک عزائم اورمسلمانوں کے خلاف کھلی نفرت،اس بات کاثبوت ہیں کہ یہ محض سیاسی اختلاف نہیں بلکہ ایک تہذیبی تصادم ہے۔مسجد اقصیٰ کے حوالے سے خطرناک خیالات،اورمسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزبیانات، ایک ایسے بیانیے کوجنم دیتے ہیں جودنیاکومذہبی بنیادوں پرتقسیم کرسکتاہے۔

آج کادورمعلومات کادورہے،مگریہ معلومات ہمیشہ سچ پرمبنی نہیں ہوتیں۔میڈیاکاکرداراس میں نہایت اہم ہے۔جب مخصوص حقائق کو چھپایاجائے اور مخصوص بیانیے کوفروغ دیاجائے تو عوام کی رائے بھی اسی کے مطابق ڈھل جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب متبادل معلومات سامنے آتی ہیں تولوگ حیران رہ جاتے ہیں۔جب ان شخصیات کے پس منظراورروابط پرروشنی ڈالی گئی توکئی لوگوں کیلئے یہ انکشافات چونکادینے والے تھے۔خاص طورپرآرایس ایس اوربی جے پی کے ساتھ تعلقات کی تفصیلات نے بہت سے لوگوں کوخاموش کر دیا۔یہ خاموشی دراصل اس اعتراف کی علامت تھی کہ معلومات کی کمی نے انہیں ایک محدودزاویۂ نظ تک مقیدرکھاتھا۔

پاکستان میں ٹرمپ کے حوالے سے ایک نرم گوشہ پایاجاتاہے،جس کی بنیادزیادہ تربھارت مخالف بیانات پرہے۔مگریہ سوچ کہ“دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے ”ہمیشہ درست ثابت نہیں ہوتی۔عالمی سیاست میں مستقل دوست یادشمن نہیں ہوتے—صرف مفادات ہوتے ہیں۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جہاں امریکامیں ٹرمپ پرتنقید ممکن ہے،وہیں پاکستان میں اسے ایک دوست کے طورپرپیش کیاجارہاہے۔یہ سوچ کہ وہ مودی کامذاق اڑاتاہے،اس لیے پاکستان کاخیر خواہ ہے،ایک سادہ لوحی پرمبنی مفروضہ ہے۔درحقیقت عالمی سیاست میں دوستی نہیں، مفادات کارفرماہوتے ہیں۔

بعدازاں کئی افرادنے اس بات کااعتراف کیاکہ میڈیانے انہیں اصل حقائق سے دوررکھا۔یہ اعتراف اس بات کی دلیل ہے کہ جدیددنیامیں اطلاعات کی فراہمی بھی ایک ہتھیاربن چکی ہے،اورسچ کوچھپانابھی ایک حکمتِ عملی کاحصہ ہے۔آج کی جنگیں زمین کے ٹکڑوں کیلئے نہیں بلکہ وسائل کیلئے لڑی جاتی ہیں ۔تیل،گیس اوردیگرتوانائی کے ذخائر وہ خزانے ہیں جن پرقبضہ عالمی طاقتوں کااصل ہدف ہے۔ایران اس حوالے سے ایک اہم ملک ہے،اوراس پرحملہ اسی حکمتِ عملی کاحصہ معلوم ہوتاہے۔وینزویلاپرحملہ اوراس کے بعدایران کے بارے میں پیشگوئی،دراصل ایک ہی حکمتِ عملی کاتسلسل تھا۔توانائی کےذخائرپر قبضہ،جدید استعمارکی نئی شکل ہے۔نیشنل سکیورٹی اسٹرٹیجی میں درج نکات اس بات کاواضح اشارہ تھے کہ یہ سب کچھ منصوبہ بندی کے تحت ہورہاہے۔

جب کسی ریاست کی پالیسی دستاویزمیں یہ لکھاہو کہ وہ اپنے دشمنوں سے وسائل چھین لے گی،تویہ دراصل ایک اعلانِ جنگ ہوتاہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اسے سفارتی زبان میں پیش کیاجاتاہے۔جب اس اسٹرٹیجی کوبغورپڑھاگیاتویہ واضح ہوگیا کہ امریکااپنے دشمنوں سے توانائی کے وسائل چھیننے کاارادہ رکھتاہے ۔مارچ2026میں ایران پرحملہ اسی پالیسی کاعملی مظہرتھا۔ایران کے خلاف جنگ محض ایک ملک تک محدود نہیں رہ سکتی ایران کے خلاف جنگ اب پورے خطے کواپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت پربھی پڑرہے ہیں۔تیل کی قیمتیں،عالمی تجارت،اورسیاسی اتحاد —سب اس سے بری طرح شدیدمتاثرہورہے ہیں۔ادھردوسری طرف مسجد اقصیٰ کے حوالے سے خدشات اورمسلم ممالک کوجنگ میں شامل کرنے کی کوششیں،ایک بڑے منصوبے کی جھلک پیش کرتی ہیں۔

جدید جنگوں میں صرف ہتھیار نہیں بلکہ فریب بھی استعمال ہوتا ہے۔ فالس فلیگ آپریشنز کے ذریعے ایک واقعے کا الزام کسی اور پر ڈال کر جنگ کا جواز پیدا کیا جاتا ہے۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہے کیونکہ اس سے سچ اور جھوٹ کی تمیز مٹ جاتی ہے۔ایران کی قیادت نے بعض حملوں کو فالس فلیگ قرار دیا ہے۔ ترکیہ اور پاکستان کے حوالے سے خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں، مگر حکمران طبقہ اب بھی ایک خوش فہمی میں مبتلا ہے۔

امریکی سینیٹ میں پاکستان کے میزائل پروگرام کوخطرہ قراردینا،جبکہ بھارت کونظراندازکرنا،دراصل دباؤڈالنے کی ایک کوشش ہے ۔ اوریہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے مطابق اصول بدلتی رہتی ہیں۔بھارت کاذکرنہ کرنااس دوہرے معیارکی نشاندہی کرتاہے۔اوریہ دوہرامعیارعالمی نظام کی کمزوری کوظاہرکرتاہے۔تلسی گبارڈکاسیاسی سفراس بات کی مثال ہے کہ کس طرح شخصیات اپنے مفادات کے تحت نظریات بدلتی ہیں۔ڈیموکریٹک پارٹی سے علیحدگی اورریپبلکن پارٹی میں شمولیت،ایک ایسے بیانیے کی تشکیل تھی جو مخصوص مفادات کی تکمیل کیلئے ترتیب دیاگیا۔آرایس ایس اوربی جے پی کےساتھ روابط،مالی معاونت،اورسیاسی حمایت —یہ سب اس بات کی دلیل ہیں کہ عالمی سیاست میں نظریاتی اتحادبھی ایک اہم کرداراداکرتے ہیں۔

ایران کے خلاف جنگ نے ایک مثبت پہلوبھی اجاگرکیاہے—مسلم دنیامیں فرقہ وارانہ تقسیم کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ایران کے خلاف جنگ نے شیعہ سنی اختلاف کوپسِ پشت ڈال دیاہے۔عوام اب ایک وسیع ترشناخت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔عوام اب خودکوپہلے مسلمان اوربعد میں کسی مسلک سے وابستہ سمجھنے لگے ہیں۔مگردوسری طرف یورپ اس وقت ایک مخمصے کاشکارہے۔ایک طرف وہ امریکا کااتحادی ہے،دوسری طرف وہ اس جنگ کے نتائج سے خوفزدہ بھی ہے۔یورپ کی ہچکچاہٹ کے باوجود،ایک مذہبی بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش جاری ہے تاکہ جنگ کوجوازفراہم کیاجاسکے۔اس لیے ایک مذہبی بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ عوامی حمایت حاصل کی جاسکے۔

بلوچستان کاخطہ اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث عالمی طاقتوں کی توجہ کامرکزہے۔اگریہاں کوئی بڑی تبدیلی آتی ہےتواس کے اثرات پورے خطے پر پڑیں گے ۔خطے میں مستقل فوجی موجودگی کیلئے بلوچستان کوہدف بنایاجاسکتاہے۔یہ منصوبہ اگرحقیقت بن گیاتوخطے کا توازن بگڑ جائے گا۔تاریخ گواہ ہے کہ بیرونی حملے ہمیشہ اندرونی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔اگرکسی معاشرے میں غدارعناصر موجودہوں تودشمن کوکامیابی حاصل کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ایران اور لبنان میں نیٹ ورکس کی تیاری،اس بات کی مثال ہے کہ اندرونی کمزوریوں کوکس طرح بیرونی قوتیں استعمال کرتی ہیں۔چابہاراورسیستان بلوچستان پرقبضہ ،ایک ایسے جغرافیائی شکنجے کی صورت اختیارکرسکتاہےجس میں پاکستان محصورہوجائے گا۔

ایران کانظام اس لحاظ سے منفردہے کہ وہاں قیادت کاتسلسل برقراررکھنے کیلئےمتبادل انتظام موجودہے۔یہی وجہ ہے کہ شدیددباؤکے باوجودوہ اپنانظام برقرار رکھنے میں کامیاب رہاہے۔ڈیگوگارشیاپرحملہ اوراس کے بعدکی سفارتی سرگرمیاں،ایک پیچیدہ کھیل کی عکاسی کرتی ہیں جس میں ہرچال سوچ سمجھ کرچلی جارہی ہے۔حالیہ واقعات سے یہ ظاہرہوتاہے کہ جنگ صرف میدان میں نہیں بلکہ سفارتی سطح پربھی لڑی جارہی ہے۔کبھی حملے،کبھی مذاکرات کی پیشکش—یہ سب ایک حکمتِ عملی کاحصہ ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ پاکستان اس نازک موقع پرکیاحکمتِ عملی اختیارکرتاہے۔اس ساری صورتحال میں پاکستان ایک اہم کرداراداکرسکتا ہے۔اگروہ دانشمندی سے کام لے تونہ صرف خودکو محفوظ رکھ سکتاہے بلکہ خطے میں استحکام کاباعث بھی بن سکتاہے۔ایران اورچین کے ساتھ تعلقات،اورداخلی استحکام—یہ سب عوامل اس کے مستقبل کاتعین کریں گے۔

یہ تمام حالات اس بات کی نشاندہی اوراشارہ کرتے ہیں کہ دنیاایک نئے دوراہے پرکھڑی بڑے مشکل امتحان سے گزررہی ہے۔اگرمسلم دنیااورمغربی اقوام نے ہوش مندی،اتحاداور بصیرت کامظاہرہ نہ کریں توتاریخ ایک بارپھرخودکودہراسکتی ہے۔ضرورت اس امرکی ہے کہ ہم محض تماشائی نہ بنیں بلکہ حالات کاادراک کرتے ہوئے اپنی سمت کاتعین کریں،ورنہ وقت کاسیلاب ہمیں اپنے ساتھ بہالے جائےگا۔ وقت کاتقاضایہ ہے کہ ہم جذبات کی بجائے شعورسے کام لیں،اوروقتی مفادات کی بجائے طویل المدتی حکمتِ عملی اختیارکریں کیونکہ جوقومیں تاریخ سے سبق نہیں سیکھتیں،تاریخ انہیں سبق سکھاتی ہے—اوراس کا اندازہمیشہ سخت ہوتاہے۔

جب تاریخ اپنے فیصلے سناتی ہے تووہ کسی عذرکوقبول نہیں کرتی۔وہ نہ طاقت کودیکھتی ہے،نہ کمزوری کو—وہ صرف یہ دیکھتی ہے کہ انسان نے اپنے اختیارکو کس حدتک شعور،انصاف اوردیانت کے ساتھ استعمال کیا۔آج کاعہد بھی اسی کسوٹی پرپرکھاجارہاہے۔یہ جو جنگیں ہم دیکھ رہے ہیں،یہ صرف سرحدوں کی حدبندی کامسئلہ نہیں بلکہ یہ بیانیوں،نظریات اورمفادات کی ایک ایسی جنگ ہے جس میں سچ اورجھوٹ کی تمیزدھندلاچکی ہے۔یہاں ہرفریق اپنے آپ کوحق پرثابت کرنے میں مصروف ہے،اوراس کشمکش میں سب سے زیادہ نقصان انسانیت کاہورہاہے۔معیشتیں لرزرہی ہیں،معاشرے تقسیم ہورہے ہیں،اورایک غیریقینی فضاپوری دنیاکواپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔

یادرکھیں کہ تاریخ کاپہیہ کبھی رکتا نہیں—وہ گھومتاہے،فیصلے کرتاہے،اورپھرانسانوں کوان کے اعمال کاآئینہ دکھاتاہے۔آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں،وہ محض ایک عارضی ہلچل نہیں بلکہ ایک ایسے عہدکی تمہیدہے جس کے اثرات آنے والی نسلوں کی تقدیرلکھیں گے لیکن ہرتاریکی کے دامن میں روشنی کی ایک کرن ضرورچھپی ہوتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب قوموں کواپنے اندرجھانکناچاہیے،اپنی کمزوریوں کااعتراف کرناچاہیے،اورایک نئی فکری بنیادپراپنی سمت کا تعین کرناچاہیے۔اتحاد،بصیرت اورحکمت—یہ وہ ستون ہیں جن پر ایک محفوظ اورباوقارمستقبل کی عمارت کھڑی کی جاسکتی ہے۔

یہ جنگیں،یہ بیانیے،یہ اتحاداوریہ دشمنیاں—سب وقتی معلوم ہوتے ہیں،مگران کے نتائج دائمی ہوتے ہیں۔اگر آج بھی انسان نے اپنے مفادات کوانسانیت پرترجیح دی،اگرطاقت نے انصاف کوروندناجاری رکھا،اوراگرقومیں شعورکی بجائے جذبات کے پیچھے چلتی رہیں—توآنے والاکل ماضی سے بھی زیادہ تاریک ہوسکتاہے۔اگرہم نے اس وقت کومحض ایک عارضی بحران سمجھ کرنظراندازکردیا،تویہ ہماری سب سے بڑی بھول ہوگی۔کیونکہ یہ عہدمحض گزرنے کیلئے نہیں آیا—یہ ہمیں آزمانے آیاہے،ہمیں جگانے آیاہے،اورہمیں یہ بتانے آیاہے کہ دنیا میں بقاصرف اسی کی ہے جووقت کی نبض کوپہچان لے۔

اگرہم نے اس وقت کومحض ایک عارضی بحران سمجھ کرنظراندازکردیا،تویہ ہماری سب سے بڑی بھول ہوگی۔کیونکہ یہ عہدمحض گزرنے کیلئے نہیں آیا—یہ ہمیں آزمانے آیاہے،ہمیں جگانے آیاہے،اورہمیں یہ بتانے آیاہے کہ دنیامیں بقاصرف اسی کی ہے جووقت کی نبض کوپہچان لے۔مگرامیدکاچراغ ابھی بجھا نہیں۔ہرعہدِآشوب میں کچھ ایسے لوگ،کچھ ایسی آوازیں ضرورہوتی ہیں جواندھیروں کے خلاف کھڑی ہوتی ہیں۔ضرورت اس امرکی ہے کہ ہم خودکو پہچانیں ،تاریخ سے سبق سیکھیں،اوراپنی سمت کاتعین شعور،بصیرت اور اتحادکے ساتھ کریں۔آخرکار،فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے،ہم تاریخ کے بہاؤمیں بہہ جائیں گے یااس کارخ موڑنے کی ہمت کریں گے۔کیونکہ آنے والی نسلیں صرف ہمارے اعمال کی وارث نہیں ہوں گی،بلکہ ہمارے فیصلوں کی بھی گواہ ہوں گی—اورتاریخ،ہمیشہ کی طرح،اپنافیصلہ سنانے میں دیرنہیں کرے گی۔کیونکہ وقت ہمیشہ ایک سوال بن کرسامنے آتاہے اورجواب ہمیں خوددیناہوتاہے۔
اگرہم نے آج درست فیصلہ نہ کیا،توکل تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں