Justice and Politics on the Scales of History

تاریخ کے ترازوپرعدل اورسیاست

جب دل کی بستیوں میں اضطراب ٹھہرجائے،جب شہروں کی گلیاں صدائے فریادبن جائیں،اورجب امتِ مسلمہ کے چہرے پر فکرکی سلوٹیں گہری ہوجائیں ،توتاریخ خاموش نہیں رہتی—وہ پکاربن کربول اٹھتی ہے۔آج بنگلہ دیش اوربھارت کے درمیان اُبھرتی ہوئی کشیدگی محض بین الاقوامی سیاست کاباب نہیں ،بلکہ دلوں کے زخموں،یادوں کے کرب اورمعاہدوں کے بکھرے ہوئے کاغذوں کی کہانی ہے۔

یہ وہ سرزمین ہے جس نے کبھی اخوت کے نغمے گنگنائے تھے،مگرآج نفرت کی گردنے ان نغموں کی لے کوگہنادیاہے۔ معصوم جانوں کاناحق بہتاخون، سفارتی ایوانوں کی بے چین فضا، اقلیتوں کے لرزتے ہوئے دل،اورسیاست کے بازی گر—سب مل کرہمیں اس حقیقت کااحساس دلاتے ہیں کہ جب عدل اٹھ جاتاہے توزمین کانپتی نہیں،دل کانپنے لگتے ہیں۔ قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے:اللہ کی رسی کومضبوطی سے تھام لواورتفرقہ نہ ڈالو۔

مگرافسوس،ہمارے عہدکی سیاست نے اسی رسی کوچھوڑکراختلافات کے خاردارجھاڑجھنکارکوتھام لیاہے۔اس رپورٹ کا مقصدکسی نفرت کے شعلے کوہوادینا نہیں،بلکہ ضمیرکے دروازوں پردستک دیناہے—کہاں گرے ہم؟ کب بھٹکے ہم؟اورکب ہم پھرسے قرآن وسنت کی چھاؤں میں عادلانہ معاشروں کی طرف پلٹیں گے؟

بنگلہ دیش میں حالیہ شورش محض ایک واقعہ نہیں بلکہ کئی برسوں سے پلتے شکووں،تحفظات اورباہمی بدگمانیوں کا برآمدہ ہے۔مظاہرے،ہنگامے،سفارتی احتجاج اورالزام تراشیوں نے دونوں ملکوں کے تعلقات کے کچے دھاگے کومزیدنازک بنادیاہے۔یوں محسوس ہوتاہے کہ ماضی کی رفاقت کاقافلہ راہوں میں تھک گیاہے اورنئی سیاسی ہوانے دوستی کے چراغ کو لرزا دیا ہے۔سوال یہیں جاٹھہرتاہے کہ کیایہ تعلقات محض وقتی دھندہیں یادائمی خلیج میں بدل جائیں گے ؟

یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیش میں حالیہ پرتشددمظاہروں نے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجودکشیدگی کواورزیادہ گہراکردیاہے۔الزام تراشی کایہ تبادلہ صبحِ ازل سے شروع نہیں ہوا، مگر آج صورتحال اس نہج تک آن پہنچی ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک ایک دوسرے کے سفارتی عملے کوطلب کرکے احتجاج ریکارڈ کراتے اورعوامی سطح پرسخت بیانات جاری کرتے دکھائی دیتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ جوکبھی رفاقت کے سائے تلے ساتھ ساتھ چلتے تھے،کیاوہ پھرکبھی تاریخ کے کسی موڑپرشانہ بشانہ کھڑے ہوسکیں گے؟

ڈیپوچندراکی ہلاکت نے نہ صرف انسانی دلوں کودہلادیابلکہ فرقہ وارانہ حساسیت کوبھی جھنجھوڑڈالا۔چندراکی ہلاکت نے فضامیں مزیدبارودگھول دیااوراس حادثے کی بازگشت ہندوتنگ نظرحلقوں میں سخت ردعمل کی صورت سنائی دی۔دوسری طرف عثمان ہادی کاقتل اپنے ساتھ سیاسی معانی اورتہہ درتہہ سوال لے آیا۔عثمان ہادی کے قتل پربرپاہونے والے پُرتشدد مظاہرے پہلے ہی شہردرشہربےقراری پھیلاچکے تھے۔قاتل کے مبینہ بیرونِ ملک فرارکی خبرخواہ درست ہویابے بنیاد،اس نے عوامی اذہان میں غصے اوربدگمانی کے بیج بودیے۔معاشرے کی نبض نے اسی لمحے بتادیاکہ جذباتی اضطراب ریاستی بیانیے سے کہیں آگے نکل چکاہے۔الزام یہ بھی ابھراکہ مبینہ قاتل کاتعلق عوامی لیگ سے تھااوروہ بھارت فرارہوا،اگرچہ پولیس نے اس کی تردیدکی۔مگرجذبات کادریاجب طغیانی پرہوتودلیل کی کشتی ہلکی پڑجاتی ہے۔

اسی تلخ فضامیں ویزاسروسزکی معطلی گویادودلوں کے درمیان کھڑی نئی دیواربن گئی۔دونوں طرف سے سفارتی مشنزکی سکیورٹی پراعتراضات اٹھے،اور کمشنرز کی طلبی اس بےچینی کی علامت بن گئی۔ویزہ سروس کی معطلی محض سفارتی اقدام نہیں ہوتی،یہ دراصل لوگوں کے ملنے ملانے کے پل منہدم کردیتی ہے۔طالب علموں،تاجروں،مریضوں اوراہلِ خاندان کیلئےیہ ایک نفسیاتی دیوارکھڑی کردیتی ہے۔سفارتی کمشنروں کی طلبی گویارسمی لفاظی نہیں بلکہ اس تلخی کی علامت ہے جس نے دونوں حکومتوں کے اعصاب کوبوجھل کردیاہے۔یوں دکھائی دیتا ہے کہ سفارت کاری کی شطرنج میں اب نرم مہروں کی جگہ سخت چالیں چلائی جارہی ہیں۔سابق سفاترکاروں کی تشویش بھی اسی حقیقت کی غمّازہے کہ حالات کس رُخ جاپڑیں،کہنا دشوارہو چلاہے۔

بنگلہ دیش میں بھارت مخالف جذبات نئی پودنہیں؛یہ شجرپراناہے جس نے نئی شاخیں نکالی ہیں۔شیخ حسینہ کے طویل دورِ اقتدارمیں بھارت کے اثرونفوذکی شکایتیں کچھ حلقوں میں پہلے ہی پل رہی تھیں۔بھارت مخالف جذبات محض وقتی ردِعمل نہیں بلکہ تاریخ کے طویل سلسلے کی پیداوارہیں۔1971کے بعدکی سیاست،سرحدی معاملات،پانی کی تقسیم،تجارتی توازن اور سیاسی مداخلت کے شبہات نے اس جذباتی فضاکوہمیشہ نمناک رکھا۔شیخ حسینہ کے دورکوبعض حلقوں نے بھارت نوازی سے تعبیرکیا،جس کے نتیجے میں یہ تاثرراسخ ہواکہ قومی خودمختاری کا جذبہ کہیں دب کررہ گیاہے۔

معزولی کے بعدان کی بھارت میں پناہ نے ان جذبات کواوربھڑکادیا۔ڈھاکہ کی طرف سے بارہادرخواستوں کے باوجود حوالگی نہ ہوناعوامی حلقوں میں سوالات چھوڑگیااورشکوک کی آگ میں نیا ایندھن پڑگیا۔اقتدارسے علیحدگی کے بعدبھارت میں قیام نے سیاسی بیانیے میں نئی گرہیں ڈال دیں۔عوامی رائے عامہ کے کچھ حلقوں نے اسے“بیرونی سرپرستی”کی علامت کے طور پر دیکھا۔حوالگی سے متعلق مطالبات کاردہوناقانون وسفارت کے دائرے میں ہوسکتاہے،مگرعوامی جذبات کی عدالت میں فیصلے اکثراورطرح سے لکھے جاتے ہیں۔

نوجوان قیادت کالب ولہجہ قوم کے باطن کی دھڑکن ہوتاہے۔جب زبان میں شعلہ اوردل میں انگارہ اُترآئے توسیاسی اعتدال پیچھے رہ جاتاہے۔بھارت مخالف تقاریراورنعرے اسی دبے ہوئے غصے کی علامت ہیں جوبرسوں تک سیاسی ادب وآداب کے پردوں میں چھپارہا۔عثمان ہادی کے قتل کے بعدبعض نوجوان رہنماؤں کے سخت بیانات نے فضامیں گرمی پیداکی۔زبان جب شعلہ بن جائے توکان جلنے لگتے ہیں اورعقل دبک کرایک طرف ہوبیٹھتی ہے۔

ہائی کمیشنوں کے باہرجمع ہوتے ہجوم محض افرادکاہجوم نہیں،یہ جذبات کی مجتمع صورت ہوتی ہے۔ڈھاکہ سے چٹاگانگ تک،انڈین مشنزکے قریب احتجاج اورپتھراؤکے واقعات سامنے آئے۔پتھراؤاوراس کے بعدگرفتاری ورہائی کاسلسلہ یہی بتاتا ہے کہ ریاستی ادارے جذباتی طغیان کے سامنے خودکسی حدتک دفاعی پوزیشن میں دکھائی دیتے ہیں۔سرحدکے دونوں جانب ریلیوں کامقابلہ دراصل بیانیوں کی جنگ کامظہربن گیا۔ڈھاکہ سے چٹاگانگ تک، انڈین مشنز کے قریب احتجاج اور پتھراؤ کے واقعات سامنے آئے۔گرفتاریاں ہوئیں،رہائیاں ہوئیں،اور“غیر منصفانہ”احتجاج کے الفاظ دونوں طرف کے جملوں میں درآئے۔سرحدکے دونوں جانب ریلیاں نکلیں اورفضامیں بدگمانیوں کے پرندے منڈلانے لگے۔

بداعتمادی وہ دیمک ہے جومضبوط سے مضبوط رشتوں کوبھی اندرسے کھوکھلاکردیتی ہے۔سابق سفارتکاروں کے تجزیات اسی داخلی سڑن کی نشاندہی کرتے ہیں۔بین الاقوامی اصولوں کا تقاضاہے کہ سفارتی مشنزمقدس امانت ہوتے ہیں،مگرجب جذبات غالب آجائیں توامانتیں بھی خطرے میں محسوس ہونے لگتی ہیں۔سابق سفارتکارکے بقول ایسی بداعتمادی پہلے کبھی نہ تھی۔بین الاقوامی تعلقات کاطلائی اصول یہی ہے کہ سفارتی مشنزکاتحفظ اولین ذمہ داری ہے—اوریہی اصول اس وقت آزمائش گاہ میں کھڑانظرآتاہے۔

درخت سے باندھ کر آگ لگا دینا—یہ جملہ ہی انسانی روح کو لرزا دیتا ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف ہندو حلقوں میں اضطراب بڑھایا بلکہ ریاستی رٹ، قانون کی عمل داری اور اقلیتوں کے حقوق کے باب میں نئے سوال اٹھا دیے۔ سوشل میڈیا نے اس سانحے کو لمحوں میں سرحدوں سے آزاد کر کے انسانی ضمیر کے دروازوں پر دستک دے ڈالی۔

ہندو ملازم داس کی المناک ہلاکت،درخت سے باندھ کرآگ لگادینے کااندوہناک منظراوراس کی ویڈیوکاپھیلاؤ—یہ سب کچھ غصے اوراشتعال کے شعلوں کوبلندترکرتاچلاگیا۔اس سانحے نے اقلیتوں کے تحفظ کے باب میں نئے سوالات کوجنم دیا۔ساتھ ہی مختلف حلقوں کی جانب سے طرح طرح کی نسبتیں اور اشارے سامنے آتے رہے جنہیں ذمہ دارانہ تحقیق اورعدالتی طریقۂ کارکی کسوٹی پرپرکھناناگزیرہے۔

عبوری حکومت کے سربراہ کابیان امیدکی شمع ضرورہے،مگرتاریخ کاکاتب یہ بھی لکھتاہے کہ صرف بیان کافی نہیں ہوتا۔ قانون کوطاقت سے نہیں،انصاف سے وقعت ملتی ہے۔اب نگاہیں اس پرہیں کہ یہ وعدہ عمل کی صورت کس طرح ڈھلتاہے۔ عبوری حکومت کے سربراہ محمدیونس نے صاف الفاظ میں کہاکہ نئے بنگلہ دیش میں اس قسم کے تشددکی کوئی گنجائش نہیں۔قانون کی برتری کاوعدہ اسی وقت معتبرہوگاجب انصاف کی ترازو دونوں پلڑوں میں یکساں ٹھہر سکے۔

گرفتاریاں اپنی جگہ،مگرسوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیااقلیت خودکومحفوظ سمجھ رہی ہے؟جمہوری معاشرے کاحسن یہی ہے کہ کمزورطبقات سب سے زیادہ محفوظ ہوں—اگروہ لرزاں ہوں تو ریاست کاوقارمجروح ہوتاہے۔داس کے قتل میں ملوث متعددافرادکی گرفتاری کے باوجود سوال اپنی جگہ یہ ہے کہ کیا اقلیتوں کے دلوں میں بیٹھاخوف کم ہوسکا؟کیایہ تشدد وقتی ہیجان ہے یاکسی گہرے سماجی اضطراب کامظہر؟

کچھ بیانیوں کے مطابق مذہبی انتہاپسندعناصرکی شمولیت کے شکوک ظاہرکیے گئے ہیں،جن کے نتیجے میں اخبارات و ثقافتی اداروں پرحملوں کی خبریں آئیں۔یہ صورتحال اس سوال کوپھرسے زندہ کرتی ہے کہ قلم اورثقافت پروارکرنے والے دراصل معاشرے کے کس زاویے کی نمائندگی کرتے ہیں۔اخبارات اور ثقافتی اداروں پرحملے اس امرکی علامت ہیں کہ سماج کے اندر ایک ایساطبقہ موجودہے جواختلاف کومکالمے سے نہیں،طاقت سے جواب دیناچاہتاہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں تہذیبی روایت،رواداری اوردل آویزی کاامتحان شروع ہوتاہے۔

کچھ بیانیوں کے مطابق مذہبی انتہاپسندعناصرکی شمولیت کے شکوک ظاہرکیے گئے ہیں،جن کے نتیجے میں اخبارات و ثقافتی اداروں پرحملوں کی خبریں آئیں۔یہ صورتحال اس سوال کوپھرسے زندہ کرتی ہے کہ قلم اورثقافت پروارکرنے والے دراصل معاشرے کے کس زاویے کی نمائندگی کرتے ہیں۔

سول سوسائٹی کی آوازریاست کی سماجی روح ہوتی ہے۔اُس روح نے واضح کہاکہ عبوری انتظامیہ امن بحال کرنے میں پسپا دکھائی دی۔سماج کی یہ آواز محض شکایت نہیں بلکہ اصلاحِ حال کی دعوت بھی ہے۔سول سوسائٹی کی آوازیں پُرشکوہ احتجاج میں ڈھل گئیں کہ امن وامان کے قیام میں عبوری انتظامیہ ناکام رہی۔گویاریاست کے ہاتھ میں تھامی ہوئی شمع لرزاں دکھائی دی۔

بین الاقوامی ماہرین نے بجاکہاکہ میڈیاکاکردارآگ بھی بھڑکاسکتاہے اورپانی بھی ڈال سکتاہے۔اگرخبرتحریربن کرتعصب اوڑھ لے تومعاشرے کی آنکھوں میں دھواں بھردیتی ہے۔اس لیے ذمہ دارانہ رپورٹنگ اس وقت ناگزیرہوچکی ہے۔بین الاقوامی محققین نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ بعض بھارتی ذرائع ابلاغ بنگلہ دیش کی صورتحال کوایسے اندازمیں پیش کررہے ہیں جس سے فرقہ وارانہ تاثرگہراہو۔ساتھ ہی یہ حقیقت بھی اجاگرہوئی کہ بنگلہ دیش کااستحکام خطے کی مجموعی سلامتی سے جڑاہواہے۔

انتخابات بنتے بھی ہیں،بگاڑتے بھی ہیں۔12فروری کے انتخابات کی آمدنے سیاسی فضاکومزیدسنجیدہ بنادیاہے۔عبوری سربراہ کیلئےچیلنج یہی ہے کہ وہ انتخابی مرحلے سے قبل امن واطمینان کی فضاہموارکرسکیں۔اس لئے12فروری کا انتخاب صرف اقتدارکی تبدیلی نہیں بلکہ استحکام اوربےچینی کے درمیان فیصلہ کن لکیرثابت ہوسکتاہے۔عبوری حکومت کا اصل امتحان تشددکی آگ بجھانااوررائے دہی کیلئےپرامن فضافراہم کرناہے۔

عوامی لیگ کی غیرحاضری نے سیاسی بساط کونئی ترتیب دی ہے۔عوامی لیگ کی عدم شرکت کے باعث بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے امکانات روشن دکھائے دیتے ہیں،البتہ مذہبی سیاسی قوتیں بھی ایک مؤثرچیلنج کے طورپرسامنے آ سکتی ہیں اورمذہبی سیاسی قوتوں کی متحرک موجودگی سیاسی معاملات کومزیدپیچیدہ بناسکتی ہے۔سیاست کادریاسیدھی لکیرمیں نہیں بہتا۔ سیاست کاشطرنجی کھیل اپنے پتے ابھی مکمل طورپرنہیں کھولتاکہ نتائج کسی اور منظرنامے کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔

بھارت کے پالیسی سازاس صورتحال کومحض بیرونی مسئلہ نہیں،بلکہ داخلی سلامتی سے جڑامعاملہ سمجھ رہے ہیں۔دانادل یہی کہتے ہیں کہ ہمسائے آگ لگنے پرتماشانہیں دیکھتے—وہ پانی ڈھونڈتے ہیں۔بھارت کے سیاسی ودفاعی حلقوں میں بھی اس صورتِ حال کوبڑا اسٹریٹجک چیلنج سمجھاجارہاہے۔سابق سفارتکار اس امرپرمتفق ہیں کہ زمینی حقائق کوتسلیم کرتے ہوئے اعتماد سازی کی نئی بنیادڈالناوقت کی ضرورت ہے—کہ پڑوسی دیوارنہیں،سایہ داردرخت ہواکرتے ہیں لیکن بدنصیبی یہ ہے کہ مودی حکومت سایہ داردرختوں کی نہ صرف کٹائی بلکہ کانٹوں کی افزائش پرعملدرآمدہے۔

انتخابی نتائج کچھ بھی ہوں،منزل ایک ہی ہونی چاہیے:امن،احترام اورباہمی اعتماد۔الزام تراشی سے سیاسی زمین بنجرہو جاتی ہے؛گفت وشنیدسے اس میں فصل اگتی ہے۔آج کی ضرورت یہی ہے کہ خطے کے رہنمااناکے میناروں سے اترکرعقل اورانصاف کے فرش پربیٹھیں۔بھارت کی جانب سے منتخب حکومت کے ساتھ مکالمے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔اوراسی کے ساتھ یہ تلخ نوٹ بھی سنائی دیتاہے کہ باہمی بداعتمادی کی یہ آگ کسی ایک بیان یافیصلے سے نہیں بجھے گی۔اس وقت سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ الزامات کی گولہ باری کے بجائے عقل وتدبر،تحمل وبرداشت اورانصاف واعتدال کے چراغ روشن کیے جائیں لیکن صدافسوس کہ مودی سرکارکے تمام اقدامات اس کے برعکس ہیں اورتکبرکی آگ ایک دن سب کچھ بھسم کرکے رکھ دے گی اور دنیاکی بڑی جمہوریت کے دعوے کا قلعہ کھل کرسامنے آجائے گی لیکن تب تک بہت دیرہوچکی ہوگی۔

تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ سرحدیں زمین پرکھنچی ہوں یادلوں پر—انہیں پارکرنے کاواحدراستہ مکالمہ،انصاف اور باہمی احترام ہے۔بنگلہ دیش اور بھارت کے تعلقات کایہ باب بظاہرابھی بند نظرآرہاہےلیکن قلم چل رہاہے،سیاہی آج بھی گیلی ہے۔اب دیکھنایہ ہے کہ آنے والی سطریں صلح وآشتی کی خوشبو سے لبریزہوتی ہیں یابدگمانیوں کی گردان پرچھاجاتی ہے۔

یہ تمام واقعات محض خبریں نہیں،تاریخ کے صفحات پرلکھی جانے والی سطورہیں۔آنے والے دن طے کریں گے کہ یہ سطورآنسوؤں سے لکھی جائیں گی یا مسکراہٹوں سے۔اختیارانسان کے ہاتھ میں ہے—اورفیصلہ وقت کی عدالت میں محفوظ ہے۔تاریخ اپنی آنکھوں میں آنسو لیے کھڑی ہے اوروقت اپنی مٹھی میں ایک سوال سنبھالے ہوئے ہے،کیاانسان پھرانسان بنے گا؟بنگلہ دیش ہویابھارت—زمین کے یہ ٹکڑے ہماری آزمائش ہیں،ورنہ اصل سرحدیں تو دلوں میں بنتی اورٹوٹتی ہیں۔ معصوم عثمان ہادی—اس کے خون کے ہرقطرے نے آسمان تک رسائی پالی ہے اورعدل کے پیمانوں کوپکاراہے۔
اسلام ہمیں سکھاتا ہے:بیشک مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔

مگرہم نے اس بھائی چارے کوسیاسی نعروں کے ہجوم میں کہیں گم کردیاہے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکمران ہوں یاعوام، دانشورہوں یارہنما—سب اپنے گریبانوں میں جھانکیں اوریہ عہد دوبارہ تازہ کریں کہ ظلم کسی قسم کاہو،کسی رنگ کاہو،اورکسی سرحدکے اندرہو—ہم اس کے خلاف کھڑے ہوں گے۔اپنے دل پرہاتھ رکھ کریہ سوال پوچھنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے عثمان ہادی کواپنابھائی سمجھا،اپنے جسم کاحصہ سمجھا توپھراس کے ناحق قتل پرہم نے بطورریاست پاکستان کس قدراحتجاج کیا؟

ہمیں یہ سمجھناہوگاکہ سفارتی تعلقات کی بحالی سے پہلے قلوب کی مرمت ضروری ہے۔نفرت کے خیمے اکھاڑکرانصاف کے خیمے نصب کرناہوںگے۔سیاست کوانتقام کی بجائے خدمت کالبادہ اوڑھناہوگالیکن جب تک پڑوس میں متعصب ہندتواآر ایس ایس کے نمائندے مودی کی حکومت ہے، اس خطے میں امن کاحصول محض ایک خواب بنتاجارہاہے۔اس کیلئے ضروری ہے کہ امت مسلمہ کے تمام پلیٹ فارمزپرمتحد ہوکراس خطرے کی نشاندہی کرکے متعصب ہندوتوا کونکیل ڈالی جائے۔

دعا یہی ہے کہ اے ربِ کائنات!
جن دلوں میں نفرت نے بسیراکیاہے وہاں محبت اُتاردے،جہاں ناانصافی نے ڈیرے ڈالے ہیں وہاں عدل کاسورج طلوع کر، اس خطے کے مسلمانوں کووہ بصیرت عطافرماکہ وہ تفرقے کی راہوں سے نکل کراخوت اورایمان کی شاہراہ پرآجائیں۔

آخرکار فیصلہ سیاست دانوں کا نہیں،ضمیر اور اللہ کی عدالت کا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں